ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.14
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/11
250
12014
35602
27003
2026-08-10T15:53:01Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35602
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>صاف تھے۔ عدالتوں میں آج کل کی طرح جُھوٹے مُقدّمے نہ دائِر کِۓ جاتے تھے۔ ہر گھر میں گائیں پالی جاتی تھیں۔ گھی دُودھ کی اِفْراط تھی۔ کھیتی میں اناج اِتْنا پَیدا ہوتا تھا کِہ کوئی بُھوکا نہ رہْنے پاتا تھا۔ کِسان خُوِش حال تھے۔ اُن سے لگان بہُت کم لِیا جاتا تھا۔ ڈاکے اَور چوری کی وارْداتیں سُنائی بھی نہ دیتی تِھیں اَور طاعُون، ہَیضہ، وغَیرہ بِیمارِیوں کا نام تک نہ تھا۔ یِہ سب راجہ دسْرتھ کے حُسْنِ اِنْتِظام کی برْکت تھی ٭
ایک روز راجہ دسْرتھ شِکار کھیلْنے گۓ اَور گھوڑا دَوڑا تے ہُوئے ایک ندی کے کِنارے جا پُہنْچے۔ ندی درخْتوں کی آڑ میں تھی۔ وہِیں جنْگل میں سرْون نام کا ایک اندھا رہْتا تھا۔ اس کی بیوی بھی انْدھی تھی۔ اُس وقْت اُن کا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
o3aqoq526zki5pzzoq29garuf1nhafl
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/12
250
12017
35603
27036
2026-08-11T02:49:20Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35603
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰؔ</noinclude>نَوجوان بیٹا ندی میں پانی بھرْنے گیا ہُوا تھا۔ اِس کے کلْسے کے پانی میں ڈُوبْنے کی آواز سُن کر راجہ نے سمْجھا کہ کوئی جنْگلی ہاتھی نہا رہا ہَے۔ فَوراً آوازی نِشانہ بانْدھکر تِیر چلا دِیا۔ تِیر نَوجوان کے سِینے میں لگا۔ تِیر کا لگْنا تھا کِہ وُہ زور سے چِلّا کر گِر پڑا۔ راجہ گھبْرا کر وہاں گئے تو دیکھا کِہ ایک نَوجوان پڑا تڑپ رہا ہے۔ اپْنی غلطی معْلُوم ہُوئی۔ بے حد افْسوس ہُوا۔ نَوجوان نے اُن کو نادِم اَور رنْجِیدہ دیکھ کر سمْجھایا۔ اب رنْج کرْنے سے کیا فائِدہ۔ میری مَوت شاید اِسی طرح لِکھی تھی۔ میرے ماں باپ دونو انْدھے ہَیں۔ اُن کی کُٹی وُہ سامْنے نظر آ رہی ہے۔ میری لاش اُن کے پاس پُہنْچا دینا۔ یِہ کہ کر وُہ مر گیا ٭
راجہ نے نَوجوان کی لاش کو کنْدھے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
eojeuiu9bmqegla4zhnjg4akzukfgqi
صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/27
250
12250
35604
28525
2026-08-11T03:13:59Z
Kaur Jatinder Haryau
52
35604
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|۲۵|قصے کا شروع|}}</noinclude>روشنی خالی حکمت سے نہیں. آیا یہ طلسم ہے؟ کہ اگر پھٹکری اور گندک کو چراغ میں باتی کے آس پاس چھڑک دیجئے۔ تو کیسی ہی ہوا پلے چراغ گُل نہوگا۔ یا کسو ولی کا چراغ ہے کہ جلتا ہے۔ جو ہو سو ہو چل کر دیکھا چاھئے. شاید اِس شمع کے نور سے میرے بھی گھر کا
چراغ روشن ہو۔ اور دل کی مراد ملے. یہ نیّت کر کےاُس طرف کو چلے۔ جب نزدیک پہنچے- دیکھا تو چار فقیر بے نوا کفنیان گلے میں ڈالے۔اور سرزانو پر دھرے۔ عالم بےہوشی میں خاموش بیٹھے ہیں. اور انکا یہ عالم ہے جیسے کوئی مسافر اپنے ملک اور قوم سے بچھڑ کر بيكسی اور مفلسی کے رنج و غم میں گرفتار ہو کر حیران رہ جاتا ہے. اِسی طرح سے یے چارون نقش دیوار ہو رہے ہیں۔اور ایک چراغ پتھر پر دھرا ٹمٹما رہا ہے۔ ہرگز ہوا اُسکو نہیں لگتی۔ گویا فانوس اُسکی آسمان بنا ہے۔ کہ بے خطرے جلتا ہے.
