ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.14
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/15
250
12125
35578
27611
2026-08-07T15:13:07Z
Kaur Jatinder Haryau
52
35578
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(١٣)|قصے کا شروع|}}</noinclude>غیب مین سب کچھ موجود ہی. ایک بیٹا جیتا جاگتا مجھے دے تو میرا نام اور اِس سلطنت کا نشان باقی رہے.
اِسی اُمید مین بادشاہ کی عمر چالیس برس کی ہو گئی. ایک دن شیش محل مین نماز ادا کر کر وظیفہ پڑھہ رہے تھے۔ ایک بارگی آئینے کی طرف خیال جو کرتے ہین۔ تو ایک سفید بال موچھون مین نظر آیا کہ مانند تار مقیش کے چمک رہا تھا.
بادشاہ دیکھ کر آبدیدہ ہوئے اور ٹھنڈی سانس بھری. پھر دل مین اپنے سوچ کیا کہ افسوس! تونے اِتنے عمر ناحق برباد دی۔ اور اِس دنیا کی حرص مین ایک عالم کو زیر و زبر کیا. اِتنا ملک جو تونے لیا اب تیرے کس کام آویگا؟ آخر یہ سارا اسباب کوئی دوسرا اُٹھاویگا. تُجھے تو پیغام موت کا آ چُکا۔ اگر کوئی دن جئے بھی تو بدن کی طاقت کم ہوگی۔
اِس سے یہ معلوم ہوتا ہی کہ میری تقدیر مین نہین لکھا کہ وارث چھتر اور تخت کا پیدا ہو. آخر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
dgy22ttl7y1kh1bw41ku1th4xuhwzw8
صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/16
250
12126
35582
27620
2026-08-08T02:12:58Z
Kaur Jatinder Haryau
52
35582
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(١٤)}}</noinclude>
ایک روز مرنا ہی اور سب کچھ چھوڑ جانا ہی.
اس سے یہ بہتر ہے کہ مین ہی اسے چھوڑ دون اور باقی زندگانی اپنے خالق کی یاد مین کاٹون.
یہ بات اپنے دل مین ٹھہرا کر پائین باغ مین جا کر سب مجمرایون کو جواب دے کر فرمایا کہ کوئی آج سے میرے پاس نہ آوے۔ سب دیوانِ عام مین آیا جایا کرین اور اپنے کام مین مستعد رہین. یہ کہہ کر آپ ایک مکان مین جا بیٹھے اور مصلاّ بچھا کر عبادت مین مشغول ہوئے۔ سوائے رونے اور آہ بھرنے کے کچھ کام نہ تھا. اِسی طرح بادشاہ آزاد بخت کو کئی دن گزرے۔ شام کو روزہ کھولنے کے وقت ایک چھوہارا کھاتے اور تین گھونٹ پانی پیتے۔ اور تمام دن رات جاے نماز پر پڑے رہتے.
اِس بات کا باہر چرچا پھیلا۔ رفتہ رفتہ تمام ملک مین خبر گئی کہ بادشاہ نے بادشاہت سے ہاتھ کھینچکر گوشہ نشینی اختیار کی. چارون طرف سے غنیمون اور مفسدون نے سر اٹھایا اور قدم اپنی حد سے بڑھایا. جسنے چاہا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
ktsku1iga61y62pvli373aazljgb9yv
صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/17
250
12127
35583
27632
2026-08-08T02:32:47Z
Kaur Jatinder Haryau
52
35583
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(١٥)|قصے کا شروع|}}</noinclude>مُلک دبا لیااور سر انجام سر کشی کا کیا. جہان کہین حاکم تھے اُنکے حکم مین خلل عظیم واقع ہوا. ہر ایک صوبے سے عرضی بد عملگی کی حضور مین پہنچی. درباری اُمرا جتنے تھے جمع ہوئے اور اصلاح مصلحت کرنے لگے.
آخر یہ تجویز ٹھہری- کہ نواب وزیر عاقل اور دانا ہے. اور بادشاہ کا مقرب اور معتمد ہے اور درجے مین بھی سب سے بڑا ہے اُسکی خدمت مین چلین۔ دیکھین وہ کیا مناسب جانکر کہتا ہے. سب عمدہ امیر وزیر کے پاس آئے اور کہا۔ بادشاہ کی یہ صورت اور ملک کی وہ حقیقت۔ اگر چندے اور تغافل ہوا تو اس محنت کا ملک لیا ہوا مفت مین جاتا رہےگا پھر ہاتھ آنابہت مشکل ہے وزیر پرانا قدیم نمک حلال اور عقلمند۔ نام بھی خرد مند! اسم بامسمّیٰ تھا۔ بولا اگرچہ بادشاہ نے حضور مین آنے کو منع کیا ہے۔ لیکن تم چلو مین بھی چلتا ہون۔ خدا کرے بادشاہ کی مرضی مین آوے جو روبرو بلاوے. یہ کہہکر سبکو اپنے ساتھ دیوان عام تک لایا۔ ان کو وہان چھوڑ کر آپ دیوان<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
b5dkeuwlv6jdljayo8826tjrbnsgd68
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/157
250
13136
35579
33125
2026-08-08T01:30:35Z
Kaur.gurmel
74
35579
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
دونو بھائیوں کو خبر بھی نہ ہو ۔ کچھ پتہ
ہی نہ چلے کہ کہاں گئی ۔ آخر تلاش کرتے
کرتے نا اُمید ہو کر بیٹھ رہینگے.
