ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.16
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/11
250
12118
35759
27527
2026-08-20T03:21:58Z
Mbee-wiki
55
/* تصدیق شدہ */
35759
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Mbee-wiki" />{{rh||۵|طوطا کہانی}}</noinclude>کی راہ سے جھانکتی تھی۔ کہ اتنے میں ایک شہزادہ اُس راستے سے گزرا اور مجھ پر عاشق ہوا۔ اس گھڑی مجھے اپنے پاس بلاتا ہے اگر تو کہے تو میں جاؤں اور اُس سے ملاقات کروں پھر دو چار گھڑی کے بعد اپنے گھر چلی آونگی یہ بات سنتے ہی مینا نہایت غضبناک ہوئی اور غوغا کر کے کہنے لگی کہ واہ وا بی بی اچھے ڈہنگ نکالتی ہو اور خاصی باتیں سناتی ہو کیا خوب غیر مرد کے گھر جاؤ گی اور اُس سے دوستی کر کے اپنے شوہر کی حرمت گنواؤگی یہ بڑا عیب ہے تمہاری قوم کے لوگ کیا کہیں گے اس حرکت سے باز آؤ یہ سنتے ہی خجستہ نے اُسے پنجرے سے نکال ایک ٹانگ پکڑ گردن مروڑ زور سے زمین پر دے پٹکا کہ روح اُس کی آسمان پر پرواز کر گئی اور اسیطرح غصے میں بھری ہوئی طوطے کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ اے طوطے کچھ حقیقت مینا کی دیکہی کہ وہ ابھی کیا تھی اور کیا ہو گئی اُس نے کہا کہ جی دیکہی جو خداوند کی بےادبی کرے گا اُس کا یہی حال ہو گا خجستہ خوش ہو کر کہنے لگی کہ اے طوطے بہت دن ہوئے کہ میں نے مرد کی صورت نہیں دیکہی اور آج ایک بادشاہ زادے نے مجھ کو مبنت بلوایا ہے اگر تو کہے تو اُسکے پاس رات کیوقت جاؤں اور صبح ہوتے ہوتے اپنی جگہ پر آؤں طوطا اپنے جی میں ڈر کر کہنے لگا کہ اگر میں بھی منع کرتا ہوں یا اور کچھ کہتا ہوں تو ابھی مینا کی طرح سے مارا جاتا ہوں یہ سمجھ کر کہنے لگا کہ اے کدبانو مینا ناقص عقل تھی۔ اور اکثر یہ خلقت عورتوں کی بیوقوف ہوتی ہے اسی واسطے شعور مند کو لازم ہے کہ اپنا احوال اُن سے نہ کہیں بلکہ اس ذات سے پرہیز کریں تو خاطر جمع رکھ جلدی مت کر جبتک میری جان اس قالب میں ہے تب تک تیرے کام میں پیروی کرونگا اتنا مت گھبرا کریم کا رسانہ جلد آسان کریگا خدا نخواستہ اگر یہ بات ظاہر ہوئی اور اڑتے اڑتے تیے شہر تک پہنچی اور اُسنے آکر تجھ سے خفگی کی تو میں ایک بات بنا کر تم دونوں کو آپسمیں ملا دونگا جس طرح سے کہ اُس طوطے نے فرخ بیگ سوداگر کو طوطے سے ملا دیا تھا خجستہ نے پوچھا کہ اُسکی نقل کیونکر ہے مفضل بیان کر کہ میں تیری احسانمند رہونگی۔
{{center|'''تیسری داستان فرخ بیگ سوداگر اور اُسکے طوطے کی'''}}
