ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.12
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/332
250
13757
35493
35010
2026-07-27T03:31:11Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35493
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۳۲۶
}}</noinclude>تکلیف نہ ہوتی ہے.
سیتا جی کو ریشی والمیک کی ان باتوں سے
بڑی تسکین ہوئی ۔ اُٹھ کر ان کے ساتھ اُن
کٹیا میں آئیں ۔ وہاں اور بھی کئی ریشیوں کی
کٹیاں تھیں ۔ سینا اُن کی عورتوں اور لڑکیوں
کے ساتھ رہنے لگیں ۔ اس طرح کئی مہینے کے
بعد اُن کے دو بچے پیدا ہوئے ۔ رشی والمیک
نے بڑے کا نام لو اور چھوٹے کا نام کَش
رکھا ۔ دونو ہی بچے رامچندر سے بہت ملتے
تھے ۔ ذہین اور تیز اتنے تھے کہ جو بات ایک
بار سن لیتے ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو جاتی۔
اپنی بھولی بھوئی، توتلی باتوں سے سیتا کو
خوش کیا کرتے تھے ۔ ریشی والمیک دونو بچوں کو
بہت پیار کرتے تھے ۔ ان دونو بچوں کے
پالنے پوسنے میں سیتا اپنا غم بھول گئیں ہ
جب دونو بچے ذرا بڑے ہوئے تو رشی
والمیک نے اُنہیں پڑھانا شروع کیا ۔ اپنے<noinclude></noinclude>
4z7mh2489pia0k0cwixsxf5j8n86lvo
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/91
250
13853
35491
35488
2026-07-26T13:35:20Z
Charan Gill
46
35491
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اصل حکایتون کو نامرتب کر کے گڈمڈ کر دیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو نتیجے شیخ نے استخراج کیے ہین وہ اُن مین درج کیے جائین اور تمام مواد حکایت کو بابا بابان تقسیم کا یا جائے اور پہر تمام مجموعہ حکایت کو جدا جدا ابابون پر تقسیم کرایا جاۓ خ وہ حکایت کون سے باب سے علاقہ رکہتی ہے اور یہ کون سے بیا سے.
جس طرح ہر ایک ملک مین لٹریچر کی ابتدا نظم سے ہوتی رہی ہے اسی طرح ایران مین بھی اول شاعری کا ظہور ہوا تھا۔ اور دوسری صدی کے اخیر سے ہم کہ اول ہی اول خواجہ عباس مروزی نے مامون کی مدح مین فارسی قصیدہ لکھا ۔ کئی صدیون تک مقتضاے وقت کے موافق صرف شاعری کو ترقی ہوتی رہی۔ فارسی نثر لکھنا اگرچہ ایک مدت کے بعد شروع ہو گیا لیکن شیخ کے زمانہ تک اُسکی کوئی عام شاہراه مقرر نہین بوئی اکشر سیدہی سادی عبارت عام روزمره اور بول چال
کے موافق لکہی جاتی تہی یا اہل علم کسیقدر خواص کے روز مرہ مین تحریر کرتے تھے چنانچه حکیم ناصرخسروی سفر نامی که پانچوین صدی مین کھا گیا اس مین نہایت بے تکلفی سے
خواص کی معمولی بول چال مین حالات تحریر کیے گئے ہین اور اعضا دیب اور فاضل جن پر رشت
غالب تھی اُنکے قا سے بغیر نیز در خور کے کر عربی لغات برا شعار خیره فارسی تقریرون بین تلاش
کرتے تھے۔ گرمین شاعران شوخی اور اور پیارا اور اس کے فقرون مین ایک خاص قسم کے
وزن اور تول کالی در کناجاری واتا خصومنا کوئی اخلاقی کتاب عمدہ شرمین شیخ کے زمانہ ترک
ایسی نہین لکھی گئی تھی جس مین اخلاق کا بیان واقعات نفس الامری کے ضمن مین کیا گیا ہو ۔
ه مجرمین قاضی حمید الدین ابو بکر نے مقامات بدیعی اور مقامات حریری کی طرز پر فارسی مین
مقامات امید کی لکھی ہے اسمین حمایت ملامت ہو تصنع پایا جاتا ہے اسکی بنیا زیادہ تر تا رائع<noinclude></noinclude>
s673zlgjtflcp6acoxxhocnwzvhrjtd
35492
35491
2026-07-26T14:01:10Z
Charan Gill
46
35492
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اصل حکایتون کو نامرتب کر کے گڈمڈ کر دیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو نتیجے شیخ نے استخراج کیے ہین وہ اُن مین درج کیے جائین اور تمام مواد حکایت کو بابا بابان تقسیم کا یا جائے اور پہر تمام مجموعہ حکایت کو جدا جدا ابابون پر تقسیم کرایا جاۓ خ وہ حکایت کون سے باب سے علاقہ رکہتی ہے اور یہ کون سے بیا سے.
