ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.14 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/4 250 12033 35545 27167 2026-08-05T05:09:21Z Kaur Jatinder Haryau 52 /* پروف خوانی شدہ */ 35545 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tibbapawan" />{{rh||مقدمہ|(۲)}}</noinclude>ہزارون لہرین مارتا ہی پر اُسکا بال بیکا نہین کر سکتا. جسکی یہ قدرت اور سکنت ہو۔اُسکی حمد و شنا مین زبان اِنسان کی گویا گونگی ہے. کہے تو کیا کہے! بہتر یون ہے کہ جس بات مین دم نہ مار سکے چپکا ہو رہے.</br> •عرش سے لے فرش تک جسکا کہ یہ سامان ہے•</br> •حمداُسکی گر لکھا چاہون تو کیااِ مکان ہے•</br> •جب پیمبر نے کہا ہو مین نے پہچانا نہین•</br> •پھر جو کوئی دعوی کرے اسکا بڑا نادان ہے•</br> •رات دن یہ مہرومہ پھرتے ہین صنعت دیکھتے•</br> •پر ہر اک واحد کی صورت دیده حیران ہے•</br> • جسکا ثانی اور مقابل ہی نہ ہو ویگا کبھو•</br> •ایسے یکتا کو خدائی سب طرح شایان ہی•</br> •لیکن اِتنا جانتا ہون خالق و رازق ہے وه•</br> •ہر طرح سے مجھ پراُسکا لطف اور احسان ہے•</br> اور درود اُسکے دوست پر جسکی خاطر زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور درجہ رسالت کا دیا•<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 8ox97qj7qugns04uueawbd9xdjqgi5w صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/5 250 12086 35546 27379 2026-08-05T05:42:21Z Kaur Jatinder Haryau 52 35546 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۳)|مقدمہ|}}</noinclude>• جسم پاک مصطفی اس کا ایک نور ہے•</br> • اس لئے پرچھائین اس قد كي نہ تھی مشہور ہے•</br> • حوصلہ میرا کہان اتنا جو نعت اسکی کہون•</br> • پر سخن گویون کایہ بھی قاعدہ دستور ہے•</br> اور اسکی آل پر صلوہ وسلام جو ہین بارہ امام•</br> •حمد حق اور نعت احمد کو یہان کر انصرام•</br> •اب مین آغاز اسکی کرتا ہون جو ہی منظور کام•</br> • يا الہي واسطے اپنے نبی کی آل کے•</br> • کر یہہ میری گفتگو مقبول طبع خاص و عام•</br> منشااِس تالیف کا یہ ہے. کہ ایک ہزار دو سو پندرہ سن ہجری اوراٹھارہ سی ایک سال عیسوی مطابق ایک ہزار دو سو سات برص فصلی کے عہد مین اشرف الاشراف مارکویس ولزلی گورنر جنرل لارڈ مارنینگٹن صاحب کے(جنکی تعریف مین عقل حیران اور فہم سرگردان ہے۔ جتنے وصف سردارون کو چاہیے انکی ذات مین خدا نے جمع کیے ہین۔ غرض قسمت کی خو بی اس ملک کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> p2tmddza28ix8lb1m7ei3yfu874d6og 35548 35546 2026-08-05T11:11:09Z Kaur Jatinder Haryau 52 35548 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۳)|مقدمہ|}}</noinclude>• جسم پاک مصطفی اس کا ایک نور ہے•</br> • اس لئے پرچھائین اس قد كي نہ تھی مشہور ہے•</br> • حوصلہ میرا کہان اتنا جو نعت اسکی کہون•</br> • پر سخن گویون کایہ بھی قاعدہ دستور ہے•</br> اور اسکی آل پر صلوہ وسلام جو ہین بارہ امام•</br> •حمد حق اور نعت احمد کو یہان کر انصرام•</br> •اب مین آغاز اسکی کرتا ہون جو ہی منظور کام•</br> • يا الہي واسطے اپنے نبی کی آل کے•</br> • کر یہہ میری گفتگو مقبول طبع خاص و عام•</br> منشااِس تالیف کا یہ ہے. کہ ایک ہزار دو سو پندرہ سن ہجری اوراٹھارہ سی ایک سال عیسوی مطابق ایک ہزار دو سو سات برص فصلی کے عہد مین اشرف الاشراف مارکویس ولزلی گورنر جنرل لارڈ مارنینگٹن صاحب کے(جنکی تعریف مین عقل حیران اور فہم سرگردان ہے۔ جتنے وصف سردارون کو چاہیے انکی ذات مین خدا نے جمع کیے ہین۔ غرض قسمت کی خو بی اس ملک کے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> sb6fxl3bqglbgcflqnhbe2ldszkt1di صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/6 250 12087 35547 27388 2026-08-05T10:05:47Z Kaur Jatinder Haryau 52 35547 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||مقدمہ|(٤)}}</noinclude>تھے جو ایسا حاکم تشریف لایا جسکے قدم کے فیض سےایک عالم نے آرم پایا۔ مجال نہین کہ کوئی کسی پر زبردستی کر سکے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ مین پانی پیتے ہین۔ سارے غریب غربا دعا دیتے ہین اور جیتے ہین) چرچا علم کا پھیلا۔ صاحبانِ ذیشان کو شوق ہوا کہ اردو کی زبان سے واقف ہو کر ہندوستانیون سے گفت و شنود کرین اور ملکی کام کو بہ آگا ہی تمام انجام دین۔ اس واسطے کتنی کتابین اسی سال بموجب فرمائش کے تالیف ہوئین۔ جو صاحب دانااور ہندوستان کی زبان بولنے والے ہین۔ انکی خدمت مین گزارش کرتاہون۔ کہ قصہ چار درویش کا ابتدا مین امیر خسرو دہلوی نے اس تقریب سے کہا کہ حضرت اولیا زری زربخش جو انکے پیر تھے (اور درگاہ انکی دلی مین قلعہ سے تین کوس لال دروازے کے باہر مٹیا دروازے سے آگے لال بنگلے کے پاس ہے)انکی طبیعت ماندی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> amspv88xy95ddkp595ic8mmin5d70lu صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/7 250 12090 35549 27411 2026-08-05T11:54:20Z Kaur Jatinder Haryau 52 35549 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۵)|مقدمہ|}}</noinclude>ہوئی۔تب مُرشد کے دل بہلانے کے واسطے امیر خسرو یہ قصہ ہمیشہ کہتے۔ اور تیمارداری مین حاضر رہتے. اللہ نے چند روز مین شفا دی۔ تب انھون نے غسلِ صحت کے دن یہ دعا دی۔ کہ جو کوئی اس قصے کو سنیگا۔خدا کے فضل سے تندرست رہیگا۔ جب سے یہ قصہ فارسی مین مروّج ہوا. اب خداوند نعمت صاحب مروت نجیبون کے قدردان۔ جان گلکرسٹ صاحب نے (کہ ہمیشہ اقبال انکا زیادہ رہے جب تک گنگا جمنا بہے) لطف سے فرمایا کہ قصے کو ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو مین جو اردو کے لوگ ہندو ۔ مسلمان۔ عورت۔ مرد۔ لڑکے بالے۔ خاص و عام آپس مین بولتے چالتے ہین ترجمہ کرو. موافق حکم حضور کے مین نے بھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتین کرتا ہے. پہلے اپنا احوال یہ عاصی گنہگار میر آمّن دلّی والا بیان کرتا ہے کہ میرے بزرگ ہمایون بادشاہ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> ghw12qfiy1se1bylmkp5f2eurc0jn3w 35550 35549 2026-08-05T11:55:32Z Kaur Jatinder Haryau 52 35550 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۵)|مقدمہ|}}</noinclude>ہوئی۔ تب مُرشد کے دل بہلانے کے واسطے امیر خسرو یہ قصہ ہمیشہ کہتے۔ اور تیمارداری مین حاضر رہتے۔ اللہ نے چند روز مین شفا دی۔ تب انھون نے غسلِ صحت کے دن یہ دعا دی۔ کہ جو کوئی اس قصے کو سنیگا۔خدا کے فضل سے تندرست رہیگا۔ جب سے یہ قصہ فارسی مین مروّج ہوا. اب خداوند نعمت صاحب مروت نجیبون کے قدردان۔ جان گلکرسٹ صاحب نے (کہ ہمیشہ اقبال انکا زیادہ رہے جب تک گنگا جمنا بہے) لطف سے فرمایا کہ قصے کو ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو مین جو اردو کے لوگ ہندو ۔ مسلمان۔ عورت۔ مرد۔ لڑکے بالے۔ خاص و عام آپس مین بولتے چالتے ہین ترجمہ کرو. موافق حکم حضور کے مین نے بھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتین کرتا ہے. پہلے اپنا احوال یہ عاصی گنہگار میر آمّن دلّی والا بیان کرتا ہے کہ میرے بزرگ ہمایون بادشاہ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> cxcm4d5daagal22c0spj19cc582sqll صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/242 250 12868 35542 35036 2026-08-04T16:01:05Z Jagdish Papra 66 35542 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۶}}</noinclude>اور وہ بھی اسی وقت ۔ ایسا تماشہ دکھاؤں کہ عمر بھر نہ بھولے ۔ سارے شہر کی ہولی ہو جائے ۔ جب دم میں آگ لگ گئی تو وہ ایک درخت پر چڑھ گئے ۔ اس فن میں اُن کا ثانی نہ تھا۔ درخت کی ایک شاخ راج محل میں جھکی ہوئی تھی ۔ اُسی شاخ سے کود کر وہ رنواس میں پہنچ گئے اور ایک لمحہ میں سارا راج محل جلنے لگا ۔ سب لوگ چھتوں پر تھے ۔ کوئی روکنے والا نہ تھا ۔ بیش قیمت کپڑے اور سجاوٹ کے سامان ، فرش، گڈے ۔ قالین ، پردے ۔ پنکھے، ان میں آگ لگتے کیا دیر تھی ۔ ہنومان جدھر سے اپنی آتشیں دم لئے نکل جاتے تھے اُدھر ہی شعلے بھڑکنے لگتے تھے راج محل میں آگ لگا کر ہنومان بستی کی طرف جھکے ۔ چھتوں سے چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ ایک گھر سے دوسرے گھر میں کود جانا مشکل نہ تھا۔ گھنٹہ بھر میں سارا شہر آگ کے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> jxd6vnahg80flyagmdeeilopu0w20iw صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/243 250 12869 35543 35043 2026-08-04T16:15:01Z Jagdish Papra 66 35543 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>پردے میں ڈھک گیا ۔ چاروں طرف کوہرام مچ گیا ۔ کوئی اپنا اسباب نکالتا تھا ۔ کوئی پانی پانی چلاتا تھا ۔ کتنے ہی آدمی جو نیچے نہ اتر سکے جل گئے ۔ اتفاق سے اسی وقت زور کی ہوا چلنے لگی ۔ آگ اور بھی بھڑک اُٹھی ۔ گویا ہوا اگن دیوتا کی مدد کرنے کے لئے آئی ہے۔ یسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان سے آگ کے تختے برس رہے ہیں :- شہر کی ہولی بنا کر ہنومان سمندر کی طرف بھاگے اور پانی میں کود کر دم کی آگ بجھائی ۔ انہوں نے لنکا باسیوں کو سچ سچ عجیب و غریب تماشہ دکھا دیا : (۳) حملہ کی تیاری ہنومان نے راتوں رات سمندر کو پار کیا۔ اور اپنے ساتھیوں سے جاملے ۔ یہ بیچارے گھبرا رہے تھے کہ نہ جانے ہنومان پر کیا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 2nupbol31unplbnhaoetp81ebaf8q4v صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/244 250 12870 35544 35044 2026-08-04T16:33:32Z Jagdish Papra 66 35544 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۸}}</noinclude>آفت آئی ۔ اب تک نہیں لوٹے ۔ اب ہم لوگ سگریو کو کیا منہ دکھائینگے ۔ رامچندر کے سامنے کیسے جائینگے ۔ اس سے تو یہ کہیں اچھا ہے ےہیں ڈوب مریں ۔ اتنے ہی میں ہنومان جا پہنچے ۔ اُنہیں دیکھتے ہی سب کے سب خوشی سے اچھلنے لگے ۔ دوڑ دوڑ کر اُن سے گلے ملے اور پوچھنے لگے ۔ کہو بھائی کیا کر آئے۔ سیتا جی کا کچھ سُراغ ملا۔ راون سے کچھ بات چیت ہوئی ؟ ہم لوگ تو بہت پریشان تھے ہنومان نے لنکا کا سارا حال کہ سنایا ۔ راون کے محل میں جانا ، اشوک کے باغ میں سیتا جی کے درشن پانا ، باغ کو اُجاڑنا ، راکشوں کو مارنا، میگھناد کے ہاتھوں گرفتار ہونا ۔ پھر لنکا کو جلانا، ساری باتیں مفصّل بیان کیں۔ سب نے ہنومان کی جوانمردی اور ہوشیاری کو سراہا اور گا بجا کر سوئے ۔ منہ اندھیرے رکسکندھا پوری کو روانہ ہوئے ۔ سینکڑوں کوسوں کا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> pcwwj9cn1w0am05a0nllo7tiwcqa3df