طوطے نے کہا کہ کسی شہر میں ایک سوداگر فرخ بیگ نام نہایت مالدار تھا اور ایک طوطا عقلمند اپنے پاس رکھتا تھا اتفاقاً اُس سوداگر کو سفرہ پیش ہؤا۔ تب ہر ایک اسباب اپنے گھر کا بی بی سمیت طوطے کے حوالے کیا اور آپ واسطے سوداگری کے کسی شہر میں گیا اور کئی مہینے وہاں کار تجارت میں رہا اُسکے جانیکے بعد کئی دن پیچھے اُسکی جورو نے ایک جوان مغل بچے سے آشنائی کی اور ہمیشہ رات کو اُسے اپنے گھر بلاتی صبح تک اُس کیساتھ عیش و عشرت کرتی یہ احوال اُن دونوں کا طوطا دیکہتا اور باتیں اُنکے اختلاط کی سُنتا لیکن دیکھا سُنا اپنے دل میں چھپارکھتا بعد ڈیڑھ برس کے وہ تاجر اپنے گھر آیا اور حقیقت گزری ہوئی اپنے گھر کی اُس طوطے سے پوچھی کہ میرے پیچھے کسطرح سے گزری اور کس کس نے کیا کیا<noinclude></noinclude>
qalyaoqmaocaul688b3uvdjhb17rqb9
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/18
250
12121
35757
27556
2026-08-20T02:47:36Z
Kaur.gurmel
74
35757
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" />{{center|١٢}}</noinclude>{{gap}}وِشْوا مِتر نے دُعا دے کر کہا ۔ مہاراج! ہم تپسِّیوں کو راج درْبار کی یاد اُسی وقت آتی ہے جب ہمیں کوئی تکلِیف ہوتی ہے ۔ یا جب ہمارے اُوپر کوئی ظُلم کرتا ہے۔ میں آج کل ایک یگّیہ کر رہا ہُوں ۔ مگر
راکشس لوگ اُسے نا پاک کرنے کی کوشِش کرتے ہیں ۔ وُہ یگّیہ کی بیدی پر خُون اور ہڈیاں پھینکتے ہیں۔ ماریچ اور سباہُو دو بڑے ہی سرکش راکشس ہیں۔ یِہ سارا فساد اِنہیں دونو کا ہے ۔ مُجھ میں اپنی تپّسِیا کی اِتنی طاقت ہے کہ چاہوں تو ایک بد دُعا دے کر اُن کی ساری فوج کو جلا کر خاک کر دُوں۔ پر یگّیہ کرتے وقت غُصّہ کو روکنا پڑتا ہے۔ اِس لئے میں آپ کے پاس فریاد لے کر آیا ہُوں۔ آپ راجکُمار رام چندر اور لچھمن کو میرے
ساتھ بھیج دِیجئے۔ تا کہ وہ میرے یگّیہ کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
8qyy7rv1keztytwvkr2pkloxoxk7lsi
35760
35757
2026-08-20T04:48:14Z
Tamanpreet Kaur
81
/* تصدیق شدہ */
35760
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|١٢}}</noinclude>{{gap}}وِشْوا مِتْر نے دُعا دے کر کہا ۔ مہاراج! ہم تپسِّیوں کو راج درْبار کی یاد اُسی وقْت آتی ہَے جب ہمیں کوئی تکْلِیف ہوتی ہَے ۔ یا جب ہمارے اُوپر کوئی ظُلْم کرْتا ہے۔ مَیں آج کل ایک یگّیہ کر رہا ہُوں ۔ مگر راکْشس لوگ اُسے نا پاک کرنے کی کوشِش کرْتے ہَیں ۔ وُہ یگّیہ کی بیدی پر خُون اَور ہڈِّیاں پھینکْتے ہَیں۔ مارِیچ اَور سباہُو دو بڑے ہی سْرکش راکْشس ہَیں۔ یِہ سارا فساد اِنْہیں دونو کا ہے ۔ مُجھ میں اپْنی تپّسِیا کی اِتنی طاقت ہَے کہ چاہوں تو ایک بد دُعا دے کر اُن کی ساری فَوج کو جلا کر خاک کر دُوں۔ پر یگّیہ کرْتے وقْت غُصّہ کو روکْنا پڑْتا ہَے۔ اِس لئے مَیں آپ کے پاس فرْیاد لے کر آیا ہُِوں۔ آپ راجْکُمار رام چنْدر اَور لچھْمن کو میرے
ساتھ بھیج دِیجْئے۔ تا کِہ وُہ میرے یگّیہ کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
hb33aczh51bdbf44mxgmkhlvz65xhwv
