ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.12 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/29 250 12695 35489 31878 2026-07-26T10:12:20Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35489 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس سے شادی کرنا غرض جب کتنے ایک دن گزرے تو چارون دیس سے چار بر برابرآئے پھر اُنسے راجہ نے کہا اپنا اپنا عِلم و ہنر میری آگے ظاہر کرو انمین سے ایک بولا مجھہ مین یہ ہنر ہے کہ ایک کپڑا بنا کر مین پانچ لعل کو بیچتا ہون تسویر راجہ چمپکیشر اور رانی سلوچنا اور تربھون سندری اس کی بیٹی اور چارون برون کا اپنا اپنا ہنر بیان کرنا تصویر جب اسکا مول میرے ہاتھ آتا ہے تو اسمین سے ایک لعل برہمن کو دیتا ہون اور دوسرا دیوتا کو چڑھاتا ہون تیسرا اپنے اوپر خرچ کرتا ہون چوتھا عورت کیواسطے رکھتا ہون پانچوین کو بیچ کر روپیہ لے ہمیشہ کھانا کھاتا ہون یہ بدیا دوسرا کوئی نہین جانتا اور میرا جو روپ ہے سو ظاہر ہے دوسرا بولا مین جل تھل کے چرند و پرند کی بولی جانتا ہون کہ میری طرح کا کوئی دوسرا نہین اور خوبصورتی میری آپکے آگے ہے تیسرے نے کہا مین ایسا شاستر سمحھتا ہون کہ میری مانند دوسرا نہین اور خوبصورتی جو میری ہے وہ تمھارے روبرو ہے چوتھے نے کہا مین تیراندازی مین ایک ہی ہون دوسرا مجھ سا نہین آواز پر تیر مارتا ہون اور میرا حشن جگ مین روشن ہے آپ بھی دیکھتے ہین یہ چارون کی بات سن راجہ اپنے جی مین سوچنے لگا کہ چارون ہنر مین برابر ہین کس سے شادی کرون یہ سوچ کر اپنے بیٹی کے پاس جا چارون کا ہنر بیان کیا اور کہا مین تجھے کسے دون یہ سنکر لاج کے مارے گردن نیچی کر چپ ہو رہی اور کچھ جواب نہ دیا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ بکرم یہ استری کِسکے لائق ہے راجہ نے کہا جو کپڑا بنا کر بیچتا ہے سو ذات کا شودر ہے اور جو بھاکھا جانتا ہے وہ ذات کا بیش ہے اور جو شاستر پڈھا ہے سو برہمن ہے اور جو قادرانداز نشانہ باز بے اسکا ہمقوم ہے یہ استری اسکے لائق ہے اتنی بات سن بیتال اس درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا تب بتیال نے کہا-<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> l62sy83nfduzxzkjkazqr85wqo6yper صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/30 250 12696 35490 31882 2026-07-26T10:32:09Z Charan Gill 46 35490 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|<big>'''آٹھوین کہانی'''</big>}} {{rule}} اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسکی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جا کر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہو رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پالتا ہو اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ اس پر الزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہے جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے پر اُلو کو نظر نہین آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہے حسرت ہے مجھ کو کہ جنسے مان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم پیدا ہوئے اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تب وہ خبر نہین لیتا نہین معلوم سوتا ہے یا مر گیا اور اپنے خاطر مال اور دولت چاہنی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھا وے اس کو زیر ہلاہل کھا کر مر جانا بہتر ہے اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول ہنسی تیسرے استری سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گرہے کی سواری چھٹے بغیر سنسکرت کے زبان اور یہ پانچ چیزین خدا آدمی کی تقدیر ہین پیدا ہوتے ہی لکھدیتا ہے ایک عمر دوسرا کرم تیسرے دولت چوتھے علم پانچوین شہرت اے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے ہین اور جب سخاوت گھٹ جاتی ہے تو بھائی دشمن ہو جاتے ہین یہ پُران کی بات مقرر ہے سو آقا کی خِدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی پھل مل ہی رہتا ہے بے شمر نہین رہتا یہ سُن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے کہین سے کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوجن نہ ملیگا یہ کہہ جنگل مین جا ایک ہرن مار تھیلی سے چقماق نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر چکا تب اسنے کہا اے راج پتر ہمین نگر کو لیچلو کہ رہ مجھے معلوم نہین اسنے راجہ کو نگر مین لا اسکے مندر مین پہونچا دیا تب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خِدمت مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پتر کو بھیجا وہ جب کنارے پہونچا اسنے ایک دیبی کا مندر دیکھا اسمین جاکر دیبی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان سے باہر نکلا تو وہین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> lnvqeqnkqkhp9sgbdqbb2n35cgt9pj9 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/320 250 13741 35473 34990 2026-07-25T15:26:46Z Kaur.gurmel 74 35473 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>اب تک تو ضبط کیا تھا ۔ پر اب آنسو نہ رُک سکے ۔ میدان میں تیروں کو روکنا آسان ہے۔ آنسوؤں کو کون ویر روک سکتا ہے ! سیتا جی تعجب سے بولیں ۔ ’لکشمن تم رو کیوں رہے ہو ؟ کیا آج جنگل کو دیکھ کر پھر بن باس کے دن یاد آ رہے ہیں ؟ لکشمن اور بھی پُھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے سیتا جی کے پیروں پر گر پڑے اور بولے ۔ ’نہیں دیوی ! اس لئے کہ آج مجھ سے زیادہ بد نصیب ، بے رحم آدمی دُنیا میں نہیں۔ کاش مجھے موت آ جاتی ۔ میگھناد کی شکتی ہی نے کام تمام کر دیا ہوتا تو آج یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا ۔ جس دیوی کے درشنوں سے زندگی پاک ہو جاتی ہے اُسے آج میں بن باس دینے آیا ہوں ۔ ہائے ہمیشہ کے لئے۔. سیتا جی اب بھی کچھ صاف صاف نہ سمجھ سکیں۔ گھبرا کر بولیں ۔ ’بھیا تم کیا کہہ رہے ہو ۔ میری<noinclude></noinclude> gyodeajynp5wjf8lnhknqx6nhfqqvc4 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/321 250 13742 35474 34991 2026-07-25T15:37:21Z Kaur.gurmel 74 35474 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سمجھ میں نہیں آتا ۔ تمہاری طبیعت تو اچھی ہے ۔ آج تم راستہ بھر اداس رہے ۔ بخار تو نہیں ہو آیا ہے '؟ لکشمن نے سیتا جی کے پیروں پر سر رگڑتے ہوئے کہا ۔ ’ماتا ۔ ماتا ! میرا قصور معاف کرو ۔ میں بالکل بے خطا ہوں ۔ بھائی صاحب نے جو حکم دیا ہے اُس کی تعمیل کر رہا ہوں' ۔ شاید اسی دن کے لئے میں اب تک زندہ تھا ۔ مجھ سے ایشور کو یہی جلاد کا کام لینا تھا ۔ ہائے' ! سیتا جی اب صورتِ حال سمجھ گئیں ۔ غور سے گردن اُٹھا کر بولیں ۔ ’تو کیا سوامی جی نے مجھے بن باس دے دیا ہے ؟ میری کوئی خطا، کوئی قصور، ابھی رات کو تو شہر میں گشت کرنے کے پہلے وہ میرے ہی پاس تھے ۔ اُن کے چہرے پر غصے کا نشان تک نہ تھا ۔ پھر کیا بات ہو گئی ۔<noinclude></noinclude> oyr7rqq352lxbfd8exxpxlh0zve7sqz صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/322 250 13743 35475 34992 2026-07-25T15:39:32Z Kaur.gurmel 74 35475 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>صاف صاف کہو ۔ میں سُننا چاہتی ہُوں ۔ اور اگر کوئی سُننے والا ہو تو اُس کا جواب بھی دینا چاہتی ہوں،‘ لکشمن نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا ۔ ’ماتا ! کیا بتلاؤں ، ایسی بات ہے جو میرے مُنہ سے نکل نہیں سکتی ۔ اجودھیا میں آپ کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں ۔ بھائی صاحب کو آپ جانتی ہیں بدنامی سے کتنا ڈرتے ہیں ۔ اور میں آپ سے کیا کہوں،‘ سیتا جی کی آنکھوں میں نہ آنسو تھے، نہ گھبراہٹ ۔ وہ خاموش ٹکٹکی لگائے گنگا کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ پھر بولیں ۔ ’کیا سوامی کو بھی مجھ پر شک ہے؟‘ لکشمن نے زبان کو دانتوں سے دبا کر کہا ۔ ’نہيں بھابھی جی ۔ ہرگز نہیں ۔ انہیں<noinclude></noinclude> 5juiuc5uc5ye8phgdy6lr07m26m4om6 35476 35475 2026-07-25T23:50:54Z Kaur.gurmel 74 35476 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>صاف صاف کہو ۔ میں سُننا چاہتی ہُوں ۔ اور اگر کوئی سُننے والا ہو تو اُس کا جواب بھی دینا چاہتی ہوں'. لکشمن نے مُجرموں کی طرح سر جُھکا کر کہا ۔ 'ماتا ! کیا بتلاؤں ، ایسی بات ہے جو میرے مُنہ سے نکل نہیں سکتی ۔ اجودھیا میں آپ کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں ۔ بھائی صاحب کو آپ جانتی ہیں بدنامی سے کتنا ڈرتے ہیں ۔ اور میں آپ سے کیا کہوں'. سیتا جی کی آنکھوں میں نہ آنسو تھے، نہ گھبراہٹ ۔ وہ خاموش ٹکٹکی لگائے گنگا کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ پھر بولیں ۔ 'کیا سوامی کو بھی مجھ پر شک ہے'؟ لکشمن نے زبان کو دانتوں سے دبا کر کہا ۔ 'نہيں بھابھی جی ۔ ہرگز نہیں ۔ انہیں آپ کے اُوپر ذرہ برابر بھی شک نہیں<noinclude></noinclude> 14bmclxm3qdvbt4irlx6dmryaxc3a22 35477 35476 2026-07-26T03:14:34Z Kaur.gurmel 74 35477 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>صاف صاف کہو ۔ میں سُننا چاہتی ہُوں ۔ اور اگر کوئی سُننے والا ہو تو اُس کا جواب بھی دینا چاہتی ہوں'. لکشمن نے مُجرموں کی طرح سر جُھکا کر کہا ۔ 'ماتا ! کیا بتلاؤں ، ایسی بات ہے جو میرے مُنہ سے نکل نہیں سکتی ۔ اجودھیا میں آپ کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ بھائی صاحب کو آپ جانتی ہیں بدنامی سے کتنا ڈرتے ہیں ۔ اور میں آپ سے کیا کہوں'. سیتا جی کی آنکھوں میں نہ آنسو تھے، نہ گھبراہٹ ۔ وہ خاموش ٹکٹکی لگائے گنگا کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ پھر بولیں ۔ 'کیا سوامی کو بھی مجھ پر شک ہے'؟ لکشمن نے زبان کو دانتوں سے دبا کر کہا ۔ 'نہيں بھابھی جی ۔ ہرگز نہیں ۔ انہیں آپ کے اُوپر ذرہ برابر بھی شک نہیں<noinclude></noinclude> fisousef3u7ejhwvkgsoigpq2tn1ng3 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/323 250 13744 35478 34993 2026-07-26T03:23:12Z Kaur.gurmel 74 35478 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>ہے ۔ اُ نہیں آپ کی پاکیزگی کا اُتنا ہی یقین ہے جتنا اپنی ہستی کا ۔ یہ یقین کسی طرح نہیں مٹ سکتا چاہے ساری دُنیا آپ پر اُنگلی اُٹھائے ۔ لیکن عوام کی زبان کو وہ کیسے روک سکتے ہیں ۔ اُن کے دل میں آپ کی جتنی محبت ہے وہ میں دیکھ چکا ہوں ۔ جس وقت انہوں نے مجھے یہ حکم دیا ہے اُن کا چہرہ زرد ہو گیا تھا ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی اُن کے سینہ کے اندر بیٹھا ہوا چھریاں مار رہا ہے ۔ بدنامی کے سوا انہیں اور کوئی خیال نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے'. سیتا جی کی آنکھوں سے آنسو کی دو بڑی بڑی بوندیں ٹپ ٹپ گر پڑیں ۔ مگر انہوں نے ضبط کیا اور بولیں ۔ ’پیارے لکشمن ۔ اگر یہ سوامی کا حکم ہے تو میں اُس کے<noinclude></noinclude> lcv58crgqc0owmw8d3nd3m0vp5qriwx صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/340 250 13765 35480 35018 2026-07-26T06:00:52Z Kaur.gurmel 74 35480 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>شوہر کی پرستش کرتی ہے'. رام چندر کی چھاتی دھڑکنے لگی ۔ کہیں یہ میری سینتا ہی نہ ہو ۔ آہ ! کاش یہ دونو لڑکے میرے ہوتے ۔ تب تو تقدیر ہی کھل جاتی ہے والمیک پھر بولے ۔ بیٹا ! اب تو تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں کس طرف اشارہ کر رہا ہوں" رام چندر کا چہرہ مسرت سے کھل گیا ۔ بولے۔ وہاں مہاراج ! سمجھ گیا : والمیک : جب سے تم نے سیتا کو تیاگ دیا ہے وہ میرے ہی آشرم میں ہے ۔ میرے آشرم میں آنے کے دو تین مہینے بعد یہ لڑکے پیدا ہوئے تھے ۔ یہ تمہارے لڑکے ہیں ۔ اُن کا چہرہ آپ کو رہا ہے ۔ کیا اب بھی تم سیتا کو اپنے گھر نہ لاؤ گے ؟ تم نے اُس کے ساتھ بڑی بے انصافی کی ہے ۔ میں اُس دیوی کو آج پندرہ سالوں سے دیکھ رہا ۔ ایسی پاکیزہ عورت<noinclude></noinclude> iji5zxaspnybegrul25ssa6d0gr77u6 35481 35480 2026-07-26T06:15:24Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35481 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>شوہر کی پرستش کرتی ہے'. رام چندر کی چھاتی دھڑکنے لگی ۔ کہیں یہ میری سیتا ہی نہ ہو ۔ آہ ! کاش یہ دونو لڑکے میرے ہوتے ۔ تب تو تقدیر ہی کَھل جاتی. والمیک پھر بولے ۔ 'بیٹا ! اب تو تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں کس طرف اشارہ کر رہا ہوں' رام چندر کا چہرہ مسرّت سے کھل گیا ۔ بولے۔ 'ہاں مہاراج ! سمجھ گیا'. والمیک : 'جب سے تم نے سیتا کو تیاگ دیا ہے وہ میرے ہی آشرم میں ہے ۔ میرے آشرم میں آنے کے دو تین مہینے بعد یہ لڑکے پیدا ہوئے تھے ۔ یہ تمہارے لڑکے ہیں ۔ اُن کا چہرہ آپ کہہ رہا ہے ۔ کیا اب بھی تم سیتا کو اپنے گھر نہ لاؤ گے؟ تم نے اُس کے ساتھ بڑی بے انصافی کی ہے ۔ میں اُس دیوی کو آج پندرہ سالوں سے دیکھ رہا ۔ ایسی پاکیزہ عورت<noinclude></noinclude> jxou9p6kzx49zlt5joadgs7tu0bi45d صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/341 250 13766 35482 35019 2026-07-26T06:16:47Z Tamanpreet Kaur 81 35482 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کبھی دُنیا میں مشکل سے ملیگی تمہارے خلاف ایک لفظ بھی اُس کے منہ سے سنا ۔ تمہارا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتی ہے ۔ اُس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے۔ بہت رُلا چکے ۔ اب اُسے اپنے گھر لاؤ ۔ وہ لکشمی نہیں ہے ؟ رام چندر بولے منی جی ! مجھے تو سیتا جی پر کسی قسم کا شک کبھی نہیں ہوا ۔ مین اُن کو اب بھی پاک سمجھتا ہوں ۔ لیکن اپنی رعایا کو کیا کروں ۔ اُن کی زبان کیسے بند کروں ۔ رامچندر کی بیوی کو شہر سے پاک ہونا چاہئے ۔ اگر سیتنا میری رعایا کو اپنی بات یقین دلا دیں تو وہ اب بھی میری رانی بن سکتی ہیں۔ یہ میرے لئے عین خوشی کی بات ہوگی ، : والمیک نے فوراً اپنے دو چیلوں کو حکم دیا۔<noinclude></noinclude> nja1zsnqozkfiqtgk7kqggwcxyihc2s 35483 35482 2026-07-26T06:18:33Z Tamanpreet Kaur 81 35483 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا نے مشکل سے ملیگی. تمہارے خلاف کبھی دُنیا میں مشکل سے ملیگی تمہارے خلاف ایک لفظ بھی اُس کے منہ سے سنا ۔ تمہارا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتی ہے ۔ اُس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے۔ بہت رُلا چکے ۔ اب اُسے اپنے گھر لاؤ ۔ وہ لکشمی نہیں ہے ؟ رام چندر بولے منی جی ! مجھے تو سیتا جی پر کسی قسم کا شک کبھی نہیں ہوا ۔ مین اُن کو اب بھی پاک سمجھتا ہوں ۔ لیکن اپنی رعایا کو کیا کروں ۔ اُن کی زبان کیسے بند کروں ۔ رامچندر کی بیوی کو شہر سے پاک ہونا چاہئے ۔ اگر سیتنا میری رعایا کو اپنی بات یقین دلا دیں تو وہ اب بھی میری رانی بن سکتی ہیں۔ یہ میرے لئے عین خوشی کی بات ہوگی ، : والمیک نے فوراً اپنے دو چیلوں کو حکم دیا۔<noinclude></noinclude> r9tp49tm3yox1b239n6i8vwy3sku9n4 35484 35483 2026-07-26T06:33:37Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35484 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>دُنیا میں مشکل سے ملیگی تمہارے خلاف کبھی ایک لفظ بھی اُس کے مَنہ سے نہی سَنا ۔ تمہارا ذکر ہمیشہ عزّت اور محبت سے کرتی ہے ۔ اُس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے۔ بہت رُلا چَکے ۔ اب اُسے اپنے گھر لاؤ ۔ وہ لکشمی ہے '؟ رام چندر بولے 'مَنی جی ! مجھے تو سیتا جی پر کسی قسم کا شک کبھی نہیں ہوا ۔ مین اُن کو اب بھی پاک سمجھتا ہوں ۔ لیکن اپنی رعایا کو کیا کروں ۔ اُن کی زبان کیسے بند کروں ۔ رامچندر کی بیوی کو صوبہو سے پاک ہونا چاہئے ۔ اگر سِیتا میری رعایا کو اپنی بابت یقین دلا دیں تو وہ اب بھی میری رانی بن سکتی ہیں۔ یہ میرے لئے عین خوشی کی بات ہوگی'. والمیک نے فوراً اپنے دو چیلوں کو حَکم دیا۔