راون کا چہرہ کھل اُٹھا ۔ بولا - یار صلاح تو
تم بہت معقول دیتے ہو ۔ یہی میں بھی
چاہتا ہوں ۔ اگر کام بلا لڑائی جھگڑ
کے ہو جائے تو کیا کہنا۔ ساری عمر تمہارا
احسان مانوں ۔ آج ہی سے تمہاری ترقی
کر دوں اور عہدہ بڑھا دوں ۔ بھلا بتلاؤ
تو کیا تدبیر سوچی ہے ؟
ماریچ - بتلاتا تو ہوں مگر حضور سے بڑا
بھاری انعام لونگا ۔ آپ جانتے ہی ہیں
صورت بدلنے میں کمیں کتنا اُستاد ہوں !
ایسے خوبصورت ہرن کا بھیں بنا لوں
جیسا کسی نے نہ دیکھا ہو ۔ گلابی رنگ
ہوگا۔ اُس پر سنہرے داغ ۔ سارا جسم
. ہیرے کی طرح چمکتا ہوا ۔ بس جا کر
-<noinclude></noinclude>
g27p2vpd63wpx5p0sox0mqy4lcb4vfy
35580
35579
2026-08-08T01:40:28Z
Kaur.gurmel
74
35580
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
دونو بھائیوں کو خبر بھی نہ ہو ۔ کچھ پتہ
ہی نہ چلے کہ کہاں گئی ۔ آخر تلاش کرتے
کرتے نا اُمید ہو کر بیٹھ رہینگے.
راون کا چہرہ کھل اُٹھا ۔ بولا - یار صلاح تو
تم بہت معقول دیتے ہو ۔ یہی میں بھی
چاہتا ہوں ۔ اگر کام بلا لڑائی جھگڑ
کے ہو جائے تو کیا کہنا۔ ساری عُمر تمہارا
احسان مانوں ۔ آج ہی سے تمہاری ترقی
کر دُوں اور عہدہ بڑھا دُوں ۔ بھلا بتلاؤ
تو کیا تدبیر سوچی ہے ؟
ماریچ - بتلاتا تو ہوں مگر حضور سے بڑا
بھاری انعام لونگا ۔ آپ جانتے ہی ہیں
صورت بدلنے میں مَیں کِتنا اُستاد ہوں!
ایسے خوبصورت ہرن کا بھیں بنا لوں
جیسا کسی نے نہ دیکھا ہو ۔ گلابی رنگ
ہوگا۔ اُس پر سنہرے داغ ۔ سارا جسم
. ہیرے کی طرح چمکتا ہوا ۔ بس جا کر
-<noinclude></noinclude>
hv61kyvdt86umdtqd5nv1updzaqonra
35581
35580
2026-08-08T01:47:29Z
Kaur.gurmel
74
/* پروف خوانی شدہ */
35581
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>
دونو بھائیوں کو خبر بھی نہ ہو ۔ کچھ پتہ
ہی نہ چلے کہ کہاں گئی ۔ آخر تلاش کرتے
کرتے نا اُمید ہو کر بیٹھ رہینگے.
راون کا چہرہ کھل اُٹھا ۔ بولا - یار صلاح تو
تم بہت معقول دیتے ہو ۔ یہی میں بھی
چاہتا ہوں ۔ اگر کام بلا لڑائی جھگڑ
کے ہو جائے تو کیا کہنا۔ ساری عُمر تمہارا
احسان مانوں ۔ آج ہی سے تمہاری ترقی
کر دُوں اور عہدہ بڑھا دُوں ۔ بھلا بتلاؤ
تو کیا تدبیر سوچی ہے ؟
ماریچ - بتلاتا تو ہوں مگر حضور سے بڑا
بھاری انعام لونگا ۔ آپ جانتے ہی ہیں
صورت بدلنے میں مَیں کِتنا اُستاد ہوں!
ایسے خوبصورت ہرن کا بھیس بنا لوں
جیسا کسی نے نہ دیکھا ہو ۔ گلابی رنگ
ہوگا۔ اُس پر سنہرے داغ ۔ سارا جسم
ہیرے کی طرح چمکتا ہُوا ۔ بس جا کر
-<noinclude></noinclude>
mg00vsn8sltal3mwx0jix2qnrgc606s
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/273
250
13181
35585
34859
2026-08-08T05:47:03Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35585
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ہو۔ تمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا' ۔
ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے
بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی
گھنٹوں میں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات
کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی
گھاس پات بھی جمی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے اُن
سبھوں کو اُکھاڑ لیا اور اُلٹے قدم لوٹے.'