آزاد بخت کو دیکھتے ہی یقین آیا کہ مقرر تيری آرزو ان مردان خدا کے قدم کی برکت سے بر آویگی۔<noinclude> {{c|(٤)}}[[Category:urdu]]</noinclude>
bd811f8mcu85lgo9335t8ysyoskmp37
صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/28
250
12251
35605
28538
2026-08-11T03:33:33Z
Kaur Jatinder Haryau
52
35605
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(۲۶)}}</noinclude>اور تیری اُمید کا سوکھا درخت اِنکی توجہ سے ہرا ہو کر پھلیگا. اِنکی خدمت میں چلکر اپنا احوال کہہ۔ اور مجلس کا شریک ہو۔ شاید تجھ پر رحم کھا کر دعا کریں جو بے نیاز کے یہاں قبول ہو. یہ ارادہ کر کر چاہا کہ قدم آگے دھرے۔ وہین عقل نے سمجھایا کہ ای بےوقوف جلدی نہ کر۔ زرہ دیکھ لے۔ تجھے کیا معلوم ہی کہ یے کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ اور کدھر جاتے ہیں؟ کیا جانیں یہ دیوہین یا غول بیابانی ہیں۔ کہ آدمی کی صورت بنکر باہم مل بیٹھے ہیں؟ بہر صورت جلدی کرنا اور اُنکے درمیان جا کر مُخلّ ہو ہونا خوب نہیں. ابھی ایک گوشے میں چھپ کر حقیقت ان درویشون کی جاننا چاہئے. آخر پادشاہ نے یہی کیا کہ ایک کونے میں اُس مکان کے چُپکا جا بیٹھا کہ کسو کو اُسکے آنے کی آہٹ کی خبر نہ ہوئی۔ اور اپنا دھیان اُن کی طرف لگایا کہ دیکھئے آپس میں کیا بات چیت کرتے ہیں. اتفاقاً ایک فقیر کو چھینک آئی۔ شکر خدا کا کیا۔ وہ تبنون قلندر اُس کی آواز سے چونک پڑتے۔ چراغ کو اُسکایا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
seu6qbs1na3pylbcse6qspjku2pc706
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/284
250
13706
35606
35144
2026-08-11T03:41:22Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35606
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>{{Block center|٢٧٨}}
بیٹھے تھے ۔ راون کو میدان میں دیکھتے ہی رامچندر خود تیر و کمان لئے نکل آئے ۔ اب تک اُنہوں نے راون کا صرف نام سُنا تھا۔ اب اُس کی صورت دیکھی تو مارے غصّہ کے آنْکھوں سے
شعلے نکلنے لگے ۔ اُدھر راون کو بھی اپنے دو
بیٹوں کے خون کا اور اپنی بہن کی بعزّتی
کا بدْلہ لینا تھا ۔ گھمسان کی لڑائی ہونے لگی۔ راون کی برابری کرنے والا لنکا میں تو کیا رامچندر کی فوج میں بھی کوئی نہ تھا ۔ سگریو، انگد ہنومان وغیرہ دلاور اُس پر ایک ساتھ بھالے، گرز اور تیر چلاتے تھے ۔ نیل اور نل اُس پر پتّھر مارتے تھے ۔ پر اُس نے اتنی تیزی سے تیر چلائے کہ کوئی سامنے نہ ٹھیر سکا.
