ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.14
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/32
250
12698
35616
31924
2026-08-12T04:08:55Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35616
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کداچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری سُدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر کو گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کر اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم نے جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہوا اسکے پاس آکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی دھنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آخِر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کروںگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہے پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کرون یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم دت پڑا سوتا تھا جاتے ہی جو اُسے اسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دیو کنیا ہے یا رس کنیا یا ناگ کنیا سچ کہہ تو کون ہے اور میرے پاس کہان سے آئی ہے وہ بولی کہ مین آدمزاد عورت ہون اور چرن دت سیٹھ کی بیٹی مدن سینا میرا نام ہے اور تجھے یاد نہین کہ جو اس اوپبن مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عِشق کرنے کو تیار تھا اور مین نے بموجب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ بوہتا شوہر کو چھوڑ کر تیرے پاس آؤنگی سو مین آگئی ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
aai1bdlr6estu2xhyjkwhc0p8v1jlaj
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/246
250
12872
35613
35046
2026-08-11T16:10:54Z
Jagdish Papra
66
35613
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>ہیں تو سمجھ گیا یہ لوگ سُرخرو ہو کر لَوٹے ہیں۔
ناکام لوٹتے تو یہ شرارت کب سوجھتی ۔ فوراً
اُن کی پیشوائی کرنے چل کھڑا ہوا ۔ ان لوگوں
نے اُسے دیکھا تو اور بھی اُودھم مچانا شروع کیا.
سگریو نے ہنس کر کہا یہ معلوم ہوتا ہے تم
لوگوں نے کئی دن سے مارے خوشی کے کھانا
نہیں کھایا ہے ۔ آؤ تمہیں گلے لگا لوں
جب سب لوگ سگریو سے گلے مل چکے تو
ہنومان نے لنکا کی ساری داستان اُس سے
کہ سُنائی ۔ سگریو خوشی سے پھولا نہ سمایا ۔ اُسی
وقت اُن لوگوں کو ساتھ لے کر رام چندر کے
پاس پہنچا ۔ رام چندر بھی اُن کے بشرہ سے
تاڑ گئے کہ یہ لوگ سیتا جی کا سراغ لگا لائے۔
ادھر کئی دن سے دونو بھائی بہت مایوس ہو
رہے تھے ۔ ان لوگوں کو دیکھ کر اُمید کی کھیتی
ہری ہو گئی
*
را میچندر نے پوچھا۔ کہو کیا خبر لائے ۔ سیتا جی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
g7duyzbpagkhmd1nhcoaxizsmmx5gpt
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/247
250
12873
35614
35047
2026-08-11T16:23:59Z
Jagdish Papra
66
35614
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کہاں ہیں ۔ اُن کا کیا حال ہے ؟
ہنومان نے مذاق کر کے کہا ۔ مہاراج کچھ انعام
دلوائیے تو کہوں کی
رام - شکریہ کے سوا میرے پاس اور کیا ہے
جو تمہیں دوں ۔ جب تک زندہ رہونگا تمہارا
احسان مانٌونگا :
ہنومان : وعدہ کیجئے کہ مجھے کبھی اپنے قدموں
سے جدا نہ کیجئے گا ہے
رام - واہ ! یہ تو میرے ہی فائدے کی بات
ہے ۔ تم جیسے وفادار دوست کس کو نصیب
ہوتے ہیں ۔ ہم اور تم ہمیشہ ساتھ رہیں،
اس سے بڑھ کر میرے لئے خوشی کی اور
کیا بات ہو سکتی ہے ۔ سیتا جی کیا لنکا
میں ہیں ؟
ہنومان ۔ ہاں مہاراج - لنکا کے ظالم راجہ
راون نے اُنہیں ایک باغ میں قید کر رکھا
ہے اور طرح طرح کی تکلیفیں دے رہا ہے۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
kecb44bilf8jwncm8o9t76yd2lvn8xu
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/248
250
12874
35615
35048
2026-08-11T16:39:35Z
Jagdish Papra
66
35615
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۳۴۲}}</noinclude>کبھی دھمکاتا ہے ، کبھی پھسلاتا ہے مگر
وُہ اس کی مطلق پرواہ نہیں کرتیں جب
میں نے آپ کی انگوٹھی دی تو اُسے کلیجہ
سے لگا لیا اور دیر تک روتی رہیں۔ چلتے
وقت مجھ سے کہا کہ پران ناتھ سے کہنا
جلد ہی مجھے اس قید سے آزاد کریں کیونکہ
اب مجھ میں زیادہ سہنے کی طاقت نہیں ہے۔
یہ کہہ کر ہنومان نے سیتا جی کی بینی رامچندر
کے ہاتھ میں رکھ دی
را مچندر نے اِس بینی کو دیکھا تو بے اختیار
آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اُسے بار بار
چوما اور آنکھوں سے لگایا ۔ پھر بڑی دیر تک
سیتا جی ہی کے متعلق باتیں پوچھتے رہے ۔
ان باتوں سے اُن کا جی ہی نہ بھرتا تھا ۔
وہ کیسے کپڑے پہنے ہوئے تھیں ؟ بہت
دُبلی تو نہیں ہو گئی ہیں ؟ بہت رویا تو نہیں کرتیں ؟ ہنومان جی ہر ایک بات کا جواب[[<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
ta260l6gl0r5tikjr4lf3q8vtkcfgah
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/96
250
13858
35646
35611
2026-08-12T07:27:28Z
BalramBodhi
60
35646
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>گلستان نے ایک خاص صورت پیدا کی ہے جس کے سبب سے دو بالکل انوکہی اور نرالی چیز معلوم ہوتی ہے۔ ہرچند اس قسم کی ہمشکل اور ہمجنس کتابون مین پورا پورا فرق اور امتیاز کرنا بغیر بجدان صحیح اور ذوق سلیم کے ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند متحد المضمون فقرون کے مقابلہ کرنے سے کسی نہ کسی \\ اندازہ ہو سکتا ہے کہ کونسا اسلوب بیان زیادہ صاف اور پاکیزہ و دلاویز ہے اور کونسا کم اسلئے چند ایسی
مشالین جو نہایت دقت اور جستجو سے بہم پہنچی ہین۔ اِس مقام پر نقل کی جاتی ہین۔
{{center|'''گلستان اور بهارستان کا مقابلہ'''}}
'''گلستان'''۔ اسکندر را پرسیدند کہ دیار مغرب
'''بہارستان'''۔ اسکندر را گفتند بچہ سبب
مشرف بچہ گرفتی کہ ملوک پیشین را خزائان و عمر و ملک
یافتی آنچہ یافتی از دولت سلطنت و مملکت
دلشکر بیش از تو بود وچنیں فتحے میسر نثر گفت
باحدغرسن دہداشت عمر۔ گفت با ستملط دشمنان
'''و شکر بیش از تو بود چنین نفتی میر نشد گفت ب
ون من اس دور میں برکت را گرفتم بیتش را ان کا ایمنی زمام است و از تبار در استان
تا'''
یاز دوم و سور بیات گذشتگان باطل کردم تا در قاعده درستی استحکام یافتند.
ام با شتابان جرم یکون به مردم است
کردم
بزرگش نخوانده ای و اکرام بزرگان برشتی برد بایدت ملک سکن، چون دسه الاحسن بسیر
قطعہ
ان می گیرین متن ترانه در رای گیرا.
م که با نان برای کند تا با نام ریاست واگذار
دشمنان را دوست گردن روستا را دوست تر<noinclude></noinclude>
gvimfjbmc4fevvmky5sm7c8dyn88s9g
35647
35646
2026-08-12T10:36:33Z
Charan Gill
46
35647
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>گلستان نے ایک خاص صورت پیدا کی ہے جس کے سبب سے دو بالکل انوکہی اور نرالی چیز معلوم ہوتی ہے۔ ہرچند اس قسم کی ہمشکل اور ہمجنس کتابون مین پورا پورا فرق اور امتیاز کرنا بغیر بجدان صحیح اور ذوق سلیم کے ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند متحد المضمون فقرون کے مقابلہ کرنے سے کسی نہ کسی \\ اندازہ ہو سکتا ہے کہ کونسا اسلوب بیان زیادہ صاف اور پاکیزہ و دلاویز ہے اور کونسا کم اسلئے چند ایسی
مشالین جو نہایت دقت اور جستجو سے بہم پہنچی ہین۔ اِس مقام پر نقل کی جاتی ہین۔
{{center|'''گلستان اور بهارستان کا مقابلہ'''}}
{{Multicol}}
'''گلستان'''۔ اسکندر را پرسیدند کہ دیار مغرب
که ملوک پیشین را خَزاین و عمر و مُلک
و لشکر بیش از این بوده است ایشان را چنین فتحی میسّر نشد گفت
به عَونِ خداے عَزَّوَجَلَّ ہر مملکتی را که گرفتم رعیّتش را
نیآزردم و نامِ پادشاهان جز به نکویی نبردم '''بیت'''
بزرگش نخوانند اهل خرد که نامِ بزرگان به زشتی بردم
{{center|قطعہ}}
ان می گیرین متن ترانه در رای گیرا.
م که با نان برای کند تا با نام ریاست واگذار
دشمنان را دوست گردن روستا را دوست تر
{{Multicol-break}}
'''بہارستان'''۔ اسکندر را گفتند بچہ سبب
یافتی آنچہ یافتی از دولت سلطنت و مملکت
باحدغرسن دہداشت عمر۔ گفت با ستملط دشمنان
و شکر بیش از تو بود چنین نفتی میر نشد گفت ب
ون من اس دور میں برکت را کہ گرفتم بیتش را
ان کا ایمنی زمام است و از تبار در استان
تا
یاز دوم و سور بیات گذشتگان باطل کردم تا در قاعده درستی استحکام یافتند.
ام با شتابان جرم یکون به مردم است
کردم
بزرگش نخوانده ای و اکرام بزرگان برشتی برد بایدت ملک سکن، چون دسه الاحسن بسیر<noinclude></noinclude>
6c5en6qr327syndzudvq1ys0ofw3peh
35648
35647
2026-08-12T10:54:38Z
Charan Gill
46
35648
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>گلستان نے ایک خاص صورت پیدا کی ہے جس کے سبب سے دو بالکل انوکہی اور نرالی چیز معلوم ہوتی ہے۔ ہرچند اس قسم کی ہمشکل اور ہمجنس کتابون مین پورا پورا فرق اور امتیاز کرنا بغیر بجدان صحیح اور ذوق سلیم کے ممکن نہیں ہے۔ لیکن چند متحد المضمون فقرون کے مقابلہ کرنے سے کسی نہ کسی \\ اندازہ ہو سکتا ہے کہ کونسا اسلوب بیان زیادہ صاف اور پاکیزہ و دلاویز ہے اور کونسا کم اسلئے چند ایسی
مشالین جو نہایت دقت اور جستجو سے بہم پہنچی ہین۔ اِس مقام پر نقل کی جاتی ہین۔
{{center|'''گلستان اور بهارستان کا مقابلہ'''}}
{{Multicol}}
'''گلستان'''۔ اسکندر را پرسیدند کہ دیار مغرب
که ملوک پیشین را خَزاین و عمر و مُلک
و لشکر بیش از این بوده است ایشان را چنین فتحی میسّر نشد گفت
به عَونِ خداے عَزَّوَجَلَّ ہر مملکتی را که گرفتم رعیّتش را
نیآزردم و نامِ پادشاهان جز به نکویی نبردم '''بیت'''
بزرگش نخوانند اهل خرد که نامِ بزرگان به زشتی بردم
{{center|'''قطعہ'''}}
ان می گیرین متن ترانه در رای گیرا.