جس طرح ہر ایک ملک مین لٹریچر کی ابتدا نظم سے ہوتی رہی ہے اسی طرح ایران مین بھی اول شاعری کا ظہور ہوا تھا۔ اور دوسری صدی کے اخیر سے ہم کہ اول ہی اول خواجہ عباس مروزی نے مامون کی مدح مین فارسی قصیدہ لکھا ۔ کئی صدیون تک مقتضاے وقت کے موافق صرف شاعری کو ترقی ہوتی رہی۔ فارسی نثر لکھنا اگرچہ ایک مدت کے بعد شروع ہو گیا لیکن شیخ کے زمانہ تک اُسکی کوئی عام شاہراه مقرر نہین بوئی اکشر سیدہی سادی عبارت عام روزمره اور بول چال
کے موافق لکہی جاتی تہی یا اہل علم کسیقدر خواص کے روز مرہ مین تحریر کرتے تھے چنانچه حکیم ناصرخسروی سفر نامی که پانچوین صدی مین کھا گیا اس مین نہایت بے تکلفی سے خواص کی معمولی بول چال مین حالات تحریر کیے گئے ہین اور بعض ادیب اور فاضل جن پر رشت غالب تھی اُنکے قا سے بغیر نیز در خور کے کر عربی لغات برا شعار خیره فارسی تقریرون بین تلاش
کرتے تھے۔ گرمین شاعران شوخی اور اور پیارا اور اس کے فقرون مین ایک خاص قسم کے
وزن اور تول کالی در کناجاری واتا خصومنا کوئی اخلاقی کتاب عمدہ شرمین شیخ کے زمانہ ترک
ایسی نہین لکھی گئی تھی جس مین اخلاق کا بیان واقعات نفس الامری کے ضمن مین کیا گیا ہو ۔
ه مجرمین قاضی حمید الدین ابو بکر نے مقامات بدیعی اور مقامات حریری کی طرز پر فارسی مین
مقامات امید کی لکھی ہے اسمین حمایت ملامت ہو تصنع پایا جاتا ہے اسکی بنیا زیادہ تر تا رائع<noinclude></noinclude>
ialtw4vsj7mf7qbtclmyf91zks2pkzq
35494
35492
2026-07-27T07:43:23Z
BalramBodhi
60
35494
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اصل حکایتون کو نامرتب کر کے گڈمڈ کر دیا جائے اور ہر ایک حکایت سے جو نتیجے شیخ نے استخراج کیے ہین وہ اُن مین درج کیے جائین اور تمام مجہوعہ حکایت کو جدا جدا باتون پر تقسیم کرایا جائے اور پوچہا جاۓ کہ وہ حکایت کون سے باب سے علاقہ رکہتی ہے اور یہ کون سے بیا سے.
جس طرح ہر ایک ملک مین لٹریچر کی ابتدا نظم سے ہوتی رہی ہے اسی طرح ایران مین بہی اول شاعری کا ظہور ہوا تہا۔ اور دوسری صدی کے اخیر سے جب کہ اول ہی اول خواجہ عباس مروزی نے مامون کی مدح مین فارسی قصیدہ لکھا۔ کئی صدیون تک مقتضاے وقت کے موافق صرف شاعری کو ترقی ہوتی رہی۔ فارسی نثر لکہنا اگرچہ ایک مدت کے بعد شروع ہو گیا لیکن شیخ کے زمانہ تک اُسکی کوئی عام شاہراه مقرر نہین بوئی اکشر سیدہی سادی عبارت عام روزمره اور بول چال کے موافق لکہی جاتی تہی یا اہل علم کسیقدر خواص کے روز مرہ مین تحریر کرتے تہے چنانچہ حکیم ناصر خسرو کا سفرنامی جو کہ پانچوین صدی مین لکہا گیا اس مین نہایت بے تکلفی سے خواص کی معمولی بول چال مین حالات تحریر کیے گئے ہین اور بعض ادیب اور فاضل جن پر \عرشت\ غالب تہی اُنکے قلم سے بغیر فکر اور غور کے اکثر عربی لغات اور اشعار وغیره فارسی تحریرون مین ترادش کرتے تہے۔ مگر نثر مین شاعرانہ شوخی اور جادو پیادا کرنا اور اُسکے فقرون مین ایک خاص قسم کے وزن اور تول کا لحاظ رکہنا جاری نہوا تہا۔ خصوصاً کوئی اخلاقی کتاب عمدہ ںثر مین شیخ کے زمانہ تک ایسی نہین لکہی گئی تہی جس مین اخلاق کا بیان واقعات نفس الامری کے ضمن مین کیا گیا ہو۔ ٥٥١ ھ مین قاضی حمید الدین ابو بکر نے مقامات بدیعی اور مقامات حریری کی طرز پر فارسی مین مقامات امیدیی لکہی ہے اُسمین نہایت تکلف اور تصنع پایا جاتا ہے اُسکی بنیاد زیادہ تر تا صتائع<noinclude></noinclude>
bjzygs9tgxp881fih07lvjao97259gm