ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.12
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/318
250
13739
35445
34988
2026-07-24T05:39:28Z
Kaur.gurmel
74
35445
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>وہ اپنی بدنامی ہرگز نہیں سہہ سکتے۔ سیتا جی
کے ساتھ دغا کرتے ہوئے اُن کا دل اُن کو
ملامت کر رہا تھا مگر مجبور تھے ۔ جاکر سیتا جی
سے بولے، ’بھابھی! آپ جنگلوں کی سیر کا
کئی بار تقاضا کر چکی ہیں۔ میں آج سیر کرنے
جا رہا ہوں ۔ چلئے آپ کو بھی لیتا چلوں‘.
غریب سیتا کیا جانتی تھیں کہ آج یہ گھر
مجھ سے ہمیشہ کے لئے چھوٹ رہا ہے۔ میرے
سوامی مجھے ہمیشہ کے لئے بن باس دے رہے
ہیں۔ بڑی خوشی سے چلنے کو تیار ہو گئیں۔
اُسی وقت رتھ تیار ہوا، لکشمن اور سیتا اُس
پر بیٹھ کر چلے ۔ سیتا جی بہت خوش تھیں۔ ہر
ایک نئی چیز کو دیکھ کر سوال کرنے لگتی تھیں۔
’یہ کیا ہے،‘ ’وہ کیا چیز ہے؟‘ مگر لکشمن اتنے
غمگین تھے کہ ہاں ہاں کر کے ٹال دیتے تھے۔
اُن کے مُنہ سے آواز نہ نکلتی تھی۔ باتیں کرتے
تو فوراً پردہ کھل جاتا ۔ کیونکہ اُن کی آنکھوں میں<noinclude></noinclude>
amh78r7y8zrpiej1lm2vmomm7r129nq
35446
35445
2026-07-24T05:48:28Z
Kaur.gurmel
74
35446
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>وہ اپنی بدنامی ہرگز نہیں سہہ سکتے۔ سیتا جی
کے ساتھ دغا کرتے ہوئے اُن کا دل اُن کو
ملامت کر رہا تھا مگر مجبور تھے ۔ جاکر سیتا جی
سے بولے، ’بھابھی! آپ جنگلوں کی سیر کا
کئی بار تقاضا کر چکی ہیں۔ میں آج سیر کرنے
جا رہا ہوں ۔ چلئے آپ کو بھی لیتا چلوں‘.
غریب سیتا کیا جانتی تھیں کہ آج یہ گھر
مجھ سے ہمیشہ کے لئے چھوٹ رہا ہے۔ میرے
سوامی مجھے ہمیشہ کے لئے بن باس دے رہے
ہیں۔ بڑی خوشی سے چلنے کو تیار ہو گئیں۔
اُسی وقت رتھ تیار ہوا، لکشمن اور سیتا اُس
پر بیٹھ کر چلے ۔ سیتا جی بہت خوش تھیں۔ ہر
ایک نئی چیز کو دیکھ کر سوال کرنے لگتی تھیں۔
’یہ کیا ہے،‘ ’وہ کیا چیز ہے؟‘ مگر لکشمن اتنے
غمگین تھے کہ ہاں ہاں کر کے ٹال دیتے تھے۔
اُن کے مُنہ سے آواز نہ نکلتی تھی۔ باتیں کرتے
تو فوراً پردہ کُھل جاتا ۔ کیونکہ اُن کی آنکھوں میں<noinclude></noinclude>
qtb5tbekzlhljvltt7x4m48qrvchk02
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/338
250
13763
35443
35016
2026-07-24T05:21:40Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35443
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۳۳۲}}</noinclude>
ہے':
رام چندر نے پھر پوچھا 'اَور یہ نظم کِس
نے بنائی'؟
لو نے جواب دیا ۔ 'ریشی والمیک نے ہی نظم
بھی بنائی ہے':
رام چندر کو اُن دونو لڑکوں سے اتنی محبت
تھی کہ وہ اُسی وقت رشی والمیک کے
پاس گئے اور اُن سے کہا ۔ 'مہاراج ! آپ
سے ایک سوال کرنے آیا ہوں ۔ دیا کیجئے گا'.