لکشمن نے دیکھا کہ رامچنداس کے مقابلہ میں اکیلے رہے جاتے ہیں تو وہ بھی آکھڑے ہوئے اور نیزوں کی بوچھار کرنے لگے ۔ مگر راون پہاڑ کی طرح اٹل کھڑا سب کے حملوں کا جواب دے رہا<noinclude></noinclude>
39vn9t5r6gh3tgzqux7vs9tqs6el86i
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/285
250
13707
35607
35164
2026-08-11T03:48:57Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35607
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{Block center|٢٧٩
}}</noinclude>تھا۔ آخر اُس نے موقع پا کر ایک تیر ایسا چلایا کہ لکشمن بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ دوسرا تیر رامچندر پر پڑا ۔ وہ بھی گِر پڑے ۔ راون نے فوراً تلوار نکالی اور چاہتا تھا کہ رامچندر کو قتل کر دے کہ ہنومان نے لپک کر اُس کے سینہ میں ایک گدا اتنے زور سے ماری کہ وہ سنبھل نہ سکا ۔ اس کا گرنا تھا کہ رام اور لکشمن اُٹھ بیٹھے ۔ راون بھی ہوش میں آگیا ۔ پھر لڑائی ہونے لگی ۔ آخر رامچندر کا ایک تیر راون کے سینہ میں ترازو ہو گیا ۔ خون کی دھار یہ نکلی اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔ رتھبان نے سمجھا راون کا کام تمام ہو گیا ۔ رتھ کو میدان سے بھگا کر شہر کی طرف چلا ۔ راستہ میں راون کو ہوش آ گیا ۔ رتھ کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر غصّہ سے آگ ہو گیا ۔ اُسی وقت رتھ کو میدان کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ۔ اتفاق سے اُسی وقت بھبھیشن سامنے آ گیا ۔ راون نے اُسے<noinclude></noinclude>
goa0htqbk2qdea9x4n9lllb3pj9ih2l
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/94
250
13856
35608
35584
2026-08-11T04:17:58Z
Charan Gill
46
35608
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تعجب ہے کہ شیخ کی گلستان جو آیندہ نسلون کے لیے نثر فارسی کا ایک لاجواب نمونہ تہی ایران مین اُسکے تتبع کا کسی نے خیال نہین کیا با یون کہئے کہ کسی سے اُسکا تتبع نہیں ہو سکا۔ اگرچہ شیخ کے بعد نثر فارسی کی ترقی یا وسعت انتہا کے درجہ کو پہنچ گئی اور نثر لکہنے پر ایسے ایسے جلبل القدر فاضلون نے کمر باندہی جنکہ علم و فضل شیخ سے بمراتب لائق تر تھا کہ سب کی بہت زیادہ تر الفاظ اور صنائع لفظی پر مقصود رہی۔
ایران میں سب سے بڑا ناثر فضل اللدین عبداللہ شیرازی سجایا جاتاہے جو شیخ کے اخیر ازمان مین ہوا ہے اسکی مشہور کتاب تاریخ دوستان سے بیشک اس کی کمال علمی اور عربی و فارسی دونون زبان کی نظم و نشر پر بڑی قدرت معلوم ہوتی ہے لیکن ساری کتاب میں شاید ہی کوئی فقرہ ایسا نکلے جو متوسط درجہ کی استعداد کی آدمی ڈکشنری کھولے بغیر سمجھ سکے یا جسکا انداز بیان دل مین جا کر چبہے ٧١٢ ہجری من جبکہ سلطان محمد الجاتوخان خدابندہ کے حکم سے آزربیجان میں شہر سلطانیہ بنکر تیار ہو چکا اوراس خوشی میں سلطان کی طرف سے تمام شہر کی دعوت کی گئی۔ اس کتاب کی تقریب اور تعریف سلطان کے حضور میں کی گئی ۔ سلطان نے اُس میں سے کچھ متفرق فقرے پڑھنے کا حکم دیا۔اسوقت دربار میں وزیر رشیدالدین اور قاضی القضاۃ نظام الدین ایالات ور خواجہ اصیل الدین طوسی اور بڑے بڑے عالم اور فاضل موجود تھے فضل اللہ نے چند دعائیہ تقرے کہ ان سے زیادہ سلیس اورآسان عبارت شاید تا کتاب می نوی خاص سلطان کے سنانے کو لکھے تے وہ پڑنے شروع کیے سلطان والفقر کے معنی بعید الدین فریم سے اپناتا یہ لوگ اس کی شرح بہت برا کےسامنہ کرتے تھے تب سلطان کی جسم میں کچھ آتا تھا ارے شراکے<noinclude></noinclude>
c20s8xafi3jtabgiyy963unl5of3pzp
35609
35608
2026-08-11T04:32:22Z
Charan Gill
46
35609
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تعجب ہے کہ شیخ کی گلستان جو آیندہ نسلون کے لیے نثر فارسی کا ایک لاجواب نمونہ تہی ایران مین اُسکے تتبع کا کسی نے خیال نہین کیا با یون کہئے کہ کسی سے اُسکا تتبع نہیں ہو سکا۔ اگرچہ شیخ کے بعد نثر فارسی کی ترقی یا وسعت انتہا کے درجہ کو پہنچ گئی اور نثر لکہنے پر ایسے ایسے جلبل القدر فاضلون نے کمر باندہی جنکہ علم و فضل شیخ سے بمراتب لائق تر تھا کہ سب کی بہت زیادہ تر الفاظ اور صنائع لفظی پر مقصود رہی۔
ایران میں سب سے بڑا ناثر فضل اللدین عبداللہ شیرازی سجایا جاتاہے جو شیخ کے اخیر ازمان مین ہوا ہے اسکی مشہور کتاب تاریخ دوستان سے بیشک اس کی کمال علمی اور عربی و فارسی دونون زبان کی نظم و نشر پر بڑی قدرت معلوم ہوتی ہے لیکن ساری کتاب میں شاید ہی کوئی فقرہ ایسا نکلے جو متوسط درجہ کی استعداد کی آدمی ڈکشنری کھولے بغیر سمجھ سکے یا جسکا انداز بیان دل مین جا کر چبہے ٧١٢ ہجری من جبکہ سلطان محمد الجاتوخان خدابندہ کے حکم سے آزربیجان میں شہر سلطانیہ بنکر تیار ہو چکا اوراس خوشی میں سلطان کی طرف سے تمام شہر کی دعوت کی گئی۔ اس کتاب کی تقریب اور تعریف سلطان کے حضور میں کی گئی ۔ سلطان نے اُس میں سے کچھ متفرق فقرے پڑھنے کا حکم دیا۔اسوقت دربار میں وزیر رشیدالدین اور قاضی القضاۃ نظام الدین عبداللہ اور خواجہ اصیل الدین طوسی اور بڑے بڑے عالم اور فاضل موجود تھے فضل اللہ نے چند دعائیہ فقرے کہ ان سے زیادہ سلیس اورآسان عبارت شاید تمام کتاب مین نہوگی خاص سلطان کے سنانے کو لکہے تہے وہ پڑنے شروع کیے سلطان ہر فقرہ کے معنی رشید الدین بغیر ہم سے پوچھتا تہا یہ لوگ اس کی شرح بہت لبط کے ساتمہ کرتے تھے تب سلطان کی سمجھ میں کچھ آتا تھا یا شرے شراۓ<noinclude></noinclude>
c39tah7wi5afhsc0lsk3kj4jzgxlwkx
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/95
250
13857
35610
35601
2026-08-11T06:06:09Z
BalramBodhi