ادھر سب لوگ بیٹھے ہنومان کا انتظار کر رہی
تھے ۔ ایک ایک پل کا شمار کیا جا رہا
تھا۔ اب ہنومان فلاں مقام پر پہنچے ہونگے۔
اب وہاں سے چلے ہونگے ۔ اب پہاڑ پر ہونگے ۔ اس طرح اندازہ کرتے کرتے تڑکا ہوگیا ۔ پر ہنومان کا کہیں پتہ نہیں۔ رامچندر گھبرانے
لگے ۔ ایک گھنٹہ میں ہنومان نہ آگئے تو غضب
ہو جائیگا ۔ کئی آدمی اُنہیں دیکھنے کے لئے چھوٹے ۔
کئی آدمی درختوں پر چڑھ کر اتر کی طرف نظریں
دوڑانے لگے ۔ پر ہنومان کا کہیں نشان نہیں!<noinclude></noinclude>
3o3ec729wcdcm1l6hwqzjz9rzl6hde3
35586
35585
2026-08-08T05:51:10Z
Kaur.gurmel
74
35586
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ہو۔ تُمہارے سوا مجھے دوسرا کوئی نظر نہیں آتا' ۔
ہنومان کو حکم ملنے کی دیر تھی ۔ سکھین سے
بوٹی کا پتہ پوچھا اور آندھی کی طرح دوڑے کئی
گھنٹوں میں وہ اُس پہاڑ پر جا پہنچے مگر رات
کے وقت بوٹی کی پہچان نہ ہو سکی ۔ بہت سی
گھاس پات بھی جمی ہوئی تھی ۔ ہنومان نے اُن
سبھوں کو اُکھاڑ لیا اور اُلٹے قدم لوٹے.'
ادھر سب لوگ بیٹھے ہنومان کا انتظار کر رہی
تھے ۔ ایک ایک پل کا شمار کیا جا رہا
تھا۔ اب ہنومان فلاں مقام پر پہنچے ہونگے ۔
اب وہاں سے چلے ہونگے ۔ اب پہاڑ پر ہونگے ۔ اس طرح اندازہ کرتے کرتے تڑکا ہوگیا ۔ پر ہنومان کا کہیں پتہ نہیں۔ رامچندر گھبرانے
لگے ۔ ایک گھنٹہ میں ہنومان نہ آگئے تو غضب
ہو جائیگا ۔ کئی آدمی اُنہیں دیکھنے کے لئے چھوٹے ۔
کئی آدمی درختوں پر چڑھ کر اُتّر کی طرف نظریں
دوڑانے لگے ۔ پر ہنومان کا کہیں نشان نہیں!<noinclude></noinclude>
nxem1mejel5o8r6emdx8ifaaxzzb8kh
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/94
250
13856
35584
35577
2026-08-08T05:11:42Z
Charan Gill
46
35584
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تعجب ہے کہ شیخ کی گلستان جو آیندہ نسلون کے لیے نثر فارسی کا ایک لاجواب نمونہ تہی ایران مین اُسکے تتبع کا کسی نے خیال نہین کیا با یون کہئے کہ کسی سے اُسکا تتبع نہیں ہو سکا۔ اگرچہ شیخ کے بعد نثر فارسی کی ترقی یا وسعت انتہا کے درجہ کو پہنچ گئی اور نثر لکہنے پر ایسے ایسے جلبل القدر فاضلون نے کمر باندہی جنکہ علم و فضل شیخ سے بمراتب لائق تر تھا کہ سب کی بہت زیادہ تر الفاظ اور صنائع لفظی پر مقصود رہی۔
ایران میں سب سے بڑا ناثر فضل اللدین عبداللہ شیرازی سجایا جاتاہے جو شیخ کے اخیر ازمان مین ہوا ہے اسکی مشہور کتاب تاریخ دوستان سے بیشک اس کی کمال علمی اور عربی و فارسی نون زبان کا نام نشریه با قدرت معلوم ہوتی ہے لیکن ساری کتاب میں شاید ہی کوئی نقص ایسا نکلے جو متوسط درجہ کی استعداد کی آ دمی دکتری کھولے بغیر سمجھ سکے یا جسکا انداز بیان دل مین جا کر چھے سے ہجری من جیسا محمد الجاتوخان خدابندہ کے حکم سے تو بیجان میں انی یا روکا اوراس خوشی میں سلطان کی طرف سے نا شہر کی دعوت کی گئی۔ اس کتاب کی تقریب اور تعریف سلطان کے حضور میں کی گئی ۔ سلطان نے اُس میں سے کچھ متفرق رے پڑھنے کا حکم دیا را تا الان نظام الدین ایالات ور خواجہ اصیل الدین طوسی اور بڑے بڑے عالم اور فاضل موجود تھے فضل اللہ نے چند دعائیہ تقرے کہ ان سے زیادہ سلیس اورآسان عبارت شاید تا کتاب می نوی خاص سلطان کے سنانے کو لکھے تے وہ پڑنے شروع کیے سلطان والفقر کے معنی بعید الدین فریم سے اپناتا یہ لوگ اس کی شرح بہت برا کےسامنہ کرتے تھے تب سلطان کی جسم میں کچھ آتا تھا ارے شراکے<noinclude></noinclude>
nud16qhpynrmvoer2n10po2kmzdk8bm