م که با نان برای کند تا با نام ریاست واگذار
دشمنان را دوست گردن روستا را دوست تر
{{Multicol-break}}
'''بہارستان'''۔ اسکندر را گفتند بچہ سبب
یافتی آنچہ یافتی از دولت و سلطنت و مملکت
با صغر سن و حدائث عہد۔گفت به استمالت دشمنان
تا از غائله دشمنی زمام تافتند و از تعاهد دوستان
تا در قاعده دوستی استحکام یافتند۔
'''بیت'''
بایدی ملک سکندر، چون وی از حسن سیر
دشمنان را دوست گردان، دوستان را دوستر<noinclude></noinclude>
qy2qefzdonj7ezmdf68yf9d5n11f3v5
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/97
250
13859
35649
35461
2026-08-12T11:29:16Z
Charan Gill
46
35649
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اِن دونون عبارتون مین باعتبار فصاحت و بلاغت کے جو فرق ہے اوس کا فیصلہ زیادتر از ذوق سحیح پر منحصر ہے مگر جسقدر قید بیان میں آسکتا ہے وہ لکہا جاتا ہے۔ لیکن اس سے محض گلستان کی نوعیت جتان مقصود ہے کہ اسان کی نفی کرنی اول و سکندر را پرسیدند، اور اسکن
گفتند مین جوفرق ہے وہ ظاہر ہے۔ سوال کے موقع پر رسیدن بالنبت گفتن کے
زیادہ منارہے دوسرے فین کے بان قرائن اور دمک و شکر چار لفظ ایک دوسرے
سمون مین اورکوئی لفظ و بیکار نمین ہے ۔ اور مولانا کے ہان دولت سے اگر سلطنت مراد
ہے تو سلطنت و ماکت در زن در حضرت حافظ ملت تو ہے اور عفرین کےبعد حدات عمد
بھی مشوبے تیرے نین کے بان بان می سوال کی کی جان ہے کیونکہ باجود کی شکر میک
عمال کے مشرق و مغرب کو فتح کرتا تنجب سے خالی نہ تھا۔ اور مولانا کے ان سوال کی وجہ
سیسی ماہر نہیں ہے کیونکہ تھوڑی عمرمیں تیرے لوگوں نے دولت اور سلطنت حاصل کی ہے
جو تھے سکنہ کا جواب ہو شیخ نے نقل
کیا ہے ، مین بر گراس سے زیادہ اختصار کی
گنجایش تھی ورنہ سکندر کا جواب ناتمام رہا۔ اور جواب مولانا نے نقل کیا ہے وہ ان
لفظون مین اور ہو سکتا تهان به استمالت دشمنان و لقا ہو دوستان ، اس سے زیادہ بیان
کرنے کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔ پانچوین شیخ نے جونیجو حکایت کے مضمون سے نکال
کر اشعار میں بیان کیا ہے وہ کئی وجہ سے سول ناس کے نتیجہ کی نسبت زیادہ بلیغ ہے۔ شیخ کا
نتیجہ لازمی ہے ۔ اور مولانا کا نیب خیر لازمی کیون
کہ یہ نور نہیں ہے کہ جو شخص دشمنون
نو دوست ت اور دو ستون کو زیادہ دوست بنائے گا اس کو مرد سکندی کی سی سال
سلطنت<noinclude></noinclude>
a386glvbvs7cm6fg9u9u79a18i2f6y1
35650
35649
2026-08-12T11:55:50Z
Charan Gill
46
35650
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اِن دونون عبارتون مین باعتبار فصاحت و بلاغت کے جو فرق ہے اوس کا فیصلہ زیادتر از ذوق سحیح پر منحصر ہے مگر جسقدر قید بیان میں آ سکتا ہے وہ لکہا جاتا ہے۔ لیکن اس سے محض گلستان کی نوعیت جتانی مقصود ہے نہ کہ بہارستان کی تنقیض کرنی اول و سکندر را پرسیدند، اور اسکن
گفتند مین جوفرق ہے وہ ظاہر ہے۔ سوال کے موقع پر رسیدن بالنبت گفتن کے
زیادہ منارہے دوسرے فین کے بان قرائن اور دمک و شکر چار لفظ ایک دوسرے
سمون مین اورکوئی لفظ و بیکار نمین ہے ۔ اور مولانا کے ہان دولت سے اگر سلطنت مراد
ہے تو سلطنت و ماکت در زن در حضرت حافظ ملت تو ہے اور عفرین کےبعد حدات عمد
بھی مشوبے تیرے نین کے بان بان می سوال کی کی جان ہے کیونکہ باجود کی شکر میک
عمال کے مشرق و مغرب کو فتح کرتا تنجب سے خالی نہ تھا۔ اور مولانا کے ان سوال کی وجہ
سیسی ماہر نہیں ہے کیونکہ تھوڑی عمرمیں تیرے لوگوں نے دولت اور سلطنت حاصل کی ہے
جو تھے سکنہ کا جواب ہو شیخ نے نقل
کیا ہے ، مین بر گراس سے زیادہ اختصار کی
گنجایش تھی ورنہ سکندر کا جواب ناتمام رہا۔ اور جواب مولانا نے نقل کیا ہے وہ ان
لفظون مین اور ہو سکتا تهان به استمالت دشمنان و لقا ہو دوستان ، اس سے زیادہ بیان
کرنے کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔ پانچوین شیخ نے جونیجو حکایت کے مضمون سے نکال
کر اشعار میں بیان کیا ہے وہ کئی وجہ سے سول ناس کے نتیجہ کی نسبت زیادہ بلیغ ہے۔ شیخ کا
نتیجہ لازمی ہے ۔ اور مولانا کا نیب خیر لازمی کیون
کہ یہ نور نہیں ہے کہ جو شخص دشمنون
نو دوست ت اور دو ستون کو زیادہ دوست بنائے گا اس کو مرد سکندی کی سی سال
سلطنت<noinclude></noinclude>
e4y7ynl188y0hj83zebtbsdib604xp2
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/103
250
13867
35617
2026-08-12T04:44:35Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۹۵ جقدر قصیدہ گوئی مین اسکو مشق و مهارت زیادہ بڑہتی جاتی تھی اسی قدر بیان حقائق اور واقعہ نگاری کا ملکہ اس سے سلب ہوتا جاتا تھا ۔ قاآنی نے بھی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت دلچسپ اور دلاویز کرنے میں بہت کوشش کی ہے مارسوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہال...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35617
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۹۵
جقدر قصیدہ گوئی مین اسکو مشق و مهارت زیادہ بڑہتی جاتی تھی اسی قدر بیان حقائق اور واقعہ
نگاری کا ملکہ اس سے سلب ہوتا جاتا تھا ۔ قاآنی نے بھی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت
دلچسپ اور دلاویز کرنے میں بہت کوشش کی ہے مارسوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہال اور خش
سے بھر دیا اور چند آزاد اور بیباک نوجوانوں کی ندیا خت طبع کا سامان مہیا کر دیا اور کچھہ اس
سے نہیں ہو سکا۔ خاتمہ کتاب کے سوا حبس میں اُس نے ابنائے ملوک کیلئے ہند بند کر سکے
تین کی بین تمام تامین و کامیون کی بنیاد اگر نایت الی اخیر این منزل پر
رکھتا ہے جس کے پڑہنے سے شرم آتی ہے اور طرہ یہ کہ پر اس سے نتائج عارفانہ اور متصوفانہ
استخوان کرتا ہے۔ یہی ہے کہ پریشان کا خاتمہ جس میں شوخی و ظرافت کا کپور سامان نہیں ہے
اب تم کستان کے مقابل میں نایت پیکا اور معلوم ہوتاہے۔ نام خانے میں شا ہونا در
ہی کوئی مضمون ایسا ہوگا جس میں کوئی ندرت پائی جائے ۔ طہارت بیشک عمدہ ہے مگر شیخ
کی جادو بانی کی کیا نشان نہیں پایا جاتا۔ عام نصائح جو خاستے میں درج ہیں وہ اس قبیل کو مین
پسته بادشاه باید به بن سخن چینیان اعتماد نکند پسند بادشاه باید دی را توقیرکند و دشمنان
دین را تحقیر نماید پسته بادشاه باید از خدا غافل نماند تا خدای ازدو غافل نباشد میشد
بادشاہان را در نظام مالک دست رانشان بهکارست و تیغ سرافشان بیت
ت که بدان دوستان خود را هم تاکه این دشمنان خود پریشان را گمین عبارت مین
اس سے زیادہ حسن پیدا کرنا چاہتا ہے وہان حقیقت سے دور جا پڑتا ہے۔ مثلاً پسند
ا بیان کند که افرادی که تواضع صفت اتقی است و تکر برفت اشتیا - درس گفته ام<noinclude></noinclude>
kdrqp1gvby9r9a5zw1yvmvvqps8gw8l
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/104
250
13868
35618
2026-08-12T04:44:45Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”اول نگر را در اوانه ش هست چو سرکشی هفت آتش است در شیطان از آتش بست و اهل تواضع را نطقه پاکست چه افتادگی منفعت، خاکست و آدم از خاک بود - اس بندہ کے پہلے حصے میں ظاہر ہے کہ کوئی اچھوتا مضمون نہین ہے اور دوسرے حصے میں جواس سے کم ندرت پیدا کرنی چاہیں ہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35618
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اول نگر را در اوانه ش هست چو سرکشی هفت آتش است در شیطان از آتش بست و اهل تواضع را
نطقه پاکست چه افتادگی منفعت، خاکست و آدم از خاک بود - اس بندہ کے پہلے حصے میں ظاہر
ہے کہ کوئی اچھوتا مضمون نہین ہے اور دوسرے حصے میں جواس سے کم ندرت پیدا کرنی چاہیں
ہے وہ محض ایک شاعرانہ خیال ہے اور وہ ہی اچھی طرح بیان نہیں ہوسکتا۔ اسی مضمون کو شیخ
علیہ الرحمہ نے بوستان میں اسلی بیان کیا ہے 2
از خاک آفریت ندارند پاک موں سے بند که افتادگی کن چو خاک
مریں وجهان سوزه سرکش مباش از خاک آفرین دست آتش سباش
جو گروه کشید انش به دناک بیچارگی من بینداخت خاک
جوان سرفرازی نموده، این کمی ازمان دلیو کردند از بین آدمی
البتہ جو عذر کر تا آنی نے پریشان کے دیا سپنے مین کیا ہے اور گلستان کے مقابلے میں
کتاب لکھنے سے پتا نہ ظاہر کیا ہے اس سے
اسکا نہا یت انفصان اور گلستان کی قدر
اسی ہوتی ہے اوریہ معلوم ہوتا
ہے کہ اسنے جاب سے نہایت سخت جبرسے پریشان کے
کے باقی مایا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ایک نہایت عزیز دوست نے اصرار کیا کہ گلستان کی طرز پر
نظر نر مین ایک کتاب لکھنی چاہیئے۔ میں نےکہا بھائ کویت کا امین اورشیخ کی طاری کتاب
کھنے کا ارادہ کردن با سیرت نبوت
کا دھونی کرکے کذاب کے سوا اور کچھ خطاب نہیں
بایا میں نے ماناکہ جگنورات کو چمکتا ہے لیکن کیا وہ چاندنی کی برابری کرسکتا ہے ؟ شیخ کی
کستان ایک باغ ہے جس کے باہروں
کی تھی کے بڑا اون بیشت نظام میں اور اہل سنی کی جات<noinclude></noinclude>
5ytjaofqpcciclbwuyjub1aoalsvbuq
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/105
250
13869
35619
2026-08-12T04:44:53Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”96 قیامت تک اس کی حیات بخش خوشبو سے زندہ ہے ۔ آخر جب اس نے نہ مانا اور میرے پرواز مین شہباز کی برابری نہیں کر سکتی لیکن اسکو بھی چاروناچار اوڑنا ہی پڑتا ہے کہ اب ہم مہندا ایسے فقرے گلستان اور پریشان سے انتخاب کر کے لکھتے این بود من المعلم موت امین...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35619
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>96
قیامت تک اس کی حیات بخش خوشبو سے زندہ ہے ۔ آخر جب اس نے نہ مانا اور میرے
پرواز مین شہباز کی برابری نہیں کر سکتی لیکن اسکو بھی چاروناچار اوڑنا ہی پڑتا ہے کہ
اب ہم مہندا ایسے فقرے گلستان اور پریشان سے انتخاب کر کے لکھتے
این بود من المعلم موت امین -
گلستان اور پریشان کا مقابلہ
گلستان اے فرزند خل جباره انست پریشان داخل سرشیشه ایست و خارج
و غرب آسا گردن یعنی فجیع فراوان جو چند که آب شرتش هم در آنها جاری است
کران مسلم کے راست
کر نے معین دارد بلا شک جوان سر شهر مسدود شود جو کا ناشی
قطعه بر دخالت ایست قریب آهسته تر کن شود پس ار کس آب در ه جباری خوابه در شی
کریمیگویند ملاحان سرود را رعایت کند .
