ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.16 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/25 250 12248 35769 35598 2026-08-21T02:28:15Z Kaur Jatinder Haryau 52 35769 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|۲۳|قصے کا شروع|}}</noinclude>سمجھ کر دل کو اِس غفلت دنياوی سے ہشیار رکھے.اور عبرت سے رو وہے۔ اور خدا کی قدرت کو دیکھے۔ کہ مجھ سے آگے کیسے کیسے صاحب ملک و خزانه اِس زمین پر پیدا ہوئے! لیکن آسمان نے سب کو اپنی گردش مین لا کر خاک میں ملا دیا. یہ کہاوت ہی۔ {{Block center|<poem>چلتی چکی دیکھ کر دیا کبیرا رو دو پاٹن کے بیچ آ - ثابت گیا نہ کو</poem>}} اب جو دیکھۓ سوائے ایک مٹی کے دھیر کے اُن کا کچھ نشان باقی نہین رہا۔ اور سب دولت دنیا- گھر بار- آل اولاد- آشنا دوست- نوکر چاکر- ہاتھی گھوڑے- چھوڑ کر اکیلے پڑے ہین. یہ سب ان کے کچھ کام نہ آیا۔ بلکہ اب کوئی نام بھی نہین جانتا کہ یے کون تھے۔ اور قبر کے اندر کا احوال معلوم نہین کہ کیڑے-مکوڑے چیونٹے-سانپ اُن کو کھا گئے۔ یا ان پر کیا بیتی۔ اور خدا سے کیسی بنی. یے باتین اپنے دل مین سوچ کر ساری دنیا کو پیکھنے کا کھیل جانے. تب اسکے دل کا غنچہ ہمیشہ شگفتہ رہیگا۔ کسو حالت مین<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 83xarrpgrpo289dej9yzieakv7e2zpn صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/28 250 12251 35770 35605 2026-08-21T03:18:21Z Kaur Jatinder Haryau 52 35770 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||قصے کا شروع|(۲۶)}}</noinclude>اور تیری اُمید کا سوکھا درخت اِنکی توجہ سے ہرا ہو کر پھلیگا. اِنکی خدمت میں چلکر اپنا احوال کہہ۔ اور مجلس کا شریک ہو۔ شاید تجھ پر رحم کھا کر دعا کریں جو بے نیاز کے یہاں قبول ہو. یہ ارادہ کر کر چاہا کہ قدم آگے دھرے۔ وہیں عقل نے سمجھایا کہ اے بےوقوف جلدی نہ کر- زرہ دیکھ لے- تجھے کیا معلوم ہے کہ یے کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ اور کدھر جاتے ہیں؟ کیا جانیں یہ دیوہین یا غول بیابانی ہیں۔ کہ آدمی کی صورت بنکر باہم مل بیٹھے ہیں؟ بہر صورت جلدی کرنا اور اُنکے درمیان جا کر مُخلّ ہو ہونا خوب نہیں. ابھی ایک گوشے میں چھپ کر حقیقت ان درویشوں کی جاننا چاہئے. آخر پادشاہ نے یہی کیا کہ ایک کونے میں اُس مکان کے چُپکا جا بیٹھا کہ کسو کو اُسکے آنے کی آہٹ کی خبر نہ ہوئی۔ اور اپنا دھیان اُن کی طرف لگایا کہ دیکھئے آپس میں کیا بات چیت کرتے ہیں. اتفاقاً ایک فقیر کو چھینک آئی۔ شکر خدا کا کیا۔ وہ تبنون قلندر اُس کی آواز سے چونک پڑتے۔ چراغ کو اُسکایا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 6hcno91k9x41hk3s0mopgyh6eldmgye صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/40 250 13114 35774 32862 2026-08-21T07:57:17Z Taranpreet Goswami 90 35774 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی مین بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سے سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے رویا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث مین جانتا ہون اور جس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتال چور نے جی مین بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہین جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہان گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا {{center|'''چودہوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ بکرم کسماوتی نام ایک نگر ہے وہان کا سوبچار نام راجہ جسکی بیٹی کا نام چندر پربھا تھا جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دِن بسنت رت مین سکھیون کو ساتھ لے سیر باغ کو گئی وہان زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس بیس کا بہت خوبصورت منسوی