ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.12 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/28 250 12694 35468 31869 2026-07-25T09:44:39Z Taranpreet Goswami 90 35468 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھےگا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو چڑھایا ہے بلکہ یہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ مکر کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنےآ ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیکھتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آ سر جھکا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ماتا جو تو مجھ سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہوئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے یہ فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ برکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کاندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ چنپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشر اور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تربھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے آنکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے سے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنول کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جوبن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جب وہ بیاہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ خبر گئی کہ راجہ چمپکیشر کے گھر مین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سُر نر سن موہت ہوتے ہین پھر ملک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر برہمنون کے ہاتھ راجہ چمپکیشر کے یہان بھیجین راجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی تب تو راجہ نے کہا تو سعمبر کر یہ بات بھی اسنے نہ مانی اور اپنے باپ سے کہا خوبصوتی زور اور عقل و ہنر جسمین یہ تینون باتین ہون میری<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> fbfg3j6wtjy7h88xx51s5c9z9vu8cta 35469 35468 2026-07-25T10:00:42Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35469 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھےگا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو چڑھایا ہے بلکہ یہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ مکر کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنےآ ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیکھتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آ سر جھکا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ماتا جو تو مجھ سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہوئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے یہ فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ برکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کاندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ چنپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشر اور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تربھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے آنکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے سے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنول کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جوبن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جب وہ بیاہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ خبر گئی کہ راجہ چمپکیشر کے گھر مین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سُر نر سن موہت ہوتے ہین پھر ملک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر برہمنون کے ہاتھ راجہ چمپکیشر کے یہان بھیجین راجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی تب تو راجہ نے کہا تو سعمبر کر یہ بات بھی اسنے نہ مانی اور اپنے باپ سے کہا خوبصورتی زور اور عقل و ہنر جسمین یہ تینون باتین ہون میری<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> hb9uqv693ps8oeb4x169vde3yetu4wh صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/319 250 13740 35449 34989 2026-07-24T16:20:57Z Kaur.gurmel 74 35449 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>بار بار آنسو بھر آتے تھے ۔ آخر رتھ گنگا کے کنارے جا پہنچا . سیتا جی بولیں ’تو کیا ہم لوگ آج جنگلوں ہی میں رہیں گے ۔ شام ہونے آئی۔ ابھی تو کسی رِشی مُنی کے آشرم میں بھی نہیں گئی ۔ لوٹیں گے کب تک؟‘ لکشمن نے مُنہ پھیرے ہوئے جواب دیا ۔ ’دیکھئے کب تک لوٹتے ہیں‘. مانجھی کو جوں ہی رانی سیتا کے آنے کی خبر ملی۔ وہ شاہی کشتی کھیتا ہوا آیا ۔ سیتا رتھ سے اُتر کر کشتی میں جا بیٹھیں ۔ اور پانی سے کھیلنے لگیں۔ جنگل کی تازہ ہوا نے انہیں بشاش کر دیا تھا۔ {{center|<big>'''(۲) سیتا بن باس'''</big>}} ندی کے پار پہنچ کر سیتا جی کی نگاہ یکایک لکشمن کے چہرے پر پڑی تو دیکھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ۔ ویر لکشمن نے<noinclude></noinclude> r18q8wscnmf2lf7uk06fk2wtci8aexy صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/338 250 13763 35451 35443 2026-07-25T03:04:29Z Tamanpreet Kaur 81 35451 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۳۳۲}}</noinclude> ہے'. رام چندر نے پھر پوچھا 'اَور یہ نظم کِس نے بنائی'؟ لو نے جواب دیا ۔ 'ریشی والمیک نے ہی نظم بھی بنائی ہے': رام چندر کو اُن دونو لڑکوں سے اتنی محبت تھی کہ وہ اُسی وقت رشی والمیک کے پاس گئے اور اُن سے کہا ۔ 'مہاراج ! آپ سے ایک سوال کرنے آیا ہوں ۔ دیا کیجئے گا'. ریشی نے مسکرا کر کہا ۔ 'راجہ رنگ سے سوال کرنے آیا ہے؟ تعجُّب ہے ۔ کہئے'،. رام چندر نے کہا کہ 'میں چاہتا ہوں کہ ان دونو لڑکوں کو جِنہوں نے آپ کے رچے ہوئے پد سنائے ہیں اپنے پاس رکھ لوں ۔ میرے کوئی لڑکا نہیں ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہیں. ۔ یہ میرے اندھیرے گھر کے چراغ ہونگے ہَیں تو کِسی اچھے خاندان کے لڑکے'؟ {{nop}}<noinclude></noinclude> hozvqd6h2u8ri5xety016k4nhhywhci صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/339 250 13764 35452 35017 2026-07-25T03:17:12Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35452 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>والمیک نے کہا ۔ 'ہاں بہت اونچے خاندان کے ہیں ۔ ایسا خاندان بھارت ورش میں دوسرا نہیں ہے! رام تب تو اور بھی اچھا ہے ۔ میرے بعد - وہی میرے جانشین ہونگے ۔ اُن کے ماں باپ کو اس میں کوئی اعتراض تو نہ ہوگا'؟ والمیک : 'کہ نہیں سکتا۔ ممکن ہے اعتراض ہو۔ باپ کو تو مطلق نہ ہوگا ۔ لیکن ماں کی بابت میں کچھ نہیں کہ سکتا ۔ اپنی عزت پر جان دینے والی عورت ہے،. رام - 'اگر آپ اُس دیوی کو کسی طرح راضی کر سکیں تو مجھ پر بڑی عنایت ہوگی ہے'. والمبیک - 'کوشش کرونگا ۔ میں نے ایسی شریف حیا دار اور ستی عورت نہیں دیکھی۔ حالانکہ اُس کے شوہر نے اُسے بے گناہ ، بے تیاگ دیا ہے مگر وہ ہمیشہ اسی<noinclude></noinclude> pnp76xajcjxzsi8d22vjumueql2jfwo صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/87 250 13849 35448 35442 2026-07-24T14:49:47Z Charan Gill 46 35448 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>نے فارسی خوان طلبہ کے لیے بوستان کا نہایت عمدہ انتخاب کر کے چہپوایا ہے جسمین تقریباً ہتائی کتاب داخل ہے اور بعض حکایات کے ترجمے حواشی سمیت ایشیاٹک جرنل مین مع متن کے چہپے گئ ہین۔ ڈاکٹر اے اسپرنگر نے ١٨٥١ ء مین بمقام کلکتہ گلستان مع اعراب اور علامات فف کے چہپوائی تہی اور الیسڑوک نے بمقام ہرٹ فورڈ ١٨٥٠ ء مین اُسکو کئی قلمی نسخون سے صحیح کرکے مع فرہنگ کے شائع کیا۔ مزکورہ بالاتر جمون اور اڈیشنون کے سوا جنکا ذکر انگلش سائیکلوپیڈیا مین کیا گیا ہے اور ..ت سے نئے ترجمے اور اڈیشن خصوصاً ١٨٥٢ء کے بعد شائع ہوئے ہین۔از انجلا ١٨٧١ء مبن جان پلیٹ انسپکٹر مدارس ممالک متوسط نے اصل گلستان مع انگریزی فرہنگ کے حسن اہتمام ورصعت کے ساتھ لندن مین جہپوائ تہی۔ اور کپتان ویرنورس سمارک نے بوستان کا انگریزی ترجمہ ١٨٧٩ء مین کیا وہ لکہتے ہین کہ یہ ترجمہ اُس نسخہ سے کیا گیا ہے جو جرمنی کی اور نیٹل سوسائٹی مین ١٨٥١ ء مین چہپا تہا۔ پہر حال ہی مین بوستان کی چیدہ حکایتون کا ترجمہ میجر مقنن نے نظم مین کیا ہے جسکا نام فادر زفروم دی بوستان رکہا ہے۔ ہندوستان مین بہی متعدد زبانون مین گلستان کا ترجمہ ہوا ہے۔ از انجملہ میر شیر علی افسوس تخلص نے مارکوس ولزلی گورنر جنرل کے عہد امام کاظمی اور سر کا ر میں لکھا مین اسکا اردو ترجمہ نظم کا نظم مے نثر کا نثر مین لکہا ہے مگر چونکہ اسوقت تک اردو زبان خوب منجہکر صاف نہوئی تہی اِس لیے زمانہ حال کے ترجمے جواُس کے بعد ہوئے ہین زیادہ صاف اور بامحاوره اور فصیع ہین۔ بنگالی اور گجراتی مین بہی گلستان کے ترجمے ہوئے ہین مگر اُن کا مفصل حال معلوم نہین ہے۔ بہاشا مین اول شمال مغربی<noinclude></noinclude> mbkcloii5a4tg7wjrj4ihmspzxcfyay 35450 35448 2026-07-25T01:55:10Z Charan Gill 46 35450 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="BalramBodhi" /></noinclude>نے فارسی خوان طلبہ کے لیے بوستان کا نہایت عمدہ انتخاب کر کے چہپوایا ہے جسمین تقریباً تہائی کتاب داخل ہے اور بعض حکایات کے ترجمے حواشی سمیت ایشیاٹک جرنل مین مع متن کے چہاپے گیے ہین۔ ڈاکٹر اے اسپرنگر نے ١٨٥١ ء مین بمقام کلکتہ گلستان مع اعراب اور علامات فف کے چہپوائی تہی اور الیسڑوک نے بمقام ہرٹ فورڈ ١٨٥٠ ء مین اُسکو کئی قلمی نسخون سے صحیح کرکے مع فرہنگ کے شائع کیا۔ مزکورہ بالاتر جمون اور اڈیشنون کے سوا جنکا ذکر انگلش سائیکلوپیڈیا مین کیا گیا ہے اور بہت سے نئے ترجمے اور اڈیشن خصوصاً ١٨٥٢ء کے بعد شائع ہوئے ہین۔از انجملا ١٨٧١ء مبن جان پلیٹ انسپکٹر مدارس ممالک متوسط نے اصل گلستان مع انگریزی فرہنگ کے حسن اہتمام اور صحت کے ساتھ لندن مین جہپوائ تہی۔ اور کپتان ویرنورس سمارک نے بوستان کا انگریزی ترجمہ ١٨٧٩ء مین کیا وہ لکہتے ہین کہ یہ ترجمہ اُس نسخہ سے کیا گیا ہے جو جرمنی کی اورینٹل سوسائٹی مین ١٨٥١ ء مین چہپا تہا۔ پہر حال ہی مین بوستان کی چیدہ حکایتون کا ترجمہ میجر مقنن نے نظم مین کیا ہے جسکا نام '''فلّورز فروم دی بوستان''' رکہا ہے۔ ہندوستان مین بہی متعدد زبانون مین گلستان کا ترجمہ ہوا ہے۔ از انجملہ میر شیر علی افسوس تخلص نے مارکوس ولزلی گورنر جنرل کے عہد امام کاظمی اور سر کا ر میں لکھا مین اسکا اردو ترجمہ نظم کا نظم مین نثر کا نثر مین لکہا ہے مگر چونکہ اسوقت تک اردو زبان خوب منجہکر صاف نہوئی تہی اِس لیے زمانہ حال کے ترجمے جواُس کے بعد ہوئے ہین زیادہ صاف اور بامحاوره اور فصیع ہین۔ بنگالی اور گجراتی مین بہی گلستان کے ترجمے ہوئے ہین مگر اُن کا مفصل حال معلوم نہین ہے۔ بہاشا مین اول شمال مغربی<noinclude></noinclude> 9r5vgkfc4vpzthop2mq5k6me4ah934w صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/89 250 13851 35453 2026-07-25T03:21:55Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”لیکن گلستان کی عام تبالیست پر اس سے بڑ کر وہ کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ ہندوستان کے ئیں اسکو است در زیر میں گویا اپنے گانے پر بھی ایسا مومنین کرتا جید اس وقت کرتا ہے کہ ایک تاریوں کی مجلس میں جان سے اور ان کو محفوظ کر کے اٹھے ۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35453 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن گلستان کی عام تبالیست پر اس سے بڑ کر وہ کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ ہندوستان کے ئیں اسکو است در زیر میں گویا اپنے گانے پر بھی ایسا مومنین کرتا جید اس وقت کرتا ہے کہ ایک تاریوں کی مجلس میں جان سے اور ان کو محفوظ کر کے اٹھے ۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ ترتیب اُسکے فقروں کی برہنگی ۔ اس کے الفاظ کی شستگی کے استعارات کی حالت اسکی مقالات یا یکی رنگی در پر یا جوان تا اب ان کے عبارت بین نهایت سادگی اور صفائی اسبات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ نے اپنی عمر عزیز کا ایک معتد به عمد اسکی تصنیف میں صرف کیا تھا اور اسکی تنقیح وتہذیب میں اپنے فکر اور سلیقہ سے پور اورا کام لیا تھا۔ چنانچہ دیا پر گستان کے اخیر میں اس نے عمان کہا ہے گروہ برسنے از گرگهای برونسی کردیم گری ان ہی کی اک اور عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس فصل بہار کے آغاز میں اسکالکنا شروع ہواتھا وہ ابھی ختم ہونے پائی ہی کتاب تمام ہوگئی اور اکثرلوگوں کا یہی خیال ہے کہ شیخ نے گلستان چند مہینے سے زیادہ میں بہین بھی لگا یہ بالکل غلط ہے جو لوگ تصنیف کے درد سے نگاہ میں وہ جانتے ہیں کہ کلام میں اذیت اور قبولیت پیدا نہیں ہو سکتی جبتک کہ اسکے ایک ایک لفظ میں مصنف کے خون جگر کی چاشنی نو۔ اور سبقد را دس میں زیادہ صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے اسی در بجھناچاہیے کہ اس کی رستی اور کاٹ چھانٹ میں زیادہ ریگی بیگی ایپ میں اکثر من مصفوفن کے مسودے یو بناکر نهایت احتیاط اور حفاظت سے رکے گیے ہیں۔ چنانچہ اٹلی کے شمال حصدین جوانی ایک الیقی ہے دبان مشہور مصنف اور میٹر کے مسودے اپناک موجود ہیں مائی مصنف کا کلام سادگی<noinclude></noinclude> bko0s4hh0r2kwbvsttv7hs2xqtdpqhu 35467 35453 2026-07-25T03:56:16Z Taranpreet Goswami 90 35467 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن گلستان کی عام قبالیت پر اس سے بڑ کر وہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہندوستان کے رئیں اسکو اسقدر عزیز رکہین گویا اپنے گانے پر کبہی ایسا فخر نہین کرتا جید اس وقت کرتا ہے کہ ایک اناڑیون کی مجلس میں جا سے اور ان کو محفوظ کر کے اٹھے ۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ ترتیب اُسکے فقروں کی برہنگی ۔ اس کے الفاظ کی شستگی اُسکے استعارات کی جزالت اسکی تمقالات و تشبیہات کے ظُرنگی اور پہر باوجود اِن تمام باتون کے عبارت مین نهایت سادگی اور صفائی اسبات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ نے اپنی عمر عزیز کا ایک معتد به حصّہ اسکی تصنیف میں صرف کیا تھا اور اسکی تنقیح وتہذیب میں اپنے فکر اور سلیقہ سے پور اورا کام لیا تھا۔ چنانچہ دیا پر گستان کے اخیر میں اس نے عمان کہا ہے گروہ برسنے از گرگهای برونسی کردیم گری ان ہی کی اک اور عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس فصل بہار کے آغاز میں اسکالکنا شروع ہواتھا وہ ابھی ختم ہونے پائی ہی کتاب تمام ہوگئی اور اکثرلوگوں کا یہی خیال ہے کہ شیخ نے گلستان چند مہینے سے زیادہ میں بہین بھی لگا یہ بالکل غلط ہے جو لوگ تصنیف کے درد سے نگاہ میں وہ جانتے ہیں کہ کلام میں اذیت اور قبولیت پیدا نہیں ہو سکتی جبتک کہ اسکے ایک ایک لفظ میں مصنف کے خون جگر کی چاشنی نو۔ اور سبقد را دس میں زیادہ صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے اسی در بجھناچاہیے کہ اس کی رستی اور کاٹ چھانٹ میں زیادہ ریگی بیگی ایپ میں اکثر من مصفوفن کے مسودے یو بناکر نهایت احتیاط اور حفاظت سے رکے گیے ہیں۔ چنانچہ اٹلی کے شمال حصدین جوانی ایک الیقی ہے دبان مشہور مصنف اور میٹر کے مسودے اپناک موجود ہیں مائی مصنف کا کلام سادگی<noinclude></noinclude> 7w1hhvn29xa0ei55qjqr5nzd3bmjgdu صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/90 250 13852 35454 2026-07-25T03:22:06Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”فانی اور بے معنی میں شور ہے گرا کے سویت دیکھنے سے معلوم رہتا ہےکہ ہم نفرت لوگوں کو نہایت پسند آتے ہیں اور حد سے زیادہ صاف ہیں وہ آہ آئے دن کاٹے گئے ہیں ۔ ار و سکال وجود استان که نهایت مشهور استقوا من سے اس کا ایک سید لندن موزیم میں ر کیا ہے اس میں...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35454 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>فانی اور بے معنی میں شور ہے گرا کے سویت دیکھنے سے معلوم رہتا ہےکہ ہم نفرت لوگوں کو نہایت پسند آتے ہیں اور حد سے زیادہ صاف ہیں وہ آہ آئے دن کاٹے گئے ہیں ۔ ار و سکال وجود استان که نهایت مشهور استقوا من سے اس کا ایک سید لندن موزیم میں ر کیا ہے اس میں بھی جابجا کاٹ پر مانس اور حک و اصلاح پائی جاتی ہے۔ یہانتک کہ احنض فقرے دس دس دفعہ کا لئے گئے ہیں۔ ظاہرا شیخ نے جو گلستان کے دیباچہ میں فصل بہار کا ذکر کیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ گلستان کے لیے جو سرمایہ اس نے سالما سال میں جمع کیا تھاوہ پہلے سے اسکے پاس نامرتب موجود تا جب وطن میں پہنچا تو دوستو کی تحریک سے اسکو مرتب کر دیا یہ ترتیب فصل بہارکے آغاز سے شروع ہوئی اور اسکے تمام ہونے سے پہلے ختم کبھی گلستان اور نیز بوستان کی ترتیب جس سلیقہ سے شیخ نے کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسکو اس کام میں بہت وقت اٹانی پڑی ہوگی ۔ اسنے ان کتابوں میں زیادہ تروہ واقعات کے مین جوخود شیر گارے این یا اسکے سامنے پیش ہوئے۔ اور ہر ایک باب کی تکمیل کیلئے کسی قدر کا تین ایسی ہی کی بین جوکسی سے سنین یا کتابوں میں راہیں اس قام مجموعه و گلستان امین آکنه باب پر داستان این اس باب پر تقسیم کیا ہے اور پر یک باب میں اسکے مناسب کانتین دن کی مین اور ا ا ر علی خان کی کئی اور ایسی نہیں ہے والا را در دست ان امین سے ہر ایک کتاب مین بیان کی گئی ہو۔ یہ بات تقریباً ایسی ہی مشکل تھی جیسے کوئی شخص سیر و سیاحت کے واقعات میں ترتیب سے لے کر اس میں علم اخلاق کے ہر ایک باب کا مطالبہ زیادہ موت آجائے اس ترتیب کی قدر اس وقت معلوم ہوسکتی ہے کہ دنوں کتابونی<noinclude></noinclude> jwijj4c829vznhhomrskxrl5l7r596v صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/91 250 13853 35455 2026-07-25T03:22:18Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”Ap اصل حکامیون کو نامرتب کر کے گانڈ کردیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو تھے۔ شیخ نے استخراج کیے میں دوران میں درج کیے جائیں اور تمام مواد حکایت کو بابا بابان تقسیم کا یا جائے اور اور پہا جائے کہ وہ حکایت کون سے باجیسے علاقہ رکھتی ہے اور یہ کون سے بی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35455 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>Ap اصل حکامیون کو نامرتب کر کے گانڈ کردیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو تھے۔ شیخ نے استخراج کیے میں دوران میں درج کیے جائیں اور تمام مواد حکایت کو بابا بابان تقسیم کا یا جائے اور اور پہا جائے کہ وہ حکایت کون سے باجیسے علاقہ رکھتی ہے اور یہ کون سے بیا سے جس طرح ہر ایک ملک میں لانچر کی ابتدال سے ہوتی رہی ہے اسی طرح ایران میں بھی اول شاعری کا ظہور ہوا تھا ۔ اور دوسری صدی کے اخیر سے ہم کہ اول ہی اول خواجہ عباس مروزی نے ماسون کی طرح مین فارسی قصیدہ لکھا ۔ کئی صدیوں تک مقتنے وقت کے موافق - سرت شاعری کو ترقی ہوتی رہی۔ فارسی نرکھنا اگریہ ایک مدت کے بعد شروع ہو گیا لیکن ینے کے الات تک اسکی کوئی عام شاہراه مترشین بو ئی کر سید ہی ساری عبارت عام روزمره اور بول چال کے موافق لکھی جاتی یا اہل علم میاد خواص کے روز مرہ میں تحریر کرتے تھے چنانچه حکیم ناصرخسروی سفر نامی که پانچویں صدی میں کھا گیا اس میں نہایت بے تکلفی سے خواص کی معمولی بول چال میں حالات تحریر کیے گئے ہیں اور اعضا دیب اور فاضل جن پر رشت غالب تھی اُنکے قا سے بغیر نیز در خور کے کر عربی لغات برا شعار خیره فارسی تقریرون بین تلاش کرتے تھے۔ گرمین شاعران شوخی اور اور پیارا اور اس کے فقرون مین ایک خاص قسم کے وزن اور تول کالی در کناجاری واتا خصومنا کوئی اخلاقی کتاب عمدہ شرمین شیخ کے زمانہ ترک ایسی نہیں لکھی گئی تھی جس میں اخلاق کا بیان واقعات نفس الامری کے ضمن میں کیا گیا ہو ۔ ه مجرمین قاضی حمید الدین ابو بکر نے مقامات بدیعی اور مقامات حریری کی طرز پر فارسی میں مقامات امید کی لکھی ہے اسمین حمایت ملامت ہو تصنع پایا جاتا ہے اسکی بنیا زیادہ تر تا رائع<noinclude></noinclude> bp2jca11zxosg2m4cgkeh1illx1jpx3 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/92 250 13854 35456 2026-07-25T03:22:30Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”MY لفظ پر کسی ہے اور تمام کتاب پہلی اور حریری کی ای منفی اور مسج لکھی ہے اور میں حسن ان دونوں کتابوں میں فرضی قصے وضع کیے گئے ان مسی طرح اس میں ہی محض خیالی افسانے لکھتے ہیں آج ن میں گانے بہانے اور ہرقسم کے تصرف کرنیکا اختیار محنت کے با تمرین ہوتا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35456 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>MY لفظ پر کسی ہے اور تمام کتاب پہلی اور حریری کی ای منفی اور مسج لکھی ہے اور میں حسن ان دونوں کتابوں میں فرضی قصے وضع کیے گئے ان مسی طرح اس میں ہی محض خیالی افسانے لکھتے ہیں آج ن میں گانے بہانے اور ہرقسم کے تصرف کرنیکا اختیار محنت کے با تمرین ہوتا ہے اس کتاب کے پڑہنے سے کوئی خیال اس کے سوا دل میں پیدا نہیں ہوتاکہ مصنف کو عربی لغات پر بہت عبور تھا اور تجنیس وترصیع اور دیگر متنائع لفظی کے برستے پر کافی قدرت رکھتا تھا۔ ایک اور کتاب موسوم به قابوس نامه پانچوین عمدی تجری کی تصنیف ہماری نظرت گذاری ہے جو کا صنعت قابوس بن سکند رها شب به مترا اعمال سے یہ تمام کتاب اخلاق در آداب معاشرت میں لکھی گئی ہے اس کا بیان بہت صاف اور سادہ ہے اور مضامین شده این اسکین اس کے سوا کوئی ندرت یاد دلفریبی اسکی عبارت میں نہیں پائی جاتی۔ ونکہ یا کہ کیا ان کا کوئی سیارہ نور نہیں دیکھا تا یکی بہت ہی گمان کیا جائے گرگیست ان کی بنیاد اُس پر کھی گئی ہوگی۔ حق یہ ہے کہ وہ خود ہی اس روش کا موجد تھا اور اوسی پرائس کا خاتمہ ہوگیا ۔ اُس نے اپنی دونوں بے نظیر کتابوں میں رضا ایران نشتاروں کے اپنی بلند پروازی است که خیالی نام کرتی یا پنا غلاف تیم ملی استان یا اقل عادت کے مخابات این نکه کر لوگوں کا دل بہانا اور کیا سیاست کیا اسی باندھ کر خلافت کو تیرت میں ڈالتا نہیں چاہا ۔ اس نے ردو کتابوں مین باستا پنج کاتیون کے کوئی واقعہ ایسا نہیں لکھا جو فصل یا عادت کے خلاف ے بخش دیار آل زیارمیں سے ایک بادشاہ نے جریان اورگیان دیرین کامیا بی کرانی کی داد ادای دین وفات پائی<noinclude></noinclude> 2ggyxv3e2qgmka28vkqpc188xnv8r9d صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/93 250 13855 35457 2026-07-25T03:22:42Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”MA ا یہ کہنا کہ زیادہ تعجب ہو وہ اکثر اپنی آنکھ کی دکھی ایمان سے سنی یاکسی کتاب سے انتخاب کی ہوئی ایسی سیدری سادی معمول باتیں کہتا ہے جوصبح سے شام تک ہر انسان پرگزری میں عام حکایتین جوان دونوں کتابین میں درج ہیں وہ اس قبیل کی ہیں کہ مثلاً ایک ، مع...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35457 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>MA ا یہ کہنا کہ زیادہ تعجب ہو وہ اکثر اپنی آنکھ کی دکھی ایمان سے سنی یاکسی کتاب سے انتخاب کی ہوئی ایسی سیدری سادی معمول باتیں کہتا ہے جوصبح سے شام تک ہر انسان پرگزری میں عام حکایتین جوان دونوں کتابین میں درج ہیں وہ اس قبیل کی ہیں کہ مثلاً ایک ، معاش سائل نے اپنے کو تر ضد ارظاہر کر کے ایک بزرگ سے دو دینار حاصل کیے ۔ لوگوں نے کہا یہ تو کار تھا۔ کچھ دینا چاہیے تھا۔ راما کم کار تامین اسکے شرسے بچا ورود ہوا اوروں کے شرسے بچا۔ یا یہ کہ ایک بادشاہزادہ کے تاج کا مل اند مری رات میں ایک ہی ریلی جگہ گر برای ایشان نے بیٹے سے کم کہ ہر یونین پرعمل پاناچاہتا ہو و برتری کامل مجمر کو غور سے دیکہ ر همین چند در ویو کے ساتھ درد میں پونا اور ہم سب ایک ہی مقدر شیخ کے مان اتر، اسنے ہماری ہرجانے سے خط کی مار کھانے کو کچھ ہی دیا۔ ان سیدھی سادی حکایتوں کو دہ ایسے لطیف اسلوب سے بیان کرتا ہے اور ان سے یے پاکیزہ نتیجے استخوان کرتا ہے کہ ایک نہایت بے حقیقت بات حقیقت میں ایک نکتہ یا ایک کی تقدیر معلوم ہوتا ہے ۔ کستان اور بوستان کو پڑه کرد باتوں میں سے ایک بات کا ضرور اقرار کرتا رہتا ہے۔ باتو یہ کہ انتخاب کرنے میں شیخ کا مذاق ایسا صحیح تمام جو حکایت وہ ان کتابون بین درج کرنی چاہتا تھا اس میں کوئی ن کوئی مصیت اور بہتی ہوئی بات ضرور ہوتی تھی اور یہ کہ وہ اپنی خوش سلینگی اور حسن بیان سے ایک منتزل اور پیش پا افتاده مضمون کو ہی اسی قدر دلاویز طور پر بیان کر سکتا تھا جیسے ایک ترانے اور اچھوتے خیال کو۔<noinclude></noinclude> o9n5o2mfjwfrlr2w2j4tow6srzyf2hr صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/94 250 13856 35458 2026-07-25T03:22:56Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۸۶ تعجب ہے کہ شیخ کی گلستان جو آیند و اسلون کے لیے نثر فارسی کا ایک ہی جواب منو داشتی ایران میں اسکے متبع کو کسی نے خیال مین کیا با این کئے کرکسی سے اسکا نتیج نہیں ہو سکا، اگرمیاں شیخ کے بعد شر فارسی کی ترقی یا دست بنھا کے درجہ کو پہنچ گئی اور رکن...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35458 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۸۶ تعجب ہے کہ شیخ کی گلستان جو آیند و اسلون کے لیے نثر فارسی کا ایک ہی جواب منو داشتی ایران میں اسکے متبع کو کسی نے خیال مین کیا با این کئے کرکسی سے اسکا نتیج نہیں ہو سکا، اگرمیاں شیخ کے بعد شر فارسی کی ترقی یا دست بنھا کے درجہ کو پہنچ گئی اور رکنے پارلیے ایسے جلیل القدر فاضلوت نے کر باندی جبکہ علم ان شیخ سے بمراتب نائن تر خا ک سب کی بہت زیادہ تر الفاظ اور صنائع لفظی پر مقصو د ہیں۔ ایران میں سب سے بڑانا علم اللہ عبداللہ شیرازی سجایا جاتاہے جو شیخ کے اخیر ازمان مین ہوا ہے اسکی مشہور کتاب تاریخ دوستان سے بیشک اس کی کمال علمی اور عربی و فارسی نون زبان کا نام نشریه با قدرت معلوم ہوتی ہے لیکن ساری کتاب میں شاید ہی کوئی نقص ایسا نکلے جو متوسط درجہ کی استعداد کی آ دمی دکتری کھولے بغیر سمجھ سکے یا جسکا انداز بیان دل مین جا کر چھے سے ہجری من جیسا محمد الجاتوخان خدابندہ کے حکم سے تو بیجان میں انی یا روکا اوراس خوشی میں سلطان کی طرف سے نا شہر کی دعوت کی گئی۔ اس کتاب کی تقریب اور تعریف سلطان کے حضور میں کی گئی ۔ سلطان نے اُس میں سے کچھ متفرق رے پڑھنے کا حکم دیا را تا الان نظام الدین ایالات ور خواجہ اصیل الدین طوسی اور بڑے بڑے عالم اور فاضل موجود تھے فضل اللہ نے چند دعائیہ تقرے کہ ان سے زیادہ سلیس اورآسان عبارت شاید تا کتاب می نوی خاص سلطان کے سنانے کو لکھے تے وہ پڑنے شروع کیے سلطان والفقر کے معنی بعید الدین فریم سے اپناتا یہ لوگ اس کی شرح بہت برا کےسامنہ کرتے تھے تب سلطان کی جسم میں کچھ آتا تھا ارے شراکے<noinclude></noinclude> 2j0n0n8k8x8okf2mxto02x76trw5d5d صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/95 250 13857 35459 2026-07-25T03:23:19Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”Mo کہربان ہوں کر دیتا تھا۔ یہ حال پریخ وصاحت کی مہارت کا ہے اسکے بعد ہی زیادہ ریٹر لکھنے والوں نے اسی بات مین کوشش کی ہےکہ انکی شر کے سینے میں ناخرین کو طرح عدت کی وقتی بنشین آئین در ان کے ار افضل اور مہردان کا اتحادیوں میں پیدا ہوگیا اور بہت کر ک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35459 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>Mo کہربان ہوں کر دیتا تھا۔ یہ حال پریخ وصاحت کی مہارت کا ہے اسکے بعد ہی زیادہ ریٹر لکھنے والوں نے اسی بات مین کوشش کی ہےکہ انکی شر کے سینے میں ناخرین کو طرح عدت کی وقتی بنشین آئین در ان کے ار افضل اور مہردان کا اتحادیوں میں پیدا ہوگیا اور بہت کر کیاگیا ہے کہ مفید خیالات زود فہم الفاظ اور دلا دی عبارت میں ادا کیے جائیں ۔ تین کتابین میری نظر سے گزری بین و شیخ کے بعدگلستان کی وزیر رکھی گئی ہیں۔ ایک سوال عبد الرحمن جامی کی بہارستان ۔ دوسری جدالدین خوانی کی خارستان تیسری جدیت تا آنی شیرازی کی پریشان سوال جو بہارستان کا ذکرکرتے ہیں۔ گرچہ خارستان کو عبارت کی خوبی اور جزائت کے لحاظ سے بہارستان کے ساتھ کچھ نسبت نہین ہے۔ بکارگیری رائے غلط ارستان کاری تراکثر جگہ اہل زبان کی روش سے بیگانہ معلوم ہوتا ہے لیکن جب دونوں کو گلستان کے مقابلہ میں لایا جاتا ہے تو جس طرح آفتاب کے سامنے چاند اور شمع مونون کی روشنی کا فور ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح بہارستان اور خارستان دونون کا رنگ پیکا پڑ جاتا ہے اور ایک کو دوسرے سے بہتر کتے کی کوئی وجہ ہیں انہی حکمتین اور روایتین جوان دونو کتابون مین برج کی گئی ہیں وہ فی الحقیقت گلستان کی حکایتوں سے بہت ملتی جاتی ہیں اور زیادہ ترجیدالدین خوانی نے اپنی کتاب کے ابواب بھی اسی طریقہ پر مرتب کیے بین اگر شیخ کے حسن بیان اور لطف ادا سے اشی کی کاکردنی خراسان است آیا تا خواف خراسان من یک مشہور یہی ہے کتے بن کر خارستان اس نے کر کے کو ہبی کی شیخ زاد خان کا ایران است این اسکی رفات کو چائینیش بیس سے زیادہ نہین گے۔<noinclude></noinclude> j5vn2b8x4pooxs2j95fygtcict7arop صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/96 250 13858 35460 2026-07-25T03:24:08Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کستان نے ایک خاص صورت پیدا کی ہے جس کے سب سے دو بالکل انوکھی اور زانی چی معلوم ہوتی ہے ۔ ہر چند اس قسم کی مشکل پیجن کتابو مین پورا پورارو اور امتیا کا بغیر بیان مسیح اور ذوق سلیم کے مکن نہیں ہے لیکن چند تعد المضمون فقرون کے مقابلہ کرنے کی کسی ندا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35460 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کستان نے ایک خاص صورت پیدا کی ہے جس کے سب سے دو بالکل انوکھی اور زانی چی معلوم ہوتی ہے ۔ ہر چند اس قسم کی مشکل پیجن کتابو مین پورا پورارو اور امتیا کا بغیر بیان مسیح اور ذوق سلیم کے مکن نہیں ہے لیکن چند تعد المضمون فقرون کے مقابلہ کرنے کی کسی ندازہ ہوسکتاہے کون اسلوب بیان یار ما ایرانی داری ہے اور و ساکم سے چند این مثالین و نهایت وقت او جستجو سے جو پہنچی ہیں۔ اس مقام پرنقل کی جاتی ہیں۔ گلستان اور بهارستان کا مقابلہ گلستان - استند را پرسیدند ک دیار مغرب بهارستان - اسکندر گفت دیر سبب ر را گرفت که ملک پیشین خدایان و هم یک انتی آنها نیستی از دولت سلطنت و شکست با صغرسن اهداشت عموده گفت با ستمانت دشمنان و شکر بیش از تو بود چنین نفتی میر نشد گفت ب ون من اس دور میں برکت را گرفتم بیتش را ان کا ایمنی زمام است و از تبار در استان تا یاز دوم و سور بیات گذشتگان باطل کردم تا در قاعده درستی استحکام یافتند. ام با شتابان جرم یکون به مردم است کردم بزرگش نخوانده ای و اکرام بزرگان برشتی برد بایدت ملک سکن، چون دسه الاحسن بسیر قطعہ ان می گیرین متن ترانه در رای گیرا. م که با نان برای کند تا با نام ریاست واگذار دشمنان را دوست گردن روستا را دوست تر<noinclude></noinclude> momzzo47bs69qe3evdls2uf59fx6vk5 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/97 250 13859 35461 2026-07-25T03:24:20Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۰۹ ن دونون عبارتون مین باعتبار فصاحت و بلاغت کے جو فرق ہے اس کا فیصد زیاد از ذوق سبیح پرنحصرہے مگر بند قید بیان میں آسکتا ہے وہ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس سے محض گلستان کی نوعیت جتان مقصود ہے کہ اسان کی نفی کرنی اول و سکندر را پرسیدند، اور اسکن گفتند م...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35461 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۰۹ ن دونون عبارتون مین باعتبار فصاحت و بلاغت کے جو فرق ہے اس کا فیصد زیاد از ذوق سبیح پرنحصرہے مگر بند قید بیان میں آسکتا ہے وہ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس سے محض گلستان کی نوعیت جتان مقصود ہے کہ اسان کی نفی کرنی اول و سکندر را پرسیدند، اور اسکن گفتند مین جوفرق ہے وہ ظاہر ہے۔ سوال کے موقع پر رسیدن بالنبت گفتن کے زیادہ منارہے دوسرے فین کے بان قرائن اور دمک و شکر چار لفظ ایک دوسرے سمون مین اورکوئی لفظ و بیکار نمین ہے ۔ اور مولانا کے ہان دولت سے اگر سلطنت مراد ہے تو سلطنت و ماکت در زن در حضرت حافظ ملت تو ہے اور عفرین کےبعد حدات عمد بھی مشوبے تیرے نین کے بان بان می سوال کی کی جان ہے کیونکہ باجود کی شکر میک عمال کے مشرق و مغرب کو فتح کرتا تنجب سے خالی نہ تھا۔ اور مولانا کے ان سوال کی وجہ سیسی ماہر نہیں ہے کیونکہ تھوڑی عمرمیں تیرے لوگوں نے دولت اور سلطنت حاصل کی ہے جو تھے سکنہ کا جواب ہو شیخ نے نقل کیا ہے ، مین بر گراس سے زیادہ اختصار کی گنجایش تھی ورنہ سکندر کا جواب ناتمام رہا۔ اور جواب مولانا نے نقل کیا ہے وہ ان لفظون مین اور ہو سکتا تهان به استمالت دشمنان و لقا ہو دوستان ، اس سے زیادہ بیان کرنے کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔ پانچوین شیخ نے جونیجو حکایت کے مضمون سے نکال کر اشعار میں بیان کیا ہے وہ کئی وجہ سے سول ناس کے نتیجہ کی نسبت زیادہ بلیغ ہے۔ شیخ کا نتیجہ لازمی ہے ۔ اور مولانا کا نیب خیر لازمی کیون کہ یہ نور نہیں ہے کہ جو شخص دشمنون نو دوست ت اور دو ستون کو زیادہ دوست بنائے گا اس کو مرد سکندی کی سی سال سلطنت<noinclude></noinclude> i1mzewlb8h9tcg5zvexsewgee3iko1x صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/98 250 13860 35462 2026-07-25T03:24:33Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۹۰ حاصل ہو جائیگی۔ اسکے سوا مولانا نے حقیقت میں کوئی تیر نہین کالا با یک کابیت کا خلاصہ ایک بہیت میں دوبارہ بیان کر دیا ہے۔ اور شیخ نے جو فیجہ نکالا ہے وہ ایک اچھوتا سفرون ہے کہ جب تک بیان کیا جاوے ہر شخص کا ذہن و بان تیک انتقال نہین کر سکتا۔ ی شی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35462 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۹۰ حاصل ہو جائیگی۔ اسکے سوا مولانا نے حقیقت میں کوئی تیر نہین کالا با یک کابیت کا خلاصہ ایک بہیت میں دوبارہ بیان کر دیا ہے۔ اور شیخ نے جو فیجہ نکالا ہے وہ ایک اچھوتا سفرون ہے کہ جب تک بیان کیا جاوے ہر شخص کا ذہن و بان تیک انتقال نہین کر سکتا۔ ی شیخ نے ایسادی تیر نکالاہے جو تا مخلوق کو شامل ہے۔ کیونکہ ساعت کی تنظیم اور ادب اور ان کے محاسن و کمالات کی قدر کرنی شخص کے حق میں شمر برکات ہے اور مولاناکا نتیجہ مرت سلاطین اولوالعزم کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ ملک سکندر کی خواہش اون کے سوا اور کسی کو نین ہوتی۔ گلستان - راز یک انسان خواہی بیا کے سہارستان - امرا اینان خودر یا پیچی در میان من گرچه دست باشند که هر آن پوستی در میان است زیرا که بسیار بود که هرآن دوست را نیز دوستان باشند و همچنین در دوستی خلل انت و دشمنی بدل گردد - قطعه مسلسل قطعه خامشی به که ضمیر دل خویش اے پسرست کش از دشمن نهفتن لازمت کے گفتن گفتن کو گوئے یک دانشنائے ان با دوستی کر دم نزنی از سلم آب در ماه به بند دید و او بسیار می ره کی ناو میره یا ے د چو پرسش نتوان بستن جوئے دوستان دشمن شوند و دوستیها دشمنی قطعه برسرسره بر کاست بخاطرات سینه در تلا نباید گفت سرعت مکن به سوچ بیانش نگاشتن<noinclude></noinclude> mwre8r46gocc3c59yz0812w23r3yh0v صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/99 250 13861 35463 2026-07-25T03:24:49Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۹۱ کان سخن بر دانش اید گفت ترسم شودنی است باران ترا مشکل تراز نداست پوشیده داشتن اس مثال من بھی گلستان کا بیان بہارستان کی نسبت چند وجوہ سے زیادہ بہین ہے اشیخ گتا ہے۔ رازی نشان خواهی یعنی جس عید کو چھپانا نور اس سے کسی سے رکھو اور مولانا کہتے ہی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35463 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۹۱ کان سخن بر دانش اید گفت ترسم شودنی است باران ترا مشکل تراز نداست پوشیده داشتن اس مثال من بھی گلستان کا بیان بہارستان کی نسبت چند وجوہ سے زیادہ بہین ہے اشیخ گتا ہے۔ رازی نشان خواهی یعنی جس عید کو چھپانا نور اس سے کسی سے رکھو اور مولانا کہتے ہیں اسرارمان خودران معینی اپنے پوشیه میدان کو ظاہر ناکا مالا کہ بعضے میں کیسے ہی پوشیدہ جون ایک مدت کے بعد کہنے کے لال ہوجاتے ہی گرین کا چھپانا منظور ہوتاہے وہ کبی کنے کے اکو نہیں ہوتے ۔ شیخ کتا ہے ہاکس درمیان من اگر دوست باشد اور مولانا کتنے میں دو اپنی دوستی در میان سن کر پہلے بیان من دوست اور غیر است رہے راز کنے کی مانعت ہے گرد را بیان تاریخی و با دست ر رایان ده ها با این تیم پایانی بوتی فین نے راز نہ کنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اد کے بھی دوست ہوں گے اور ان دوستون کے بھی دوست ہوں گے اور یہ اسلامی طرح لا جائیگا۔ پس چکے ہی چپکے راز جمهوری اپیل جائیگا۔ مولانا نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ شاید دوستی میں غل آجائے اور دوست دشمن ہو جائے اره مطلب دونون هیچ بین لیکن پلی وجہ زیادہ وجہ ہے کیونکہ یقینا کون شخص دوستوں سے خالی نہیں ہوتا اور دوستی میں فرق آجانا کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتاہم شیخ کا قطعہ باغت میں مولانا کے قطعہ سے بمراتب افضل اور فائق تر ہے۔ پہلی بہیت میں اس نے انسان کی ایک این نمالنفس اور دقیق خدمات کیطرف اشارہ کیا ہےجو عام نظروں سے خفی ہے وہ کرتا ہے خاشی به کهیر دل خویش با که گفتن و گفتن که گوی<noinclude></noinclude> chwqdkpe13gue67qm72atmp8yninmmk صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/100 250 13862 35464 2026-07-25T03:25:02Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۹۴ یعنی کسی سے اپنا ہی کہ کر اسکو نے اسے منع کرنا چہ معنی نہیں ہے کیونک انسان منوعات پر زیادہ حریص ہوتا ہے اسلئے اب اوسکون با راز را در بی شکل ہوگا۔ پر اس سے خامشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بہیت میں ایک نہایت لطیف اور واضح مثال سے مطالب کو خاطر خواہ دنشی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35464 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۹۴ یعنی کسی سے اپنا ہی کہ کر اسکو نے اسے منع کرنا چہ معنی نہیں ہے کیونک انسان منوعات پر زیادہ حریص ہوتا ہے اسلئے اب اوسکون با راز را در بی شکل ہوگا۔ پر اس سے خامشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بہیت میں ایک نہایت لطیف اور واضح مثال سے مطالب کو خاطر خواہ دنشین کیا ہے۔ مولا کے قطعہ میں کوئی خوبی ای مضمون کے سوائین ہے کہ جور از دشمن سے چھپانا چاہیے اُسے دوست سے بھی چھپانا چاہیے ۔مگر ان کے ساتھہ افشانان معلوم ہوتا ہے کیون داران در ریزی کی جگر از انشا آن دم نزنی کا یاست اور قطعہ کا خیر مصری خوب نگار سے خالی نہیں ہے۔ دوستوں کا دشمن ہو جانا اور دوستی کا دشمنی ہوجانانی الحقیقت ایک ہی بات ہے ۵ قطعہ کے بعد شیخ نے ایک فرد لکھی ہے جو فی الواقعہ سل و ممتنع ہے ۔ یعنی سے سنے در انباید گفت کان سخن بلانش می گفت ہو کا اکثر اشخاص کو ہو جاتا ہے کہ جب صحبت میں کوئی غیر نس نہیں ہوتا تو گفتی با تین گتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں ہم تھیلے میں گفتگو کر رہے ہیں اس سے معیار مطلق نہیں ہوسکتے حالانه و این مرد رفته رفته نشر ہو جاتی ہیں۔ اس مجرب اور پیچھے مضمون کو جو کسی قدر دقیق بھی تھا ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ اس سے زیادہ بیان کی صفائی مکن نہیں ۔ پھر خا اور ملا اور در اور بر کا معت ابلہ اور صنعت خود قانتین اوس کے علاوہ ہے ۔ مولانائے کوئی فرد میں لکھی مگر ایک دوسر قطعہ لکھا ہے یعنی ہر سرسر مہر کی انست بخاطرت آن ، امین پہلے مصر سے معلوم ہوتاہےکہ چور را سربستہ تیرے خیال<noinclude></noinclude> p54fcabk2f313qh6njs9z0a645v6cz5 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/101 250 13863 35465 2026-07-25T03:25:14Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۹۳ یا دل میں گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو یہ تیرے دل میں موجود یا تو ہو پھرا ہوں بیانش نگاشتن کا لفظ در در اظهارات کی جگہ لایا گیا ہے جس میں نہایت تکلیف ہے۔ پر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ احفاے راز سے کہی ندامت نہیں ہوتی ۔ با دیو...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35465 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۹۳ یا دل میں گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو یہ تیرے دل میں موجود یا تو ہو پھرا ہوں بیانش نگاشتن کا لفظ در در اظهارات کی جگہ لایا گیا ہے جس میں نہایت تکلیف ہے۔ پر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ احفاے راز سے کہی ندامت نہیں ہوتی ۔ با دیور ان تمام بتوں کے دانون مشالون میں شین کے بان کوئی لفظ عرب یا غیر انوس سید من عام باد والہ کے بین اثر الفاظ بیت باکستان کے الفاظ کے غریب معلوم ہوتے ہیں جیسے حداثت معهد - خاکہ - لقائد - موج بیانش نگاشتن - غراست- گلستان اونهارستان کا مقابلہ گلستان حیکمان در دیر خورند و عابران خارستان هرکه د گرسنگی طاقت نیاره باین نیم سیستر و ایران تاسید رسمت - و جوانان سه یک شکم را از طعام پر کند به یک آمین بگیرید - ایران تا عرق کشت اما اگر از آب دوست یکی دیگراز با نفس زون سان قلندران پست دان خورند که در معدہ جائے کند یا صوفیان وقت امیگویند که توبه شکری نفی نماند در سفر روزی کس - بیت را از نام برگن آب خود پر لطیف است خود را سیرین شکر ما دو شب نگیرید و بجائے میکند کرا لیفان را جاے کر نیا شده ے دو ماہ منگی سے راستنگی نفس جاے گو مباش بیت بشنو که به گفت عموئی پرواری چون سیر شدی چرا غم جان داری<noinclude></noinclude> h9oakbpj5iam6cxx453r9vzr3b8ji3m صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/102 250 13864 35466 2026-07-25T03:25:36Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”خارج ۹۴ کستان عالم پر یز ی کار شده در خارستان - علم اهل بیه السلام است بهای به وهو لا هندانی بانک ست مہر کا ہر دوست سکتے نام بیت بیانده بر دیگر در باخست وارد و عام بے نیک را چه توان کرد که کرد۔ که نخسه ید ز ر بینداخت بیت حمل بے علم نا مضبوط باشد همی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35466 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>خارج ۹۴ کستان عالم پر یز ی کار شده در خارستان - علم اهل بیه السلام است بهای به وهو لا هندانی بانک ست مہر کا ہر دوست سکتے نام بیت بیانده بر دیگر در باخست وارد و عام بے نیک را چه توان کرد که کرد۔ که نخسه ید ز ر بینداخت بیت حمل بے علم نا مضبوط باشد همیشه شه دا با مشروط باشد وره با مالون کو کم کرنا یا شخص جو فارسی زبان سے فی الجاد آشنا ہے بخوبی اندازہ کرسکتا ے کر تابستان کی عبارت گلستان کے مقابلہ من کس قدر کم وزن اور بے وقعت ہے اسی لیے ہم اس مقام کو بحرین کے مذاق و تمیز چھوڑ دیتے ہیں وہ زیادہ کہ چینی کرنے کی ضرورت نہین دیکھتے ۔ پریشان کا مصنف مرزا حبیب قاآنی کتاب مذکور کے خاتمہ کے اشعارمیں تصریح کرنا ہے کہ اسکی عمر تین برس سے بھی دو تین برس کم تھی جب یہ کتاب روس نے لکھی ہے ۔ اور شیخ نے گلستان کو سن کولت اور ادائل سن شیوخت میں مرتب کیا ہے ۔ پس اگر قاآنی سے انا کاپور اور اتنی موسکا تو چپ تعجب نہیں کیونکہ ایک ایسی کتاب کا سرانجام کرنا سیکی بنا محض حکمت اور تربت پر ہونی چاہئیے شیخ کے مقابل میں ایک نوجوا نا تجربہ کار کی طاقت سے باہر تھا۔ بلکہ اگرمیری رائے غلمان و تو بڑی عرمین قاآنی سے گھستان کا جواب اتنا ہی لکھا نا شکل تاکیونکہ اسکی نام رقصیدہ گوئی میں صرف ہوئی ہے سبین محض خیال ڈھکوسلے بلند ہنے اور الفاظ تراشی کے سوا حقیقت اور واقفیت سے کچھ غرض نہین ہوتی ہیں<noinclude></noinclude> hw03pfwxkunx9huqr2ijh113o8ce866