ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.13 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/218 250 13129 35497 33150 2026-07-30T07:47:21Z Keshuseeker 83 35497 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}} {{center|{{xxxx-larger|(۱) ہنومان لنکا میں}}}} راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے ۔ اس کے محل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ سڑکیں چوڑی اور صاف ہیں ۔ اُن پر طرح طرح کی سواریاں دوڑ رہی ہیں ۔ قدم قدم پر مسلح سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude> dzgltviq11bz94j8uuly3xpshya48ye 35498 35497 2026-07-30T07:47:48Z Keshuseeker 83 35498 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}} {{center|{{-larger|(۱) ہنومان لنکا میں}}}} راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے ۔ اس کے محل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ سڑکیں چوڑی اور صاف ہیں ۔ اُن پر طرح طرح کی سواریاں دوڑ رہی ہیں ۔ قدم قدم پر مسلح سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude> bepbhk9uyi045dlk8dart2sc7aifumr 35499 35498 2026-07-30T07:48:48Z Keshuseeker 83 35499 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}} {{center|{{-larger|(۱) | ہنومان لنکا میں}}}} راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے ۔ اس کے محل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ سڑکیں چوڑی اور صاف ہیں ۔ اُن پر طرح طرح کی سواریاں دوڑ رہی ہیں ۔ قدم قدم پر مسلح سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude> bsbmcojexvso9037uflb39ua118o7u7 35500 35499 2026-07-30T07:49:34Z Keshuseeker 83 35500 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}} {{larger|ہنومان لنکا میں}} راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے ۔ اس کے محل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ سڑکیں چوڑی اور صاف ہیں ۔ اُن پر طرح طرح کی سواریاں دوڑ رہی ہیں ۔ قدم قدم پر مسلح سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude> g5ge6xip2wgs376ue5i2i3ioq4joak2 35501 35500 2026-07-30T07:50:03Z Keshuseeker 83 35501 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}} {{center|{{larger|ہنومان لنکا میں}}}} راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے ۔ اس کے محل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ سڑکیں چوڑی اور صاف ہیں ۔ اُن پر طرح طرح کی سواریاں دوڑ رہی ہیں ۔ قدم قدم پر مسلح سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude> 7pcssu1zpqki4p9ub35nj33khd04rb1 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/39 250 13135 35503 33180 2026-07-30T10:33:51Z Charan Gill 46 35503 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ نا حق راتنا بگڑ ÷ رہے ہیں : پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تو اپنی گستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں گا لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چکا ۔ ہاں مجھے خون ہے کہ کہیں آپ کا غصہ آپ نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی حصہ نہ کرنا چاہئے ؟ پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> 0ww1ajfv8cfghsvpcz3gpes85nl7sio 35504 35503 2026-07-30T10:40:49Z Charan Gill 46 35504 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ نا حق اتنا بگڑ رہے ہیں۰ پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تو اپنی گستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں گا لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چکا ۔ ہاں مجھے خون ہے کہ کہیں آپ کا غصہ آپ نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی حصہ نہ کرنا چاہئے ؟ پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> 01e89gdmauppafkizj7497zyafxp17x 35505 35504 2026-07-30T10:51:20Z ~2026-42218-23 269 35505 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ نا حق اتنا بگڑ رہے ہیں۰ پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تو اپنی گستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں. لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چکا ۔ ہاں مجھے خون ہے کہ کہیں آپ کا غصہ آپ نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی حصہ نہ کرنا چاہئے. پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> loc27og6wtsys2yld6enhaetq1rsqkn 35506 35505 2026-07-30T11:00:53Z Charan Gill 46 35506 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ نا حق اتنا بگڑ رہے ہیں۰ پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تو اپنی گستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں”. لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چکا ۔ ہاں مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کا غصّہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی غصّہ نہ کرنا چاہئے. پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> blf44yp943ojnzzth23vfmpahy4j3n4 35507 35506 2026-07-30T11:11:11Z Charan Gill 46 35507 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ نا حق اتنا بگڑ رہے ہیں۰ پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تُو اپنی گُستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصّہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں”. لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چُکا۔ ہاں مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کا غصّہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی غصّہ نہ کرنا چاہئے. پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> dj4jz4wqcgt2t4h5prrukayhctokcg8 35508 35507 2026-07-30T11:13:57Z Charan Gill 46 35508 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ ناحق اتنا بگڑ رہے ہیں۰ پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مُورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تُو اپنی گُستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصّہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں”. لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چُکا۔ ہاں مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کا غصّہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی غصّہ نہ کرنا چاہئے. پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> mu33w2vp82zomp3bzcscxwg1elnq039 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/293 250 13160 35502 35199 2026-07-30T08:59:55Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35502 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۲۸۷}}</noinclude>راون کو سزا دی جا چُکی ۔ اب لنکا میں رہنے کی ضرورت نہ تھی ۔ رام چندر نے چلنے کی تیاری کرنے کا حُکم دیا ۔ بھھیشن نے سُنا کہ رامچندر جا رہے ہیں تو آکر بولا ۔ 'مہاراج ! مجھ سے ایسی کونسی خطا ہوئی جو آپ نے اتنی جلد چلنے کی ٹھان لی ۔ بھلا دس پانچ دن تو مجھے خدمت کرنے کا موقع دیجئے ۔ ابھی تو میں آپ کی کچھ مہمانی کر ہی نہ سکا'. رامچندر نے کہا ۔ 'بھھیشن ! میرے لئے اِس سے زیادہ خوشی کی اور کونسی بات ہو سکتی تھی کہ کچھ دن تمہاری صجبت کا لطف اُٹھاؤں ۔ تم جیسے صاف دل آدمی بڑے نصیبوں سے ملتے ہیں ۔ مگر بات یہ ۔ ہے کہ میں نے بھرت سے چودھویں سال کے پورے ہوتے ہی لَوٹ جانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب چودہ سال پورے ہونے میں دو ہی چار دن کی کسر ہے۔ اگر مجھے ایک دن کی بھی دیر<noinclude></noinclude> ebkgqb9255sobb7ojh3seecb6b3g32j