ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.11
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/292
250
13159
35363
35191
2026-07-15T12:36:39Z
Jinder77
234
35363
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{Block center|٢٨٥}}
لگا دی گئی ۔ شعلے اُٹھنے لگے ۔ سیتا جی نے رام چندر کو پرنام کیا اور چتا میں کُودنے چلیں۔ وہاں ساری فوج جمع تھی ۔ سیتا جی کو آگ کی طرف بڑھتے دیکھ کہ چاروں طرف شور مچ گیا ۔ سب لوگ چلِاّ چلِاّ کر کہنے لگے ۔' ہم کو سیتاجی پر کسی قسم کا شک نہیں ہے ۔ وہ دیوی ہیں۔ ہماری ماتا ہیں، ہم اُن کی پرستش کرتے ہیں۔ ہنومان انگد، سگریو وغیرہ سیتاجی کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے ۔ اُس وقت رامچندر کو یقین ہوا کہ اب سیتا جی کی پاکدامنی پر کسی کو شُبہہ نہیں ۔ اُنہوں نے آگے بڑھ کر سیتا جی کو چھاتی سے لگا لیا ۔ سارا میدان خوشی
کے نعروں سے گونج اُٹھا.
{{center|<big>(٧) اجودھیا کو واپسی</big>}}
رام چندر نے لنکا پر جس ارادہ سے حملہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا ۔ سیتا جی چُھڑا لی گئیں۔<noinclude></noinclude>
ats88vxqf3o2z53hmkvu4uenngyb5xz
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/306
250
13173
35365
32622
2026-07-16T04:49:11Z
Charan Gill
46
35365
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۳۰۰
نے اُنہیں کون گنڈ کے سامنے بٹھایا۔ براہمنوں
نے وید منتر پڑھنا شروع کر دیا ۔ ہون ہونے لگا ۔
اُدھر راج محل میں مبارکباد کے گیت گائے جانے
لگے ۔ ہون ختم ہونے پر گرو وشمسٹ نے رامچندر
کے ماتھے پر کیسر کا تیلک لگا دیا ۔ اسی وقت
تو پوں نے سلامیاں دائیں، امرا منذریں پیش
کرنے لگے ۔ کبیشروں نے کہت پڑھنا شروع کر دیا۔
رامچندرجی اور سینتا جی
سنگھاسن پر رونق افروز
ہو گئے ۔ بھھیشن مورچھل جھلنے لگا ۔ سگریو نے
چو ہداروں کا عصا سنبھال لیا ۔ اور ہنومان نیا
جھلنے لگا ۔ وفادار ہنومان کی خوشی کی تھاہ نہ تھی۔
جس راجکمار کو بہت دن پہلے اُس نے دشموک
پہاڑ پر اِدھر اُدھر سینا کو تلاش کرتے پایا تھا"
آج اُسی کو سیتاجی کے ساتھ سنگھاسن پر بیٹھے
دیکھ رہا تھا ۔ انہیں اس منزل مقصود تک پہنچانے
میں اُس نے کتنا حصہ لیا تھا ۔ غرور آمیز مسترت
سے وہ پھولا نہ سماتا تھا۔{{nop}}<noinclude></noinclude>
nmitzyv7hzn2n1zqbm3mv3cxeufs0tj
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/307
250
13174
35364
32623
2026-07-16T04:46:39Z
Charan Gill
46
35364
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بھرت بڑے بڑے تھالوں میں میوئے غلے،
بھرے ہوئے بیٹھے تھے ۔ روپیوں کا انبار اُن کے
سامنے لگا ہوا تھا ۔ جونہی رامچندر اور سیتا سنگھاسن
پر بیٹھے بھرت نے دان دینا شروع کر دیا ۔ ان
چودہ سالوں میں اُنہوں نے کفایت کر کے شاہی خزانہ
میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ سب کسی کیسی صورت میں
پھر رعایا کے پاس پہنچ گیا۔ غریبوں کو بھی اشرفیوں کی
صورت نظر آگئی ۔ ننگوں کو شال دو شالے میسر ہو
گئے۔ اور بھوکوں کو میوے اور مٹھائی سے میری ہوگئی ۔
چاروں طرف بھرت کی فیاضی کی دُھوم مچ گئی ۔ سارے
راج میں کوئی غریب نہ رہ گیا ۔ کاشتکاروں کے ساتھ
خاص رعایت کی گئی ۔ ایک سال کا لگان معاف کر دیا
گیا۔ جابجا کنوئیں کھدوا دئے گئے ۔ قیدیوں کو رہا
کر دیا گیا ۔ صرف وہی آزاد نہ کئے گئے جو دعا
اور فریب کے مجرم تھے ۔ رئیسوں اور امیروں
کو خطابات دئے گئے ۔ اور خلعتیں تقسیم ہوئیں ۔
{{nop}}<noinclude></noinclude>
kxvvt2sk9mr4ogz6ixy6tl1f1kpddle
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/77
250
13820
35366
35343
2026-07-16T06:21:30Z
BalramBodhi
60
35366
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>احمد ابن ابی بکر نے شیخ کی وفات سے بیالیس برس بعد علی الترتب جمع کیا ہے جب تفصیل ذیل ہے۔
(1) نثر مین چند مختصر رسالے ( جس میںن سلوک اور لفوف کے مضامین اور مشائخ و عرفا کی حکایتین اور ملوک و حکام کے لیے نصیحتین لکہی بین) (٢ گلستان (۳) بوستان (۴) پند نامہ (جسکو عرف عام مین کریا کہتے ہین (٥ قصائد فارسی (حجس مین مرثیے ملمعات۔ مشاشات اور ترجیعات بھی شامل ہین) (٦) قصائد عربیہ (۷) غزلیات کا پہلا دیوان موسوم بہ طیبات (۸) دوسرا دیوان موسوم بہ بدائع (۹) تیسرا دیوان موسوم بہ خواتیم(10) غزلیات قدیم جو غالباً عنغوان شباب کی لکہی ہوئی ہین (١۱) مجموعه موسوم بہ صاحبی حسمین شیخ نے قطعات مثنویات ۔ رباعیات اور \سفررات\ کو خواجہ شمس الدین صاحب دیوان کی فرمائشیں سے ایک جگہ جمع کر دیا ہے (۱۲) طائبات و سیزلیات۔
اِن تمام کتابون اور رسالون مین سے مثنوی پند نامہ یعنی کریا کو بعض اہل مزاق شیخ کا کلام نہین سمجہتے کیونکہ اول تو کلیات کے اکثر قدیم نسخون مین یہ مثنوی نہین دیکہی گئی دوسرے شیخ کے عام کلام مین جو پختگی اور جزالت یا دلفریبی اور جادو پایا جاتا ہے اُس سے یہ مثنوی معرّا ہے مگر ہمارے نزدیک اِس مثنوی کو شیخ کی طرف نسبت کرنے مین کوئی استبعاد اور تردد کی بات نہین ہے یہ سچ ہے کہ وہ بوستان اور شیخ کی عام نظم کے مقابلہ مین نہایت کم وزن معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شاعر کا حال بالکل اِس شعر کا مصداق ہے '''شعر''' {{Block center|<poem>گہئبر طارمِ الئ نشینم
گہئبر پشت پائ خود نہ بنیم</poem>}}<noinclude></noinclude>
5k74e2wx2u30tsgqgzz29j41i5ai68r