اگر باران بوستان نسب اردالینا خرج باندازه دل باد کرده آن نیستی
بہانے دید گرد و خشک روی معاور اب شده ولی به هر چه این معنی امتون
معلوم باشد و ال مرهوم استقلال
ای را دارد دارای ایراد و اشتم
قطعه
الا است آنکه حاجت اس موجود کو بکارت نیاید و مدام
شنیتی کے از رولان نشیند برفراز اسپ ستوم
۱۳<noinclude></noinclude>
jxgo1vcwi43dn14mh3s5vbq99gsayzv
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/106
250
13870
35620
2026-08-12T04:45:03Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”اس مثال میں گلستان سے صرف ایک عبارت اور پریشان کے دو مختلف مقامات سے دو عبارتین ایک ہی مضمون کی نقل کی گئی ہین نگر شیخ کا بیان قاآنی کی دونون عبارتون سے زیادہ بلیچ سے لیکن جو فرق بہت باریک اور نازک ہین اون کا بیان کرنا اول تومشکل ہے دوسرے یا امی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35620
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس مثال میں گلستان سے صرف ایک عبارت اور پریشان کے دو مختلف مقامات
سے دو عبارتین ایک ہی مضمون کی نقل کی گئی ہین نگر شیخ کا بیان قاآنی کی دونون عبارتون
سے زیادہ بلیچ سے لیکن جو فرق بہت باریک اور نازک ہین اون کا بیان کرنا اول تومشکل ہے
دوسرے یا امید نین
که ناظرین اسکو غور سے دیکھیں گے۔ اسی لیے صرف ایسے فرق بتائے
جاتے ہیں جو زیادہ روشن اور صاف این شین کے بیان میں مخاطب کو فرزند
کے ساتھ تعبیر کامین
مقتمناے مقام ہے۔ ایک تو اظہار شفقت جو ناصح کے لیے ضرور ہے۔ دوسرے یہ بتانا کنون
بھی اکثر اس نصیحت کے محتاج ہوتے ہیں۔ پھر ایل جی کی تشبیہ آب روان اور پنچنگ کے
ساتھ کیسی عمدہ تشبیہ ہے کہ بقدر ترالی ہے اسی دی چی تلی ہی ہے۔ پنچی بھی بدون آب
رمان
کے نہیں چلتی اورخرچ ہی بغیر آمدنی کے مین چلتا ۔ پنچی بھی پانی کے بند ہوجانے
ر کسی عارضی قومت سے نہیں چلائی جاتی ہے تو اسکی گردش عارضی اور بے ثبات ہوتی ہے
خرچ بھی جو بدون
آمدن کے اندوختہ وغیرہ سے چلتا ہے بے بنیاد اور نا پائدار ہوتا ہے
پھر اس تمام مطلب کو جو کہ رہنے تشبیہ کے منی سمجھانے کے لیے لکھا ہے۔ شیخ نے ان
مختصر اور جامع لفظوں میں اداکیا ہے یعنی خرج فراوان کردن مسلم کے راست کو دخل معین دارای
اس کے بعد قطع مین ایک نہایت بدیسی مثال دیگر بے بنیاد خرچ کا مال ہر شخص
کو آنکون
سے مشاہدہ کر دیا ہے اور اس مقولے کو ملاحوں کی طرف منسوب کر کے یہ بتایا ہے کہ یہ
الیسی بدیہی بات ہے کہ دجلہ کے کنارے پر ہمیشہ ملامی گیتوں میں گائی جاتی ہے۔ قاآنی نے
آمدنی و منبع سے اور اخراجات
کو مدیون سے تشبیہ دی سے تشبیہ بھی عمدہ ہے مگر یہ شیخ کی<noinclude></noinclude>
3wxhumas30wl19uoxleykb2sgadgkx0
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/107
250
13871
35621
2026-08-12T04:45:17Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”90 اوس تمثیل سے ماخوذ ہے جو اس نے قطعے میں بیان کی ہے لیکن چونکہ یہ تمثیل نہایت سوئی اور معمول تھی اسلئے شیخ نے اسکو ملاحوں کی طرف منسوب کیا ہے اور قاآنی کو یہ بات نہیں سوجھی۔ پھر قاآنی کے بیان سے یہ مفہوم ہوتا ہے کسی شیشے کے بند ہوتے ہی اندریان خ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35621
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>90
اوس تمثیل سے ماخوذ ہے جو اس نے قطعے میں بیان کی ہے لیکن چونکہ یہ تمثیل نہایت سوئی
اور معمول تھی اسلئے شیخ نے اسکو ملاحوں کی طرف منسوب کیا ہے اور قاآنی کو یہ بات نہیں
سوجھی۔ پھر قاآنی کے بیان سے یہ مفہوم ہوتا ہے کسی شیشے کے بند ہوتے ہی اندریان
خشک ہو جاتی ہیں ۔ اور شیخ کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے اسی قدرت کے بعد خشک
ہوتی ہیں اور فی الواقع ایساہی ہوتا ہے جیسا شیخ نے لکھا ہے پر شیخ نے منی کے بند ہو جانے کو
قدرتی اسباب معینی امساک باران کی طرف مستبند کیا ہے اور یہ کہا ہے و اگر باران کوہستان نیاری
اور قاآنی کہتا ہے کہ جو شخص ندی جاری رکھنی چاہے وہ سر چشے کی خبر کے لیعنی دوسکوبندنون
ے حالانکہ یہ اورانسان کی طاقت سے باہر ہے پر تا آنی نے تقلیل سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ
جو شخص ندی کا جاری رکھنا چاہے وہ سر پینے کی خبر کے۔ اگر یہ مطلب اس سے بھی
معصوم ہو جاتا ہے لیکن اس جگہ مقتضاسے مقام کے موافق اسکو کہنا چاہیے تاکہ وہ شخص
ہمیشہ اپنا خرچ جاری رکھنا چاہے مگر آمدنی پر رکھنی چائے کین کا ایمیل این مطلب کے سمجھانے
کر دی گئی ہے نہ اس بات کے سمجھانے کو کہ اگردی میں پانی جاری کرنا چا وہ ہر شے کی خبر رکھوں
دوسری عبارت کو قاآنی نے اس جملے سے شروع کیا ہے دو خرج باندازہ وض باید کرد اسکے بع
کتا ہے رات آنکه خرج معلوم باشد و به همه ی ما را جلالی نے مقصد اس مقام کے
رو
سراویح نہیں بلکہ اپنی حالت کےموافق لکھا ہے کیونکہ سناگیاہے کہ وہ اگر جشن عید وغیرہ کے
مونتون پر نخل موزوم یعنی نقصانہ کے مصلے کی توقع ترین لیکر فری کالی کرتا اور مقتضا ہے
استقام ہی ہونا چاہیئے تھا۔ ورنہ آنا دخل اند باشه و خرج بسیار یا وه نه آنکه دل پنج باشد و خروج هنگام<noinclude></noinclude>
7n2tsfan5g6ymxcx4maunurtliz17pq
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/108
250
13872
35622
2026-08-12T04:45:27Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”راسیون کاکوئی جلا ہوتا یکی کمان کے موفق خرپا کرے کا مضوا مخالف ہیں مضمون ہوسکتا ہے ۔ اسکے سوارہ مضمون فی لف صحیح ہی نہیں ہے کیونکہ دل موہوم کی اسی پر چن کرنا خاص خاص صورتوں کے سواکسی کے نزدیک نہ مومنین ہے۔ تمام اجا در کاشانی اور باران وضل موسوم...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35622
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>راسیون کاکوئی جلا ہوتا یکی کمان کے موفق خرپا کرے کا مضوا مخالف ہیں مضمون
ہوسکتا ہے ۔ اسکے سوارہ مضمون فی لف صحیح ہی نہیں ہے کیونکہ دل موہوم کی اسی پر چن کرنا
خاص خاص صورتوں کے سواکسی کے نزدیک نہ مومنین ہے۔ تمام اجا در کاشانی اور باران
وضل موسوم ہی کے ہر دس پنکھ کی رو پر خرچ کرتے ہیں پر اسے فری وجود دل موہوم
ائی پر کی جاے موہوم یا دم گھڑے پورا ہونے ے کی سیاست میں معلوم ہی میں
ھوڑے پر بے شک کوئی سواری بیان کیا ابزار
آدمی خرچ کر سکتے اور کرتے ہیں۔
گلستان خشم بیش از حد گرفتن بهشت | پریشان کا نیا خلافت و شوخی با کندن
اردو لطف بیوقت بیت برد نه چندان ما بغایت رقیق القلب و وسیع الخلق باشند
داشتی کن که ز تو بر گردنده نه چندان برای سروداری درسالهای انکر با نشانید به این
صفت موجب جبارت الشکریان شود گاه
که بر تو دلیرا بیات
اشتی در می بوده است چرنگ است که با داری باشد که به مروارید خلافت و شوقی عمل کنند
داشتی گیر خردمند پیش دستی کانال که دارای میزان مهربانی دوست خالی از دوست
گریشکریان را بیرخستن داستین نباشد و در
نظر
نا پر گفت خوردند. ما ایران با این نیست از زیر چشم گوش متون با شانه ای
بان کردی که چندان کا پیارا بیان کنند در این است به زبان خود در وقت کارر
سمتی کند تا کارفا می شود.<noinclude></noinclude>
8u63gc3o5g3b9n8nblpvkchzhm4b9l2
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/109
250
13873
35623
2026-08-12T04:45:38Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”10 شنوی کے مارش مروان پیاو به مرخصلات شمیتا با نگاه عتا بے نسان اند روند ملی بے خطا بے بہان اندر بعد تماما مهرنوش پیش باجان گداز با پیش رویشها و انواز یکدست شیر رباب داره یکدست برای ارشاد اس مثال میں گلستان اور پریشان کے مضمون میں کسی قدرت ہے ۔ گ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35623
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>10
شنوی
کے مارش مروان پیاو به مرخصلات شمیتا با نگاه
عتا بے نسان
اند روند ملی بے خطا بے بہان اندر بعد تماما
مهرنوش پیش باجان گداز با پیش رویشها و انواز
یکدست شیر رباب داره یکدست برای ارشاد
اس مثال میں گلستان اور پریشان کے مضمون میں کسی قدرت ہے ۔ گلستان میں کسی خاص
گردہ کی تخصیص نہیں ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپ سالارون کی تخصیص ہے اس لیے
را پورا مقابلہ بنین بوسکتالیکن چونکہ نفس مضمون محمد ہے اس سے کچھ کچھ پل مقابلے کے
نکل سکتے ہیں۔ شیخ کا بیان لفظ و سناتا آن کے بیان سے بمراتب فائق ترہے ۔ اول تو شیخ
کے فقرون مین ایک خاص قسم کا ازن اور قول ہے جو قاآنی کے فقروں میں نہیں ہے نرین
ایسا مناسب برایک معنی مقصود اور فصاحت و بلاست میں کچھ فرق نہ آئے پرلے درجے
کا کمال انشا پروازی اور مالی سے اعلی رستے کی شاعری ہے ۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ
متقابل ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہیں کہ منی مقصود کو ان سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی
راور لطعت - بیش ازحد اور بیوقت - وحشت اور ہیبت - آرد اور مبرد - ورشتی - اور رزمی
خشم اور لطلعت ۔
کو ہر فصاد کی حالت سے تعبیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقد مختصر لفظوں میں اداکی گئی ہے۔
اور دوسری بیست مین گنا، سینے مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا
شعار بنالیا اور کہی نہیں برتا جیساکہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا امین ہے<noinclude></noinclude>
lcq2rd66pnsjn340xjqotgalv8nnwki
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/110
250
13874
35624
2026-08-12T04:45:49Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کیو نکہ عقلمند ایسانہیں کرتےاور بالکل میری نرمی برتنا اورکهای درشت نہ کرنا ایسا اک سمستی کے لفظ سے معدوم ہوتا ہے بھی اپھر انہین ہے کیونکہ اس سے انسان نظروں میں حقیر ہو جاتا ہوں ور سری نظر میں صرف اتنی سی بات ک نیکی ہے میں کئی مہین پایے کی ہے کہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35624
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کیو نکہ عقلمند ایسانہیں کرتےاور بالکل میری نرمی برتنا اورکهای درشت نہ کرنا ایسا اک سمستی کے
لفظ سے معدوم ہوتا ہے بھی اپھر انہین ہے کیونکہ اس سے انسان نظروں میں حقیر ہو جاتا ہوں
ور سری نظر میں صرف اتنی سی بات ک نیکی ہے میں کئی مہین پایے کی ہے کہ وہی ہے میں بیانات
کیا ہے ۔ خصوصا چندان
کا قافیہ تناسب اور ہموزن لانیکے لیے کس مطلب کو کن لفظون
میں ادا کیا ہے ۔ ان کی نرمین ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ل کر نہیں پائی جاتی اورنظم
مین بھی حقیقت اور معنی کی نسبت الفاظ کی چک و یک ، زیادہ ہے۔ چونکہ دونون عبارتون مین
فرق بین معلوم ہوتا ہے اس لئے پریشان کی عبارت میں زیادہ نکتہ چینی کرنے کی ضرورت
نہیں سمجھی گئی ۔
اب مجرین اضافی خوبیوں کا بیان چھوڑ کر کستان کے ذاتی محاسن کی بات پر متوجہ
ہوتے ہیں ۔ اس کتاب کی عمدہ خاصیتوں میں سے ایک یہ خاصیت بھی فارسی لکیر مین
نہایت عجیب اور قابل لحاظ ہے کہنا اسی اور اردو کی تقریر وتقریر میں بند گلستان کے جملے
اور اشعار و مصر سے ضرب المثل بین اور کسی کتاب کے منین دیکے گئیے۔ ان میں سے
کسی قدریمان نقل کیے جاتے ہیں ۔ ہر عیب که مسلمان به پسند ده ست ۲ هر که آمد
عمارتے نو ساخت ا - حسابت مشاطر همیست اردوی دلارام را - ۴۷ - هرچه بقاست کهتر
القیمت بهتر ۵- هر که دست از جان بشوید و چه در دل دارد بگوید 4 - ده درویش در کیلیے
بخند رو بادشاه درام تیم بگنجت --- سرونه شاید گرفتن پسیل به چورت نشاید
گذشتن بیل - - پرتو میان نگیرد برو بیارش پست - - انمی داشتن و پاش )<noinclude></noinclude>
p269gftgol1cr9qnq3gqq228zntwver
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/111
250
13875
35625
2026-08-12T04:45:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰ پسر نوح با بدان نشست به خاندان بنوش گم شد - دشمن نتوان نقیب و بیچاره شد ۱۲- عاقبت گرگ زاده گرگ شود و سلا در باغ لاله روید و در شوره بوم خس ۱۴۷ - تونگری به دل ست بمال- بزرگی عقل است انه سال ۱۵- دشمن چه کند چه مهربان با...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35625
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰ پسر نوح با بدان نشست به خاندان بنوش
گم شد - دشمن نتوان نقیب و بیچاره شد ۱۲- عاقبت گرگ زاده گرگ شود و سلا
در باغ لاله روید و در شوره بوم خس ۱۴۷ - تونگری به دل ست بمال- بزرگی عقل است
انه سال ۱۵- دشمن چه کند چه مهربان باست رو دست ۱۶ حسود را چکن کو خو دیرین درست
۱- قدر عافیت کے دواند کہ بیتے گرفتار آیه ۱۸- نانا یعنی تر د محتاج ترند
۱۹- چو عضو بد را در روزگار دوران باران ارارا هاما من از کجا آدم را ندارم
۲۔ گاہے بسلامت برنجند و گا سب با شناست خلعت دهند ۲۴ هر کجا چشمه بود و
شیرین به مردم و مرغ و سیر آیت ۲۳- راستی موجب رمنا
کس ندیدم دیگر شداده است ۲۰۲۴۷ تا که هماسب پاکست از محاسب چه باک را آز - آنرا
۲۵ - تو پاک باش باور مدار از کس باک به زمند جامه ناپاک گازران برنگ - ۲۶ تاریقی
از عراق
آورده شود مارگزیده مرده شود عام - به دریا در منافع بیشمار است با دگر خواهی سلامت
برکنا راست ۲۴ - دوست آن باشد که گیرد دست دوست ؛ در پریشان حالی دور ماندگی
۲۹ سه وزیر و وزیر سلطان را با به وسیاست نگرد پیرامن - سگ در بان چهیافتند غریب
این گریبان بگیرد آن دامن ۳۰ - خداست راست مسلم زندگی و اطاعت با که هرم من هنا م خ راست زندگی کرم میدان
رسید ه بر با فولاد با زمینه کرد با سای بین خود را رنج کرد سواس - چوکردی با کلوخ
اند از پیکار ه سرخود را نادان شکستی چونگ انداختی بر دست شهر به ایران کاند، تاج دانستی<noinclude></noinclude>
967j5bmpvpjujxkvca7t3bkk1auoufr
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/112
250
13876
35626
2026-08-12T04:46:06Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۱۰۴ ۱۳ کس یا رخت علم بر این باره مراعاقبت نانه کرد ۳۵ - دریاب کنون که نعمت بست بدست باکین دولت و ملک میرود دست بدست ۶ - گروزیرا خدا تر سید با همچنان که نایک ملک پور ۱۳۷۷ - برگردن و باند و برا گذاشت ۱۳۸- اگرشته روز راگو ی شب است این به باید گفت اینک م...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35626
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۱۰۴
۱۳ کس یا رخت علم بر این باره مراعاقبت نانه کرد ۳۵ - دریاب کنون که
نعمت بست بدست باکین دولت و ملک میرود دست بدست ۶ - گروزیرا خدا
تر سید با همچنان که نایک ملک پور ۱۳۷۷ - برگردن و باند و برا گذاشت
۱۳۸- اگرشته روز راگو ی شب است این به باید گفت اینک ماد و پر دین ۱۳۹ ، جهاندیده
بسیار گوید دروغ ۴۰ ۔ جو کارے بے فضول من برآید به مراود سے سخن گفتن نشانده
م - اگر روزی بدانش بر فرودسی با زنادان تنگ تر روزی نبود ۴۳ اهم متلب را درون
خانه چه کار سلام برک عیب دارن پیش تو آمد و شهر به بیگان حیب تو پیش نگران خوابه برد
۴۴ - یار ا رمنه بارخاطر ۴۵ جواز توسے کے میدانی کرد باند کر امنیت ماند نه سال
- من آنم کہ من دانم سلام گئے بطارم علی نشیمن گئے بہشت پائے خود
دبی - ۴۸ - نهم سخن گرنگن تی توت طبع از شکار روی ۴۵ خانه دوستان بروب و در
وژمنان مکوب ۵۰ - درویش صفت باش و کلا و مشتری دار ۵۱ - نیک باشی عبادت گویاضیلت |
ه که به باشی و یک گویند ۲ ۵ اگر دنیا باشد در دست یکم به دگر باشد برش پای بندیم
درویش ہر کجا که شب آمد سرای اوست ۵۴ پاس و زنجیر پیش دوستان
که با بیگانگان در بوستان ۵۵ - زن بد در ساری مردنگو با همدین عالم است دوزخ اور
کوفته بانان تی کوفته است. ۵۷۰- اخویشتن گراست کرا رهبری کند ۵ بالاست
نه می گیرید ۵ را باید دگراند گوش در نوشته ست پند بردیا - خاک شده پیش
از انکه خنک شوی - اگریت کی نباشد آدمی نیست ۶۴ ماده گر شتاب کند مرد تو نیست<noinclude></noinclude>
n7mabn7glm6v7ljzhcn72kwe197lmg4
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/113
250
13877
35627
2026-08-12T04:46:15Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۶ - خوبه بدور رسه به در طبیتی که نشست و نرود جز بوقت مرگ از دست هم به حقا که با عقوبت دوزخ برابریست با رفتن بپای مردی ہمسایه در هشت ۶۵ - خوردن برای زیستن و ذکر کردن سنت به تو معتقد که زیستن از هر خوردن ست 4 4- نه چندان بخور کر د بالنت بر آید ز چندانکه...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35627
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۶ - خوبه بدور رسه به در طبیتی که نشست و نرود جز بوقت مرگ از دست هم به حقا که با عقوبت
دوزخ برابریست با رفتن بپای مردی ہمسایه در هشت ۶۵ - خوردن برای زیستن و ذکر
کردن سنت به تو معتقد که زیستن از هر خوردن ست 4 4- نه چندان بخور کر د بالنت بر آید
ز چندانکه از ضعف جانت برآید ۷ - عطاست و به لقات نبخشیم ۶۸ - بهرکه نان از او
عمل خویش خورد ملت مانتو طائی نیرو ۹ مگر اسکین اگر پر است و تم مینٹک از
کنجشک
جهان برداشته و صورتمان به نباشد پیش ۷۱ - گفت چشم تنگ دنیا دار را }
-61
بیانات پر کند یا اک گور ما منعی بود دشت بیابان غریب نیست ۷۲۰ - شاهد آنان
که رود عربت و حرمت بینه را دربرانند بهترش پدر و مادر خویش بهم یا به از روی زیباست آواز خون
که این حفظ نفس است و آن قوبت روح - ۵ ما رزق هر چند بیگمان برسد با شرط عقل ست حتقر زندگی
بروز و طمع دیده و شمن ها - مورچگان را چو بود اتفاق با شیر فرمان را یدرانت در پوست
۷۸ - یادنہ ہر بارش کا رس بیرون باشدکه یک روزپلنگش بدرد ۷۹ - گواه باشد که کود کے نادان
ینامه بر هدف زند تیرے در گردن سے اعلی پاسته بود امین شکر ہے ہنر کے پیچ
صبر ندارد یکی از و به اینچ ۲- یک نقصان ما یه دوم شماست سایه ۸۳- اگر
از هر دو جانب جاہلانست با اگر نجر باش دیگهاست. ما بخیر و امید نیست با رسان
۸۵ - تو باد ج فلک چه دانی چیست و چون نادانی که در سری تو کیست ۸۶ - گر تو قرآن
۰۸۶۰
بدین نمطا خوانی به بهری رواق مسلمانی ۸۷ میشم بها ندیش که بکند و با با عیب نماید مهرش در فر
تکونی با دان کردن چنانست نه که بد کردن نجات نکردن ۹ ۸ سرانداری سفرهایش گیر
۱۴<noinclude></noinclude>
k2jdapqjucngnohis1wfj2nzpzsggxt
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/114
250
13878
35628
2026-08-12T04:46:23Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”loty ناز برای کن که مزیدار تست ۹۱ - خطاب بزرگان گرفتن خطاست ۹۲ - چون را شد است رال مزاج با ته عز بیت ارکند نه علاج ۹۷ - ترین جوان را اگر تیری در سهیلو نشیند به ک پیری - ۹۴۷- تو جاس پر چه کردی خیره تا هان چشم داری از پست ۱۹۵ اپ تازی درتنگ رود بشتاب و اشتر...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35628