ریشی نے مسکرا کر کہا ۔ 'راجہ رنگ سے سوال
کرنے آیا ہے؟ تعجُّب ہے ۔ کہئے'،.
رام چندر نے کہا کہ 'میں چاہتا ہوں کہ ان دونو
لڑکوں کو جِنہوں نے آپ کے رچے ہوئے پد
سنائے ہیں اپنے پاس رکھ لوں ۔ میرے
کوئی لڑکا نہیں ہے یہ تو آپ جانتے ہی
ہیں. ۔ یہ میرے اندھیرے گھر کے چراغ ہونگے
ہَیں تو کِسی اچھے خاندان کے لڑکے'؟
{{nop}}<noinclude></noinclude>
o3dzbk2m0s4bequqxgg8hygsrv449n6
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/86
250
13848
35440
35439
2026-07-23T12:40:47Z
BalramBodhi
60
35440
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>پیرس چہپا۔ اُسکے بعد اصل کتاب سے گارڈین نے ١٧٨٩ ء مین اور سمالیٹ نے ١٨٣٤ ء مین ترجمہ کیا۔ یہ دونون ترجمے بہی فرنج مین ہوئے تہے۔ جرمن زبان مین اولی ایرئیس کا ترجمہ زیادہ مشہور ہے وہ اُس کے دیباچہ مین لکھتا ہے کہ اس ترجمہ مین ایران کے ایک فاضل سے
مدولی گئی ہے اور یہ بہی کہتا ہے کہ میرے ترجمہ سے پہلے ڑوراءر کے فرنچ ترجمہ سے ایک اور ترجمہ جرمن مین ہو چکا تہا۔ اولی اریس کا ترجمہ نہایت ذی وقعت ہے اور اس مین جو تصویرین چهاپی گئ ہین وہ ہہی بہت عمدہ ہین۔ یہ ترجمہ اول شادی ء مین بمقام سیلندگ چہپاتہا
اور اُسی سال جرمن سے اور ڈچ زبان مین ترتبہ ہو کر امسٹرڈم مین چہپا۔ اولی ایریس مین نے بوستان کا بھی ترجمہ حرمون مین کیا ہے۔ حال مین گلستان کا ایک اور ترجمہ کے۔ ایچ گراف نے جرمن مین کیا ہے جو ١٨٨٦ ء مین بہمقام لیبرگ چھپا ہے۔ اسی مترجم نے بوستان کا بہی
ترجمہ کیا ہے جس کا نام است گارٹن ہے اور جو ١٨٥٠ ء مین دو جلدون مین چہپا ہے انگریزی مین گلستان کا ترجمہ ایک تو گایڑرن نے کیا ہے جو بمقام لندن ١٨٠٨ ء مین چہپا اور دوسرا ترجمہ اِس مصاحب کا ہے جو ایشیاٹک سوسائٹی کے لیے کیا گیا تہا۔ ایک اور ترجمہ ایڑوک نے انگریزی مین کیا بے نظم کا نظم مین اور نثر نثر من جو ١٨٥٢ ء مین بمقام ہرٹ فورڈ چہپا تہا۔ ترجمہ نہایت عمدہ ہے۔ سعدی کی کلیات فارسی و عربی چہوٹی تقطیع کے کاغذ پر ہیرنگٹن نے ١٧٩١ ء مین چہپوائی تہی۔ اور گلیڈون نے صرف گلستان ١٨٠٦ ء مین چہپوائی
جو دوبارہ١٨٠٩ ء مین بمقام لندن مطبوع ہوئی۔ پہر ١٨٠٧ ء مین جس ڈیمولن نے گلستان \\ اپنے ترجمہ کے کلکتہ مین چہپوائی جو کہ اسوقت سے ابتک کئی بار پہتر پر چہپ چکی ہے۔ پر پر پروفیسر ظکر<noinclude></noinclude>
tjjkaolal7o104n7zt0qgp5b88h3yrb
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/87
250
13849
35441