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/39
250
13113
35767
32860
2026-08-20T10:12:05Z
Taranpreet Goswami
90
35767
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''دیو کا راجہ کے لشکر کو کھانا اور راجہ کا چور کو پکڑ لانا'''}}
بھاگا جاتا تھا کہ چور نے للکارا تو راجپوت ہو کر لڑائی سے بھاگتا ہے یہ سنتے ہی راجہ پھر اکھڑا ہوا اور وہ دونون مقابل ہو جنگ کرنے لگے آخر کار راجہ اسے گرفتار کر مشکین باندھ نگر مین لے آیا پھر اس کو نہلوا دھلوا اچھے اچھے کپڑے پہنا ایک اونٹ پر بٹھلا ڈھنڈھورا ساتھ کر ساری نگری کے پھیرنے کو بھیجا اور سولی اسکے واسطے کھڑی کرنے کا حکم دیا شہر کے لوگون مین سے جو اسے دیکھتا تھا سو کہتا تھا کہ اسی چور نے تمام نگر کو لوٹا ہے اور اب اسے راجہ سولی دیگا جبکہ دھرم دھوج سیٹھ کی حویلی کے نیچے وہ چور گیا تو اس سیٹھ کی بیٹی نے ڈھنڈھوریے کی آواز سُن اپنی داسی سے پوچھا کہ کاہے کی ڈونڈی باجتی ہے وہ بولی جو چور اس نگر مین چوری کرتا تھا اسے راجہ پکڑ لایا ہے اب سولی دیگا یہ سنکے دیکھنے کو وہ بھی دوڑی آئی چور کا روپ جوبن دیکھتے ہی فریفتہ ہو گئی اور اپنے باپ سے آکر کہا تم اسوقت راجہ کے پاس جاؤ اور اس چور کو چھوڑا لاؤ سیٹھ بولا کہ جس چور نے راجہ کا تمام نگر موسا ہو اور جس لیے ساری فوج کٹی اسکو میرے کہے سے کیونکر چھوڑیگا پھر اسنے کہا جو تمھارے سب کچھ دیے سے بھی راجہ اسے چھوڑ دے تو ترنت تم اسے چھوڑا لاو اور جو وہ نہ آویگا تو مین بھی اپنی جان دیدونگی یہ سُن سیٹھ نے راجہ سے جا کر کہا مہاراج پانچ لاکھ روپئے مجھ سے لے لیجئے اور اس چور کو چھوڑ دیجئے راجہ بولا اس چور نے سارا نگر موسا اور تمام لشکر اس کے سبب سے غارت ہوا اسے مین کسطرح چھوڑ دونگا جب راجہ نے اسکی بات نہ مانی ناچار پھر یہ اپنے گھر کو آیا اور اپنی بیٹی سے کہا جتنا کہنے کا دھرم تھا اتنا مین نے کہا لیکن راجہ نے نہ مانا اتنے\\عرصا'\\ مین چور کو نگری کے پھیرے دلوا کر سولی کے پاس لا کر کھڑا کیا اور چور نے اس بنئے کی بیٹی کا احوال جو سنا تو کھلکھلا کر ہنسا پھر ڈکرا ڈکرا رونے لگا اتنے مین لوگون نے اسے سولی پر کھینچ لیا اور بنئے کی بیٹی اسکے مرنے کی خبر سن کے ستی ہونے کے لیے اس جگہ پر ائی چتا بنوا اور اسمین بیٹھ اس چور کو سولی سے اتار اسکا سر گود مین رکھ جلنے کو بیٹھا چاہتی تھی کہ اسمین آگ دلوا دے اتفاقاً وبان ایک دیبی کا مندر تھا اسمین سے<noinclude></noinclude>
f3fh7v3ktw3r0zccusa9cwb9o4bhdf0
صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/24
250
13257
35758
35595
2026-08-20T03:02:44Z
Kaur Jatinder Haryau
52
35758
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(੨੨)}}</noinclude>ہوئے اور منتظر جلوۂ پادشاہی کے تھے.
