ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.16
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/19
250
12122
35781
27564
2026-08-21T15:34:10Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35781
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>حفاظت کریں اور اُن راکْشسوں کو ہلاک
کر دیں ۔ دس دِن میں ہمارا یگّیہ پُورا
ہو جائیگا ۔ رام کے سِوا اور کِسی سے یِِہ
کام نہ ہوگا نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دشْرتھ بڑی مُشْکِل میں پڑ گئے
رام کی جُدائی اِنْہیں ایک لمحہ کے لِئے
بھی گوارا نہ تھی ۔ یِہ اندْیشہ بھی ہُوا کِہ
لڑْکے ابھی ناتجْرِبہ کار ہیں۔ خَوفْناک راکشسوں
سے بھلا کیا مقابلہ کر سکیْنگے ۔ ڈرْتے ہُوئے
بولے ۔ 'اے پاک رشی، آپ کا حُکْم سر اَور
آنْکھوں پر ۔ مگر ان کم عُمْر لڑْکوں کو
راکْشسوں کے مقابلے میں بھیجتے ہُوئے
مُجھے خَوف ہوتا ہے ۔ اِنْہیں ابھی تک
میداِن جنْگ کا تجْرِبہ نہیں ۔ مَیں خُوِد
اپنی ساری فَوج لے کر آپ کے یگیہ
کی ِحفاظت کرنے چلُُونْگا ۔ لڑْکوں کو ساتھ
بھیجْنے کے لِئے مُجھے مجْبور نہ کِیجِئے. {{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
qvaktk4uo8tmpm1s0n5x5itus3xe6mn
35782
35781
2026-08-21T15:35:20Z
Kaur.gurmel
74
35782
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>حفاظت کریں اور اُن راکْشسوں کو ہلاک
کر دیں ۔ دس دِن میں ہمارا یگّیہ پُورا
ہو جائیگا ۔ رام کے سِوا اور کِسی سے یِِہ
کام نہ ہوگا نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دشْرتھ بڑی مُشْکِل میں پڑ گئے
رام کی جُدائی اِنْہیں ایک لمحہ کے لِئے
بھی گوارا نہ تھی ۔ یِہ اندْیشہ بھی ہُوا کِہ
لڑْکے ابھی ناتجْرِبہ کار ہیں۔ خَوفْناک راکشسوں
سے بھلا کیا مقابلہ کر سکیْنگے ۔ ڈرْتے ہُوئے
بولے ۔ 'اے پاک رشی، آپ کا حُکْم سر اَور
آنْکھوں پر ۔ مگر ان کم عُمْر لڑْکوں کو
راکْشسوں کے مقابلے میں بھیجتے ہُوئے
مُجھے خَوف ہوتا ہے ۔ اِنْہیں ابھی تک
میداِن جنْگ کا تجْرِبہ نہیں ۔ مَیں خُوِد
اپنی ساری فَوج لے کر آپ کے یگیہ
کی ِحفاظت کرنے چلُُونْگا ۔ لڑْکوں کو ساتھ
بھیجْنے کے لِئے مُجھے مجْبور نہ کِیجِئے.
{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
jn5zsd401ihxulhxgf54io38ri951mn
35783
35782
2026-08-21T15:36:55Z
Kaur.gurmel
74
35783
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>حفاظت کریں اور اُن راکْشسوں کو ہلاک
کر دیں ۔ دس دِن میں ہمارا یگّیہ پُورا
ہو جائیگا ۔ رام کے سِوا اور کِسی سے یِِہ
کام نہ ہوگا نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دشْرتھ بڑی مُشْکِل میں پڑ گئے رام کی جُدائی اِنْہیں ایک لمحہ کے لِئے بھی گوارا نہ تھی ۔ یِہ اندْیشہ بھی ہُوا کِہ لڑْکے ابھی ناتجْرِبہ کار ہیں۔ خَوفْناک راکشسوں سے بھلا کیا مقابلہ کر سکیْنگے ۔ ڈرْتے ہُوئے
بولے ۔ 'اے پاک رشی، آپ کا حُکْم سر اَور آنْکھوں پر ۔ مگر ان کم عُمْر لڑْکوں کو راکْشسوں کے مقابلے میں بھیجتے ہُوئے مُجھے خَوف ہوتا ہے ۔ اِنْہیں ابھی تک
میداِن جنْگ کا تجْرِبہ نہیں ۔ مَیں خُوِد اپنی ساری فَوج لے کر آپ کے یگیہ کی ِحفاظت کرنے چلُُونْگا ۔ لڑْکوں کو ساتھ بھیجْنے کے لِئے مُجھے مجْبور نہ کِیجِئے.
{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
keraad8wq6mt6moaxmp2wup0zjyv6dt
35784
35783
2026-08-21T16:04:36Z
Kaur.gurmel
74
35784
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>حفاظت کریں اور اُن راکْشسوں کو ہلاک
کر دیں ۔ دس دِن میں ہمارا یگّیہ پُورا
ہو جائیگا ۔ رام کے سِوا اور کِسی سے یِِہ
کام نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دشْرتھ بڑی مُشْکِل میں پڑ گئے رام کی جُدائی اِنْہیں ایک لمحہ کے لِئے بھی گوارا نہ تھی ۔ یِہ اندْیشہ بھی ہُوا کِہ لڑْکے ابھی ناتجْرِبہ کار ہیں۔ خَوفْناک راکشسوں سے بھلا کیا مقابلہ کر سکیْنگے ۔ ڈرْتے ہُوئے
بولے ۔ 'اے پاک رشی، آپ کا حُکْم سر اَور آنْکھوں پر ۔ مگر ان کم عُمْر لڑْکوں کو راکْشسوں کے مقابلے میں بھیجتے ہُوئے مُجھے خَوف ہوتا ہے ۔ اِنْہیں ابھی تک
میدانِ جنْگ کا تجْرِبہ نہیں ۔ مَیں خُوِد اپنی ساری فَوج لے کر آپ کے یگیہ کی ِحفاظت کرنے چلُونْگا ۔ لڑْکوں کو ساتھ بھیجْنے کے لِئے مُجھے مجْبور نہ کِیجِئے.