2026-07-23T12:41:48Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”نے نارسی خوان طلبہ کے لیے پستان کا نہایت عمدہ انتخاب کر کے چور دیا ہے جبین تقریبا نمائی کتاب ، اہل ہے اور بعض حکایات کے ترجمے حواشی سمیت ایشیانک جرنل میں مدمن کے پایگے مین ڈاکٹر اے اسپرنگ شنا عین مقام کاه گلستان ما اعراب اور لاماست ۱۸۵ تف کے پہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35441
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>نے نارسی خوان طلبہ کے لیے پستان کا نہایت عمدہ انتخاب کر کے چور دیا ہے جبین تقریبا
نمائی کتاب ، اہل ہے اور بعض حکایات کے ترجمے حواشی سمیت ایشیانک جرنل میں مدمن کے
پایگے مین ڈاکٹر اے اسپرنگ شنا عین مقام کاه گلستان ما اعراب اور لاماست
۱۸۵
تف کے پہال تھی اور السلوک نے مقام پرہٹ فورڈ سنت ادا میں اسکو کئی ملی استخوان سے
چہوائی نے مقام برت منشاه مین سکوی قلمی
بیچ کر کے معہ فرہنگ کے شائع کیا۔
نکورہ بالاترحمون اور اڈیشنوں کے ساجن کا ذکر نگاش سائیکلو پیڈیا میں کیا گیا ہے ،
است سے نئے تربیجے اور اڈیشن خصہ بناتا جس کے بعد شائع ہوئے ہیں۔ از انجلا ملا
بن جان پیٹ انسپکٹر مارس ممالک متوسر نے اصل گلستان بعد انگریزی فرنگ کے حسن پر تمام
و زراعت کے ساتھ لندن میں جہانی تھی۔ اور کپتان ویر ہ س کنارک نے بہتان کا انگریزی
جمد الشلاع میں کیا وہ سکتے ہیں کہ ہ ترجمہ اس نسخہ کیا گیا ہے جو جرمنی کی اور قلیل سو سائٹی
ین را ر میں چھپا تھا۔ پر حال ہی میں باستان کی چہیے، حکایتوں کا ترجمہ یہ ریکسن نے
رمین کیا ہے جسکا نام فامور ز فروھر دی پرستان رکھا ہے۔
ہندوستان میں بھی متعدد زبانون بین گلستان
کا ترجمہ ہوا ہے۔ از انجام میر شیر علی افسوس
اس نے مارکوس والی گری کمی کا امام کاظمی اور سر کا ر میں لکھا
ہے گرچونکہ اسوقت تک اردو زبان خوب بن کر صاف ہوئی تھی اس لیے زمانہ حال کے ترجمے
اس کے بعد ہوئے ہیں زیادہ امت اوربا محاوره در روی این بنگالی در گجراتی مین بی استان
کے ترجمے ہوئے ہیں مگر ان کا منفصل حال معلوم نہین ہے ۔ ہاشا مین اول شمال مغربی<noinclude></noinclude>
rstvqwnijyyik657ad2d6m2akkea0yt
35442
35441
2026-07-23T13:32:49Z
BalramBodhi
60
35442
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>نے فارسی خوان طلبہ کے لیے بوستان کا نہایت عمدہ انتخاب کر کے چہپوایا ہے جسمین تقریباً ہتائی کتاب داخل ہے اور بعض حکایات کے ترجمے حواشی سمیت ایشیاٹک جرنل مین مع متن کے چہپے گئ ہین۔ ڈاکٹر اے اسپرنگر نے ١٨٥١ ء مین بمقام کلکتہ گلستان مع اعراب اور علامات
فف کے چہپوائی تہی اور الیسڑوک نے بمقام ہرٹ فورڈ ١٨٥٠ ء مین اُسکو کئی قلمی نسخون سے \\ کرکے مع فرہنگ کے شائع کیا۔