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>loty
ناز برای کن که مزیدار تست ۹۱ - خطاب بزرگان گرفتن خطاست ۹۲ - چون
را شد است رال مزاج با ته عز بیت ارکند نه علاج ۹۷ - ترین جوان را اگر تیری در سهیلو
نشیند به ک پیری - ۹۴۷- تو جاس پر چه کردی خیره تا هان چشم داری از پست ۱۹۵
اپ تازی درتنگ رود بشتاب و اشتر آهسته میره و شب و روز ۹۶ - خرمینی اگر یکه رود
ین بیاید هند خر باشد ۵۷ میراث پدرخواهی علم پر رموز و اگر مد عیب دارد مرد درویش
رفیقانش یکے از صد ندانند : مگر یک نا پسند آید ز سلطان با زا تلیسه به اقلیمی رسانند
۹ - سرکه در خردایش ادب نکسند به در بزرگی فلاح از دیره است ۱۰۰ هران الف کو جو آموزگار
بین جفا عبید از روزگار ۱۰۱ جورا استناد به زمهر پدر ۱۰۳ - چودخالت نیست خرم آهستی رکن
ام اس کریا را دست اندر درم نیست و خداوندان نعمت را گرم نیست ۱۰۴ پراگنده روزی برگشت
اول به عناد نوروزی بین مشتغل ۱۰۵- سگ دار کلاسن بر سرآینده زرشاد بر به این سنخواست
ارگر نفت در کس بردوش گرید به ایا علی ادرار کردن است ۱۰- هر بار است خداست
- منت، من که خدمت سلطان میکنم امانت شناس زرده بخدمت بداشت
۱۰۸ - من تنفق بودن دانشمند : چارپائے بروکتا ہے چند اپنی ویار پنچ گئی ہو داریم
کتا نباشد در نپس دیوار گوش ۱۱۰- همه کس عقل خود به کمال نماید فرزند خود جمال ۱۱- گراز بیان
زمین عقل مند و گرده و بخورگان بر یک کتان کم بی نفس نگر و بالا معام
در شستی در می هم دربه است با چرگ زن که جراح دمرم به است ۱۱۴۷ مشک
است کارخودم پی ایف ایگرید ۱۵ تنگ زندگی شود و بسیاری کسی نیست بیا ندارد<noinclude></noinclude>
5zkfvn7xnatbofyc147iqbh4yfcfbjf
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/115
250
13879
35629
2026-08-12T04:46:34Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”1.6 - بر رسولان باغ باشد و لبس - ۱۱۸- کسن جامه خویش را ستون به به از جامه عاریت | استن یہ نام مقدے جو نقل کیے گیے ان میں زیادہ ترا سے بین انتر را در قر یہ دونوں میں ستعمال کیے جاتے ہیں مگر تقریبا ایقدر نفرت اور اشعار استان مین ایراد بھی این جوموصل یرا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35629
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>1.6
- بر رسولان باغ باشد و لبس - ۱۱۸- کسن جامه خویش را ستون به به از جامه عاریت |
استن
یہ نام مقدے جو نقل کیے گیے ان میں زیادہ ترا سے بین انتر را در قر یہ دونوں میں
ستعمال کیے جاتے ہیں مگر تقریبا ایقدر نفرت اور اشعار استان مین ایراد بھی این جوموصل
یران میں برتے جاتے ہیں وہ یہاں نقل نہیں کیے گیے۔ یا مقابل لانا ہے کر دیا مین
مان جهان استان در استان شائع ہوئی ہیں ان زیادہ گرا کا استعمالکم مراد ہے استاد
ون کی تعلیم تک میں پایا جاتا ہے۔ سیاسی ہے پر سواریں سے شیخ کے یہ دونوں کا نامے
بر از یک لعنوان اور دستخوش کودکان ر ہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ میں سن و سال کے لڑاکوں کو ب کا ہمیں
سائی جاتی این انکی استعداد اور محمد اس قابل نہیں ہوتی کہ شیخ کی فصاحت و بلاضت کا جو کہ اسنے
کتابوں میں بتاتی ہے کچھ چین دار کر سکیں لیکن چونکہ بچوں کا صاف میں ہوتاہے اسلیے کچھ کھیں
اسلیے
ے یا اشعار ن کو یاد رہ جاتے ہیں۔ پس جب در گلستان اور بوستان کے فقرے اور اشعار بول
از این ضرب المثل ہوگئے ہیں ان میں زیاده از این جواگون کر یہیں سے نوک زبان ہوتے ہیں
ین کے مضمون سے وہ باد در سفر کے بیت یا ہو چکے ہیں اور اگر یہ تامین بی شکسپیرزن
طرح ایشیا کے ہر طبقے اور ہر گرہ کے سائے میں رہتی او محور اور مر اور بوڑ ہے اورجوان
سب لوگ ان کو دیکھا کر تے قومیں اسی کرتا ہوں کہ گلستان کا ایک بڑا حصہ اور اس سے کسی قدیم
دوستان کے اشعار جمہور کی زبان پراسی طرح جاری ہو جاتے جیسے مذکورہ بالا فترے اور اشعار
ن زد خاص و عام مبین کی نگران ماندن کتابوں میں فی کا بیان استقدر ما طبائع کے مناسب<noinclude></noinclude>
lzd7977ysc3s1cygj7banegejj79slb
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/116
250
13880
35630
2026-08-12T04:46:43Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”یہ فرقہ اورگردہ کی کمزورت اور نائی اور اغراض کے سوانین واقع ہو رہے کہ فقرے اور شہر مین ضرب المثل ہونے کی قابلیت پائی جاتی ہے۔ ہمیشہ وہ اقوال مذہب امل بنتے ہین جن کا مضمون عام لوگوں کے حسب حال ہے۔ الفاظ اسی ہے اور صاف ہوں اور در زبان میں کسی لطاف...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35630
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یہ فرقہ اورگردہ کی کمزورت اور نائی اور اغراض کے سوانین واقع ہو رہے کہ فقرے اور شہر
مین ضرب المثل ہونے کی قابلیت پائی جاتی ہے۔ ہمیشہ وہ اقوال مذہب امل بنتے ہین جن کا
مضمون عام لوگوں کے حسب حال ہے۔ الفاظ اسی ہے اور صاف ہوں اور در زبان میں کسی
لطافت پائی جائے ۔ سویا نیست شیخ کے کلام میں عموا و گلستان بوستان مین
خصوصا پائی نہاتی ہے ۔
یہان ہم گلستان کے متعلق بحث متوی کرکے کسی قدر بوستان کا سال لکھتے ہیں۔
کتاب بھی تقریبا اس قدر مقبول ہوئی ہے بندگان در اسکی تعلیم بھی کرملین میں
اسی طرح جاری ہے جیسے کسان کی شنوی من فردوسی کو عموما تم شعرای تری دی گئی ہے
نت مین رزم کا بیان با وجود نهایت سادگی اور صفائی کے جیسا موش اور پرجوش اس کی
تظلم سے تراوش کرتا ہے ایسا اور کسی سے بن نہیں آیا۔ لیکن منوی میں مطلقا فردوسی کو
جیسے افضل قرار دینا ٹھیک منین ہے ۔ ہمارے نزدیک جو طرح طعن وضرب اور جنگ در
حب کا بیان
فردوسی پر ختم ہے اسی طرح اخلاق فضیحت و پند عشق و جوانی خلافت و مزاح
و یا دین کا بین شیخ پرختم ہے۔ شاہنامہ میں جہان کمین فردوسی و بہادری اور دم کے سوا
وی اور بیان کرنا پڑتا ہے وہان اوس کے کلام مین و خوبی اورانت نمین پائی جاتی۔ میں سب سے
کر اسکی عشقیہ شنوی یوسف
و زلیخا استقدر مقبول نہین ہوئی مبقدر شاہنام مقبول ہو ؟
فیع نے پوستان میں لکھتا ہے کہ ایک شخص نے میرے کلام کی بہت سی تعریف کرینگے
بعد پیر اختر کیا کا سکو یاوری در ازم کا بیان کرنا ایسا این ناجی اک اور لوگون و را<noinclude></noinclude>
fl8ig4pg0ucq24ifbavve5ml3y8p1yx
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/117
250
13881
35631
2026-08-12T04:46:52Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”1-9 ہے یا قعدہ نقل کر کے شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ بکو لڑائی کاخیال ہی نہیں ہے ورنہ جو کسی بیان سے عاجز معین میں ممکن ہے ک میں اپنی تینی زبان کو میان سے منا کر تمام دفتر شعر سخن پر سلام پھیر دن کے بعد ایک حکایت شاعر معنا بانی کی جنگ تاتار کے نا مین کھی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35631
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>1-9
ہے یا قعدہ نقل کر کے شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ بکو لڑائی کاخیال ہی نہیں ہے ورنہ جو کسی
بیان سے عاجز معین میں ممکن ہے ک میں اپنی تینی زبان کو میان سے منا کر تمام دفتر شعر
سخن پر سلام پھیر دن کے بعد ایک حکایت شاعر معنا بانی کی جنگ تاتار کے نا مین کھی
ہے جس سے اپنا رزمیہ بیان دکھانا مقصود ہے اگرچہ شیخ کی شیرین زبانی اور فصاحت کا
نگار زمین ہوسکتا لیکن شاہنامے کی نظم کے سامنے اس
کا رنگ جنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ تمام محسوسات اور وجدانیات کے مرغوب انا مرغوب ہونے میں الف و
عادت
کو بڑا فضل ہے۔ مرچ حقہ نام ہندوستان ہو کہ عادت مستمرہ کی وجہ سے مرغوب ہے
سی قدر اکثر غیر یک والوں کو خلافت عادت ہونے کے سبب نامرغوب ہے ۔ اکثر عطر ہم کو
خوشگوار اورغیرملک والون کو سخت نگار معلوم بیستمین مسیح الطب شعر کی ایک وجدانی امیر
بغیر الف وعادت کے برگر محسوس نہیں ہوتا۔ مثال نہیں دو ہیر کے مرثیے جس پیرایے اور لباس
میں مقبول ہوئے ہیں وہ پیرایہ اسقدر مانوس ہوگیا ہے کہ اسکے بغیر مرثیہ مقبول ہو تامشکل ہے۔
ین رہے کہ یہ نیب لاہور کی اور کچھ کچھوے کی تعریف میں لکھے جائیں۔ کچھ بند ایسے
بھی ہون نے خود مشی گودگی تعلی اور فوقیت اور دن پر ظاہر ہے۔ یہ ہی ضرور ہے کہ مری میں
مین لکھا جائے اور مسدس المخین بجرون مین سے کسی جرمین ہو جو انیس و دبیر نے اختیار کی
ہیں۔ پس جن خصو صیتوں کے ساتھ شاہنامہ مقبول ہوا ہے اُن کے بغیر کسی کی رزمیہ
النظم مقبول منین ہو سکتی۔ مزہ ہے کہ خالص فارسی بین جو عربی الفاظ سے پاک ہور زملکھی
جائے اور بیشمار الفاظا چین میں فریسی نے اقرت کیا ہے اور قیاس معنوی کے خلاف استعمال<noinclude></noinclude>
lwgfnjhitcweql3ukiwu8lvhjblyql0
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/118
250
13882
35632
2026-08-12T04:47:01Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کیے ہیں کبھی کبھی قصداً اسی طرح برستے جائین جیسے شاہنامے میں برتے گیے ہیں اور یہ انسان حشوز وانکہ جیسے شاہنامہ بھرا ہوا ہے اشعار میں بہتر کاف داخل کیے جائین۔ پس شیخ کی رزمیہ حکایت جود شیخ کے شاہنامے سے میں نہیں کھائی اسکا یہی سب سے کہ شیخ نے ان...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35632
