ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.14 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/13 250 12123 35569 27575 2026-08-07T03:13:56Z Kaur Jatinder Haryau 52 35569 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(١١)|قصے کا شروع|}}</noinclude>پانچ پُثتےن اُسی شہر مین گزارین۔ اور اُسنے دربار امراؤن کے اور میلے ٹھیلے عرس چھڑیان سیر تماشا اور کوچہ گردی اُس شہر کی مدت تلک کی ہوگی اور وہان سے نکلنے کے بعد اپنی زبان کو لحاظ مین رکھا ہوگا۔ اُسکا بولنا البتہ ٹھیک ہے. یہ عاجز بھی ہر ایک شہر کی سیر کرتا اور تماشا دیکھتا یہان تلک پہنچا ہے. {{center|{{rule|8em}}}} {{center|<big>'''شروع قضے کا'''</big>}} اب آغاز قصّے کا کرتا ہون ذرا کان دھر کر سنو اور منصفی کرو. سیر مین چار درویش کے یون لکھا ہے اور کہنے والے نےاسطرحہ کہا ہے کہ آگے روم کے ملک مین کوئی شہنشاہ تھا کہ نوشیروان کی سی عدالت اور حاتم کی سی سخاوت اُسکی ذات مین تھی. نام اُسکا آزاد بخت تھا۔ اور شہر قسطنطنیہ (جس کو استنبول کہتے ہین) اس کا پاۓ تخت تھا. اُسکے وقت مین رعیت آباد- خزانہ معمور- لشکر مرفّہ- غریب غربا آسودہ- ایسے چین سے گزران کرتے اور خوشی سے رہتے کہ ہر ایک کے گھر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 64djbxs7ntarmtpc5ym7y0u03qxcfbp صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/14 250 12124 35571 27596 2026-08-07T03:53:29Z Kaur Jatinder Haryau 52 35571 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(١٢)}}</noinclude>مین دن عید اور رات شبِ برات تھی. اور جتنے چور چکار- جیب کترے صبح خیزے- اُٹھائے گیرے۔ دغاباز تھے سبکو نیست و نابود کر کر نام و نشان اُنکا ملک بھر مین نہ رکھا تھا۔ ساری رات دروازے گھرون کے بند نہ ہوتے اور دوکانین بازار کی کھلی رہتین. راہی مسافر جنگل میدان مین سونا اچھالتے چلے جاتے۔ کوئی نہ پوچھتا کہ تمھارے منہ مین کئے دانت ہین اور کہان جاتے ہو. اِس بادشاہ کے عمل مین ہزارون شہر تھے۔ اور کئی سلطان نعلبندی دیتے۔ ایسی بڑی سلطنت پر ایک ساعت اپنے دل کو خدا کی یاد بندگی سے غافل نہ کرتا۔ آرام دنیا کا جو چاہئے سب موجود تھا۔ لیکن ایک فرزند کہ زندگانی کا پھل ہی اُسکی قسمت کے باغ مین نہ تھا. اِس خاطر اکثر فکرمند رہتا. اور پانچون وقت کی نماز کے بعد اپنے کریم سے کہتا۔ اے اللہ مجھ عاجز کو تونے اپنی عنایت سے سب کچھ دیا لیکن ایک اس اندھیرے گھر کا دیا نہ دیا. یہی ارمان جی مین باقی ہے کی میرا نام لیوا اور پانی دیوا کوئی نہین۔ اور تیرے خزانہء<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> rp66c6a8lpcpke9yj165ptsoyrnr5g6 صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/9 250 12136 35558 27715 2026-08-06T12:43:50Z Kaur Jatinder Haryau 52 35558 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(٧)|مقدمہ|}}</noinclude>پاؤن اکھڑے۔ روزگار نے موافقت نکی۔ عیال و اطفال کو چھوڑ کر تن تنہا کشتی پر سوار ہوا شرف البلاد کلکتے مین آب و دانے کے زور سے آ پہنچا. چندے بیکاری گزری۔ اتفاقاً نواب دلاور جنگ نے بلوا کر اپنے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم خان کی اتالیقی کے واسطے مقرر کیا. قریب دو سال کے وہان رہنا ہوا۔ لیکن نباہ اپنا ندیکھا. تب منشی میر بہادر علی جی کے وسیلے سے حضور تک جان گلکرسٹ صاحب بہادر دام اقبالہ کے رسائی ہوئی. بارے طالع کی مدد سے ایسے جوان مرد کا دامن ہاتھ لگا ہے۔ چاہئے کہ دن کچھ بھلے آوین۔ نہین تو یہ بھی غنیمت ہے کہ ایک ٹکڑا کھا کر پاؤن پھیلا کر سو رہتا ہون۔اور گھر مین دس آدمی چھوٹے بڑے پرورش پا کر دعا اس قدردان کو کرتے ہین۔ خدا قبول کرے. حقیقت اردو کی زبان کی بزرگون کے منہ سے یون سنی ہے کہ دلی شہر ہندوؤن کے نزدیک<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 5af224fzv0udbdtsvy4s4h1glqo55n3 صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/10 250 12628 35566 30524 2026-08-07T01:53:29Z Kaur Jatinder Haryau 52 35566 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||مقدمہ|٨}}</noinclude>چوجگی ہے۔ انہین کے راجہ پرجا قدیم سے وہان رہتے تھے اور اپنی بھاکھا بولتے تھے. ہزار برس سے مسلمانون کا عمل ہوا۔ سلطان محمود غزنوی آیا۔ پھر غوری اور لودھی بادشاہ ہوئے۔ اس آمدورفت کے باعث کچھ زبانون نے ہندو مسلمان کی آمیزش پائی. آخر امیر تیمور نے (جن کے گھرانے مین اب تلک نام نہاد سلطنت کا چلا جاتا ہے) ہندوستان کو لیا۔ ان کے آنے اور رہنے سے لشکر کا بازار شہر مین داخل ہوا۔ اس واسطے شہر کا بازار اُردو کہلایا۔ پھر ہمایون بادشاہ پٹھانون کے ہاتھ سے حیران ہو کر ولایت گئے۔ آخر وہان سے آنکر پسماندون کو گوشمالی دی۔ کوئی مقسد باقی نہ رہا کہ فتنہ و فساد برپا کریے. جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چارون طرف کے ملکون سے سب قوم قدردانی اور فیض رسانی اِس خاندان لاثانی کی سنکر حضور مین آ کر جمع ہوئے۔ لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جُدی جُدی تھی. اکٹھے ہونے سے آپس مین لین دین سودا سلف سوال جواب کرتے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> p65yopcqrt0y6i3tj96ckzn9ldr2om9 صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/11 250 12629 35567 30531 2026-08-07T02:28:15Z Kaur Jatinder Haryau 52 35567 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(٩)|مقدمہ|}}</noinclude>ایک زبان اُردو کی مقرر ہوئی. جب حضرت شاہ جہان صاحب قران نے قلعۂ مبارک اور جامع مسجد اور شہر پناہ تعمیر کروایا۔ اور تخت طاؤس مین جواہر جڑوایا اور دل بادل سا خیمہ چوبون پر استاد کر طنابون سے کھنچوایا۔ اور نواب علی مردان خان نہر کو لیکر آیا۔ تب بادشاہ نے خوش ہو کر جشن فرمایا اور شہر کو اپنا دارلخلافت بنایا. تب سے شاہ جہان آباد مشہور ہوا(اگر چہ دلّی جُدی ہے۔ وہ پرانا شہر اور یہ نیا شہر کہلاتا ہے)اور وہان کے بازار کو اردوئے معلیٰ خطاب دیا. امیر تیمور کے عہد سے محمد شاہ کی بادشاہت بلکہ احمد شاہ اور عالم گیر ثانی کے وقت تک پیڑھی بہ پیڑھی سلطنت یکسان چلی آئی۔ ندان زبان اُردو کے منجتے منجتے ایسی منجی کہ کسو شہر کی بولی اس سے ٹکر نہین کھاتی. لیکن قدردان منصف چاہیے جو تجویز کرے۔ سو اب خدا نے بعد مدت کے جان گلکرسٹ صاحب سا دانا نکتہ رس پیدا کیا کہ جنہون نے اپنے گیان اور اُگت سے اور تلاش و محنت سے قاعدون کی کتابین تصنیف<noinclude>{{rh||(٢)|}} [[Category:urdu]]</noinclude> bc33rktypegfu2p7ipv607wn5xdcfna صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/12 250 12630 35568 30544 2026-08-07T02:56:46Z Kaur Jatinder Haryau 52 35568 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||مقدمہ|(١٠)}}</noinclude>کین. اِس سبب سے ہندوستان کی زبان کا ملکون مین رواج ہوا۔ اور نئے سر سے اِسکی رونق زیادہ ہوئی۔ نہین تو اپنی دستار و گفتار و رفتار کو کوئی برا نہین جانتا. اگر ایک گنوار سے پوچھیے تو شہر والے کو نام رکھتا ہے۔ اور اپنے تئین سب سے بہتر سمجھتا ہے. خیر- عاقلان خوُد میداتد. جب احمد شاہ ابدالی کابل سے آیا اور شہر کو لٹوایا۔ شاہ عالم پورب کی طرف تھے۔ کوئی وارث اور مالک ملک کا نہ رہا۔ شہر بے سر ہو گیا. سچ ہے بادشاہت کے اقبال سے شہر کی رونق تھی۔ ایکبارگی تباہی پڑی. رئیس وہان کے مین کہین اور تم کہین ہو کر جہان جسکے سینگ سمائے وہان نکل گئے. جس ملک مین پہنچے وہان کے آدمیون کے ساتھ سنگت سے بات چیت مین فرق آیا۔ اور بہت ایسے ہین کہ دس پانچ برس کسو سبب سے دلّی مین گئے اور رہے وہ بھی کہان تلک بول سکینگے۔ کہین نہ کہین چوک ہو جئینگے. اور جو شخص سب آفتین سہہکر دلّی کا روڑا ہو کر رہا۔ اور دس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> q4v1cuwn8ujmy1bge0gpawn1kx1bvva صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/245 250 12871 35565 35045 2026-08-06T15:52:04Z Jagdish Papra 66 35565 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کا سفر تھا پر یہ لوگ اپنی کامیابی پر اتنے خوش تھے کہ نہ دن کو آرام کرتے ، نہ رات کو سوتے۔ کھانے پینے کی کسی کو سُدھ نہ تھی ۔ جلد سے جلد رامچندر کے پاس پہنچ کر یہ مژدہ جانفزا سُنانے کے لئے بے قرار ہو رہے تھے ۔ آخر کئی دنوں کے بعد کسکندھا کا پہاڑ نظر آیا ۔ اسی کے قریب راجہ سگریو کا ایک باغ تھا۔ اُس کا نام مدھوبن تھا۔ اُس میں بہت سی شہد کی مکھیاں پلی ہوئی تھیں ۔ سگریو کو جب شہد کی ضرورت پڑتی تو اسی باغ سے لیتا تھا ۔ جب یہ لوگ مدھوبن کے پاس پہنچے تو شہد کے چھتے دیکھ کر اُن کی رال ٹپک پڑی ۔ بیچاروں نے کئی دن سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ فورا باغ میں گھس گئے اور شہد پینا شروع کر دیا ۔ باغ کے مالیوں نے منع کیا تو انہیں خوب پیٹا ۔ شہد کی لوٹ مچ گئی ۔ سگریو کو جب خبر ملی کہ ہنومان، انگه جامونت وغیرہ مدھوبن میں لوٹ مچائے ہوئے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> bqwtazmly3mx7z36ygxgo03gzarn39r صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/3 250 13103 35559 32374 2026-08-06T15:27:05Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35559 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>نے رام چندر کے حالات نہ لکھے ہوں۔ کسی نے اُن کے حالات کے ایک ایک واقعہ کو لے کر ناٹک لکھے، کسی نے کاویہ بنائے ۔ یہاں تک کہ گو سائیں تلسی داس نے ہندی بھاشا کی چوپائیوں میں وہ داستان لکھ کر اُسے اتنا مقبول بنا دیا کہ آج کوئی ایسا ہندو گھر نہیں ہے جس میں رامائن کی ایک جلد نہ ہو ۔ کتنے ہی لوگ تو رامچندر کو ایشور کا اوتار سمجھتے ہیں اور نجات حاصل کرنے کے لئے رامائن کا روزانہ پاٹھ کرتے ہیں۔ ہندووں میں دو ایسے مہاں پرش ہوئے ہیں جنہیں اُنہوں نے ایشور کا اوتار مانا ہے ۔ یوں تو اور بھی کئی بزرگ آوتار مانے جاتے ہیں ، لیکن عام طور پر دو ہی بزرگوں کو یہ درجہ حاصل ہے۔ ایک کرشن اور دوسرے رام ۔ آج کوئی ہندو قصبہ یا شہر نہ ہوگا جس میں ٹھاکر جی کا مندر نہ ہو اور اُس میں رام چندر لکشمن ، اور "<noinclude></noinclude> 9jbjehki1kxrnef5k2jen88ey2hsakt صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/39 250 13135 35570 35508 2026-08-07T03:51:14Z Kaur.gurmel 74 35570 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ ناحق اتنا بگڑ رہے ہیں. پرشرام اور بھی جھلّا کر بولے ۔ "ارے مُورکھ ۔ کیا تو مجھے نہِیں پہنچانتا؟ مَیں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تُو اپنی گُستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصّہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں". لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چُکا۔ ہاں مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کا غصّہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی غصّہ نہ کرنا چاہئے. پرشرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> jvegplh7deteodr9h8mk7iutekf251s 35572 35570 2026-08-07T03:57:11Z Kaur.gurmel 74 35572 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکْشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالْکل سڑا ہُوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ ناحق اتنا بگڑ رہے ہیں. پرشرام اور بھی جھلّا کر بولے ۔ "ارے مُورکھ ۔ کیا تو مجھے نہِیں پہنچانتا؟ مَیں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تُو اپنی گُستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصّہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں". لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چُکا۔ ہاں مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کا غصّہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی غصّہ نہ کرنا چاہئے. پرشرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> 7dv1gi0mu00x5fqnxh33gn66gno6h2o 35573 35572 2026-08-07T04:05:54Z Kaur.gurmel 74 35573 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکْشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالْکل سڑا ہُوا ۔ چھُوتے ہی ٹُوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرُورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لِئے آپ ناحق اِتْنا بِگڑ رہے ہَیں. پرشرام اور بھی جھلّا کر بولے ۔ "ارے مُورکھ ۔ کیا تو مجھے نہِیں پہنچانتا؟ مَیں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہوں اور تُو اپنی گُستاخی سے باز نہیں آتا ۔ میرا غصّہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں". لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چُکا۔ ہاں مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کا غصّہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو کبھی غصّہ نہ کرنا چاہئے. پرشرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> au2gnrbci310pl50urke06ssn3dfugf 35574 35573 2026-08-07T04:24:03Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35574 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>لکْشمن بولے ۔ کِسی کا دھنش ہو مگر تھا بالْکل سڑا ہُوا ۔ چھُوتے ہی ٹُوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرُورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لِئے آپ ناحق اِتْنا بِگڑ رہے ہَیں. پرشرام اَور بھی جھلّا کر بولے ۔ "ارے مُورکھ ۔ کیا تو مجھے نہِیں پہْچانتا؟ مَیں تُجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا ہُوں اور تُو اپنی گُستاخی سے باز نہِیں آتا ۔ میرا غصّہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں". لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چُکا۔ ہاں مجھے خَوف ہے کہ کہیں آپ کا غُصّہ آپ کو نُقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رِشیوں کو کبھی غُصّہ نہ کرنا چاہئے. پرشرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت پِیس کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude> ewuylsd0xm8ipkg6k6zazqlhdbs1h37 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/4 250 13729 35560 34973 2026-08-06T15:37:26Z Kaur.gurmel 74 35560 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> سیتا جی کی مورتی کی روزانہ پوجا نہ ہوتی ہو۔ یہ رتبہ رام چندر کو کیسے حاصل ہوا۔ آج ہم تم سے وہی قِصہ کہتے ہیں۔ دل لگا کر پڑھو۔ تم والمیک، یا تلسی داس کی کتابیں ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے ہم نے رام چندر کے حالات تمہارے لئے آسان عبارت میں لکھے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ تم اس لاثانی بزرگ کے حالات دھیان سے پڑھوگے اور اُن سے سبق حاصل کرو گے. {{center|پریم چند}} {{nop}}<noinclude></noinclude> a4ewum3bms0d9s4otbjk7itmkinxfk9 35561 35560 2026-08-06T15:42:17Z Kaur.gurmel 74 35561 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> سیتا جی کی مورتی کی روزانہ پوجا نہ ہوتی ہو۔ یہ رتبہ رام چندر کو کیسے حاصل ہوا۔ آج ہم تم سے وہی قِصہ کہتے ہیں۔ دل لگا کر پڑھو۔ تم والمیک، یا تلسی داس کی کتابیں ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے ہم نے رام چندر کے حالات تمہارے لئے آسان عبارت میں لکھے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ تم اس لاثانی بزرگ کے حالات دھیان سے پڑھوگے اور اُن سے سبق حاصل کرو گے. {{center|{{4em|gap}}پریم چند}} {{rule|15mm}} {{nop}}<noinclude></noinclude> fzxxjx45xljwnecy2bywhm3ags78nxh 35562 35561 2026-08-06T15:45:35Z Kaur.gurmel 74 35562 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> سیتا جی کی مورتی کی روزانہ پوجا نہ ہوتی ہو۔ یہ رتبہ رام چندر کو کیسے حاصل ہوا۔ آج ہم تم سے وہی قِصہ کہتے ہیں۔ دل لگا کر پڑھو۔ تم والمیک، یا تلسی داس کی کتابیں ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے ہم نے رام چندر کے حالات تمہارے لئے آسان عبارت میں لکھے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ تم اس لاثانی بزرگ کے حالات دھیان سے پڑھوگے اور اُن سے سبق حاصل کرو گے. {{center|{{gap|6em}}پریم چند}} {{rule|15mm}} {{nop}}<noinclude></noinclude> 1o7iojz33ywynqozk5usmhnntmq83b4 35563 35562 2026-08-06T15:46:18Z Kaur.gurmel 74 35563 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> سیتا جی کی مورتی کی روزانہ پوجا نہ ہوتی ہو۔ یہ رتبہ رام چندر کو کیسے حاصل ہوا۔ آج ہم تم سے وہی قِصہ کہتے ہیں۔ دل لگا کر پڑھو۔ تم والمیک، یا تلسی داس کی کتابیں ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے ہم نے رام چندر کے حالات تمہارے لئے آسان عبارت میں لکھے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ تم اس لاثانی بزرگ کے حالات دھیان سے پڑھوگے اور اُن سے سبق حاصل کرو گے. {{center|{{gap|6em}}پریم چند}} {{dhr|3em}} {{rule|15mm}} {{nop}}<noinclude></noinclude> ji9at3ybvutor5o2gimwpm474469rff 35564 35563 2026-08-06T15:47:09Z Kaur.gurmel 74 35564 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> سیتا جی کی مورتی کی روزانہ پوجا نہ ہوتی ہو۔ یہ رتبہ رام چندر کو کیسے حاصل ہوا۔ آج ہم تم سے وہی قِصہ کہتے ہیں۔ دل لگا کر پڑھو۔ تم والمیک، یا تلسی داس کی کتابیں ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے ہم نے رام چندر کے حالات تمہارے لئے آسان عبارت میں لکھے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ تم اس لاثانی بزرگ کے حالات دھیان سے پڑھوگے اور اُن سے سبق حاصل کرو گے. {{center|{{gap|6em}}پریم چند}} {{rule|15mm}} {{nop}}<noinclude></noinclude> h0rm82kir4r67bdp8xggnraigib23d5 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/92 250 13854 35556 35553 2026-08-06T12:00:36Z Charan Gill 46 35556 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لفظی پر رکہی ہے اور تمام کتاب بدلیی اور حریری کی طرح مقفی اور مسجع لکہی ہے اور جس طرح اِن دونون کتابون مین فرضی قصے وضع کیے گئے ہین اُسی طرح اُس مین ہہی محض خیالی افسانے لکہتے ہین جن مین گہٹانے بہانے کا اختیار مصنف کے ہاتہ مین ہوتا ہے اِس کتاب کے پڑہنے سے کوئی خیال اس کے سوا دل مین پیدا نہین ہوتاکہ مصنف کو عربی لغات پر بہت عبور تھا اور تجنیس و ترصیع اور دیگر صنائع لفظی کے برستے پر کافی قدرت رکہتا تہا۔ ایک اور کتاب موسوم به قابوس نامه پانچوین صدی ہجری کی تصنیف ہماری نظر سے گذری ہے جسکا مصنّعف قابوس <ref>یہ شخش دیار آل زیار مین سے ایک بادشاہ ہے جسنے جرجان اور گیلان وگیرہ مین اکیس برس حکمرانی کی ہے اور ٤٦٣ ہجری مین وفات پائی۔</ref> بن سکند ملقب بہ عنصر املحالی ہے یہ تمام کتاب اخلاق اور آداب معاشرت مین لکہی گئی ہے اس کا بیان بہت صاف اور سادہ ہے اور مضامین عمده ہین لیکن اس کے سوا کوئی ندرت یادلفریبی اسکی عبارت مین نہیں پائی جاتی۔ غرضکہ شیخ نے آنکہہ کہول کر نثر کا کوئی ایسا عمدہ نمونہ نہیں دیکہا تہا جسکی نسبت یہگمان کیا جائے کہ گلستان کی بنیاد اُس پر رکہی گئی ہوگی۔ حق یہ ہے کہ وہ خود ہی اِس روش کا موجد تہا اور اوسی پراُس کا خاتمہ ہو گیا۔ اُس نے اپنی دونون بےنظیر کتابون مین برخلاف ایرانی نثّارون کے اپنی بلند پروازی اور نازک خیالی ظاہر کرنی۔ یا اپنا تقلف اور تجّر علمی جتنا یا اقل و عادت کے خلاف باتین لکہہ کر لوگون کا دل لبہانا اور عجائبات کا طلسم باندھ کر خلافت کو حیرت مین ڈالنا نہین چاہا۔ اُس نے دونون کتابون مین باستشنا چند حکایتون کے کوئی واقعہ ایسا نہین لکہا جو عقل یا عادت کے خلاف<noinclude></noinclude> gm15fys63sqr3vl16alegh55sacujgj صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/93 250 13855 35557 35457 2026-08-06T12:40:26Z Charan Gill 46 35557 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہویا جسکو سنکر کچہہ زیادہ تعجب ہو۔وہ اکثر اپنی آنکہ کی دکہی یا کان سے سنی یا کسی کتاب سے انتخاب کی ہوئی ایسی سیدہی سادی معمولی باتیں کہتا ہے جو صبح سے شام تک ہر انسان پر گزرتی ہیں عام حکایتین جواِن دونوں کتابین میں درج ہیں وہ اس قبیل کی ہیں کہ مثلاً ایک بدمعاش سائل نے اپنے کو کرضدار ظاہر کر کے ایک بزرگ سے دو دینار حاصل کیے ۔ لوگون نے کہا یہ تو مکار تھا۔ کچہہ دینا نہ چاہیے تھا۔ فرمایا اگر مکار تہا تو مین اسکے شر سے بچا ورنہ وہ اورون کے شر سے بچا۔ '''یا یہ''' کہ ایک بادشاہزادہ کے تاج کا مل اند مری رات میں ایک ہی ریلی جگہ گر برای ایشان نے بیٹے سے کم کہ ہر یونین پرعمل پاناچاہتا ہو و برتری کامل مجمر کو غور سے دیکہ ر همین چند در ویو کے ساتھ درد میں پونا اور ہم سب ایک ہی مقدر شیخ کے مان اتر، اسنے ہماری ہرجانے سے خط کی مار کھانے کو کچھ ہی دیا۔ ان سیدھی سادی حکایتوں کو دہ ایسے لطیف اسلوب سے بیان کرتا ہے اور ان سے یے پاکیزہ نتیجے استخوان کرتا ہے کہ ایک نہایت بے حقیقت بات حقیقت میں ایک نکتہ یا ایک کی تقدیر معلوم ہوتا ہے ۔ کستان اور بوستان کو پڑه کرد باتوں میں سے ایک بات کا ضرور اقرار کرتا رہتا ہے۔ باتو یہ کہ انتخاب کرنے میں شیخ کا مذاق ایسا صحیح تمام جو حکایت وہ ان کتابون بین درج کرنی چاہتا تھا اس میں کوئی ن کوئی مصیت اور بہتی ہوئی بات ضرور ہوتی تھی اور یہ کہ وہ اپنی خوش سلینگی اور حسن بیان سے ایک منتزل اور پیش پا افتاده مضمون کو ہی اسی قدر دلاویز طور پر بیان کر سکتا تھا جیسے ایک ترانے اور اچھوتے خیال کو۔<noinclude></noinclude> dvk8vh5uueku8qoxb20zjlf1mhahmh8 35575 35557 2026-08-07T05:28:08Z Charan Gill 46 35575 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہویا جسکو سنکر کچہہ زیادہ تعجب ہو۔وہ اکثر اپنی آنکہ کی دکہی یا کان سے سنی یا کسی کتاب سے انتخاب کی ہوئی ایسی سیدہی سادی معمولی باتیں کہتا ہے جو صبح سے شام تک ہر انسان پر گزرتی ہیں عام حکایتین جواِن دونوں کتابین میں درج ہیں وہ اس قبیل کی ہیں کہ مثلاً ایک بدمعاش سائل نے اپنے کو کرضدار ظاہر کر کے ایک بزرگ سے دو دینار حاصل کیے ۔ لوگون نے کہا یہ تو مکار تھا۔ کچہہ دینا نہ چاہیے تھا۔ فرمایا اگر مکار تہا تو مین اسکے شر سے بچا ورنہ وہ اورون کے شر سے بچا۔ '''یا یہ''' کہ ایک بادشاہزادہ کے تاج کا لعل اندہیری رات میں ایک پتہریلی جگہہ گر پڑا بادشاہ نے بیٹے سے کہا کہ پتھروںمین سے لعل پانا چاہتا ہے تو ہر پتہری کو لعل سمجہہ کر غور سے دیکہ۔ ر همین چند در ویو کے ساتھ درد میں پونا اور ہم سب ایک ہی مقدر شیخ کے مان اتر، اسنے ہماری ہرجانے سے خط کی مار کھانے کو کچھ ہی دیا۔ ان سیدھی سادی حکایتوں کو دہ ایسے لطیف اسلوب سے بیان کرتا ہے اور ان سے یے پاکیزہ نتیجے استخوان کرتا ہے کہ ایک نہایت بے حقیقت بات حقیقت میں ایک نکتہ یا ایک کی تقدیر معلوم ہوتا ہے ۔ کستان اور بوستان کو پڑه کرد باتوں میں سے ایک بات کا ضرور اقرار کرتا رہتا ہے۔ باتو یہ کہ انتخاب کرنے میں شیخ کا مذاق ایسا صحیح تمام جو حکایت وہ ان کتابون بین درج کرنی چاہتا تھا اس میں کوئی ن کوئی مصیت اور بہتی ہوئی بات ضرور ہوتی تھی اور یہ کہ وہ اپنی خوش سلینگی اور حسن بیان سے ایک منتزل اور پیش پا افتاده مضمون کو ہی اسی قدر دلاویز طور پر بیان کر سکتا تھا جیسے ایک ترانے اور اچھوتے خیال کو۔<noinclude></noinclude> 0fw00uyjrksn1hactak5wx8mu5sr8p6 35576 35575 2026-08-07T06:29:42Z BalramBodhi 60 35576 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہویا جسکو سنکر کچہہ زیادہ تعجب ہو۔وہ اکثر اپنی آنکہہ کی دیکہی یا کان سے سنی یا کسی کتاب سے انتخاب کی ہوئی ایسی سیدہی سادی معمولی باتین لکہتا ہے جو صبح سے شام تک ہر انسان پر گزرتی ہین۔ عام حکایتین جو اِن دونون کتابون مین درج ہین وہ اس قبیل کی ہین کہ مثلاً ایک بدمعاش سائل نے اپنے کو کرضدار ظاہر کر کے ایک بزرگ سے دو دینار حاصل کیے۔ لوگون نے کہا یہ تو مکار تہا۔اس کو کچہہ دینا نہ چاہیے تہا۔ فرمایا اگر مکار تہا تو مین اُسکے شر سے بچا ورنہ وہ اورون کے شر سے بچا۔ '''یا یہ''' کہ ایک بادشاہزادہ کے تاج کا لعل اندہیری رات مین ایک پتہریلی جگہہ گر پڑا بادشاہ نے بیٹے سے کہا کہ پتہروںمین سے لعل پانا چاہتا ہے تو ہر پتہری کو لعل سمجہہ کر غور سے دیکہہ۔ '''یا یہ''' کہ مین چند درویشون کے ساتھ روم مینں پہونچا اور ہم سب ایک ہی مقدر شیخ کے ان اُترے اُسنے ہماری ہر طرح سے خاطر کی مگر کہھانے کو کچہہ نہ دیا۔ اِن سیدہی سادی حکایتون کو وہ ایسے لطیف اسلوب سے بیان کرتا ہے اور اُن سے ایسے پاکیزہ نتیجے استخراج کرتا ہے کہ ایک نہایت بے حقیقت بات حقیقت مین ایک نکتہ یا ایک دلچسپ قصہ معلوم ہوتا ہے۔ گلستان اور بوستان کو پڑه کر دو باتون مین سے ایک بات کا ضرور اقرار کرنا پڑتا ہے۔ یا تو یہ کہ انتخاب کرنے مین شیخ کا مذاق ایسا صحیح تہا کہ جو حکایت وہ اِن کتابون مین درج کرنی چاہتا تھا اُس مین کوئی نہ کوئی لطیف اور \چہبتی\ ہوئی بات ضرور ہوتی تہی اور یایہ کہ وہ اپنی خوش سلیقگی اور حسن بیان سے ایک \متبزل\ اور پیش پا افتاده مضمون کو بہی اُسی قدر دلاویز طور پر بیان کر سکتا تہا جیسے ایک نرالے اور اچھوتے خیال کو۔{{nop}}<noinclude></noinclude> i1z9d7yhi6ahh7t5jva1d5z1gpdku5f صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/94 250 13856 35577 35458 2026-08-07T06:49:10Z BalramBodhi 60 35577 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تعجب ہے کہ شیخ کی گلستان جو آیندہ نسلون کے لیے نثر فارسی کا ایک لاجواب نمونہ تہی ایران مین اُسکے \متبع\ کا کسی نے خیال نہین کیا با یون کہئے کہ کسی سے اُسکا \نتیج\ نہیں ہو سکا۔ اگرچہ شیخ کے بعد نثر فارسی کی ترقی یا وسعت انتہا کے درجہ کو پہنچ گئی اور نثر لکہنے پر ایسے ایسے جلبل القدر فاضلون نے کمر باندہی جنکہ علم و فضل شیخ سے بمراتب لائق تر تھا کہ سب کی بہت زیادہ تر الفاظ اور صنائع لفظی پر مقصود رہی۔ ایران میں سب سے بڑانا علم اللہ عبداللہ شیرازی سجایا جاتاہے جو شیخ کے اخیر ازمان مین ہوا ہے اسکی مشہور کتاب تاریخ دوستان سے بیشک اس کی کمال علمی اور عربی و فارسی نون زبان کا نام نشریه با قدرت معلوم ہوتی ہے لیکن ساری کتاب میں شاید ہی کوئی نقص ایسا نکلے جو متوسط درجہ کی استعداد کی آ دمی دکتری کھولے بغیر سمجھ سکے یا جسکا انداز بیان دل مین جا کر چھے سے ہجری من جیسا محمد الجاتوخان خدابندہ کے حکم سے تو بیجان میں انی یا روکا اوراس خوشی میں سلطان کی طرف سے نا شہر کی دعوت کی گئی۔ اس کتاب کی تقریب اور تعریف سلطان کے حضور میں کی گئی ۔ سلطان نے اُس میں سے کچھ متفرق رے پڑھنے کا حکم دیا را تا الان نظام الدین ایالات ور خواجہ اصیل الدین طوسی اور بڑے بڑے عالم اور فاضل موجود تھے فضل اللہ نے چند دعائیہ تقرے کہ ان سے زیادہ سلیس اورآسان عبارت شاید تا کتاب می نوی خاص سلطان کے سنانے کو لکھے تے وہ پڑنے شروع کیے سلطان والفقر کے معنی بعید الدین فریم سے اپناتا یہ لوگ اس کی شرح بہت برا کےسامنہ کرتے تھے تب سلطان کی جسم میں کچھ آتا تھا ارے شراکے<noinclude></noinclude> es8tx1jvkyz15u0a0k8j7i4w45l6d26