نام کہین سے پھرتا ہوا اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سو رہا تھا راجہ کے لوگون نے آ اس باڑی مین زنانے کا بندوبست کیا پر اتفاقاً اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے سوتا رہا اور راج کنیان اپنی سہیلیون سمیت باغ مین داخل ہوئی سہیلیون کے ساتھ سیر تماشا دیکھتی ہوئی کہان آتی ہے کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائون کی آہٹ سے اٹھ بٹھا دونون کی چار نظرین ہوئین اور کام دیو کے ایسے بس ہوۓ کہ ادھر برہمن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا ادھر بے سُدہ ہو راج کنیا کے پائون کاپنے لگے پر وہین اسے سکھیون نے ہاتھون ہاتھ تھام لیا آخرکار {{center|'''چندر بھان کا سیر باغ کو سکھیون سمیت جانا اور ایک برہمن کا درختونکی آڑ سے اسے دیکھکر غش ہونا'''}}<noinclude></noinclude> 605vlebrilc76ffkrbsdvohxbc77x1d صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/159 250 13134 35776 33136 2026-08-21T09:51:49Z Satdeep Gill 85 /* Not proofread */ 35776 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>(۴) فریب سہ پہر کا وقت تھا۔ رام اور سیتا کٹی کے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ کہ یکایک ایک نہایت خوبصورت ہرن سامنے کلیلیں کرتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ اتنا خوبصورت ، اتنا خوش رنگ تھا کہ سیتا اُسے دیکھ کر ریجھ گئیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اس ہرن کے بدن میں ہیرے جڑے ہوئے ہیں ۔ رام چندر سے بولیں ' دیکھے کیسا خوبصورت ہرن ہے ! لکشمن کو اُس وقت خیال آیا کہ ہرن اس رنگ روپ کا نہیں ہوتا ۔ ضرور کوئی نہ کوئی فتنہ ہے ۔ مگر اس خوف ہے کہ رام چندر شاید انہیں شکی بجھیں سے کچھ نہیں کہا ۔ ہاں دل میں منا رہے تھے<noinclude></noinclude> ltiwh1g82oiyueowb8rucyvako1txlq صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/277 250 13697 35771 34969 2026-08-21T04:12:42Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35771 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>سوا اور کوئی دوسرا مددگار نہیں نظر آتا '. یہ سُنتے ہی کمبھ کرن سنبھل کر اُٹھ بیٹھا ہتھیار باندھے اور میدان کی طرف چل کھڑا ہُوأ ۔ اُسے میدان میں دیکھ کر ہنومان انگد ، سگریو سب کے سب دہل اُٹھے ۔ آدمی کیا" خاصا دیو تھا ۔ سپاہی تو اُس کی خوفناک صورت ہی دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کتنے ہی سرداروں کو اُس نے زخمی کر دیا ۔ آخر رامچندر خود اُس سے لڑنے کو تیار ہوئے ۔ انہیں دیکھتے ہی کمبھ کرن نے بھالے کا وار کیا ۔ مگر رامچندر نے وار خالی دیا اور دو تیر اتنی پھرْتی سے چلائے کہ اُس کے دونو ہاتھ کٹ گئے ۔ تیسرا تیر اُس کے سینہ میں لگا۔ کام تمام ہو گیا ۔ راکشس فوج نے اپنے سردار کو گرتے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ ادھر رامچندر کی فوج میں خوشی منائی جانے لگی۔ {{gap}}راون کو جب یہ خبر مِلی تو سر پیٹ کر رونے لگا۔ کُمبھ کرن سے اُسے بڑی اُمّید تھی ۔ وہ خاک میں<noinclude></noinclude> emlnw53veyl72o30bxghp0kub11kghl اشاریہ:Padmavat - Malik Muhammad Jayasi.pdf 252 13799 35775 35222 2026-08-21T09:24:30Z Satdeep Gill 85 35775 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=پدماوت |Language=ur |Volume= |Author= |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher= |Address= |Year= |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=1 |Progress=C |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="کور" 2="1" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} qrbak54od1tsu7t7m0q14xjh5h9qvma صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/103 250 13867 35772 35755 2026-08-21T06:25:24Z Charan Gill 46 35772 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جسقدر قصیدہ گوئی مین اُسکو مشق و مہارت زیادہ بڑہتی جاتی تہی اوسی قدر بیان حقائق اور واقعہ نگاری کا ملکہ اوس سے سلب ہوتا جاتا تھا۔ قاآنی نے بہی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت دلچسپ اور دلاویز کرنے مین بہت کوشش کی ہے مگر سوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہزل اور فحش سے بھر دیا اور چند آزاد اور بیباک نوجوانون کی ضیافتِ طبع کا سامان مہیا کر دیا اور کچہہ اُس سے نہین ہو سکا۔ خاتمہ کتاب کے سوا حبس مین اُسنے ابنائے ملوک کیلئے پند پند کر کے کچہہ نصیہتین لکہی ہین تمام کتاب مین وہ حکایتون کی بنیاد اکسر نہایت غلیظ فحش یا نحیف ہزل پر رکہتا ہے جس کے پڑہنے سے شرم آتی ہے اور طرہ یہ کہ پہر اُس سے نتائج عارفانہ اور متصوفانہ استخراز کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پریشان کا خاتمہ جس مین شوخی و ظرافت کا کچہہ سامان نہین ہے باب ہشتم گلستان کے مقابلہ مین نہایت پہیکا اور بے مزہ معلوم ہوتا ہے۔ تمام خاتمے مین شاز و ناور ہی کوئی مضمون ایسا ہوگا جس مین کوئی ندرت پائی جائے۔ عبارت بیشک عمدہ ہے مگر شیخ کی جادو بیانی کا کہین نشان نہین پایا جاتا۔ عام نصائح جو خاتمے مین درج ہین وہ اِس قبیل کے ہین پند بادشاه باید بہ سخن سخن چینیان اعتماد نکند پند بادشاه باید دین را تو قیرکند و دشمنان دین را تحقیر فرماید پند بادشاه باید از خدا غافل نماند تا خدای از و غافل نباشد پند بادشاہان را در نظام ممالک دست دُر افشان بکارست و تیغ سرافشان بیت "تا که بدان دوستان شوند فاهم۔ تا که بدین دشمنان شوند پریشان" اور اگر کہین عبارت مین اس سے زیادہ حسن پیدا کرنا چاہتا ہے وہان حقیقت سے دور جا پڑتا ہے۔ مثلاً پسند ا بیان کند که افرادی که تواضع صفت اتقی است و تکر برفت اشتیا - درس گفته ام<noinclude></noinclude> nxo4b9f73bg5pybwwkwn82hdvnskofj 35773 35772 2026-08-21T06:49:28Z Charan Gill 46 35773 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جسقدر قصیدہ گوئی مین اُسکو مشق و مہارت زیادہ بڑہتی جاتی تہی اوسی قدر بیان حقائق اور واقعہ نگاری کا ملکہ اوس سے سلب ہوتا جاتا تھا۔ قاآنی نے بہی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت دلچسپ اور دلاویز کرنے مین بہت کوشش کی ہے مگر سوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہزل اور فحش سے بھر دیا اور چند آزاد اور بیباک نوجوانون کی ضیافتِ طبع کا سامان مہیا کر دیا اور کچہہ اُس سے نہین ہو سکا۔ خاتمہ کتاب کے سوا حبس مین اُسنے ابنائے ملوک کیلئے پند پند کر کے کچہہ نصیہتین لکہی ہین تمام کتاب مین وہ حکایتون کی بنیاد اکسر نہایت غلیظ فحش یا نحیف ہزل پر رکہتا ہے جس کے پڑہنے سے شرم آتی ہے اور طرہ یہ کہ پہر اُس سے نتائج عارفانہ اور متصوفانہ استخراز کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پریشان کا خاتمہ جس مین شوخی و ظرافت کا کچہہ سامان نہین ہے باب ہشتم گلستان کے مقابلہ مین نہایت پہیکا اور بے مزہ معلوم ہوتا ہے۔ تمام خاتمے مین شاز و ناور ہی کوئی مضمون ایسا ہوگا جس مین کوئی ندرت پائی جائے۔ عبارت بیشک عمدہ ہے مگر شیخ کی جادو بیانی کا کہین نشان نہین پایا جاتا۔ عام نصائح جو خاتمے مین درج ہین وہ اِس قبیل کے ہین پند بادشاه باید بہ سخن سخن چینیان اعتماد نکند پند بادشاه باید دین را تو قیرکند و دشمنان دین را تحقیر فرماید پند بادشاه باید از خدا غافل نماند تا خدای از و غافل نباشد پند بادشاہان را در نظام ممالک دست دُر افشان بکارست و تیغ سرافشان بیت "تا که بدان دوستان شوند فاهم۔ تا که بدین دشمنان شوند پریشان" اور اگر کہین عبارت مین اس سے زیادہ حسن پیدا کرنا چاہتا ہے وہان حقیقت سے دور جا پڑتا ہے۔ مثلاً پند بادشاہ باید تواضع کند و تکبر نفرماید که تواضع صفت اتقی است و تکر برفت اشتیا - درس گفته ام<noinclude></noinclude> od68y0mkfzsdkpkhk9u6ikj714vwp21 35777 35773 2026-08-21T11:06:34Z Charan Gill 46 35777 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جسقدر قصیدہ گوئی مین اُسکو مشق و مہارت زیادہ بڑہتی جاتی تہی اوسی قدر بیان حقائق اور واقعہ نگاری کا ملکہ اوس سے سلب ہوتا جاتا تھا۔ قاآنی نے بہی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت دلچسپ اور دلاویز کرنے مین بہت کوشش کی ہے مگر سوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہزل اور فحش سے بھر دیا اور چند آزاد اور بیباک نوجوانون کی ضیافتِ طبع کا سامان مہیا کر دیا اور کچہہ اُس سے نہین ہو سکا۔ خاتمہ کتاب کے سوا حبس مین اُسنے ابنائے ملوک کیلئے پند پند کر کے کچہہ نصیہتین لکہی ہین تمام کتاب مین وہ حکایتون کی بنیاد اکثر نہایت غلیظ فحش یا نحیف ہزل پر رکہتا ہے جس کے پڑہنے سے شرم آتی ہے اور طرہ یہ کہ پہر اُس سے نتائج عارفانہ اور متصوفانہ استخراز کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پریشان کا خاتمہ جس مین شوخی و ظرافت کا کچہہ سامان نہین ہے باب ہشتم گلستان کے مقابلہ مین نہایت پہیکا اور بے مزہ معلوم ہوتا ہے۔ تمام خاتمے مین شاز و ناور ہی کوئی مضمون ایسا ہوگا جس مین کوئی ندرت پائی جائے۔ عبارت بیشک عمدہ ہے مگر شیخ کی جادو بیانی کا کہین نشان نہین پایا جاتا۔ عام نصائح جو خاتمے مین درج ہین وہ اِس قبیل کے ہین پند بادشاه باید بہ سخن سخن چینیان اعتماد نکند پند بادشاه باید دین را تو قیرکند و دشمنان دین را تحقیر فرماید '''پند''' بادشاه باید از خدا غافل نماند تا خدای از و غافل نباشد '''پند''' بادشاہان را در نظام ممالک دست دُر افشان بکارست و تیغ سرافشان '''بیت''' "تا که بدان دوستان شوند فاهم۔ تا که بدین دشمنان شوند پریشان" اور اگر کہین عبارت مین اس سے زیادہ حسن پیدا کرنا چاہتا ہے وہان حقیقت سے دور جا پڑتا ہے۔ مثلاً پند بادشاہ باید تواضع کند و تکبر نفرماید که تواضع صفت اتقی است و تکر برفت اشتیا - ومن گفته ام<noinclude></noinclude> f8gch5jdkvgmjjri3egdcgbdsuy436u صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/104 250 13868 35778 35618 2026-08-21T11:18:18Z Charan Gill 46 35778 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اہل تکبر را در نطفہ غش ست چو سرکشی صفت آتش آتش ست و شیطان از آتش ست و اہل تواضع را نطقه پاکست چه افتادگی صفت خاکست و آدم از خاک بود - اِس پند کے پہلے حصّے مین ظاہر ہے کہ کوئی اچھوتا مضمون نہین ہے اور دوسرے حصّے مین جواس سے کم ندرت پیدا کرنی چاہین ہے وہ محض ایک شاعرانہ خیال ہے اور وہ ہی اچھی طرح بیان نہین ہوسکتا۔ اسی مضمون کو شیخ علیہ الرحمہ نے بوستان مین اسلی بیان کیا ہے 2 از خاک آفریت ندارند پاک مون سے بند که افتادگی کن چو خاک مرین وجهان سوزه سرکش مباش از خاک آفرین دست آتش سباش جو گروه کشید انش به دناک بیچارگی من بینداخت خاک جوان سرفرازی نموده، این کمی ازمان دلیو کردند از بین آدمی البتہ جو عذر کر تا آنی نے پریشان کے دیا سپنے مین کیا ہے اور گلستان کے مقابلے مین کتاب لکھنے سے پتا نہ ظاہر کیا ہے اس سے اسکا نہا یت انفصان اور گلستان کی قدر اسی ہوتی ہے اوریہ معلوم ہوتا ہے کہ اسنے جاب سے نہایت سخت جبرسے پریشان کے کے باقی مایا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ایک نہایت عزیز دوست نے اصرار کیا کہ گلستان کی طرز پر نظر نر مین ایک کتاب لکھنی چاہیئے۔ مین نےکہا بھائ کویت کا امین اورشیخ کی طاری کتاب کھنے کا ارادہ کردن با سیرت نبوت کا دھونی کرکے کذاب کے سوا اور کچھ خطاب نہین بایا مین نے ماناکہ جگنورات کو چمکتا ہے لیکن کیا وہ چاندنی کی برابری کرسکتا ہے ؟ شیخ کی کستان ایک باغ ہے جس کے باہرون کی تھی کے بڑا اون بیشت نظام مین اور اہل سنی کی جات<noinclude></noinclude> bjmrxsjequnq7brq8ufdcbxi1ke2zl8