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کیے ہیں کبھی کبھی قصداً اسی طرح برستے جائین جیسے شاہنامے میں برتے گیے ہیں اور یہ انسان
حشوز وانکہ جیسے شاہنامہ بھرا ہوا ہے اشعار میں بہتر کاف داخل کیے جائین۔ پس شیخ کی
رزمیہ حکایت جود شیخ کے شاہنامے سے میں نہیں کھائی اسکا یہی سب سے کہ شیخ نے ان باتوں
مین سے کسی بات کا التزام نہیں کیا۔ فری نے بھی بی اختیار کیا تھا جس سے اس کی
مثنوی مقبول ہوئی ۔ رقیقی نے جو فردوسی سے پہلے ہزار قیون مین گشتاسپ اور پاسپ کی
داستان تنظیم کی تھی دو سکو پسند آچکی تھی جب دقیقی در داستان کو وقته مرگیا اور فردوسی کی
نوبت آئی تو اس نے بھی وہی روش اختیار کی جو وقیقی نے اختیار کی تھی۔ چنانچہ قیقی کی
لکھی ہوئی داستان نام شاہناموں میں موجود ہے ۔ دو نون کے کلام میں کوئی نمایاں فرق
نین معلوم ہوتا۔ یہاں تک کہ جو لوگ اس حال سے واقف نمین بین دو اسکو بھی
فردوسی ہی کا کلام سمجھتے ہیں ۔
فارسی مین چار نویان بین بوشهرت اور قبولیت بین تقریبا مساوی الاقدام بین شانا
سکت رنامہ - مثنوی معنوی - اور بوستان - شاہنامے اور مثنوی معنوی کو سکند برنامے
اور بوستان سے وہ نسبت ہے جو ایک کامل خوشنویس کی بے ساختہ مشق کو اس کے
بنائے ہوئے اور مرتب کیے ہوئے قلعے سے ہوتی ہے۔ قلعہ گر چہ رخ اور کرسی اور روان
کی نشست اور تقیہ وغیرہ کے لحاظ سے مشق کی نسبت بے عیب ہوتا ہے اور اس کے بہرا
این پست وبان کا تفارت بہت کم ہوتا ہے اور تمام حرف تقریبا ہموار اور کسان معلوم
ہوتے ہیں گزرشق میں بہت سی مشین اور دوائر وغیرہ بے ساختہ اسکے قلم سے لیے<noinclude></noinclude>
blh4zlgdjwr8av5vb9xe9s50kat7yf6
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/119
250
13883
35633
2026-08-12T04:47:10Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”نکل جاتے ہین که اگر خوش نویس خود کوشش کرے تو قطع مین شاید دلی کے عین اور داری نہ لکھ سکے یہی سبب ہے کہ خوشنویں لوگ اگلے روستا دون کی مشق کو ان کے قطعات سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ فردوسی اور اونا رو نے اگرچہ اپنی شانون من الامانه نظامی اور سعدی کے ا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35633
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نکل جاتے ہین که اگر خوش نویس خود کوشش کرے تو قطع مین شاید دلی کے عین اور داری
نہ لکھ سکے یہی سبب ہے کہ خوشنویں لوگ اگلے روستا دون کی مشق کو ان کے قطعات سے
زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ فردوسی اور اونا رو نے اگرچہ اپنی شانون من الامانه نظامی
اور سعدی کے الفاظ کی زیادہ تنقیح والتذب اور کانٹ چھانٹ نہین کی گر با وجود اسکے
صد با مقامات ان سے ایسے حسن و خوبی کے ساتھ ادا ہوئے ہیں کہ تکلات اور ساختگی
بوستان اور سکن در نامه معرف اس لحاظ سے کرد و اون کمال تنقیح و تہذیب اور زحمت
نکر نظر کےساتھ لکھی گئی ہیں اور بون میں منعت شاعری کا پورا ہر امت کیا گیا ہے ۔ شاید
ایک دوسرے سے مشابہ ہوں۔ لیکن دونوں کے انداز بیان میں بہت بڑا تفاوت ہے سکنید )
مین شاعرانه مسالة - زور بیان شوکت الفاظ - رنگی استعارات تنوع تمثیلات - ایک ایک
مطلب نے نئے اسلوب سے اداکرنا۔ ہر استان کوایک بڑی دھوم دھام کی تمہید کے
ساتھ شروع کرنا اور اسیری کی اور شاندار باتیں پائی جاتی ہیں۔ برخلاف اس کے بوستان میں
نہایت سادگی۔ الفاظ کی نرمی اور گھانا وسٹ - ترکیبوں
کا سلجھاؤ بیان کی صفائی - عبارت
کی دلنشینی - خیالات کی ہمواری - مبالغ من اعتدال - ماخذ مین سهولیت - حسن ترتیب -
الطلب ادا نمیشیل است کی جستگی۔ استعارات کی لطافت - کنایات کی شوخی ۔ باوجود صنعت
شاعری کے نہایت با گلی برباد ہو ساختگی کے کمال بے ساختہ پن پایا جاتا ہے ۔
مثلا اس مطلب کورک زمین میں خدا کیلیے اتنا خلاق دی ہوئی ہے۔ مولانا نظامی سکندرنا<noinclude></noinclude>
5m29glrp0xozsz13lcmi19g2cgr9ldx
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/120
250
13884
35634
2026-08-12T04:47:19Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۱۱۲ a مین اس طرح ادا کرتے ہیں 2 کیا فالات در بلندی زمین در مناک کے مشت خون شد یک مشت کی نبشته برین برد آلوده هشت از خون سیاوش بے سرنوشت زمین گرانیا عت برون آورد همه خاک در زیر خون آور و بی مطالب سکندر نامے میں دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے ہے که داند...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35634
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۱۱۲
a
مین اس طرح ادا کرتے ہیں 2
کیا
فالات در بلندی زمین در مناک کے مشت خون شد یک مشت کی
نبشته برین برد آلوده هشت از خون سیاوش بے سرنوشت
زمین گرانیا عت برون آورد همه خاک در زیر خون آور و
بی مطالب سکندر نامے میں دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے ہے
که داند که این دوخت دام و دو چه تاریخی دارد از نیک و بد
چه نیرنگ با نجردان ساخته است چه گردن کشان را سرانداخته است
دام
شیخ نے اس مطلب کو بوستان میں یوں بیان کیا ہے ہے
زوم یک روز برای
موم میشه یک روز بر تل خاک گوش مردم ناز درد ناک |
بنگش آمدم
که اینها اگر مردی آهسته تر که چشم بناگوش در راست دسر
ایی مطالب بوستان مین دوسری جگہ اسطرح بیان ہوا ہے ہے
وربین بالغ سروے نیام بیت که باد ایل بخیش از بن بکشند
عجب نیست برناک از گل شگفت از چندین گل اندام در تاک خفت
قناعت کی ترغیب سکندرنامے میں اس طرح دی ہے
و نیز ار هم با گردن زود سس از گردن کشان
بر بنیادی خروش
جو دریا به مایه خویش باش هم از نبود خود سود خود بر تراش
مهمانی خویش تا روز مرگ اور سخته و از خویشتن ساز برگ
تا
|<noinclude></noinclude>
lul1vrr4kg99yulpgyoih7fn6wwqobj
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/121
250
13885
35635
2026-08-12T04:47:27Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بسیار ارگ کسان خورد گاز به تن شد گفت اتے کرد باز بوستان میں یہی مطلب استج ادا ہوا ہے شنیدی روزگار نه ی که داره کار قدیم شده سنگ بر است ، بال سیمر سنگ پنداری این تقول معقول نیست و قانع شدی سیم سنگت کیمیست پیر افضل اندرون دارد از حرم پاک پرپشت ارزش...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35635
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بسیار ارگ کسان
خورد گاز به تن شد گفت اتے کرد باز
بوستان میں یہی مطلب استج ادا ہوا ہے
شنیدی روزگار
نه ی که داره کار قدیم شده سنگ بر است ، بال سیمر
سنگ
پنداری این تقول معقول نیست و قانع شدی سیم سنگت کیمیست
پیر افضل اندرون
دارد از حرم پاک پرپشت ارزش پیش و پیشت ناک
سیر وه بدر دایش سامان بیست که سلطان زده دیش سنگین تریست
فرید مین بنک عجم نیم
سیر
انگار کند که دوم
سیم میر ریدون
بیدردم سیم
گائے بند
کی لئے کہ بخاطرش جا نیست با زیاد است که در سند نیست
به باد خرسند
بخند خوش دوستانی پیست نہ ہونے کے سلطان ایوان گفت
مال اندیشی اور پیش بینی کی نصیحت ساکنہ بنانے میں اسطرح کی گئی ہے ہے
مینگن گول گرچه عار آیدست که بهنگام رابیکا در آیرست
و
تری بوده
ر بر گیرد سختی بنگرد که از گابلی سیستم با خود نی
یہی مضمون
پوستان میں ہی ادا کیا گیا ہے ہے
به چه نوی
رست مانوش گفته بارزی دو که از خود بیگی سنتی سیت
که روی نواری سنتی بسته
همه وقت پر دار مشک و سبوس که پیوسته در دوران نیست ایران
سکندر نامے مین محمد شباب پر تیر املی کی گیا ہے ہے
جوانی شه رزمندگانی نماند حبات گومان چون جوانی را ند<noinclude></noinclude>
fagkvqlejgzkdunovn6lh4zdncr7bje
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/122
250
13886
35636
2026-08-12T04:47:40Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”جوانی بود خوبے آدمی چوخونی رود کے بوی خسته می چوپے سست و بوسیده شد استخوان دگر تفت که خوبروئی میخوان غرور جوانی چو از سر گذشت از گستاخ کاری فروشوی دست بوی چهره باغ چندان بود که شمشادو بالا و خندان بود چو با دخنرانی درافت باغ زمانہ و ہر جائے بلب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35636
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جوانی بود خوبے آدمی چوخونی رود کے بوی خسته می
چوپے سست و بوسیده شد استخوان دگر تفت که خوبروئی میخوان
غرور جوانی چو از سر گذشت از گستاخ کاری فروشوی دست
بوی چهره باغ چندان بود که شمشادو بالا و خندان بود
چو با دخنرانی درافت باغ
زمانہ و ہر جائے بلبل بہ زاغ
بود برگ ریزان پوشاخ بلند ول با غبان زان شود در دست بر
ریا حین رابستان شود ناپدید در باغ را کس بجوید کلامید
نال اے گسن بیل سالخورد که خار این گل گشت زرد
دو تا شد سهی به و آراسته
کدیورشه از باغ برخاسته
چو تاریخ پنجه در آمد بال دگر گونه شد بر شتابنده حال
سراز با دستگی ها مدلینگ جمانه به نگ آماز را به نگ
بارسنگی در
فرماند دستم نمی خواستن گران گشت پایم برخاستن
تنم لا
ن گونه با جوردی گرفت گر شرعی نداشت زردی گرفت
اسیون رونده زره ماند باز بیالین
گره آمد و ما نیاز
حسان بور بوگانی با پایے بعد خو ورگان بجنب زجائے
زخم
طرب را زمینی نه گم شد کلیب نشان پشیمانی آمد پدید
بوستان میں بھی مضمون ایک حکایت کی ضمن بین سطح ادا کیا گیا ہے۔<noinclude></noinclude>
