ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.13
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/218
250
13129
35513
35501
2026-08-01T06:20:14Z
Keshuseeker
83
/* Proofread */
35513
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
{{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}}
{{center|{{larger|ہنومان لنکا میں}}}}
راس کماری سے لنکا تک تَیر کر جانا
آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں
سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان
نے ہمّت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ
اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کِہ لنکا کا شہر ایک
پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہُوا ہے ۔ اس کے
محل آسمان سے باتیں کر رہے ہَیں ۔ سڑکیں
چوڑی اَور صاف ہَیں ۔ اُن پر طرح طرح کی
سواریاں دوڑ رَہی ہَیں ۔ قدم قدم پر مسلح
سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر
دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude>
kjg5wvnuwo3c3lmit0qardpbgyv9yeg
35514
35513
2026-08-01T06:21:30Z
Keshuseeker
83
35514
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
{{center|{{x-larger|سُندر کانڈ}}}}
{{center|{{larger|ہنومان لنکا میں}}}}
راس کماری سے لنکا تک تَیر کر جانا
آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں
سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان
نے ہمّت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ
اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کِہ لنکا کا شہر ایک
پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہُوا ہے ۔ اس کے
محل آسمان سے باتیں کر رہے ہَیں ۔ سڑکیں
چوڑی اَور صاف ہَیں ۔ اُن پر طرح طرح کی
سواریاں دوڑ رَہی ہَیں ۔ قدم قدم پر مسلح
سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جِدھر
دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude>
cbelf2svqt4xmc9m9uake31nt0iiovt
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/219
250
13130
35515
33154
2026-08-01T06:25:53Z
Keshuseeker
83
/* Proofread */
35515
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
شہر میں ایک بھی غرِیب آدمی نہیں نظر آتا-
بعض بعض محلوں کے کلس سونے کے ہَیں
دیواروں پر اَیسی خُوبصورت قلعی کی ہوئی ہَے
کہ معلوم ہوتا ہے سونے کی ہَیں ۔ اَیسا آباد اور
با رونق شہر دیکھ کر ہنومان چکرا گئے ۔ یہاں
سیتاجی کا پتہ لگانا لوہے کے چنے چہانا تھا ۔
یہ تو اب معلوم ہی تھا کہ سیتا راون کے
محل میں ہونگی۔ مگر محل میں گزر کیونکہ ہو ۔
صدر دروازه پر سنتریوں کا پہرہ تھا ۔ کسی
پوچھتے تو فوراً لوگوں کو اُن پر شبہہ
ہو جاتا ۔ پکڑ لئے جاتے ۔ سوچنے لگے شاہی
محل کے اندر کیسے گھسوں ۔ یکا یک انہیں ایک
بڑا چھتنار درخت نظر آیا جس کی شاخیں محل
کے اندر جھکی ہوئی تھیں ۔ ہنومان خوشی سے
اُچھل پڑے ۔ پہاڑوں میں تو وہ پیدا ہی ہوئے
تھے۔ بچپن ہی سے درختوں پر چڑھنا، اچکنا"
گودنا سیکھا تھا۔ اتنی چھرتی سے درختوں پر<noinclude></noinclude>
mkitr2h6qtvpufy58xl4er30dnaj64c
35516
35515
2026-08-01T06:30:59Z
Keshuseeker
83
35516
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
شہر میں ایک بھی غرِیب آدمی نہیں نظر آتا-
بعض بعض محلوں کے کلس سونے کے ہَیں
دیواروں پر اَیسی خُوبصورت قلعی کی ہوئی ہَے
کہ معلوم ہوتا ہے سونے کی ہَیں ۔ اَیسا آباد اور
با رونق شہر دیکھ کر ہنومان چکرا گئے ۔ یہاں
سِیتاجی کا پتہ لگانا لوہے کے چنے چبانا تھا ۔
یہ تو اب معلوم ہی تھا کہ سیتا راون کے
محل میں ہونگی۔ مگر محل میں گُزر کیونکر ہو
صدر دروازه پر سنتریوں کا پہرہ تھا ۔ کِسی سے
