ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.11 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/234 250 12835 35379 31449 2026-07-18T11:24:13Z Jagdish Papra 66 35379 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۲۸}}</noinclude>زخمی ہو گئے ۔ کچھ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ تب اکتنے کمار نے للکار کر کہا ۔ اگر جوانمرد ہے تو سامنے آجا ۔ یہ کیا گنواروں کی طرح سوکھی ٹہنی لے کر کھا رہا ہے ، ہے ا ہنومان تال ٹھونک کر اکشے کمار پر جھپٹے اور اس کی ٹانگ پکڑ کر اتنی زور سے پیٹکا کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا ۔ اور سب آدمی ہر ہو گئے ۔ راون کو جب اکشے کمار کے مارے جانے کی خبر رہلی ۔ تب اُس کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی۔ ابھی تک اُس نے ہنومان کو کوئی معمولی سپاہی سمجھ رکھا تھا ۔ اب اُسے معلوم ہوا کہ یہ کوئی نہایت دلیر آدمی ہے ۔ ضرور اسے رام چندر نے یہاں سیتا کا سراغ لگآنے کے لے بحےجآ ہے ۔ اس آدمی کو ضرور سزا دینی چاہئے ۔ کڑک کر بولا۔ اس دربار میں اتنے سورنا ساونت ہیں، کیا کسی میں بھی اتنا حوصلہ نہیں کہ اس بدمعاش کو پکڑ کر میرے سامنے لائے ۔ لنکا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> kmqekwstur8a2rjts13d5jrc0h73cg6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/235 250 12838 35380 31471 2026-07-18T11:37:11Z Jagdish Papra 66 35380 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کے اس راج میں ایک بھی ایسا آدمی نہیں؟ میرے ہتھیار لاؤ ، میں خُود جا کر اُسے گرفتار کرونگا ۔ دیکھوں اُس میں کتنی طاقت ہے سارے دربار میں سناٹا چھا گیا ۔ راون کا دوسرا لڑکا میگھ ناد بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا . اب تک اس نے ہنومان کا مقابلہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھا تھا ۔ راون کو آمادہ دیکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا ' اُس کی سرکوبی کے لئے میں کیا کم ہوں جو آپ جا رہے ہیں ۔ کین ابھی جا کر اُسے باندھے لاتا ہوں ۔ آپ تشریف رکھیں ۔ میگھ ناد نهایت دلیر، طاقتور اور لڑائی کے فن میں ہوشیار تھا ۔ تیر کمان ہاتھ میں لے کر اشوک باٹکا میں پہنچا اور ہنومان سے بولا ۔ کیوں دے پگلے، کیا تیری شامیں آئی ہیں جو یہاں ایسا اندھیر مچا رہا ہے ۔ ہم لوگوں نے تجھے مسافر سمجھ کر طرح دیا اور تو شیر ہو گیا۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> l1pnrgc8b8n30d97k6syslcbjs3zot7 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/306 250 13173 35376 35365 2026-07-18T04:24:07Z Tamanpreet Kaur 81 35376 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۳۰۰}}</noinclude>نے اُنہیں کون گنڈ کے سامنے بٹھایا۔ براہمنوں نے وید منتر پڑھنا شروع کر دیا ۔ ہون ہونے لگا ۔ اُدھر راج محل میں مبارکباد کے گیت گائے جانے لگے ۔ ہون ختم ہونے پر گرو وشمسٹ نے رامچندر کے ماتھے پر کیسر کا تیلک لگا دیا ۔ اسی وقت تو پوں نے سلامیاں دائیں، امرا منذریں پیش کرنے لگے ۔ کبیشروں نے کہت پڑھنا شروع کر دیا۔ رامچندرجی اور سینتا جی سنگھاسن پر رونق افروز ہو گئے ۔ بھھیشن مورچھل جھلنے لگا ۔ سگریو نے چو ہداروں کا عصا سنبھال لیا ۔ اور ہنومان نیا جھلنے لگا ۔ وفادار ہنومان کی خوشی کی تھاہ نہ تھی۔ جس راجکمار کو بہت دن پہلے اُس نے دشموک پہاڑ پر اِدھر اُدھر سینا کو تلاش کرتے پایا تھا" آج اُسی کو سیتاجی کے ساتھ سنگھاسن پر بیٹھے دیکھ رہا تھا ۔ انہیں اس منزل مقصود تک پہنچانے میں اُس نے کتنا حصہ لیا تھا ۔ غرور آمیز مسترت سے وہ پھولا نہ سماتا تھا۔