q7ny5mm4068d6dfnz7idzjgc83zuws6
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/123
250
13887
35637
2026-08-12T04:47:49Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۱۱۵ چو باد صبا برگلستان وزد همیدن درخت جوان را سنرد جمد تا جوان است دسر نبرد خید شک می شود چون به اردوی رسید سته بهاران که برآورد بید مشک بریزد درخت کهن برگ خشک نه میبد را با جوانان همید که بر عار منم مسیح پیری رسید قید اندرم جره باز که بود دمادم...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35637
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۱۱۵
چو باد صبا برگلستان وزد همیدن درخت جوان را سنرد
جمد تا جوان است دسر نبرد خید شک می شود چون به اردوی رسید
سته
بهاران که برآورد بید مشک بریزد درخت کهن برگ خشک
نه میبد را با جوانان همید که بر عار منم مسیح پیری رسید
قید اندرم جره باز که بود دمادم سر رشته خواه در بود
شما راست نوبت برین اوان است که از متهم بشستیم و سمت
رما از
چو بر سر نشست از بزدگی خبر رگ همیشه پیش جوانی مار
حرا برف بارید بر پر زاغ نشاید چو بل تماشای باغ |
کند جلوہ طاؤس صاحب جمال چه میخواهی از باز برکت ده بال
مراحله
مر الله تیک آنرا نداز ورود شما را اکنون سیب با سیرها نو
می
گلستان با طراوت گذشت نگاه بسته بند و چه شاهرود گشت
مانگی جان پدر بر صاست واگر تایپ بر زندگانی مغلاست
مسلم جوان راست بر پا هست که بیران برند استنانت بدست
پاس حبت
کل یخ روی گاز تا فرورفت چون زیر دسته آفتاب
بوس پختن از که درک ناتمام چنان رفت بود که از بی نام
مراسم باید لفلان گریست از شرم گنابان - طفلان زیست
نگر گفت لقمان
که نازیستن به از سالها برخط از لیستن<noinclude></noinclude>
7l9mj3b28p3uxftx4tidafyowswbq31
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/124
250
13888
35638
2026-08-12T04:47:58Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”تر از با معاون در کلبه نیست به از سود سه رمایه دادن زیست جوان تا رساند سیاهی نور برد پیر سکین سپیدی بگور نہ کو رد بالا شانوں کے ملاحظے سے صدمات ظاہر ہے کہ شیخ کے خیالات ہمیشہ سمل الماخذ ہوتے ہیں۔ وہ معنی مقصود کو ایسی مشین میں بیان کرتا ہے جو ہمی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35638
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تر از با معاون در کلبه نیست به از سود سه رمایه دادن زیست
جوان تا رساند سیاهی نور برد پیر سکین سپیدی بگور
نہ کو رد بالا شانوں کے ملاحظے سے صدمات ظاہر ہے کہ شیخ کے خیالات ہمیشہ سمل الماخذ
ہوتے ہیں۔ وہ معنی مقصود کو ایسی مشین میں بیان کرتا ہے جو ہمیشہ خاص و عام کے
مشاہرے میں آتی ہیں۔ بخلاف مولا نا نظامی کے کوہ اُن کے خیالات اور تمثیل است اکثر
غرابت اور ندرت سے خالی نہیں ہو تین ۔
شیخ نے جو شاطر عفا بانی کی حکایت میں اپنا رز سیہ بیان و کھایا ہے اگر یہ بے تکلفی اور
سادگی میں فرد مسیح کے بیان سے نہیں ملتا لیکن مولانا نظامی کی رزم ست جین میں سادگی
کی نسبت شاعری کا زیادہ لطف ہے بہت مشابہت رکھتا ہے چند شر اس حکایت کے
اور ان کے ہم مضمون اشعار سکندر نامے کے اس مقام رقص کیے جاتے ہیں۔
بوستان
سکن در نامه
دور تکریم برزو نماز کین در لشگر چه مورد باغ تاختند
واشک هم بردند
جو
تو لفتی زدند آسمان به زمین نبرد جهان در جهان ساختند
زیاد دیدن تیری چون مرگ بشه پورداد و تیر ره نگ
باریدن
بهر گوشه برخاست طوفان مرگ گذرگاه به بور کردند تنگ
نید بازیران پرخاش ساز کند اثر بات مسلسل شکن
کمندار و با دبین کرده باز دهن باز کرده بست راج گنج
با با<noinclude></noinclude>
0dbb223ltv9uoj2vk8dy8tgeh3ao3fu
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/125
250
13889
35639
2026-08-12T04:48:23Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”114 بوستان زمین آسمان شده نگرد کپور یر انجم در و برق شمشیر خود عنبار شد از تمہارے برده استند چه ایرا سب تازی برانگیخته برانگیخت رزمے چو بارنده سینچ چو باران پلارک فرود نخست نگرگش زبیکان و باران زنیخ مگرحق یہ ہے کہ ایک دو حکا میت کے مانے سے سادات...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35639
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>114
بوستان
زمین آسمان شده نگرد کپور
یر انجم در و برق شمشیر خود عنبار شد از تمہارے برده استند
چه ایرا سب تازی برانگیخته برانگیخت رزمے چو بارنده سینچ
چو باران پلارک فرود نخست نگرگش زبیکان و باران زنیخ
مگرحق یہ ہے کہ ایک دو حکا میت کے مانے سے سادات اور برابری کا حکم نہیں لگایا
جا سکتا۔ رزه مین فردوسی اپنی جگہ اور انعامی اپنی جگہ فی الحقیقت اپنا مثل نہیں رکھتے ۔
شیخ علی حزین نے جگ ہندوستان میں خاتم الشعر سمجھے ہی نہیں بلامیں صفحے
کی ایک منوی جس کا نام خابات سے پستان کی ملازمین کی ہے اور اپنی عادات کے سوانق
پر بہت کچھ افتخار کیا ہے چنانچہ مودی کے خاتمے میں فرماتے ہیں سے
سخن سنج گوست هشیار مغز کنند قوت بیان این گھر بائے فقر
از این نامه گردون گیر آوازه شد روان سخن گستران تازه شد
نوائے
که این نامه بنیاد کرد بل بلوسی رو دگی شاه کرد
بگوش انگامی اگر میر سید ق سرد و ازین خسروانی نشید
تعظیم من دست نهادی بخاک کر احسنت اے نیر تابناک
و گر سعدی شهد پرو را داق شنیدے زصور نے من نوا
پردرا و
سماعش از ستنتقل بر اسے ہوش زبان مهر کردی شد جلد گوش
معلوم ہوتا ہے کہ علی ترین نے اپنے ارد یک، اس مثنوی میں پرستان کے منیج کا پورا به را<noinclude></noinclude>
8uf7dup4w3zk91q0pqd3xdknp2qabt7
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/126
250
13890
35640
2026-08-12T04:48:31Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”حق ادا کیا ہے اور وہ اُسکو اپنے لیے ایک سرمایہ نازش ہمت تھا۔ سوانح عمری میں اسی مثنوی کی نسبت لکھتا ہے کہ مبسیاری از مطالب عالیه و سخنان دلپذیر در آن کتاب بسلک در آمده گردون کتابون یعنی بوستان اور خرابات کے مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ در صور...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35640
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>حق ادا کیا ہے اور وہ اُسکو اپنے لیے ایک سرمایہ نازش ہمت تھا۔ سوانح عمری میں اسی مثنوی
کی نسبت لکھتا ہے کہ مبسیاری از مطالب عالیه و سخنان دلپذیر در آن کتاب بسلک
در آمده گردون کتابون یعنی بوستان اور خرابات کے مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ
در صورتی ایک شکل کی ہیں۔ ایک جہاندار دوسری بیجان - لفظ اچھے - بیان اچھا۔
مطالب عمدہ ۔ یہ سب کچھ یہی۔ مگر شیخ کے بیان مین ایک چھپا ہوا جادو ہے جو بوستان کو
خرابات سے بالکل الگ کردیتا ہے۔ چنانچہ ذیل کی مال سے دونوں کافر بخوبی معلوم ہوسکتا
ہے۔ قحط کا بیان ایک جگہ بوستان میں بھی کیا گیا ہے اور خرابات میں بھی اتفاق سے یہ
مضمون نکل آیا ہے۔ ہم دونوں کے
اشعار اس مقام نقل کرتے ہیں اورفرق جو دونوں کے
طرز بیان اور طریقہ ان میں ہے اسکو بھی کسی قدرمیان کرین گے۔
بوستان
خرابات
ا قحط سالی
چنان تھا سا نے شانده داشتن شنیدم که در براهم گور
که یاران فرموش کردن عشق انور در تنفس تھا سائے ظہور
از قحط
سائے
چنان آسمان بر زمین شانسیل ۲ مصورا مرا ز مین تن گرفت
که به ترکردند ذرع و خسیس به دریوزگی آسمان کف گرفت
بخوشید سر شبهای قدیم ۱۳ اصحاب سیه دل نشده مهربان
نماند آب از آب میشیم یتیم حال اب انشده یا کسیان
نبود بجز آور بیوہ زینے ۴ خیلی نمود بر بر کائنات<noinclude></noinclude>
49mzxpj69u1fzumycq9t52zdunt3r2y
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/127
250
13891
35641
2026-08-12T04:48:39Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بوستان 119 خرابات اگر بر شدت و دوست از روزنی مهید زمین سوخت طفل نبات | چور درویش بے برگ دیدم درخت ۵ از خشکی در اندام خاک دو توه پخت تری بازوان سمت در مانده است عروق فجر شد پدر رگهای کوه زیرکوه سبزی نه در باغ شیخ زتاب فرو زنده مهر بلیسند الج بوستان...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35641
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بوستان
119
خرابات
اگر بر شدت و دوست از روزنی مهید زمین سوخت طفل نبات |
چور درویش بے برگ دیدم درخت ۵ از خشکی در اندام خاک دو توه
پخت
تری بازوان سمت در مانده است عروق فجر شد پدر رگهای کوه
زیرکوه سبزی نه در باغ شیخ زتاب فرو زنده مهر بلیسند
الج بوستان خورد و مردم باخ زمین مجر و دانه بودنش سپند
بجائے چواپستان بے شیر شد
خت کی جو پیکان گلو گیس شد
شیخ سعدی نے پہلے ہی شعر کے دوسرے مصرعے میں میں حسن والخلافت کے ساتھ تھا۔
کی سختی کی تصویر نہیں ہے اس سے بہتر کوئی اسلوب بیان خیال میں نہیں آتا۔
تھا کی شرح ایک کتاب میں ایسی خوبی کے ساتھے نہیں ہو سکتی حبیبی اس ایک معمر
میں ہوئی ہے
جو کہ یاران فراموش
کردن عشق سل وقت کا لفظ جو کر برا جان است وہ اسمی
تر کے بیان
کو کتے ہیں کہ بادی انظرمین نهایت سرسری معلوم بو گرو ہی مطلب دوسری
با کسی سے بلکہ خود مصنف سے بھی ولیا بیان نہ ہوسکے ۔ اس بیان میں لطف یہ ہے کہ
تھا کے بیان کے جتنے معمولی اسلوب نہین یہ اسلوب اُن سب سے علیحدہ ہے
