ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.14 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/8 250 12112 35551 27494 2026-08-06T03:00:55Z Kaur Jatinder Haryau 52 35551 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||مقدمہ|٦}}</noinclude>کے عہد سے ہر ایک بادشاہ کی رکاب مین پشت بہ پشت جان فشانی بجا لاتے رہے۔ اور وہ بھی پرورش کی نظر سے قدردانی جتنی چاہئے فرماتے رہے. جاگیر و منصب اور خدمات کی عنایات سے سرفراز کر کر مالا مال اور نہال کر دیا۔ اور خانہ زاد موروثی اور منصب دار قدیمی زبان مبارک سے فرمایا۔ چنانچہ یہ لقب بادشاہی دفتر مین داخل ہوا. جب ایسے گھر کی (کہ سارے گھر اِس گھر کے سبب آباد تھے) یہ نوبت پہنچی کہ ظاہر ہے۔ (عیان راچہ بیان؟) تب سورجمل جاٹ نے جاگیر کو ضبط کر لیا۔ اور احمد شاہ درانی نے گھر بار تاراج کیا. ایسی ایسی تباہی کھا کر ویسے شہر سے (کہ وطن اور جنم بھوم میرا ہے۔اور آنول نال وہین گڑا ہے) جلا وطن ہوا. اور ایساجہاز(کہ جسکا ناخدا بادشاہ تھا)۔غارت ہوا. مین بیکسی کے سمندر مین غوطہ کھانے لگا۔ ڈوبتے کو تنکے کا آسرا بہت ہے۔ کتنے برس بلدۂ عظیمہ آباد مین دم لیا۔ کچھ بنی کچھ بگڑی. آخر وہان سے بھی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> lk1eca9eil6yx3jduj5t0joj6softki صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/307 250 13174 35554 35364 2026-08-06T10:01:06Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35554 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>بھرت بڑے بڑے تھالوں میں میوئے غلے، بھرے ہوئے بیٹھے تھے ۔ روپیوں کا انبار اُن کے سامنے لگا ہَوا تھا ۔ جونہی رامچندر اور سیتا سنگھاسن پر بیٹھے بھرت نے دان دینا شروع کر دیا ۔ ان چودہ سالوں میں اُنہوں نے کفایت کر کے شاہی خزانہ میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ سب کِسی کِیسی صورت١ میں پھر رعایا کے پاس پہنچ گیا۔ غریبوں کو بھی اشرفیوں کی صورت نظر آگئی ۔ ننگوں کو شال دوشالے مَیسّر ہو گئے۔ اور بھوکوں کو میوے اور مٹھائی سے سیری ہوگئی ۔ چاروں طرف بھرت کی فیاضی کی دُھوم مچ گئی ۔ سارے راج میں کوئی غریب نہ رہ گیا ۔ کاشتکاروں کے ساتھ خاص رعایت کی گئی ۔ ایک سال کا لگان معاف کر دیا گیا۔ جابجا کَنوئیں کھدوا دئے گئے ۔ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ۔ صرف وہی آزاد نہ کئے گئے جو دعا اور فریب کے مَجرم تھے ۔ رئیسوں اور امیروں کو خطابات دئے گئے ۔ اَور خلعتیں تقسیم ہوئیں. {{rule|5mm}} {{nop}}<noinclude></noinclude> thoreef5to9hmf6tl5htxgik6ocmu7f 35555 35554 2026-08-06T10:01:24Z Tamanpreet Kaur 81 35555 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>بھرت بڑے بڑے تھالوں میں میوئے غلے، بھرے ہوئے بیٹھے تھے ۔ روپیوں کا انبار اُن کے سامنے لگا ہَوا تھا ۔ جونہی رامچندر اور سیتا سنگھاسن پر بیٹھے بھرت نے دان دینا شروع کر دیا ۔ ان چودہ سالوں میں اُنہوں نے کفایت کر کے شاہی خزانہ میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ سب کِسی کِیسی صورت١ میں پھر رعایا کے پاس پہنچ گیا۔ غریبوں کو بھی اشرفیوں کی صورت نظر آگئی ۔ ننگوں کو شال دوشالے مَیسّر ہو گئے۔ اور بھوکوں کو میوے اور مٹھائی سے سیری ہوگئی ۔ چاروں طرف بھرت کی فیاضی کی دُھوم مچ گئی ۔ سارے راج میں کوئی غریب نہ رہ گیا ۔ کاشتکاروں کے ساتھ خاص رعایت کی گئی ۔ ایک سال کا لگان معاف کر دیا گیا۔ جابجا کَنوئیں کھدوا دئے گئے ۔ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ۔ صرف وہی آزاد نہ کئے گئے جو دعا اور فریب کے مَجرم تھے ۔ رئیسوں اور امیروں کو خطابات دئے گئے ۔ اَور خلعتیں تقسیم ہوئیں. {{rule|15mm}} {{nop}}<noinclude></noinclude> g82e4n527rpvq8qn7curea9d8p9dcs1 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/92 250 13854 35552 35456 2026-08-06T04:52:34Z Charan Gill 46 35552 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لفظی پر رکہی ہے اور تمام کتاب پہلی اور حریری کی ای منفی اور مسج لکھی ہے اور میں حسن ان دونوں کتابوں میں فرضی قصے وضع کیے گئے ان مسی طرح اس میں ہی محض خیالی افسانے لکھتے ہیں آج ن میں گانے بہانے اور ہرقسم کے تصرف کرنیکا اختیار محنت کے با تمرین ہوتا ہے اس کتاب کے پڑہنے سے کوئی خیال اس کے سوا دل میں پیدا نہیں ہوتاکہ مصنف کو عربی لغات پر بہت عبور تھا اور تجنیس وترصیع اور دیگر متنائع لفظی کے برستے پر کافی قدرت رکھتا تھا۔ ایک اور کتاب موسوم به قابوس نامه پانچوین عمدی تجری کی تصنیف ہماری نظرت گذاری ہے جو کا صنعت قابوس بن سکند رها شب به مترا اعمال سے یہ تمام کتاب اخلاق در آداب معاشرت میں لکھی گئی ہے اس کا بیان بہت صاف اور سادہ ہے اور مضامین شده این اسکین اس کے سوا کوئی ندرت یاد دلفریبی اسکی عبارت میں نہیں پائی جاتی۔ غرضکہ یا کہ کیا ان کا کوئی سیارہ نور نہیں دیکھا تا یکی بہت ہی گمان کیا جائے گرگیست ان کی بنیاد اُس پر کھی گئی ہوگی۔ حق یہ ہے کہ وہ خود ہی اس روش کا موجد تھا اور اوسی پرائس کا خاتمہ ہو گیا ۔ اُس نے اپنی دونوں بے نظیر کتابوں میں رضا ایران نشتاروں کے اپنی بلند پروازی است که خیالی نام کرتی یا پنا غلاف تیم ملی استان یا اقل عادت کے مخابات این نکه کر لوگوں کا دل بہانا اور کیا سیاست کیا اسی باندھ کر خلافت کو تیرت میں ڈالتا نہیں چاہا ۔ اس نے ردو کتابوں مین باستا پنج کاتیون کے کوئی واقعہ ایسا نہیں لکھا جو فصل یا عادت کے خلاف یہ بخش دیار آل زیارمیں سے ایک بادشاہ نے جریان اورگیان دیرین کامیا بی کرانی کی داد ادای دین وفات پائی<noinclude></noinclude> ltafwrrme4zi9s3e2utn0j1nndep1we 35553 35552 2026-08-06T06:28:53Z BalramBodhi 60 35553 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لفظی پر رکہی ہے اور تمام کتاب بدلیی اور حریری کی طرح مقفی اور مسجع لکہی ہے اور جس طرح اِن دونون کتابون مین فرضی قصے وضع کیے گئے ہین اُسی طرح اُس مین ہہی محض خیالی افسانے لکہتے ہین جن مین گہٹانے بہانے کا اختیار مصنف کے ہاتہ مین ہوتا ہے اِس کتاب کے پڑہنے سے کوئی خیال اس کے سوا دل مین پیدا نہین ہوتاکہ مصنف کو عربی لغات پر بہت عبور تھا اور تجنیس و ترصیع اور دیگر صنائع لفظی کے برستے پر کافی قدرت رکہتا تہا۔ ایک اور کتاب موسوم به قابوس نامه پانچوین صدی ہجری کی تصنیف ہماری نظر سے گذری ہے جسکا مصنّعف قابوس <ref>یہ شخش دیار آل زیار مین سے ایک بادشاہ ہے جسنے جرتیان اور گیلان وگیرہ مین یکیس برس حکمرانی کی ہے اور \\ مین وفات پائی۔</ref> بن سکند ملقب بہ عنصر املحالی ہے یہ تمام کتاب اخلاق اور آداب معاشرت مین لکہی گئی ہے اس کا بیان بہت صاف اور سادہ ہے اور مضامین عمده ہین لیکن اس کے سوا کوئی ندرت یادلفریبی اسکی عبارت مین نہیں پائی جاتی۔ غرضکہ شیخ نے آنکہہ کہول کر نثر کا کوئی ایسا عمدہ نمونہ نہیں دیکہا تہا جسکی نسبت یہگمان کیا جائے کہ گلستان کی بنیاد اُس پر رکہی گئی ہوگی۔ حق یہ ہے کہ وہ خود ہی اِس روش کا موجد تہا اور اوسی پراُس کا خاتمہ ہو گیا۔ اُس نے اپنی دونون بےنظیر کتابون مین برخلاف ایرانی نثّارون کے اپنی بلند پروازی اور نازک خیالی ظاہر کرنی۔ یا اپنا تقلف اور تجّر علمی جتنا یا اقل و عادت کے خلاف باتین لکہہ کر لوگون کا دل لبہانا اور عجائبات کا طلسم باندھ کر خلافت کو حیرت مین ڈالنا نہین چاہا۔ اُس نے دونون کتابون مین باستشنا چند حکایتون کے کوئی واقعہ ایسا نہین لکہا جو عقل یا عادت کے خلاف<noinclude></noinclude> 8daiuh89v7me6ip0aqc7v4sqp4wcya3