{{gap}}جب پہر دن چڑھا ایک بارگی پرده اُٹھا۔ پادشاه نے برآمد ہو کر تخت مبارک پر جلوس فرمایا. نوبت خانے میں شادیانے بجنے لگے. سبھون نے نذرین مبارکباد کی گذرانین اور مجراگاہ میں تسلیمات کو رنشات بجا لائے. موافق قدر و منزلت کے ہر ایک کو سرفرازی ہوئی۔ سب کے دل کو خوشی اور چَین ہوا. جب دو پہر ہوئی۔ برخاست ہو کر اندرون محل داخل ہوئے۔ خاصہ نوش جان فرما کر خوابگاه مین آرام کیا. اُس دن سے پادشاہ نے یہی مقرر کیا کہ ہمیشہ صبح کو دربار کرنا۔ اور تیسرے پہر کتاب کا شغل یا ورد و ظیفہ پڑھنا اور خدا کی درگاه مین توبه استغفار کر کر اپنے مطلب کی دعا مانگنی.
ایک روز کتاب میں لکھا دیکھا۔ کہ اگر کسی شخص
کو غم یا فکر ایسی لاحق ہو کہ اُسکا علاج تدبیر سے نہو سکے۔ تو چاہئے کہ تقدیر کے حوالے کرے۔ اور آپ گورستان کی طرف رجوع کرے۔ درود- طفیل پیغمبر کی روح کے- اُنکو بخشے- اور اپنے تئین نیست و نابود<noinclude></noinclude>
0p95g026yw2f7fw2qykguolrdt3kt8b
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/276
250
13696
35768
34900
2026-08-20T11:29:48Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35768
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>دوسرا سورما راکشسوں میں نہ تھا ۔ اُسے دیکھ کر ہاتھی کا گمان ہوتا تھا ۔ بہادر ایسا تھا کہ کوئی اُس کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ کر سکتا تھا ۔ مگر جتنا ہی بہادر تھا اتنا ہی کاہل اور عیش پسند تھا۔ رات دن شراب کے نشہ میں مست پڑا رہتا ۔ لنکا پر حملہ ہو گیا ۔ ہزاروں آدمی مارے جا چَکے ۔ پر اُسے اب تک کچھ خبر نہ تھی کہ کہاں کیا ہو رہا ہے ۔ راون اُس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ اس وقت بھی بیہوش پڑا ہوا ہے ۔ شراب کی بوتلیں سامنے پڑی ہوئی تھیں ۔ راون نے اُس کا شانہ پکڑ کر زور سے ہلایا ۔ تب اس کی آنکھیں کھلیں ۔ بولا - کیسے مزے کی نیند لے رہا تھا ۔ آپ نے ناحق جگا دیا .
راون نے کہا ۔ 'بھیا اب سونے کا مَوقع نہیں رہا ۔ رامچندر نے لنکا کا محاصرہ کر لیا۔ ہمارے کتنے ہی آدمی کام آچکے ۔ میگھناد کل لڑا تھا پر آج تھکا ہُوُا ہے ۔ اب تمہارے<noinclude></noinclude>
buhczhk0mt776uhpoka5xld8jlc92oi
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/102
250
13864
35754
35753
2026-08-19T12:42:13Z
BalramBodhi
60
35754
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مشال - ٢
{{Multicol}}
'''گلستان'''۔ عالم ناپرہیزگار کور مشعلہدار ست
یهہی به وهولا یهتدی
<poem>'''بیت''' بیفایده ہر کہ عمر در باخت
چیزے نخرید و زر بینداخت</poem>
{{Multicol-break}}
خارستان۔ علم باعمل ہمچو طعام بنمک ست
ہر کرا ہر دوہست حکمتے تمام
دار دو طعام بے نمک را چہ توان کرد
<poem>'''بیت'''عمل بے علم نا مضبوط باشد
ہمیشہ شرط با مشروط باشد</poem>
{{Multicol-end}}
مذکوره بالا مشالون کو دیکہکر غالباً ہر شخص جو فارسی زبان سے فی الجملہ آشنا ہے بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ خابستان کی عبارت گلستان کے مقابلہ مین کس قدر کم وزن اور بے وقعت ہے اسی لیے ہم اس مقام کو ناحرین کے مذاق اور تمیز پر چھوڑ دیتے ہین اور زیادہ نقطہ چینی کرنے کی ضرورت نہین دیکھتے۔
پریشان کا مصنف مرزا حبیب قاآنی کتاب مذکور کے خاتمہ کے اشعار مین تصریح کرتا ہے کہ اُسکی عمر تیس برس سے بہی دو تین برس کم تہی جب یہ کتاب اوس نے لکہی ہے۔ اور شیخ نے گلستان کو سن کہولت اور ادائل سن شیخوخت مین مرتب کیا ہے۔ پس اگر قاآنی سے گلستان کا پورا پورا تتبع نہو سکا تو کچہہ تعجب نہین کیونکہ ایک ایسی کتاب کا سرانجام کرنا جسکی بنا محض حکمت اور تجربت پر ہونی چاہئیے شیخ کے مقابل مین ایک نوجوان ناتجربہ کار کی طاقت سے باہر تھا۔ بلکہ اگر میری رائے غلط نہو تو بڑی عمر مین قاآنی سے گلستان کا جواب اتنا بہی لکھا جانا مشکل تھا کیونکہ اوسکی تمام عمر قصیدہ گوئی مین صرف ہوئی ہے جسمین محض خیالی ڈھکوسلے باندہنے اور الفاظ تراشی کے سوا حقیقت اور واقفیت سے کچہہ غرض نہین ہوتی پس<noinclude></noinclude>
iuvk6gb48msaon8z47dnnme6h4rgoo6
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/103
250
13867
35755
35617
2026-08-19T13:16:04Z
BalramBodhi
60
35755
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جسقدر قصیدہ گوئی مین اُسکو مشق و مہارت زیادہ بڑہتی جاتی تہی اوسی قدر بیان حقائق اور واقعہ نگاری کا ملکہ اوس سے سلب ہوتا جاتا تھا۔ قاآنی نے بہی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت دلچسپ اور دلاویز کرنے مین بہت کوشش کی ہے مگر سوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہزل اور فحش سے بھر دیا اور چند آزاد اور بیباک نوجوانون کی ضیافتِ طبع کا سامان مہیا کر دیا اور کچہہ اُس سے نہین ہو سکا۔ خاتمہ کتاب کے سوا حبس مین اُسنے ابنائے ملوک کیلئے پند پند کر کے کچہہ نصیہتین لکہی
ہین تمام کتاب مین وہ حکایتون کی بنیاد اکسر نہایت غلیظ فحش یا نحیف ہزل پر رکہتا ہے جس کے پڑہنے سے شرم آتی ہے اور طرہ یہ کہ پہر اُس سے نتائج عارفانہ اور متصوفانہ استخراز کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پریشان کا خاتمہ جس مین شوخی و ظرافت کا کچہہ سامان نہین ہے
باب ہشتم گلستان کے مقابلہ مین نہایت پہیکا اور بے مزہ معلوم ہوتا ہے۔ تمام خاتمے مین شاز و ناور ہی کوئی مضمون ایسا ہوگا جس مین کوئی ندرت پائی جائے۔ عبارت بیشک عمدہ ہے مگر شیخ کی جادو بیانی کا کہین نشان نہین پایا جاتا۔ عام نصائح جو خاتمے مین درج ہین وہ اِس قبیل کے ہین پند بادشاه باید بہ سخن سخن چینیان اعتماد نکند پند بادشاه باید دین را تو قیرکند و دشمنان دین را تحقیر فرماید پند بادشاه باید از خدا غافل نماند تا خدای از و غافل نباشد پند
بادشاہان را در نظام ممالک دست دُر افشان بکارست و تیغ سرافشان بیت
ت که بدان دوستان خود را هم تاکه این دشمنان خود پریشان را گمین عبارت مین
اس سے زیادہ حسن پیدا کرنا چاہتا ہے وہان حقیقت سے دور جا پڑتا ہے۔ مثلاً پسند
ا بیان کند که افرادی که تواضع صفت اتقی است و تکر برفت اشتیا - درس گفته ام<noinclude></noinclude>
37mfsficas6zw2caao9exisuhy0h4ne
تبادلۂ خیال صارف:Asimali2003
3
13917
35756
35752
2026-08-20T02:43:31Z
Mbee-wiki
55
/* Page layout */ جواب دیں
35756
wikitext
text/x-wiki
== Page layout ==
Salam Asim Bhai :) Thank you for your beautiful edit on Tota Kahani. I'd like to point out that based on [[en:Wikisource:Style guide#Formatting|the formatting guide]] anything complex aren't necessary to be included in Wikisource, as the main aim is just to create a digitalised page. I hope you don't mind that I moved some of your edits :)
[[صارف:Mbee-wiki|Mbee-wiki]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Mbee-wiki|تبادلۂ خیال]]) 04:15، 19 اگست 2026ء (UTC)
:Wa Alaikum Salam Bhai :) Haha, no worries! I actually added the border because in one of the Wiki programs I attended, we were encouraged to make the pages as appealing as possible while keeping them as close and identical to the actual book pages as we could. So I was trying to preserve that visual feel and make the reading experience on Wikisource a bit more pleasant, with properly formatted pages.
