ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.13
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/240
250
12853
35540
35039
2026-08-03T16:52:57Z
Jagdish Papra
66
35540
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۴}}</noinclude>نے ایسا تماشا کبھی نہ دیکھا ہوگا ۔ بڑی دل لگی
رہیگی ۔ ہزاروں آدمی اُس کے پیچھے " لینا لینا"
کرتے دوڑینگے اور وہ اِدھر اُدھر اُچکتا پھر یگا.
فوراً میگھناد کو حکم دیا کہ اس آدمی کا منہ
رنگ دو اس کے بدن پر بُھورے بھورے
روٹیں لگا دو اور ایک لمبی دم لگا کہ اچھا
خاصا لنگور بنا دو ۔ اُس دم میں لئے باندھ کر
تیل میں بھگا دو اور اُس میں آگ لگا کر
چھوڑ دو ۔ شہر میں ڈونڈی پٹوا دو کہ آج شام
کو ایک نیا ، انوکھا اور حیرت میں ڈالنے والا
تماشہ ہوگا ۔ سب لوگ اپنی چھتوں پر سے
تماشہ دیکھیں
یہ محکم پاتے ہی راکشسوں نے ہنومان کو
بندر بنانا شروع کر دیا ۔ کوئی منہ رنگتا تھا،
کوئی بدن پر رومیں چپکاتا تھا، کوئی دم لگاتا
تھا۔ دم کے دم میں بندر کا سوانگ بن کر
کھڑا ہو گیا ۔ خوب لمبی دُم تھی ۔ پھر
لوگ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
hh04pi2sfvemthy1lk740zzujk1bo5x
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/241
250
12854
35541
35037
2026-08-03T17:07:01Z
Jagdish Papra
66
35541
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>چاروں طرف سے لئے لا لا کر اس میں باندھنے
لگے ۔ ادھر شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ۔ راکشس
لوگ جلدی جلدی شام کا کھانا کھا ، اچھے اچھے
کپڑے پہن ، اپنی اپنی چھتوں پر ڈٹ گئے ۔
راون کی سینکڑوں رانیاں تھیں ۔ سب کی
گہنے کپڑے سے آراستہ ہو کر یہ تماشہ دیکھنے
کے لئے سب سے اونچی چھت پر جا بیٹھیں۔
اتنے میں شام بھی ہو گئی ۔ ہنومان کی دُم پر
تیل چھڑکا جانے لگا ۔ منوں تیل ڈال دیا گیا ۔
جب دم خوب تیل سے تر ہوگئی تو ایک
آدمی نے اُس میں آگ لگا دی ۔ شعلے بھڑک
اُٹھے ۔ چاروں طرف تالیاں بجنے لگیں ۔ تماشہ
شروع ہو گیا :
ہنومان اپنی اس ذلت اور ہنسی پر دل
میں خوب گڑھ رہے تھے ۔ اس سے تو کہیں
اچھا ہوتا اگر ظالم نے مار ڈالا ہوتا ۔ دل میں
کہا ۔ اس ذلت کا اگر بدلہ نہ لیا تو کچھ نہ کیا ۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
5n5lw91yv0idoqyy9r3rvadyqxm3xhg