تحدہ کی سختی ہمیشہ اس طرح بیان کیجاتی ہے ایسا تھا پڑا کرو ی جان سے زیادہ عزیز ہوگئی۔ بھی
بھوک مین آدمیوں کو کہا سگے ۔ مان باپ نے ایک ایک روٹی کے بدلے اولاد کو بیچ یا
لاکھوں جاندار بھوکے مر گئے ۔ غرض کہ تمام بیان ہے ہوتے ہیں میں سے لالہ کی گرانی پانی<noinclude></noinclude>
pa9xbqk6hxrcuuifjc50j415yt3p7f2
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/128
250
13892
35642
2026-08-12T04:48:51Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کی نایابی بھوک کی تکلیف اور وہ اسی س کی باتیں بھی جائیں۔ شیخ نے وہ اسلوب اختیار کیا ہے جو سب سے نرالا اور سب سے بلیغ ہے ۔ اس اسلوب سے اُسکا یہ بتانا مقصود ہے کہ شاعر کے نزدیک عشق ایک ایسی چیز ہے جوکسی حالت میں فراموش نہیں ہوتی با تونی اس کے لوگ اس...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35642
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی نایابی بھوک کی تکلیف اور وہ اسی س کی باتیں بھی جائیں۔ شیخ نے وہ اسلوب اختیار
کیا ہے جو سب سے نرالا اور سب سے بلیغ ہے ۔ اس اسلوب سے اُسکا یہ بتانا مقصود
ہے کہ شاعر کے نزدیک عشق ایک ایسی چیز ہے جوکسی حالت میں فراموش نہیں ہوتی با تونی
اس کے لوگ اسکو بھول گیے تھے ۔ اور یاران کے لفظ سے یہ ظاہر کرنا منظور ہے
کہ مصنف بھی اُسی عشاق کے جرگے مین تھا ۔ دوسرے شعر کا صرف یہ مطلب ہے کہ
مینہ برسا تھا۔ مگر اسکو کس عمدگی سے بیان کیا ہے ۔ تیرے شعرمین پانی کا نایاب ہونا۔
ور پھر نیم کے آنسوکوس سے مستی کرنا چوتھے شعرین کس گھر کے روز سے اور چینی نے
کے دھوئیں کا نہ نکلنا اور پھر اس سے رائدوں کی آہ کے در وین کوستی کرنا پانچوین
شعر این درختان کو بے برگی میں تحه زره درویشون در مسکینوں سے تشبیہ دنیا اور قوی
پہلوانوں
کا ہے میں بوڑھا ہو ہوجانا یہ تمام مسلوب کس قدر لطیف اور دلکش ہیں۔ بیٹا شعر
بلاغت اور حسن بیان میں تقریبا ویسا ہی اعلی درجے کا ہے جیسا پہلا۔ با جوان تمام
خوبیون کے کوئی با عالیسی بنین بونیر یا عادت کے خلاف ہے۔ محمدامین عشق کے ولولون
کی نیست ونابود ہوجانا۔ درختوں
کا سرسبز مونا نیمو اور ندیوں کا خشک ہو جانا ۔ یتیموں کا
رنا، گھروں میں کھانا کہتا ہے وارث راندو کے آر پالے درختوں کی بے برگ و بار
اور غریبوں کا بے سروسامان ہونا ۔ پہلوانوں اور زیر دستوں کا درماندہ ہوجانا ۔ پہاڑ اور
جنگل میں سبزہ اور ہر اول کا رہنا ۔ ہڈیوں کا باغ اور کسی کو دو آدمیوں کا میلیون کو کھانا۔ یہ
سب باتین ایمی بیا واقعہ کے زمانے میں کٹ کر دیں لہور میں آتی ہیں۔<noinclude></noinclude>
c8lli3c3e5ucd8i6te7eqjylm99jl21
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/129
250
13893
35643
2026-08-12T04:49:02Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۱۲۱ حرین نے باوجود اسکے کہ خرابات جو چند اوراق سے زیادہ نہیں ہے بوستان سے پالنورس بعد لکھی ہے او جیسا کہ دو کے بیان سے مترشح ہوتا ہے اپنی پوری طاقت شیخ کے نتیج میں ارت کی ہے کوئ کرشمہ اس کی مندی میں بیانین پایاجا سکور کیا ہی بے اختیار پر کہ ور تھ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35643
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۱۲۱
حرین نے باوجود اسکے کہ خرابات جو چند اوراق سے زیادہ نہیں ہے بوستان سے پالنورس
بعد لکھی ہے او جیسا کہ دو کے بیان سے مترشح ہوتا ہے اپنی پوری طاقت شیخ کے نتیج میں
ارت کی ہے کوئ کرشمہ اس کی مندی میں بیانین پایاجا سکور کیا ہی بے اختیار پر کہ ور تھے۔
پہلا شعر ہوا اور صاف ہے، ہمیں کوئی خوبی قابل ذکر نیں۔ دوسرے شعر ین زمین گفته
کو صحراے محمد سے تشبیہ دینا تعریف الٹے ہامجھوں کے قبیل سے ہے یعنی ایک ایسی مشیل
ای دنیای امین مالی تصویر لینے سے مارے مارے ماہ تمام عقارات و دنیل
کے محتاج ہیں اپر قیاس کر جیسے کسی نے کی حقیقت نہیں کیا سکتی۔ تیرا شعر ویستان کے اُس
شعر سے ماخوذ ہے جو ذوالنون مصری اور مصر کے تھا کے بیان میں شیخ نے لکھا ہے اور وہ یہی رہے
نیت به دین پس از موقعیت را بر سیول برایشان گریست
گر اتنا فرق ہے کہ شیخ نے اب کے برسنے کو رنے سے تعبیر کیا ہے جس سے ترم او بربنا ولات
دولون
باترین لیتی ہیں اور ترین نے ہر سے کامران ہونے سے تعبر کی یہ ہے جس سے دونوں معنی
ایسے صاف نہیں نکلتے۔ چوتھا شعر شیخ کے اس شعر سے ماخوذ ہے ہے
چنان بخیل
یشان اسمان بر زمین شد نیل آراب و نگردند درست نین
گر شیخ کے بیان میں اتنا لطف زیادہ ہے کھڑی کھیتی کی خشک ہو جانا زیادہ حسرت ناک ہے
ی نسبت اسکے کہ تم زمین کے نہ ہی میں جائے پانچوین شرکا دوسرا اور بات کرو مگر پیالی
مصرعہ نگار سے خالی نہیں ۔ شو کا مطلب صرف اسقدر ہے کہ زمین کی خشکی کے بیب درختون<noinclude></noinclude>
mwi4tntlcln8r63iodiup6spijilzol
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/130
250
13894
35644
2026-08-12T04:53:47Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”نہیں ہے ۔ چھٹے شعرمین صرف یہ بیان ہے کہ کتاب کی گری سے زمین انگیٹھی کی لی جاتی تھی اور ایا جاتا وہ سیندکی حکم لکھا تھا اس فرزند ہ اور بازو نخستین مرکی واقع ہوئی این امون نے کچھ فائدہ نہین یا ادارہ کی جائے گی ورزند ہر رکنے سے آفتاب کی گرمی کا زیاد...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35644
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نہیں ہے ۔ چھٹے شعرمین صرف یہ بیان ہے کہ کتاب کی گری سے زمین انگیٹھی کی لی جاتی تھی اور
ایا جاتا وہ سیندکی حکم لکھا تھا اس فرزند ہ اور بازو نخستین مرکی واقع ہوئی
این امون نے کچھ فائدہ نہین یا ادارہ کی جائے گی ورزند ہر رکنے سے آفتاب کی گرمی کا
زیادہ ثبت ہتا ہے توہم کسی نے کی ہر بند کے سے اسی گرمی کا خیال کم ہوجاتا ہے اور
ایسی دو متضاد منتین لانی بلاغت کے خلاف بین - ساترین شعر کا مضمون بالکل خلاف
عادت اور ولایت قناے مقام ہے۔ تھا امین امی ہے کہ رب کی مامی کی نیک کورے
اور صراحی کاخشک ہونا اس بات
کی دلیل ہے کہ قحط کی شدت ہورہی ہے ۔
کچھ ہے بطور میا کے کے لکھا ہے اس سے نان آرد کی طی شیخ علی حسین پر نگری
کرنی ہمارا مقصود نہیں ہے اور ابرستان
کو خرابات سے فصل ثابت کرد و نظرہے کیونکہ تھی
شیخ علی حزین پر رنگیری کرنے کی لیاقت رکتے ہیں اور نہ بوستان کے فضل ہونے میں کسی کو
شبہ ہے بلکہ یہ دکھانا منظور ہے ا کوئی فی فی نفسہ کیسی ہی بے عیب ہو جب وہ کسی ایسی ہے
کے مقابلہ میں لائی جاتی ہے جو اس سے براتب افضل اور فائق ہو تواس میں میسیون فروگذاشتن
اور قصور نظر آنے لگتے ہیں اگرخرابات بوستان کے جواب میں نہ ہوتی اورحسن اتفاق سے ایک
مضمون کی حکایتلین دونوں مولیوں میں نکل آی تیزی کے بیان می نوین دریا کیا ہم کیا
خیال بھی آتاکی یکی با این قیمت تمام شعر کے بان عامتہ اور دین
اب ہر گلستان اور پوستان کی چند نایتین ایسی بیان
کرتے ہیں ہم دونوں کتابوں میں
تقریبا یکان
پائی جاتی ہیں اور جن کو ان کے مقبول ہونے میں بہت بڑا دخل ہے ۔<noinclude></noinclude>
nwlk2vcwndoxvobecmqkicg4m516hu1
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/131
250
13895
35645
2026-08-12T04:53:58Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”مثالون کی جہان ضرورت ہوگی کمین صرف گلستان سے اور کمین صرف بوستان سے اور کسین دعانون سے نقل کی جائیں گی۔ اکثر لوگوں کا یہ خیال رہے کہ ان کتابوں کے مقبول ہونے کا اصل سبب یہ ہے کیان مین سرتا پا اخلاق اور تہذیب نفس کے مضامین منبع این گرمیرے نزدیک ان...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35645
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثالون کی جہان ضرورت ہوگی کمین صرف گلستان سے اور کمین صرف بوستان سے اور
کسین دعانون سے نقل
کی جائیں گی۔
اکثر لوگوں کا یہ خیال رہے کہ ان کتابوں کے مقبول ہونے کا اصل سبب یہ ہے کیان
مین سرتا پا اخلاق اور تہذیب نفس کے مضامین منبع این گرمیرے نزدیک انکی مقبولیت کی
اصل وجہ یہ ہے کہ اخلاق اور اعضا کو شیخ کے سوا کسی نے ایسی خوبی اور مسافت کے ساتھ فارسی
زبان مین بیان نہین کیا اخلاق مین میلیون کتابین فارسی میں لکھی گئی ان و اینک موجود ہیں اور
غالبا گلستان اور بوستانمیں کوئی پند و نصیحت ایسی ہوگی جواورون نے نہ لکھی ہومگر کوئی کتاب این
و دو کتابوں کے برابر قبول نہیں ہوئی ۔ اس سے ظاہر ہے کہ قبول عام کا دار زیادہ ترسن بیاین
اور لطف اورا پر ہے کہ نفس مضامین پر البتہ مضامین کو بھی شہرت اور قبولیت میں بہت بڑا
دخل ہے ۔ اسی لیے جو اس بن کتابوں کے ہم آگے لگتے چاہتے ہی وہ کسی قدر مضامی ہے
اور زیادہ محسن معنی اور اسلوب بیان سے متعلق ہوں گے۔
ا۔ سب سے زیارتی انگیزات اندونون کا ان میں ہی کی باتوں میں مشرقی لانچر
عموما بدنام ہے وہ ان کتابوں میں تقدیم مین کہ ان مقامات سینی کر کے بعد کوئی ایسی بات
باقی نہیں رہتی جو ہم ایمان کے مورال اور سوشل خیالات کے بیانات ہو۔ اور یہ امرایسی پرانی
کتابوں میں جنکے زمانہ تصنیف کہا ہے وہ سب سے زیاد گر چکے ہیں کھکر میانگین نہیں
لماتعما
مشال سبالد اور اغراق جو شرق النشاکا خاصہ ہے ان کتابوں میں تمام ہے جتنا ایران
کے اور شعرا کے کلام من بی او بہا ہے وہاں نہایت لطیف اور با مزا ہے اور اعتدال<noinclude></noinclude>
8mgy7blfbyo77iigcttwajckl85dziv