مزکورہ بالاتر جمون اور اڈیشنون کے سوا جنکا ذکر انگلش سائیکلوپیڈیا مین کیا گیا ہے اور ..ت سے نئے ترجمے اور اڈیشن خصوصاً ١٨٥٢ ء کے بعد شائع ہوئے ہین۔از \انجلا ملا\ ١٨٧١ ء مبن جان پلیٹ انسپکٹر مدارس ممالک متوسط نے اصل گلستان مع انگریزی فرہنگ کے حسن اہتمام ورصعت کے ساتھ لندن مین جہپوائ تہی۔ اور کپتان ویرنورس سمارک نے بوستان کا انگریزی ترجمہ ١٨٧٩ ء مین کیا وہ لکہتے ہین کہ یہ ترجمہ اُس نسخہ سے کیا گیا ہے جو جرمنی کی اورینٹل سوسائٹی \ین\ ١٨٥١ ء مین چہپا تہا۔ پہر حال ہی مین بوستان کی چیدہ حکایتون کا ترجمہ میجر مقنن نے نظم مین کیا ہے جسکا نام فادر زفروم دی بوستان رکہا ہے۔
ہندوستان مین بہی متعدد زبانون مین گلستان کا ترجمہ ہوا ہے۔ از انجملہ میر شیر علی افسوس \اس\ نے مارکوس ولزلی گورنر جنرل کے عہد امام کاظمی اور سر کا ر میں لکھا
مین اسکا اردو ترجمہ نظم کا نظم مے نثر کا نثر مین لکہا ہے مگر چونکہ اسوقت تک اردو زبان خوب منجہکر صاف نہوئی تہی اِس لیے زمانہ حال کے ترجمے \\اُس کے بعد ہوئے ہین زیادہ صاف اور بامحاوره اور فصیع ہین۔ بنگالی اور گجراتی مین بہی گلستان کے ترجمے ہوئے ہین مگر اُن کا مفصل حال معلوم نہین ہے۔ بہاشا مین اول شمال مغربی<noinclude></noinclude>
l9c88maue45w2gb7gg23xft7ym4hen8
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/88
250
13850
35444
2026-07-24T05:27:00Z
BalramBodhi
60
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”انمار میں گھستان کے آ تمرین باب کا ہجر کیا گیا تھا سکی اشاعت کو تقریبا نہیں ہیں گزرے ہوں گے۔ اس ترمیم کا نام ستر ہونے پ پ پ پ یا کار این باری کی ایک کیاری دکھایا ہے ۔ اس کے بعد ہمارے دوست پنڈت هرچند راس ماجن اگروال بینی مذهب مستوطن قصبه سونی بہت ض...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35444
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>انمار میں گھستان کے آ تمرین باب کا ہجر کیا گیا تھا سکی اشاعت کو تقریبا نہیں ہیں گزرے
ہوں گے۔ اس ترمیم کا نام ستر ہونے پ پ پ پ یا کار این باری کی ایک کیاری دکھایا ہے ۔
اس کے بعد ہمارے دوست پنڈت هرچند راس ماجن اگروال بینی مذهب مستوطن قصبه
سونی بہت ضلع وہلی نے حال ہی میں ساری گلستان کا رزمیہ نظم کا نظمیں اور شر کا نشمین سایت
کوشش سے کیا ہے جو شادی بین پیکر شایع ہوگیا ہے۔ اس ترجمہ کا نامی پوپ بین کہا ہے
جو کہ لفظ گلستان کا مرادف ہے پنڈت صاحب نے پند نامہ شیخ یعنی کہ کا بھی بیاشا ترجمہ جو بائی
وزن کی نظم میں لکھا ہے جس کا نام شکشا تیری ہے ۔
ترجمہ کے علاوہ گلستان بلکہ پوستان کی بھی بہت سی شرعین اور فرسنگین لکھی گین
ہیں جن مین سے خان آرزو کی خیابان گلستان اور ٹیک چند کی بہار پستان زیادہ مشہور