پُوچھتے تو فَوراً لوگوں کو اُن پر سُبح
ہو جاتا ۔ پکڑ لِئے جاتے ۔ سوچنے لگے شاہی
محل کے اندر کیسے گھسوں ۔ یکا یک انہیں ایک
بڑا چھتنار درخت نظر آیا جس کی شاخیں محل
کے اندر جھکی ہوئی تھیں ۔ ہنومان خوشی سے
اُچھل پڑے ۔ پہاڑوں میں تو وہ پیدا ہی ہوئے
تھے۔ بچپن ہی سے درختوں پر چڑھنا، اچکنا"
گودنا سیکھا تھا۔ اتنی چھرتی سے درختوں پر<noinclude></noinclude>
29s96wtheabai6tvhyuw6ly46k0nunj
35517
35516
2026-08-01T06:34:01Z
Keshuseeker
83
35517
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
شہر میں ایک بھی غرِیب آدمی نہیں نظر آتا-
بعض بعض محلوں کے کلس سونے کے ہَیں
دیواروں پر اَیسی خُوبصورت قلعی کی ہوئی ہَے
کہ معلوم ہوتا ہے سونے کی ہَیں ۔ اَیسا آباد اور
با رونق شہر دیکھ کر ہنومان چکرا گئے ۔ یہاں
سِیتاجی کا پتہ لگانا لوہے کے چنے چبانا تھا ۔
یہ تو اب معلوم ہی تھا کہ سیتا راون کے
محل میں ہونگی۔ مگر محل میں گُزر کیونکر ہو
صدر دروازه پر سنتریوں کا پہرہ تھا ۔ کِسی سے
پُوچھتے تو فَوراً لوگوں کو اُن پر سُبح
ہو جاتا ۔ پکڑ لِئے جاتے ۔ سوچنے لگے شاہی
محل کے اندر کَیسے گُھسُوں ۔ یکا یک انہیں ایک
بڑا چھتنار درخت نظر آیا جس کی شاخیں محل
کے اندر جُھکی ہَوئی تھیں ۔ ہنومان خوشی سے
اُچھل پڑے ۔ پہاڑوں میں تو وہ پیدا ہی ہوئے
تھے۔ بچپن ہی سے درختوں پر چڑھنا، اُچکنا"
کُودنا سیکھا تھا۔ اتنی فُرتی سے درختوں پر<noinclude></noinclude>
6t3u54s6nt3l4wjb7m06x9ylfqq5arf
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/266
250
13144
35512
34703
2026-08-01T05:32:29Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35512
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کہ پہاڑی چوہے کس غضب کے ہوتے ہیں۔
ہے اس دربار میں کوئی جودھا جو میرے
پیر کو زمین سے ہٹا دے ۔ جسے دعوئے
ہو نکل آئے '.
انگد کی یہ للکار سُن کر کئی سُورما اُٹھے
اور انگد کا پیر اُٹھانے کے لئے ایڑی چوٹی
کا زور لگایا، مگر جو بھر بھی نہ ہٹا سکے۔ اپنا
سا منہ لے کر اپنی اپنی جگہ پر جا بیٹھے۔
تب راون خود سنگھاسن سے اُٹھا اور انگد کے
پیر پر جُھک کر اُٹھانا چاہتا تھا کہ انگد
نے پیر کھینچ لیا اور بولے 'اگر پیروں پر سر
جُھکانا ہے تو رامچندر کے پیروں پر سر جھُکاؤ
میرے پیر چھونے سے تمہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا'
راون شرمندہ ہو کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا.
انگد اپنا پایگام سُنا ہی چُکے تھے ۔ جب انہیں
معلوم ہو گیا کہ راون پر کسی کے سمجھانے کا اثر نہ
ہوگا تو وہ رامچندر کے پاس لوٹ آئے اور ساری<noinclude></noinclude>
46yffc8oxf0jd6l09hfabxl2y2cjkf8
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/265
250
13145
35511
34695
2026-08-01T05:04:47Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35511
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>لڑنے کو تیار بیٹھا ہوُأ ہے ۔ سیتا اب یہاں
سے نہیں جا سکتی ۔ اُس کا خیال چھوڑ دیں۔
ورنہ اُن کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ راکشسوں
کی فوج جس وقت میدان میں آئیگی
سگریو اور ہنومان دُم دبا کر بھاگتے نظر آئینگے ۔
راکشسوں سے ابھی رامچندر کو سابقہ نہیں
پڑا ہے ۔ ہم نے اِندر تک سے اپنا لوہا
منوا لیا ہے ۔ یہ پہاڑی چوہے کس شمار
و قطار میں ہیں'.
انگد ۔ 'جن لوگوں کو تم پہاڑی چوہے
کہتے ہو۔ وہ تمہاری ایک ایک فوج کے لئے اکیلے
کافی ہیں ۔ اگر اُن کی طاقت کا امتحان لینا
چاہتے ہو تو انہیں پہاڑی چوہوں میں سے
ایک ادنے چوہا تمہارے دربار میں کھڑا
ہے اُس کا امتحان کر لو ۔ افسوس ہے کہ
اس وقت قاصد ہوں اور قاصد ہتھیار سے
کام نہیں لے سکتا ورنہ اسی وقت دکھا دیتا<noinclude></noinclude>
6c8f5pxijdgzcoy96qvmmuvqcus3k1z