60
35610
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کچہ ہان ہون کر دیتا تھا۔ یہ حال پریخ وصاف کی عبارت کا ہے اُسکے بعد بہی زیادہتر نثر لکہنے والون نے اسی بات مین کوشش کی ہے کہ انکی نثر کے سمجہنے مین ناظرین کو طرح طرح کی دقتین پیش آئین اور اُنکے علم و فضل اور \مہردان\ کا اعتقادلون مین پیدا ہو مگر یہ ارادہ بہت کم کیا گیا ہے کہ مفید خیالات زود فہم الفاظ اور دلاویز عبارت مین ادا کیے جائین۔
تین کتابین میری نظر سے گزری ہین جو شیخ کے بعد گلستان کی طرز پر لکہی گئی ہین۔ ایک سوال عبد الرحمن جامی کی بہارستان۔ دوسری مجدالدین<ref>یہ شخص اکبر کے عہد مین خراسان سے آیا تھا۔ جوافگانستان مین ایک مشہور بستی ہے کہتے ہین کہ خارستان اس نے اکبر کے حکم سے لکہی تہی</ref> خوانی کی خارستان تیسری جدیب <ref><یہ شخص زمانہ حال کا ایک نہایت مسلّم اور مکبول شاعر ہے جسکو اہل ایران خاتم الشعرا سمجھتے ہین۔ اُسکی وفات کو چالیس برس سے زیادہ نہین گزرے۔/ref>کساآنی شیرازی کی پریشان سوادل ہم بہارستان کا ذکر کرتے ہین۔ اگرچہ خارستان کو عبارت کی خوبی اور جزائت کے لحاظ سے بہارستان کے ساتھ کچہہ نسبت نہین ہے۔ بلکہ اگر میری رائے غلط نہو تو خارستان کا تریکہ تحریر اکثر جگہ اہل زبان کی روش سے بیگانہ معلوم ہوتا ہے لیکن جب دونوں کو گلستان کے مقابلہ مین لایا جاتا ہے تو جس طرح آفتاب کے سامنے چاند اور شمع دونون کی روشنی کافور ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح بہارستان اور خارستان دونون کا رنگ پہیکا پڑ جاتا ہے اور ایک کو دوسرے سے بہتر کہنے کی کوئی وجہ نہین رہتی۔ حکایتین اور روایتن جوان دونو کتابون مین درج کی گئی ہین وہ فی الحقیقت گلستان کی حکایتون سے بہت ملتی جلتی ہین اور زیادہ تر مجیدالدین خوانی نے اپنی کتاب کے ابواب یہی اُسی طریقہ پر مرتب کیے بین مگر شیخ کے حسن بیان اور لطف ادا سے<noinclude></noinclude>
6nzvopyex1djusb44yq9ajz2t5s7j02
35612
35610
2026-08-11T06:49:34Z
Charan Gill
46
35612
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کچہ ہان ہون کر دیتا تھا۔ یہ حال پریخ وصاف کی عبارت کا ہے اُسکے بعد بہی زیادہتر نثر لکہنے والون نے اسی بات مین کوشش کی ہے کہ انکی نثر کے سمجہنے مین ناظرین کو طرح طرح کی دقتین پیش آئین اور اُنکے علم و فضل اور \مہردان\ کا اعتقادلون مین پیدا ہو مگر یہ ارادہ بہت کم کیا گیا ہے کہ مفید خیالات زود فہم الفاظ اور دلاویز عبارت مین ادا کیے جائین۔