ہیں۔ علی الخصوص گلستان کی قدر ومنزلت ہرطبقہ اور ہر درجہ کے لوگوں نے اپنی اپنی
سمجھہ اور اپنے اپنے خیالات کے موافق کی ہے۔ جس طرح اہل علم نے مختلف زبانوں
مین اس کے ترجمے کیے ہیں اور ترین ایرانی میں اہل علم نے ایسی تعلیم کی بنیاد پر
رکھی ہے یا منشیوں نے اُسکے فقرات را بیات سے اپنے نشان کو بیت دی ہے اسیطرح
مرا نے اُسکے نسخے نہایت خوش خوالکم و اسکم اگران که علی در راہب کا یا ہے یہاں تک کہ
ہمارے ملک کے ریکیوں نے بھی جو درس وکتاب سے کچھ سر کا ر نہیں رکھتے اسکی حد
سے زیادہ قدر کی ہے۔ مینوں نے ایک ایک نسخہ کی تیاری اور تزئین من لالہ لاکھ روپیہ کے
قریب صرف کیا ہے ۔ اگر یہ ان باتوں کو کتاب کی اصلی معضلمت اور خوبی سے کپچر تعلق بہین ہے<noinclude></noinclude>
nokzh62qaqx80gu0w3vjo5z6mi6g97b
35447
35444
2026-07-24T07:10:10Z
BalramBodhi
60
35447
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>اضلاع مین گلستان کے آٹہوین باب کا ترجمہ کیا گیا تھا جسکی اشاعت کو تقریباً تیس برس گزرےہون گے۔ اِس ترجمہ کا نام مترجم نے پشپُرپ باٹکا (یانی باغ کی ایک کیاری) رکہا ہے۔اس کے بعد ہمارے دوست پنڈت مہرچند داس مہاجن اگروال جینی مذہب متوطن قصبه سونی پت ضلع دہلی نے حال ہی مین ساری گلستان کا ترجمہ نظم کا نظم میں اور نثر کا نثر مین نہایت کوشش سے کیا ہے جو ١٨٨٨ ء مین چہپکر شایع ہوگیا ہے۔ اِس ترجمہ کا نام پشپُرپ بن رکہا ہے جو کہ لفظ گلستان کا مرادف ہے پنڈت صاحب نے پند نامہ شیخ یعنی کہ \کا\ بہی بہاشا ترجمہ چوپائی
وزن کی نظم مین لکھا ہے جس کا نام شکشانپتیری ہے۔
ترجمہ کے علاوہ گلستان بلکہ بوستان کی بہی بہت سی شرعین اور فرہنگین لکہی گئن ہیں جن مین سے خان آرزو کی خیابان گلستان اور ٹیک چند کی بہار بوستان زیادہ مشہور ہین۔ علی الخصوص گلستان کی قدر و منزلت ہرطبقہ اور ہر درجہ کے لوگون نے اپنی اپنی سمجہہ اور اپنے اپنے خیالات کے موافق کی ہے۔ جس طرح اہل علم نے مختلف زبانون
مین اُس کے ترجمے کیے ہین اور شرین وغیرہ لکہی ہین یا اہل تعلیم نے فارسی تعلیم کی بنیاد اسپر رکہی ہے یا منشیون نے اُسکے فقرات و ابیات سے اپنے نشاّت کو زینت دی ہے اسیطرح امرا نے اُسکے نسخے نہایت خوش خط لکہوا سکہوا گر اُن کو معلّلی اور مذہب کرایا ہے یہاں تک کہ
ہمارے ملک کے ریشیون نے بہی جو درس و کتاب سے کچہہ سروکار نہین رکہتے اسکی حد سے زیادہ قدر کی ہے۔ بعضون نے ایک ایک نسخہ کی تیاری اور تزئین من لاکہ لاکہ روپیہ کے قریب صرف کیا ہے۔ اگرچہ اِن باتون کو کتاب کی اصلی عضمت اور خوبی سے کچہ تعلق بہین ہے<noinclude></noinclude>
sqztnu44ucnbt2z3wae4jq2k9oekrax