ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.11 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/308 250 13175 35370 32624 2026-07-17T11:39:32Z Kaur.gurmel 74 35370 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|اُتر کانڈ}} {{center|(1) رام کا راج}} تاجپوشی کا جشن ختم ہونے کے بعد سگریو بھیشن، انگر، وغیرہ تو رخصت ہوئے مگر ہنومان کو رامچندر سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ وہ انہیں چھوڑ کر جانے پر راضی نہ ہوئے۔ لکشمن بھرت وغیرہ نے اُنہیں بہت سمجھایا، مگر وہ اجودھیا سے نہ گئے ۔ اُن کی ساری زندگی رامچندر کے ساتھ ہی ختم ہوئی ۔ وہ ہمیشہ رامچندر مدد کرنے کو تیار رہتے تھے ۔ بڑے سے بڑا مشکل کام دیکھ کر بھی اُن کا حوصلہ پست نہ ہوتا تھا ہے رام چندر کے زمانہ میں اجودھیا کے راج کو<noinclude></noinclude> snlu5clv3bfxwsjt3pi56ut3j3mhoo3 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/271 250 13179 35367 34814 2026-07-16T15:35:43Z Jinder77 234 /* پروف خوانی شدہ */ 35367 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Jinder77" /></noinclude>کوئی ہوشیار وید مِل جائے تو ابھی زہر اُتر جائے۔ اور یہ اُٹھ بیٹھیں ۔ وید کی تلاش کرنی چاہئے ۔ بھبھیشن نے کہا شہر میں سُکھین نام کا ایک وید رہتا ہے ۔ زہر کا علاج کرنے میں وہ بہت ماہر ہے ۔ اُسے کسی طرح بلانا چاہئے ۔ ہنومان نے کہا میں جاتا ہوں اُسے لئے آتا ہوں ۔ بھبھیشن سے سکھین کے مکان کا پتہ پوچھ کر وہ بھیس بدل کر شہر میں جا پہنچے اور سکھین سے یہ حال کہا ۔ سکھین نے کہا ۔ 'بھائ میں وید ہوں ۔ راون کے دربار سے میری پرورش ہوتی ہے۔ اُسے معلوم ہو جائیگا کہ میں نے لکشمن کا علاج کیا ہے تو مجھے زندہ نہ چھوڑیگا'. ہنومان نے کہا۔ آپ کو ایشور نے جو کمال بخشا ہے اُس سے ہر ایک شخص کو فائدہ پہنچانا آپ کا فرض ہے ۔ خوف کے باعث فرض سے مُنہ موڑنا آپ جیسے بزرگ کے لئے شایاں نہیں'.{{nop}}<noinclude></noinclude> 6ntv8uiw5uurrolcn7v13czykupbgkx صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/272 250 13180 35368 34851 2026-07-16T15:36:06Z Jinder77 234 /* پروف خوانی شدہ */ 35368 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Jinder77" /></noinclude>سکھین لاجواب ہو گیا ۔ اُسی وقت ہنومان کے ساتھ چل کھڑا ہوا۔ بڑھاپے کے باعث وُہ تیز نہ چل سکتا تھا۔ اس لئے ہنومان نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور بھاگے ہوئے اپنی فوج میں آ پہنچے ۔ سکھین نے لکشمن کی نبض دیکھی، جسم دیکھا اور بولا ۔ ابھی بچنے کی اُمید ہے۔ سنجیونی بوٹی مِل جائے تو بچ سکتے ہیں ۔ مگر سورج نکلنے کے پہلے بوٹی یہاں آجانی چاہئے۔ ورنہ جان نہ بچیگی'. جامونت نے پوچھا ۔ سنجیونی بوٹی ملیگی کہاں ؟ سکھین بولا - اُتّر کی طرف ایک پہاڑ ہے ۔ وہیں یہ بوٹی ملگی'. بارہ گھنٹے کے اندر وہاں جانا اور بوٹی تلاش کر کے لانا آسان کام نہ تھا ۔ سب ایک دوسرے کا مُنہ تاکتے تھے ۔ کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ جانے کو تیار ہو ۔ آخر را مچندر نے ہنومان سے کہا ۔ دوست ! یہ مشکل تمہیں آسان کر سکتے<noinclude></noinclude> ot9hlsw9nfu4c213gcv9l75yfr2o2i5 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/309 250 13730 35371 34978 2026-07-17T11:54:00Z Charan Gill 46 35371 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>اتنی ترقی ہوئی، رعایا اتنی خوشحال تھی کہ ”رام راج“ ایک مثل ہو گیا ہے۔ جب کسی زمانہ کی بہت تعریف کرنا ہوتا ہے تو اُسے ”رام راج“ کہتے ہیں۔ اُس زمانہ میں چھوٹے بڑے سب خوشحال تھے۔ اِس لئے کوئی چوری نہ کرتا تھا۔ تعلیم عام تھی، بڑے بڑے رِشی لڑکوں کو پڑھاتے تھے، اِس لئے بدکاریاں نہ ہوتی تھیں۔ وہ وان لوگ انصاف کرتے تھے، اِس لئے جھوٹی گواہیاں نہ بنائی جاتی تھیں۔ کاشتکاروں پر سختی نہ کی جاتی تھی، اِس لئے وہ دل لگا کر کھیتی کرتے تھے۔ غلہ بہ افراط پیدا ہوتا تھا۔ ہر ایک گاؤں میں کنوئیں اور تالاب کھدوا دئے گئے تھے، نہریں بنا دی گئی تھیں اِس لئے کسان لوگ آسمانی بارش کے محتاج نہ تھے۔ صفائی کا بہت اچھا انتظام تھا۔ کھانے پینے کی چیزوں کی کمی نہ تھی، دودھ گھی افراط سے پیدا ہوتا تھا کیونکہ ہر ایک گاؤں میں<noinclude></noinclude> oofm6o3mf0t1eun99z8xofwnai9j0lw صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/78 250 13821 35369 35347 2026-07-17T06:01:16Z BalramBodhi 60 35369 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>ایک ہی شاعر کا ایک کلام مجخرہ معلوم ہوتا ہے اور دوسرا بزیان اور یہی وہ خاصیت ہے جو خدا کے کلام کو بشر کے کلام سے جدا کرتی ہے كما قال الله تعالی توسكان مِنْ عِندِ غَيْرِ اللهِ تَوَجَدُوا فِيهِ اِخْتِلَافا كَثِيرًا کلابات کے بعض قریم نسخون مین اس مثنوی کا نہ پایا جانا بہی اِس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ وہ شیخ کا کلام نہین ہے۔ ممکن ہے کہ علی بن احمد کے بعد کسی کو یہ مثنوی ملی ہو اور اس نے اسکو بھی کلیات مین داخل کر دیا ہو اور اس سبب سے کلیات کے نسخون مین اختلاف واقع ہو گیا ہو۔ چنانچہ حضرت امیر خسرو کے کلیات مین اسی طرح نسخون کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہر حال ہم جسطرح اِس مثنوی کے ثبوت کی کوئی قطعی دلیل نہین سمجہتے اِسی طرح اسکی نفی کی بھی کوئی قوی وجہ نہیں پاتے۔ اب ہم شیخ کی بعض تصنیفات پر جو زیادہ مشہور ہین یا زیادہ لحاظ کے قابل ہین متوجہ ہوتے ہین۔ جہان تک ہماری محدود واقفیت اور ناچیز رائے مساعدمت کرےگی ہم اُن کی حقیقت ظاہر کرنے مین کوشش کرینگے ناظرین با تمکیں سے یہ درخواست ہے کہ اگر کہین ہماری رائے کی غلطی ظاہر ہو تو اُس کو متعصبانہ افراط و تفریط پرمہمول نفرمائین بلکہ اسکو ایک مقتضائے بشریت سمجہکر اُسی قدر مواخذہ کے قابل ٹہرائین اسقدر کہ ایک غلط (مگر سچی) رائے پر مواخذہ ہو سکتا ہے۔{{nop}}<noinclude></noinclude> bse4plb27ohj0mw43j3srf5ixif8c4a