تین کتابین میری نظر سے گزری ہین جو شیخ کے بعد گلستان کی طرز پر لکہی گئی ہین۔ ایک سوال عبد الرحمن جامی کی بہارستان۔ دوسری مجدالدین<ref>یہ شخص اکبر کے عہد مین خراسان سے آیا تھا۔ جوافگانستان مین ایک مشہور بستی ہے کہتے ہین کہ خارستان اس نے اکبر کے حکم سے لکہی تہی</ref> خوانی کی خارستان تیسری جدیب <ref>یہ شخص زمانہ حال کا ایک نہایت مسلّم اور مکبول شاعر ہے جسکو اہل ایران خاتم الشعرا سمجھتے ہین۔ اُسکی وفات کو چالیس برس سے زیادہ نہین گزرے۔</ref>کساآنی شیرازی کی پریشان سوادل ہم بہارستان کا ذکر کرتے ہین۔ اگرچہ خارستان کو عبارت کی خوبی اور جزائت کے لحاظ سے بہارستان کے ساتھ کچہہ نسبت نہین ہے۔ بلکہ اگر میری رائے غلط نہو تو خارستان کا تریکہ تحریر اکثر جگہ اہل زبان کی روش سے بیگانہ معلوم ہوتا ہے لیکن جب دونوں کو گلستان کے مقابلہ مین لایا جاتا ہے تو جس طرح آفتاب کے سامنے چاند اور شمع دونون کی روشنی کافور ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح بہارستان اور خارستان دونون کا رنگ پہیکا پڑ جاتا ہے اور ایک کو دوسرے سے بہتر کہنے کی کوئی وجہ نہین رہتی۔ حکایتین اور روایتن جوان دونو کتابون مین درج کی گئی ہین وہ فی الحقیقت گلستان کی حکایتون سے بہت ملتی جلتی ہین اور زیادہ تر مجیدالدین خوانی نے اپنی کتاب کے ابواب یہی اُسی طریقہ پر مرتب کیے بین مگر شیخ کے حسن بیان اور لطف ادا سے<noinclude></noinclude>
mpoez2goyb0xvfje2gpsyd75ra5h2lz
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/96
250
13858
35611
35460
2026-08-11T06:24:07Z
BalramBodhi
60
35611
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>گلستان نے ایک خاص صورت پیدا کی ہے جس کے سبب سے دو بالکل انوکہی اور نرالی چیز معلوم ہوتی ہے۔ ہرچند اس قسم کی ہمشکل اور ہمجنس کتابون مین پورا پورا فرق اور امتیاز کرنا بغیر بجدان صحیح اور ذوق سلیم کے ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند متحد المضمون فقرون کے مقابلہ کرنے سے کسی نہ کسی \\ اندازہ ہو سکتا ہے کہ کونسا اسلوب بیان زیادہ صاف اور پاکیزہ و دلاویز ہے اور کونسا کم اسلئے چند ایسی
مشالین جو نہایت دقت اور جستجو سے بہم پہنچی ہین۔ اِس مقام پر نقل کی جاتی ہین۔
{{center|'''گلستان اور بهارستان کا مقابلہ'''}}
گلستان - استند را پرسیدند ک دیار مغرب بهارستان - اسکندر گفت دیر سبب
ر را گرفت که ملک پیشین خدایان و هم یک انتی آنها نیستی از دولت سلطنت و شکست
با صغرسن اهداشت عموده گفت با ستمانت دشمنان
و شکر بیش از تو بود چنین نفتی میر نشد گفت ب
ون من اس دور میں برکت را گرفتم بیتش را ان کا ایمنی زمام است و از تبار در استان
تا
یاز دوم و سور بیات گذشتگان باطل کردم تا در قاعده درستی استحکام یافتند.
ام با شتابان جرم یکون به مردم است
کردم
بزرگش نخوانده ای و اکرام بزرگان برشتی برد بایدت ملک سکن، چون دسه الاحسن بسیر
قطعہ
ان می گیرین متن ترانه در رای گیرا.
م که با نان برای کند تا با نام ریاست واگذار
دشمنان را دوست گردن روستا را دوست تر<noinclude></noinclude>
8kelb2dzh6ckoflqttrrg9fhwch8z10