<noinclude></noinclude> nwgkvvefk4mjceopmebx1lyxa8les4h صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/89 250 13851 35470 35467 2026-07-25T12:26:01Z Charan Gill 46 35470 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن گلستان کی عام قبالیت پر اس سے بڑ کر وہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہندوستان کے رئین اسکو اسقدر عزیز رکہین گویا اپنے گانے پر کبہی ایسا فخر نہین کرتا جید اس وقت کرتا ہے کہ ایک اناڑیون کی مجلس مین جا سے اور ان کو محفوظ کر کے اٹھے ۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ ترتیب اُسکے فقرون کی برہنگی ۔ اس کے الفاظ کی شستگی اُسکے استعارات کی جزالت اسکی تمقالات و تشبیہات کے ظُرنگی اور پہر باوجود اِن تمام باتون کے عبارت مین نهایت سادگی اور صفائی اسبات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ نے اپنی عمر عزیز کا ایک معتد به حصّہ اسکی تصنیف مین صرف کیا تھا اور اسکی تنقیح و تہذیب مین اپنے فکر اور سلیقہ سے پورا پورا کلام لیا تھا۔ چنانچہ دیا پر گلستان کے اخیر مین اس نے عمان کہا ہے گروہ برسنے از گرگهای برونسی کردیم گری ان ہی کی اک اور عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس فصل بہار کے آغاز مین اسکالکنا شروع ہواتھا وہ ابھی ختم ہونے پائی ہی کتاب تمام ہو گئی اور اکثر لوگون کا یہی خیال ہے کہ شیخ نے گلستان چند مہینے سے زیادہ مین بہین بھی لگا یہ بالکل غلط ہے جو لوگ تصنیف کے درد سے نگاہ مین وہ جانتے ہین کہ کلام مین اذیت اور قبولیت پیدا نہین ہو سکتی جبتک کہ اسکے ایک ایک لفظ مین مصنف کے خون جگر کی چاشنی ہو۔ اور سبقدرا دس مین زیادہ صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے اسی در بجھناچاہیے کہ اس کی رستی اور کاٹ چھانٹ مین زیادہ ریگی بیگی ایپ مین اکثر من مصفوفن کے مسودے یو بناکر نهایت احتیاط اور حفاظت سے رکے گیے ہین۔ چنانچہ اٹلی کے شمال حصدین جوانی ایک بستی ہے وہان مشہور مصنف اوریسٹر کے مسورے اپناک موجود ہین مائی مصنف کا کلام سادگی<noinclude></noinclude> 64ts4opdh81ebo7s7v8rmym1bbb20jg 35471 35470 2026-07-25T14:44:22Z Charan Gill 46 35471 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن گلستان کی عام قبالیت پر اس سے بڑ کر وہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہندوستان کے رئین اسکو اسقدر عزیز رکہین گویا اپنے گانے پر کبہی ایسا فخر نہین کرتا جید اس وقت کرتا ہے کہ ایک اناڑیون کی مجلس مین جا سے اور ان کو محفوظ کر کے اٹھے ۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ ترتیب اُسکے فقرون کی برجستگی ۔ اس کے الفاظ کی شستگی اُسکے استعارات کی جزالت اسکی تمشیالات و تشبیہات کے طُرفگی اور پہر باوجود اِن تمام باتون کے عبارت مین نہایت سادگی اور صفائی اسبات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ نے اپنی عمر عزیز کا ایک معتد به حصّہ اسکی تصنیف مین صرف کیا تھا اور اسکی تنقیح و تہذیب مین اپنے فکر اور سلیقہ سے پورا پورا کلام لیا تھا۔ چنانچہ دیا پر گلستان کے اخیر مین اس نے عمان کہا ہے گروہ برسنے از گرگهای برونسی کردیم گری ان ہی کی اک اور عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس فصل بہار کے آغاز مین اسکالکنا شروع ہواتھا وہ ابھی ختم ہونے پائی ہی کتاب تمام ہو گئی اور اکثر لوگون کا یہی خیال ہے کہ شیخ نے گلستان چند مہینے سے زیادہ مین بہین بھی لگا یہ بالکل غلط ہے جو لوگ تصنیف کے درد سے نگاہ مین وہ جانتے ہین کہ کلام مین اذیت اور قبولیت پیدا نہین ہو سکتی جبتک کہ اسکے ایک ایک لفظ مین مصنف کے خون جگر کی چاشنی ہو۔ اور سبقدرا دس مین زیادہ صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے اسی در بجھناچاہیے کہ اس کی رستی اور کاٹ چھانٹ مین زیادہ ریگی بیگی ایپ مین اکثر من مصفوفن کے مسودے یو بناکر نهایت احتیاط اور حفاظت سے رکے گیے ہین۔ چنانچہ اٹلی کے شمال حصدین جوانی ایک بستی ہے وہان مشہور مصنف اوریسٹر کے مسورے اپناک موجود ہین مائی مصنف کا کلام سادگی<noinclude></noinclude> mumlzi36e8od7vcvddo2uoy4ne6ofkj 35472 35471 2026-07-25T15:12:37Z Charan Gill 46 35472 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن گلستان کی عام قبالیت پر اس سے بڑ کر وہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہندوستان کے رئین اسکو اسقدر عزیز رکہین گویا اپنے گانے پر کبہی ایسا فخر نہین کرتا جید اس وقت کرتا ہے کہ ایک اناڑیون کی مجلس مین جا سے اور ان کو محفوظ کر کے اٹھے ۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ ترتیب اُسکے فقرون کی برجستگی ۔ اس کے الفاظ کی شستگی اُسکے استعارات کی جزالت اسکی تمشیالات و تشبیہات کے طُرفگی اور پہر باوجود اِن تمام باتون کے عبارت مین نہایت سادگی اور صفائی اسبات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ نے اپنی عمر عزیز کا ایک معتد به حصّہ اسکی تصنیف مین صرف کیا تھا اور اسکی تنقیح و تہذیب مین اپنے فکر اور سلیقہ سے پورا پورا کلام لیا تھا۔ چنانچہ دیباچہ گلستان کے اخیر مین اس نے صاف کہا ہے کہ " برخے ازعمر گرانما یہ برو خرچ کردیم" مگر دیباچہ ہی کی ایک اور عبارت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جس فصل بہار کے آغاز مین اسکا لکہنا شروع ہوا تہا وہ ابھی ختم ہونے پائی ہی کتاب تمام ہو گئی اور اکثر لوگون کا یہی خیال ہے کہ شیخ نے گلستان چند مہینے سے زیادہ مین بہین بھی لگا یہ بالکل غلط ہے جو لوگ تصنیف کے درد سے نگاہ مین وہ جانتے ہین کہ کلام مین اذیت اور قبولیت پیدا نہین ہو سکتی جبتک کہ اسکے ایک ایک لفظ مین مصنف کے خون جگر کی چاشنی ہو۔ اور سبقدرا دس مین زیادہ صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے اسی در بجھناچاہیے کہ اس کی رستی اور کاٹ چھانٹ مین زیادہ ریگی بیگی ایپ مین اکثر من مصفوفن کے مسودے یو بناکر نهایت احتیاط اور حفاظت سے رکے گیے ہین۔ چنانچہ اٹلی کے شمال حصدین جوانی ایک بستی ہے وہان مشہور مصنف اوریسٹر کے مسورے اپناک موجود ہین مائی مصنف کا کلام سادگی<noinclude></noinclude> emoi35i6irf8mlb9yl2yzcl8hj4xa9a 35485 35472 2026-07-26T07:34:15Z BalramBodhi 60 35485 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن گلستان کی عام قبولیت پر اس سے بڑہ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہندوستان کے رئیس اسکو اسقدر عزیز رکہین گویا اپنے گانے پر کبہی ایسا فخر نہین کرتا جیسا اُسوقت کرتا ہے کہ ایک اناڑیون کی مجلس مین جا پہنچے اور اُن کو محظوظ کر کے اُٹھے۔ گلستان کے ابواب کی عمدہ ترتیب۔ اُسکے فقرون کی برجستگی۔ اُس کے الفاظ کی شستگی اُسکے استعارات کی جزالت۔ اُسکی تمشیالات و تشبیہات کی طُرفگی اور پہر باوجود اِن تمام باتون کے عبارت مین نہایت سادگی اور صفائی اسبات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ نے اپنی عمر عزیز کا ایک معتد بہ حصہ اُسکی تصنیف مین صرف کیا تھا اور اُسکی تنقیح و تہذیب مین اپنے فکر اور سلیقہ سے پورا پورا کام لیا تھا۔ چنانچہ دیباچہ گلستان کے اخیر مین اُس نے صاف کہا ہے کہ "برخے ازعمر گرانما یہ برو خرچ کردیم" مگر دیباچہ ہی کی ایک اور عبارت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جس فصل بہار کے آغاز مین اُسکا لکہنا شروع ہوا تہا وہ ابہی ختم نہونے پائی تہی کہ کتاب تمام ہو گئی اور اکثر لوگون کا یہی خیال ہے کہ شیخ نے گلستان چند مہینے سے زیادہ مین نہین لکہی یہ بالکل غلط ہے جو لوگ تصنیف کے درد سے آگاہ ہین وہ جانتے ہین کہ کلام مین لذت اور قبولیت پیدا نہین ہو سکتی جبتک کہ اُسکے ایک ایک لفظ مین مصنف کے خون جگر کی چاشنی نہو۔ اور جسقدر اوس مین زیادہ صفائی اور گھلاوٹ پائی جائے اُسیقدر سمجہنا چاہیے کہ اُس کی درستی اور کاٹ چہانٹ مین زیادہ ریر لگی ہوگی۔ یورپ مین اکثر نامی مصنوفن کے مسودے بہم پہنچا کر نہایت احتیاط اور حفاظت سے رکہے گیے ہین۔ چنانچہ اٹلی کے شمال حصہ مین جو دنیا ایک بستی ہے وہان مشہور مصنف ایرفیٹو کے مسورے ابتک موجود ہین اُس مصنف کا کلام سادگی<noinclude></noinclude> 7fzq1n6kmgeuq9lwqqadlix4qnzfjdh صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/90 250 13852 35479 35454 2026-07-26T05:18:23Z Charan Gill 46 35479 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور صفانی اور بے تکلفی میں مشہور ہے مگر اُسکے مسودے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فقرے لوگون کو نہایت پسند آتے ہیں اور حد سے زیادہ صاف ہیں وہ آٹہہ آٹہہ دفعہ کاٹے گئے ہیں ۔ لارڈ مکالی جو انگلستان کا نہایت مشہور اور مقبول مصنف ہے اس کا ایک مسودہ لندن موزیم میں رکہا ہے اس میں بھی جابجا کاٹ چہانس اور حک و اصلاح پائی جاتی ہے۔ یہانتک کہ بعض فقرے دس دس دفعہ کاٹے گئے ہیں۔ ظاہرا شیخ نے جو گلستان کے دیباچہ میں فصل بہار کا ذکر کیا ہے اُسکا مطلب یہ ہے کہ گلستان کے لیے جو سرمایہ اُس نے سالہا سال میں جمع کیا تھا وہ پہلے سے اُسکے پاس نامرتب موجود تہا جب وطن میں پہنچا تو دوستون کی تحریک سے اسکو مرتب کر دیا یہ ترتیب فصل بہار کے آغاز سے شروع ہوئی اور اُسکے تمام ہونے سے پہلے ختم ہو گئی گلستان اور نیز بوستان کی ترتیب جس سلیقہ سے شیخ نے کی ہے اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُسکو اس کام میں بہت وقت اٹہانی پڑی ہوگی ۔ اسنے ان کتابوں میں زیادہ تر وہ واقعات لکھے ہین جو خود اُسپر گزرے این یا اُسکے سامنے پیش آئے۔ اور ہر ایک باب کی تکمیل کیلئے کسیقدر ہکایتین ایسی بہی کہی ہین جو کسی سے سنین یا کتابون میں پڈہین اس قام مجموعه و گلستان امین آکنه باب پر داستان این اس باب پر تقسیم کیا ہے اور پر یک باب میں اسکے مناسب کانتین دن کی مین اور ا ا ر علی خان کی کئی اور ایسی نہیں ہے والا را در دست ان امین سے ہر ایک کتاب مین بیان کی گئی ہو۔ یہ بات تقریباً ایسی ہی مشکل تھی جیسے کوئی شخص سیر و سیاحت کے واقعات میں ترتیب سے لے کر اس میں علم اخلاق کے ہر ایک باب کا مطالبہ زیادہ موت آجائے اس ترتیب کی قدر اس وقت معلوم ہوسکتی ہے کہ دنوں کتابونی<noinclude></noinclude> stcnbqfhu435yus6ajrsp2ldqqfeuli 35486 35479 2026-07-26T08:04:44Z BalramBodhi 60 35486 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور صفای اور بے تکلفی مین مشہور ہے مگر اُسکے مسودے دیکہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فقرے لوگون کو نہایت پسند آتے ہین اور حد سے زیادہ صاف ہین وہ آٹہہ آٹہہ دفعہ کاٹے گئے ہین۔ لارڈ مکالی جو انگلستان کا نہایت مشہور اور مقبول مصنف ہے اُس کا ایک مسودہ لندن موزیم مین رکہا ہے اس مین بہی جابجا کاٹ \چہانس\ اور حک و اصلاح پائی جاتی ہے۔ یہانتک کہ بعض فقرے دس دس دفعہ کاٹے گئے ہین۔ ظاہرا شیخ نے جو گلستان کے دیباچہ مین فصل بہار کا ذکر کیا ہے اُسکا مطلب یہ ہے کہ گلستان کے لیے جو سرمایہ اُسنے سالہا سال مین جمع کیا تہا وہ پہلے سے اُسکے پاس نامرتب موجود تہا جب وطن میں پہنچا تو دوستون کی تحریک سے اُسکو مرتب کر دیا یہ ترتیب فصل بہار کے آغاز سے شروع ہوئی اور اُسکے تمام ہونے سے پہلے ختم ہو گئی گلستان اور نیز بوستان کی ترتیب جس سلیقہ سے شیخ نے کی ہے اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُسکو اس کام مین بہت وقت اٹہانی پڑی ہوگی۔ اُسنے اِن کتابون مین زیادہ تر وہ واقعات لکہے ہین جو خود اُسپر گزرے ہین یا اُسکے سامنے پیش آئے۔ اور ہر ایک باب کی تکمیل کیلئے کسیقدر ہکایتین ایسی بہی لکہی ہین جو کسی سے سنین یا کتابون مین پڈہین اس تمام مجموعہ کو گلستان مین آٹہہ باب پر اور بوستان مین دس باب پر تقسیم کیا ہے اور ہریک باب مین اُسکے مناسب حکایتین درز کی ہین اور ظاہرا علم اخلاق کی کوئی فرع ایسی نہین ہے جو بقدر ضرورت اِن مین سے ہریک کتاب مین بیان نہ کی گئی ہو۔ یہ بات تقریباً ایسی ہی مشکل تہی جیسے کوئی شخص سیر و سیاحت کے واقعات ایسی ترتیب سے لکہے کہ اُس نین علم اخلاق کے ہرایک باب کا مطلبہ اجمالاً یا تفصیلاْ ببقدر ضرورت آجائے اِس ترتیب کی قدر اُسوقت معلوم ہوسکتی ہے کہ دونون کتابونکی<noinclude></noinclude> laueujzdsz9fofmoyui1a70remitufn صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/91 250 13853 35487 35455 2026-07-26T09:00:14Z Charan Gill 46 35487 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اصل حکایتون کو نامرتب کر کے گڈمڈ کر دیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو نتیجے شیخ نے استخراج کیے ہین وہ اُن مین درج کیے جائین اور تمام مواد حکایت کو بابا بابان تقسیم کا یا جائے اور پہر تمام مجموعہ حکایت کو جدا جدا ابابون پر تقسیم کرایا جاۓ خ وہ حکایت کون سے باب سے علاقہ رکہتی ہے اور یہ کون سے بیا سے جس طرح ہرایک ملک مین لانچر کی ابتدال سے ہوتی رہی ہے اسی طرح ایران مین بھی اول شاعری کا ظہور ہوا تھا ۔ اور دوسری صدی کے اخیر سے ہم کہ اول ہی اول خواجہ عباس مروزی نے ماسون کی طرح مین فارسی قصیدہ لکھا ۔ کئی صدیون تک مقتنے وقت کے موافق - سرت شاعری کو ترقی ہوتی رہی۔ فارسی نرکھنا اگریہ ایک مدت کے بعد شروع ہو گیا لیکن ینے کے الات تک اسکی کوئی عام شاہراه مترشین بو ئی کر سید ہی ساری عبارت عام روزمره اور بول چال کے موافق لکھی جاتی یا اہل علم میاد خواص کے روز مرہ مین تحریر کرتے تھے چنانچه حکیم ناصرخسروی سفر نامی که پانچوین صدی مین کھا گیا اس مین نہایت بے تکلفی سے خواص کی معمولی بول چال مین حالات تحریر کیے گئے ہین اور اعضا دیب اور فاضل جن پر رشت غالب تھی اُنکے قا سے بغیر نیز در خور کے کر عربی لغات برا شعار خیره فارسی تقریرون بین تلاش کرتے تھے۔ گرمین شاعران شوخی اور اور پیارا اور اس کے فقرون مین ایک خاص قسم کے وزن اور تول کالی در کناجاری واتا خصومنا کوئی اخلاقی کتاب عمدہ شرمین شیخ کے زمانہ ترک ایسی نہین لکھی گئی تھی جس مین اخلاق کا بیان واقعات نفس الامری کے ضمن مین کیا گیا ہو ۔ ه مجرمین قاضی حمید الدین ابو بکر نے مقامات بدیعی اور مقامات حریری کی طرز پر فارسی مین مقامات امید کی لکھی ہے اسمین حمایت ملامت ہو تصنع پایا جاتا ہے اسکی بنیا زیادہ تر تا رائع<noinclude></noinclude> aaiqr1qrzopuse2ohebm2exmy1p3txd 35488 35487 2026-07-26T10:02:56Z Charan Gill 46 35488 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اصل حکایتون کو نامرتب کر کے گڈمڈ کر دیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو نتیجے شیخ نے استخراج کیے ہین وہ اُن مین درج کیے جائین اور تمام مواد حکایت کو بابا بابان تقسیم کا یا جائے اور پہر تمام مجموعہ حکایت کو جدا جدا ابابون پر تقسیم کرایا جاۓ خ وہ حکایت کون سے باب سے علاقہ رکہتی ہے اور یہ کون سے بیا سے جس طرح ہرایک ملک مین لٹریچر کی ابتدا نظم سے ہوتی رہی ہے اسی طرح ایران مین بھی اول شاعری کا ظہور ہوا تھا ۔ اور دوسری صدی کے اخیر سے ہم کہ اول ہی اول خواجہ عباس مروزی نے ماسون کی طرح مین فارسی قصیدہ لکھا ۔ کئی صدیون تک مقتنے وقت کے موافق - سرت شاعری کو ترقی ہوتی رہی۔ فارسی نرکھنا اگریہ ایک مدت کے بعد شروع ہو گیا لیکن ینے کے الات تک اسکی کوئی عام شاہراه مترشین بو ئی کر سید ہی ساری عبارت عام روزمره اور بول چال کے موافق لکھی جاتی یا اہل علم میاد خواص کے روز مرہ مین تحریر کرتے تھے چنانچه حکیم ناصرخسروی سفر نامی که پانچوین صدی مین کھا گیا اس مین نہایت بے تکلفی سے خواص کی معمولی بول چال مین حالات تحریر کیے گئے ہین اور اعضا دیب اور فاضل جن پر رشت غالب تھی اُنکے قا سے بغیر نیز در خور کے کر عربی لغات برا شعار خیره فارسی تقریرون بین تلاش کرتے تھے۔ گرمین شاعران شوخی اور اور پیارا اور اس کے فقرون مین ایک خاص قسم کے وزن اور تول کالی در کناجاری واتا خصومنا کوئی اخلاقی کتاب عمدہ شرمین شیخ کے زمانہ ترک ایسی نہین لکھی گئی تھی جس مین اخلاق کا بیان واقعات نفس الامری کے ضمن مین کیا گیا ہو ۔ ه مجرمین قاضی حمید الدین ابو بکر نے مقامات بدیعی اور مقامات حریری کی طرز پر فارسی مین مقامات امید کی لکھی ہے اسمین حمایت ملامت ہو تصنع پایا جاتا ہے اسکی بنیا زیادہ تر تا رائع<noinclude></noinclude> nxzis2rfi14b1o5uw33b5o26dhnjmfw