:I wasn't trying to make the page difficult to read or add unnecessary complexity at all, the intention was simply to make it resemble the original book while keeping it clean and readable. :) [[صارف:Asimali2003|Asimali2003]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Asimali2003|تبادلۂ خیال]]) 06:12، 19 اگست 2026ء (UTC)
::Oh, interesting! I think different countries have different approaches, because in Indonesia we are encouraged to make the pages simpler as it will go through the transclusion then it should be more complex. That is why I said that above. Your edits is good actually, I only moved the placement to the header and the footer so it'll smoothly rendered in the transclusion process. Cheers! :) [[صارف:Mbee-wiki|Mbee-wiki]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Mbee-wiki|تبادلۂ خیال]]) 02:43، 20 اگست 2026ء (UTC)
tfnorgz6g76ip05jsc7l2h9oyutf5xf
صفحہ:Alif Layla (1847).pdf/19
250
13918
35761
2026-08-20T05:05:58Z
Tamanpreet Kaur
81
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”4 بعد وہ ہیں بغیر اے کی اوسکو طاری ہوئی اور دل برا و سکے ایسا صدر به گذر تا تمہا جیسا کہ کوئی حالت نزع مین مو کسی وقت به کر ماری اور یونانی ملا کی اوس کے دل سے بھولتی تی اگر این سرو کینیا کا راتوں کو نیند ناتی تھی اس عمر و صے میں جان او سکی جاتی تھی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35761
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{rh||7}}</noinclude>4
بعد وہ ہیں بغیر اے کی اوسکو طاری ہوئی اور دل برا و سکے ایسا صدر به گذر تا تمہا جیسا کہ
کوئی حالت نزع مین مو کسی وقت به کر ماری اور یونانی ملا کی اوس کے دل سے بھولتی
تی اگر این سرو کینیا کا راتوں کو نیند ناتی تھی اس عمر و صے میں جان او سکی جاتی تھی پاناک
کہ رفتہ رفتہ وہ سب آثار خون کے اوس سکے برے سے عیان ہونے لگے شہریار
مشاہدہ اس حال کے تصور کیا کہ کیا سب کی جو ا ہرزمان کو نینی و انقدر خاطر داری از پایه
کے کو نسبت اور سکے مہدویت ربانی کو خوار کی خاطر این کتا
شاید موجب اس پیج و حال کا دوری اوس شہر کی یا فراق مکہ ہی کہ جو اوسکی لی بلی کی چنے
او سکو بلاگر نا حق ایسے رنج والم میں ڈالا اب بہتر کی کہ اوسکو سوغات اینجا ئف دے کر
جلد یہان سے رخصت سمرقند کو کردن تا رفع ملمال او سکا ہو القصد اوسے چین نصیر قیمتی
ہند کی کشتیوں میں لگا کر ہو سکے پاس تھیں اور بے تکلف سے اوسکی ضیافت کی اور
اد سکے خوش کرنے کے لئے اقسام طرح کے تاشے اور ناچ اور رنگ کر رائے
گریپ سامان ضیافت اور تماشے موجب بادی رنج اسکے کے ہوئے اور مطلق خاطر ویکی
بشاش ہوئی اس مابین میں ایمان چہار نے اپنے اہل کاروں سے فرمایاس نے ناہی کہ کیا
ھی اس شہر سے دودن کی راہ پر بی بہت جانو اوسین مهم مرن و غیره که این قصد و یان شکار