{{nop}}<noinclude></noinclude> ruuem7nps0x37nxlm1ik2wwpo6285dd صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/308 250 13175 35372 35370 2026-07-17T21:17:42Z Charan Gill 46 35372 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|اُتر کانڈ}} {{center|(1) رام کا راج}} تاجپوشی کا جشن ختم ہونے کے بعد سگریو بھبھیشن، انگد، وغیرہ تو رخصت ہوئے مگر ہنومان کو رامچندر سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ وہ انہیں چھوڑ کر جانے پر راضی نہ ہوئے۔ لکشمن بھرت وغیرہ نے اُنہیں بہت سمجھایا، مگر وہ اجودھیا سے نہ گئے ۔ اُن کی ساری زندگی رامچندر کے ساتھ ہی ختم ہوئی ۔ وہ ہمیشہ رامچندر مدد کرنے کو تیار رہتے تھے ۔ بڑے سے بڑا مشکل کام دیکھ کر بھی اُن کا حوصلہ پست نہ ہوتا تھا۔ رام چندر کے زمانہ میں اجودھیا کے راج کو<noinclude></noinclude> n2aq06pp5hosmnetcqm2vssgwcv9nx6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/310 250 13731 35373 34979 2026-07-17T21:20:50Z Charan Gill 46 35373 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>صاف چراگاہیں تھیں، اِس لئے ملک میں بیماریاں نہ تھیں ۔ پلیگ، ہیضہ، چیچک وغیرہ مرضوں کے نام بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ تندرست رہنے کے باعث سبھی خوبصورت تھے۔ بدصورت آدمی مشکل سے ملتا تھا۔ کیونکہ صحت ہی خوبصورتی کا راز ہے ۔ جوان موتیں بہت کم ہوتی تھیں ۔ اِس لئے کہ لوگ اپنی پوری عمر جیتے تھے۔ گلی گلی یتیم خانے نہ تھے اِس لئے کہ ملک میں یتیم اور بدھوائیں ہوتی ہی نہیں ۔ اُس زمانہ میں آدمی کی عزت اُس کی دولت یا ثروت کے اعتبار سے نہ کی جاتی تھی بلکہ دھرم اور علم کے اعتبار سے ۔ امیر لوگ غریبوں کا خون چوسنے کی فکر میں نہ رہتے تھے، نہ غریب لوگ امیروں کو دھوکا دیتے تھے۔ دھرم اور فرض کے مقابلہ میں غرض اور مطلب کو لوگ حقیر سمجھتے تھے۔ رامچندر رعایا کو اپنے لڑکے کی طرح مانتے تھے ۔ رعایا بھی انہیں اپنا باپ<noinclude></noinclude> cnlzvxhht63rth66ue19hmcaninh06n صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/311 250 13732 35374 34980 2026-07-17T21:28:34Z Charan Gill 46 35374 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سمجھتی تھی۔ گھر گھر یگیہ اور ہَون ہوتا تھا۔ رام چندر محض اپنے صلاحکاروں ہی کی باتیں نہ سنتے تھے۔ وہ خود بھی اکثر بھیس بدل کر اجودھیا اور راج کے دوسرے شہروں میں گھومتے رہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ رعایا کا ٹھیک ٹھیک حال انہیں ملتا رہے۔ جوں ہی وہ کسی سرکاری اہلکار کی بُرائی سنتے فوراً اُس سے جواب طلب کرتے۔ اور سخت سزا دیتے۔ مجال نہ تھی کہ رعایا پر کوئی ظلم کرے اور رامچندر کو اُس کی خبر نہ ملے۔ جس ہراہٹھ کو دولت کی طرف جھکتے دیکھتے فوراً اُس کا نام دیشوں میں لکھا دیتے۔ اُن کے راج میں یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی نو دولت اور عزت دونو ہی لوٹے، اور کوئی دو میں سے ایک بھی نہ پائے۔ کئی سال اسی طرح گزر گئے۔ ایک دن رامچندر رات کو اجودھیا کی گلیوں میں بھیس بدلے گھوم رہے تھے کہ ایک دھوبی کے گھر<noinclude></noinclude> dciarcrow46l5k1es2sv95xih8o0jt7 35375 35374 2026-07-17T21:29:38Z Charan Gill 46 35375 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سمجھتی تھی۔ گھر گھر یگیہ اور ہَون ہوتا تھا۔ رام چندر محض اپنے صلاحکاروں ہی کی باتیں نہ سنتے تھے۔ وہ خود بھی اکثر بھیس بدل کر اجودھیا اور راج کے دوسرے شہروں میں گھومتے رہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ رعایا کا ٹھیک ٹھیک حال انہیں ملتا رہے۔ جوں ہی وہ کسی سرکاری اہلکار کی بُرائی سنتے فوراً اُس سے جواب طلب کرتے۔ اور سخت سزا دیتے۔ مجال نہ تھی کہ رعایا پر کوئی ظلم کرے اور رامچندر کو اُس کی خبر نہ ملے۔ جس ہراہٹھ کو دولت کی طرف جھکتے دیکھتے فوراً اُس کا نام دیشوں میں لکھا دیتے۔ اُن کے راج میں یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی نو دولت اور عزت دونو ہی لوٹے، اور کوئی دو میں سے ایک بھی نہ پائے۔ کئی سال اسی طرح گزر گئے۔ ایک دن رامچندر رات کو اجودھیا کی گلیوں میں بھیس بدلے گھوم رہے تھے کہ ایک دھوبی کے گھر<noinclude></noinclude> tnfogkfvydih21ijkv3by6c1ecfilys صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/79 250 13823 35377 2026-07-18T05:50:51Z BalramBodhi 60 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”گلستان اور بوستان اگرچہ ہر تصنیف وتالیف کی ما بست اور ان کے عیب دخو بیان بیان کرنی عمو نا مشکل میں لیکن جو کلام سب کے نزدیک مقبول ہو اور سیکری سے خود گیری نہ کی ہوا سپر رویو لکھنا اور اس کی خوبی یا عیب بیان کرنا حد سے زیادہ شکل ہے ۔ جس طرح یدی یات...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35377 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>گلستان اور بوستان اگرچہ ہر تصنیف وتالیف کی ما بست اور ان کے عیب دخو بیان بیان کرنی عمو نا مشکل میں لیکن جو کلام سب کے نزدیک مقبول ہو اور سیکری سے خود گیری نہ کی ہوا سپر رویو لکھنا اور اس کی خوبی یا عیب بیان کرنا حد سے زیادہ شکل ہے ۔ جس طرح یدی یات پر استدلال کرنا نہایت دشوار ہے۔ اسی طرح ایسے مقبول اورمسلم کتابوں کے محاسن بیان کرنے مشکل میں اور اس طرح کی نکتہ چینی کی اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ ہم اسلام آسان کام کسی قدر اپنے ذمہ لیتے ہیں اور دوسرے مشکل کام کا اپنے سے زیادہ رقیقہ شناس اور باریک بین لوگوں پر چھوڑتے ہیں۔ ان دونون کتابوں کو شیخ کے کلام کا خلاصہ اور لب لباب سمجھنا چاہیئے ۔ ظاہر انازی زبان میں کوئی کتاب ان سے زیادہ مقبول اور مطبوع خاص و عام نہیں ہوئی ۔ ایران ساڑے ترکستان - تاتار - افغانستان اور ہندوستان مین ان دونوں کتابوں کی تعلیم سائی چھ سو برس سے بار جاری ہے۔ بچپن میں ان کی تعلیم شروع ہوتی ہے ۔ اور بڑھاپے تک مطالعہ کا شوق رہتا ہے لاکھوں استادوں نے انھیں پڑھایا ۔ اور کوڈرون شاگردون نے انھیں پڑھا انکے بیشمار نسخے خوشنویوں کے قاہرسے لکھے گئے۔ اور بے انتہا رویشن یو سے وہ پتھر چھاپے گئے ۔ مشرق اور غرب کی اکثر زبانوں میں اسکے ترجمے ہوئے ،مشائخ لہ نے آئی موت کی۔ بادشاہوں نے ذکر سلطنت کا دستور العمل بنایا ۔ مشیون و شارون<noinclude></noinclude> 9cc929cbavme7h4c2bbs14hrl4l2o24 35378 35377 2026-07-18T06:29:51Z BalramBodhi 60 35378 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>{{center|'''گلستان اور بوستان'''}} اگرچہ ہر تصنیف و تالیف کی ما ہیت اور اُن کے عیب و خو بیان بیان کرنی عمومً مشکل ہین لیکن جو کلام سب کے نزدیک مقبول ہو اور جسپر کسی نے خردہگیری نہ کی ہو اسپر رویو لکھنا اور اُس کی خوبی یا عیب بیان کرنا حد سے زیادہ مشکل ہے۔ جس طرح یدییات پر استدلال کرنا نہایت دشوار ہے۔ اِسی طرح ایسے مقبول اور مسلم کتابون کے محاسن بیان کرنے مشکل مین اور اسی طرح ان پر نکتہ چینی کرنی اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ ہم پہلا آسان سلام کام کسی قدر اپنے ذمہ لیتے ہین اور دوسرے مشکل کام کو اپنے سے زیادہ \دقیقہ\ شناس اور باریک بین لوگون پر چھوڑتے ہین۔ اِن دونون کتابون کو شیخ کے کلام کا خلاصہ اور لب لباب سمجھنا چاہیئے۔ ظاہرا فاسی زبان مین کوئی کتاب اِن سے زیادہ مقبول اور مطبوع خاص و عام نہین ہوئی۔ ایران ترکستان۔ تاتار۔افغانستان اور ہندوستان مین اِن دونون کتابون کی تعلیم ساڑئ چھ سو برس سے برابر جاری ہے۔ بچپن مین اِن کی تعلیم شروع ہوتی ہے۔ اور بڑھاپے تک مطالعہ کا شوق رہتا ہے لاکھون استادون نے اِنھین پڑھایا۔ اور کروڈون شاگردون نے انھین پڑھا اِنکے بیشمار نسخے خوشنویون کے قلم سے لکھے گئے۔ اور بے انتہا اڈیشن لوہے اور پتھر پر چھاپے گئے۔ مشرق اور مغرب کی اکثر زبانون مین اِنکے ترجمے ہوئے۔ مشائخ اور علما نے اں کی عزت کی۔ بادشاہون نے اںکو سلطنت کا دستور العمل بنایا۔ منشیون اور شاعرون<noinclude></noinclude> ne7uq00fciuk16vxuvag9l5jgurdlt1