ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.14 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/19 250 12137 35587 27724 2026-08-09T02:18:36Z ~2026-43668-54 281 35587 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|۱۷|قصے کا شروع| }}</noinclude>سے ہمیشہ بادشاہت میسر ہے۔ لیکن جہان پناہ کی یک بیک اِس طرح کی گوشہ گیری سے تمام ملک مین تہلکہ پڑ گیا ہے اور انجام اِسکا اچھا نہین. یہ کیا خیال مزاج مبارک مین آیا؟ اگر اِس خانہ زاد موروثی کو بھی محرم اِس راز کا کیجیے تو بہتر ہے۔ جو کچھ عقل ناقص مین آوے التماس کرے. غلامون کو جو یہ سرفرزیان بخشی ہین۔ اِسی دن کے واسطے کہ پادشاہ عیش و آرام کرین اور نمک پرور دے تدبیر مین ملک کی رہین. خدا نخواستہ جب فکر مزاج عالی کے لاحق ہوئی تو بندہائے پادشاہی کس دن کام آوینگے؟ بادشاہ نے کہا سچ کہتا ہے۔ پر جو فکر میرے جی کے اندر ہے سو تدبیر سے باہر ہے. سُن اے خردمند میری ساری عمر اِسی ملک گیری کے دردِ سر مین کٹی اب یہ سِن و سال ہوا۔ آگے موت باقی ہے سو اِسکا بھی پیغام آیا۔ کہ سیاہ بال سفید ہو چلے. وہ مثل ہے۔ ساری رات سوئے اب صبح کو بھی نہ جاگین؟ اب تک ایک بیٹا پیدا نہ ہوا جو میری خاطر<noinclude>{{center|(٣)}} [[Category:Urdu]]</noinclude> is43c0qxhzd29hhurs24m16d7ylxe6u صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/21 250 12138 35590 27734 2026-08-09T03:16:35Z ~2026-43668-54 281 35590 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۱۹)|قصے کا شروع| }}</noinclude>کہ کس کس محنت اور مشقت سے تمھارے بزرگون نے اور تمنے پیدا کی ہے! ایک زرہ مین ہاتھ سے نکل جاویگی۔ اور بے خبری سے ملک ویران ہو جاویگا. خدا نخواستہ بدنامی حاصل ہو گی. اِسپر بھی بازپرس روز قیامت کے ہوا چاہئے۔ کہ تجھے بادشاہ بنا کر اپنے بندون کو تیرے حوالے کیا تھا۔ تو ہماری رحمت سے مایوس ہوا اور رعیت کو حیران پریشان کیا. اِس سوال کا کیا جواب دوگے؟ پس عبادت بھی اُس روز کام نہ آویگے۔ اس واسطے کہ آدمی کا دل خدا کا گھر ہے۔ اور بادشاہ فقط عزل کے واسطے پوچھے جائینگے. غلام کی بےادبی معاف ہو۔ گھر سے جانا اور جنگل جنگل پھرنا کام جوگیون اور فقیرون کا ہے۔ نہ کہ پادشاہون کا. تم اپنے جوگا کام کرو۔ خدا کی یاد اور بندگی جنگل پہاڑ پر موقوف نہین. آپ نے یہ بیت سنی ہو گی۔ {{center|<poem>خدا اِس پاس یہ ڈونڈھے جنگل مین ڈھنڈھورا شہر مین لڑکا بغل مین</poem>}} اگر منصفی فرمائیے اور اِس فروی کی عرض قبول<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> ry7dqhiz3erp5dmn0xkaj3vcn2y9b0p صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/20 250 12246 35588 28485 2026-08-09T02:46:37Z ~2026-43668-54 281 35588 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(۱۸)}}</noinclude>جمع ہوتی۔ اِس لیئے دل سخت اُداس ہوا۔ اور مین سب کچھ چھوڑ بیٹھا۔ جسکا جی چاہے ملک لے یا مال لے۔ مجھے کچھ کام نہین. بلکہ کوئی دن مین یہ اراده رکھتا ہون کہ سب چھوڑ چھاڑ کر جنگل اور پہاڑون مین نکل جاؤن اور منہہ اپنا کسو کو نہ دیکھاؤن۔ اِسی طرح یہ چند روز کی زندگی بسر کرون. اگر کوئی مکان خوش آیا تو وہان بیٹھ کر بندگی اپنے معبود کی بجا لاؤن۔ شاید عاقبت بخیر ہو. اور دنیا کو تو خوب دیکھا۔ کچھ مزہ نہ پایا. اتنی بات بولکر اور ایک آہ بھر کر بادشاہ چپ ہوئے. خردمند اُنکے باپ کا وزیر تھا۔ جب یہ شہزادے تھے تب سے محبت رکھتا تھا۔ علاوہ دانا اور نیک اندیش تھا. کہنے لگا- خدا کی جناب سے ناامید ہونا ہر گز مناسب نہیں۔ جسنے ہیژدہ ہزار عالم کوایک حکم مین پیدا کیا۔ تمھین اولاد دینی اُنکے نزدیک کیا بڑی بات ہے؟ قبلۂ عالم! اِس تصور باطل کو دل سے دور کرو۔ نہین تو تمام عالم درہم برہم ہو جاویگا. اور یہ سلطنت<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> e5s7lv3yp2riikv4qv8re7u4iyc35xb صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/22 250 12247 35593 28492 2026-08-09T04:05:36Z ~2026-43668-54 281 35593 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(۲۰)}}</noinclude>کیجئے تو بہتر یون ہے کہ جہان پناہ ہر دم اور ہر ساعت دھیان اپنا خدا کی طرف لگا کر دُعا مانگا کرین. اُسکی درگاہ سے کوئی محروم نہین رہا. دنکو بندوبست ملک کا اور انصاف عدالت غریب غربا کی فرمائیں۔ تو بندے خدا کے دامن دولت کے ساۓ مین باامن وامان خوش گزران رہین۔اور رات کو عبادت کیجئے۔ اور درود پیغمبر خدا کی روح پاک کو نیاز کر کر درویش گوشہ نشین مُتوکّلون سے مدد لیجئے۔ اور روز راتب یتیم- اسیر- عیال دارون محتاجون- اور رانڈ بیواؤن کو کر دیجئے. ایسے اچھے کامون اور نیک نیتون کی برکت سے خدا چاہے تو امید قوی ہے کہ تمھارے دل کے مقصد اور مطلب سب پورے ہون۔ اور جس واسطے مزاج عالی مکدر ہو رہا ہے۔ وہ آرزو بر آوے۔ اور خوشی خاطر شریف کو ہو جاوے. پروردگار کی عنایت پر نظر رکھئے کہ وہ ایک دم مین جو چاہتا ہے کرتا ہے. بارے خردمند وزیر کی ایسی ایسی عرض معروض کرنے سے آزاد بخت کے دل کو ڈھارس بندھی. فرمایا- اچھا تو جو کہتا ہے بھلا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> ptjey4wgs17j5hvij6dhrxsbw37h9av صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/30 250 12696 35591 35490 2026-08-09T03:27:32Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35591 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> {{center|<big>'''آٹھوین کہانی'''</big>}} {{rule}} اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسکی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جا کر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہو رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پالتا ہو اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ اس پر الزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہے جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے پر اُلو کو نظر نہین آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہے حسرت ہے مجھ کو کہ جنسے مان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم پیدا ہوئے اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تب وہ خبر نہین لیتا نہین معلوم سوتا ہے یا مر گیا اور اپنے خاطر مال اور دولت چاہنی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھا وے اس کو زیر ہلاہل کھا کر مر جانا بہتر ہے اور یہ چھباتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول ہنسی تیسرے استری سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گرہے کی سواری چھٹے بغیر سنسکرت کے زبان اور یہ پانچ چیزین خدا آدمی کی تقدیر ہین پیدا ہوتے ہی لکھدیتا ہے ایک عمر دوسرا کرم تیسرے دولت چوتھے علم پانچوین شہرت اے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے ہین اور جب سخاوت گھٹ جاتی ہے تو بھائی دشمن ہو جاتے ہین یہ پُران کی بات مقرر ہے سو آقا کی خِدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی پھل مل ہی رہتا ہے بے شمر نہین رہتا یہ سُن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے کہین سے کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوجن نہ ملیگا یہ کہہ جنگل مین جا ایک ہرن مار تھیلی سے چقماق نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر چکا تب اسنے کہا اے راج پتر ہمین نگر کو لیچلو کہ رہ مجھے معلوم نہین اسنے راجہ کو نگر مین لا اسکے مندر مین پہونچا دیا تب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خِدمت مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پتر کو بھیجا وہ جب کنارے پہونچا اسنے ایک دیبی کا مندر دیکھا اسمین جاکر دیبی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان سے باہر نکلا تو وہین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3dmv7qcwz1gshti5v9z54yngb0is7oy صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/23 250 13256 35594 32923 2026-08-09T04:35:15Z ~2026-43668-54 281 35594 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۲۱)|قصے کا شروع|}}</noinclude> یہ بھی کر دیکھین۔ آگئے جو اللہ کی مرضی ہی سو ہوگا. جب بادشاہ کے دل کو تسلی ہوئی۔ تب وزیر سے پوچھا کہ اور سب امیر و دبیر کیا کرتے ہیں اور کس طرح ہیں؟ اُس نے عرض کی سب ارکان دولت قبلہ عالم کے جان و مال کو دعا کرتے ہیں. آپ کی فکر سے سب حیران و پریشان ہو رہے ہیں. جمال مبارک اپنا دکھائیئے تو سب کی خاطر جمع ہو دے. چنانچہ اس وقت دیوان عام مین حاضر ہیں. یہ سنکر بادشاہ نے حکم کیا۔ انشاء اللہ تعالی کل دربار کرونگا۔ سبکو کہہ دو- حاضر رہین. خرد مند یہ وعدہ سنکر خوش ہوا۔ اور دونوں ہاتھہ اُٹھا کر دعا دی۔ کہ جب تک یہ زمین و آسمان برپا ہیں- تمھارا تاج و تخت قائم رہے. اور حضور سے رخصت ہو کر خوشی خوشی باہر نکلا۔ اور یہ خوش خبري امراؤن سے کہی. سب امیر ہنسی خوشی گھر کو گئے. سارے شہر میں آنند ہو گیا. رعیت پرجا مگن ہوئے کہ کل بادشاہ دربار عام کریگا. صبح کو سب خانہ زاد اعلی ادنی- اور ارکان دولت- چھوٹے بڑے اپنے اپنے پائے اور مرتبے پر آکر کھڑے<noinclude></noinclude> htyi02ytuxojg9bj00srqu4db5gjaw1 صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/24 250 13257 35595 32942 2026-08-09T05:01:40Z ~2026-43668-54 281 35595 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(੨੨)}}</noinclude>ہوئے اور منتظر جلوۂ پادشاہی کے تھے. {{gap}}جب پہر دن چڑھا ایک بارگي پرده اُٹھا۔ پادشاه نے برآمد ہو کر تخت مبارک پر جلوس فرمایا. نوبت خانے میں شادیانے بجنے لگے. سبھون نے نذرین مبارکباد کی گذرانین اور مجراگاہ مین تسلیمات کو رنشات بجا لائے. موافق قدر و منزلت کے ہر ایک کو سرفرازی ہوئی۔ سب کے دل کو خوشی اور چَین ہوا. جب دو پہر ہوئی۔ برخاست ہو کر اندرون محل داخل ہوئے۔ خاصہ نوش جان فرما کر خوابگاه مین آرام کیا. اُس دن سے پادشاہ نے یہی مقرر کیا کہ ہمیشہ صبح کو دربار کرنا۔ اور تیسرے پہر کتاب کا شغل یا ورد و ظیفہ پڑھنا اور خدا کی درگاه مین توبه استغفار کر کر اپنے مطلب کی دعا مانگنی. ایک روز کتاب مین لکھا دیکھا۔ کہ اگر کسی شخص کو غم یا فکر ایسی لاحق ہو کہ اُسکا علاج تدبیر سے نہو سکے۔ تو چاہئے کہ تقدیر کے حوالے کرے۔ اور آپ گورستان کی طرف رجوع کرے۔ درود- طفیل پیغمبر کی روح کے- اُنکو بخشے- اور اپنے تئین نیست و نابود<noinclude></noinclude> cwhdle50olffcrka34l3krzd5neglja صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/283 250 13705 35589 35143 2026-08-09T02:57:25Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35589 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{Block center|٢٧٧}}</noinclude>{{gap}}سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نِکل کر رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اَور رامچندر کے روبرو جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول کیجۓ ۔ میرے پتی ویر میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔ {{gap}}رامچندر نے فوراً میگھناد کا سر سلوچنا کو دلوا دِیا ۔ اور اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد سلوچنا ستی ہو گئی ۔ چتا کی لپٹ آسمان تک پہنچی۔ کسی نے سلوچنا کو جاتے نہ دیکھا ۔ پر وہ بہشت میں داخل ہو گئی. {{Block center|'''(۵) راون میدان میں'''}} {{gap}}رات بھر تو راون غم اور غُصّہ سے جلتا رہا ۔ صبح ہوتے ہی میدان کی طرف چلا ۔ لنکا کی ساری فوج اُس کے ساتھ تھی ۔ آج لڑائی کا فیصلہ ہو جائیگا ۔ اس لئے دونو طرف کے لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے تیار<noinclude></noinclude> 8eyn2mjkodf3uih1zhl3b1r3felrn5q 35592 35589 2026-08-09T03:31:53Z Tamanpreet Kaur 81 35592 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{Block center|٢٧٧}}</noinclude>{{gap}}سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نِکل کر رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اَور رامچندر کے روبرو جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول کیجۓ ۔ میرے پتی ویر میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔ {{gap}}رامچندر نے فوراً میگھناد کا سر سلوچنا کو دلوا دِیا ۔ اور اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد سلوچنا ستی ہو گئی ۔ چتا کی لپٹ آسمان تک پہنچی۔ کسی نے سلوچنا کو جاتے نہ دیکھا ۔ پر وُہ بہشت میں داخل ہو گئی. {{Block center|'''(۵) راون میدان میں'''}} {{gap}}رات بھر تو راون غم اور غُصّہ سے جلتا رہا ۔ صبح ہوتے ہی میدان کی طرف چلا ۔ لنکا کی ساری فوج اُس کے ساتھ تھی ۔ آج لڑائی کا فیصلہ ہو جائیگا ۔ اس لئے دونو طرف کے لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے تیار<noinclude></noinclude> q8w33irgl13r1zzch781syllpgzs1m2