کھیلنے کا ہی جلد توسفرکی تیاری کرو اور اس بیان کو ہی ترغیب دی که بر یک به جلو مهار این سکا
ہینے میں لے گیا اور نہیں فرحت حاصل جگی شاہان نے نذر نا سازی فراج کا کرسکے
و میں رہنے کی اجازت لی ہر ا سے کہا کہ اگر مہاری مرضی ہی کی تو کچھ مضائقہ نہیں
ر ہو اور آپ اپنے ارکان دولت کے سابقہ طرف شکار گاہ کے روانہ ہوا شا ہرزمان نے
اندر دروازے اپنے کمرے کے بند کرنے اور کھڑکی میں کہ جہان سے باغ بادشاکیا
ا ایها ایران در نما جانوزون خوش انسان سے خفقان دور ہو مگر جب زشت کرد دارد
بی بی کے خیال آجانا بنا کر بالی من این به سمتی بر روا العرض کیه فنی و تخار اوس مکانی<noinclude></noinclude>
f4jlqsiqf712tmyqauab2w18o0nsc4r
صفحہ:Nishtar-e-Ishq.pdf/5
250
13919
35762
2026-08-20T05:07:12Z
Tamanpreet Kaur
81
/* بدون متن */
35762
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Tamanpreet Kaur" />{{rh||5}}</noinclude><noinclude></noinclude>
91btm81zdqlgkfrw12viubf3fb2bfxa
صفحہ:Nishtar-e-Ishq.pdf/6
250
13920
35763
2026-08-20T05:07:28Z
Tamanpreet Kaur
81
/* بدون متن */
35763
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Tamanpreet Kaur" />{{rh||6}}</noinclude><noinclude></noinclude>
eehrh9dbe62im6uu19bwf2gcune9k0i
صفحہ:Nishtar-e-Ishq.pdf/7
250
13921
35764
2026-08-20T05:08:21Z
Tamanpreet Kaur
81
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”Rece from secty at rond Muchtar-i. Ishte preserve. 29 (Madu) 57578 29. ند و بیشتر نخفق مسطور مطبع ا ا ا ا ا ا ا اور شرار تمرین ایک قصہ ہی عنون کا درمیان ایک عورت خوبصورت اور جوان رعنای خوش سورت کی نیت کی اسکوات محمد عمر علیخان خلف نواب محمداس ایمان بیا در والی محمد گده با سوده...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35764
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{rh||7}}</noinclude>Rece from secty at rond
Muchtar-i. Ishte
preserve.
29
(Madu)
57578
29.
ند و بیشتر نخفق مسطور مطبع
ا ا ا ا ا ا ا اور شرار تمرین
ایک قصہ ہی عنون کا درمیان ایک عورت خوبصورت اور
جوان رعنای خوش سورت کی نیت کی اسکوات
محمد عمر علیخان خلف نواب محمداس ایمان بیا در والی
محمد گده با سوده في فقط<noinclude></noinclude>
dmftcbh3k9ep89z18ztw0ka73lyhgda
صفحہ:Nishtar-e-Ishq.pdf/8
250
13922
35765
2026-08-20T05:08:38Z
Tamanpreet Kaur
81
/* بدون متن */
35765
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Tamanpreet Kaur" />{{rh||8}}</noinclude><noinclude></noinclude>
e3scdfycbojxnzulnserl776fhdtpv1
صفحہ:Nishtar-e-Ishq.pdf/9
250
13923
35766
2026-08-20T05:08:50Z
Tamanpreet Kaur
81
/* بدون متن */
35766
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Tamanpreet Kaur" />{{rh||9}}</noinclude><noinclude></noinclude>
3i2bjoprtcz7u66kctidtlozbb6ocuo