{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
3zjyk3uik3xb2skth52slc0izz6dbzb
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/20
250
12139
35794
27739
2026-08-22T07:04:03Z
Kaur.gurmel
74
35794
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>وِشْوامِتْر ہنْس کر بولے ۔ 'مہاراج آپ
اِن لڑْکوں کو ابھی نِہیں جانْتے ۔ اِن میں
شیروں کی سی ہِمّت اور طاقت ہے ۔ مُجھے
پُورا یقین ہے کِہ یِہ راکشسوں کو مار
ڈالیْنگے ۔ ان کی طرف سے آپ بے خَوف
رہْئے ۔ اِن کا بال بھی باْنکا نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دسْرتھ پِھر کُچھ عذْر کرْنا چاہْتے
تھے ۔ مگر گوُرو وشسٹ کے سمْجھانے پر
ُوُہ راضی ہو گئے ۔ اَور دونو راْجکُماروں کو
بُلا کر رِشی وِشْوامِیتر کے ساتھ جانے کا حُکْم
دِیا ۔ رام چنْدر اَور لکْشمن یِہ اجازت پاکر
دِل میں بہُت خوُِش ہُوئے ۔ اپْنی جوانْمرْدی
کے اِظْہار کا ایسا اچّھا موقع اِنہیں پہلے
نہ مِلا تھا ۔ دونو نے جنگی لِباس پہنا ،
ہتھیار سجائے ۔ اور اپنی ماتاؤں سے
آشِیر باد لینے کے بعد راجہ دسرتھ کے
قدموں کو بوسہ دے کر خُوشی خُوشی وِیشوامِیتر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
1adag53t2qds8tdmi24763d7s1gp0e9
35795
35794
2026-08-22T07:09:46Z
Kaur.gurmel
74
35795
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>وِشْوامِتْر ہنْس کر بولے ۔ 'مہاراج آپ
اِن لڑْکوں کو ابھی نِہیں جانْتے ۔ اِن میں
شیروں کی سی ہِمّت اور طاقت ہے ۔ مُجھے
پُورا یقین ہے کِہ یِہ راکشسوں کو مار
ڈالیْنگے ۔ ان کی طرف سے آپ بے خَوف
رہْئے ۔ اِن کا بال بھی باْنکا نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دسْرتھ پِھر کُچھ عذْر کرْنا چاہْتے
تھے ۔ مگر گوُرو وشسٹ کے سمْجھانے پر
ُوُہ راضی ہو گئے ۔ اَور دونو راْجکُماروں کو
بُلا کر رِشی وِشْوامِیتر کے ساتھ جانے کا حُکْم
دِیا ۔ رام چنْدر اَور لکْشمن یِہ اجازت پاکر
دِل میں بہُت خوُِش ہُوئے ۔ اپْنی جوانْمرْدی
کے اِظْہار کا ایسا اچّھْا موقع اِنْہیں پہْلے
نہ مِلا تھا ۔ دونو نے جْنگی لِباس پہْنا ،
ہتھْیار سجائے ۔ اَور اپنی ماتاؤں سے
آشِیرباد لینے کے بعْد راجہ دسْرتھ کے
قدموں کو بوسہ دے کر خُوشی خُوِشی وِشْوامِتْر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
hbvbc54zjp1w41lqj3mlli2zygfbn4a
35796
35795
2026-08-22T07:53:19Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35796
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>وِشْوامِتْر ہنْس کر بولے ۔ 'مہاراج آپ
اِن لڑْکوں کو ابھی نِہیں جانْتے ۔ اِن میں
شیروں کی سی ہِمّت اور طاقت ہے ۔ مُجھے
پُورا یقین ہے کِہ یِہ راکشسوں کو مار
ڈالیْنگے ۔ ان کی طرف سے آپ بے خَوف
رہْئے ۔ اِن کا بال بھی باْنکا نہ ہوگا.
{{gap}}راجہ دسْرتھ پِھر کُچھ عُذْر کرْنا چاہْتے
تھے ۔ مگر گوُرو وشسٹ کے سمْجھانے پر
ُوُہ راضی ہو گئے ۔ اَور دونو راْجکُماروں کو
بُلا کر رِشی وِشْوامِیتر کے ساتھ جانے کا حُکْم
دِیا ۔ رام چنْدر اَور لکْشمن یِہ اجازت پاکر
دِل میں بہُت خوُِش ہُوئے ۔ اپْنی جوانْمرْدی
کے اِظْہار کا ایسا اچّھْا موقع اِنْہیں پہْلے
نہ مِلا تھا ۔ دونو نے جْنگی لِباس پہْنا ،
ہتھْیار سجائے ۔ اَور اپنی ماتاؤں سے
آشِیرباد لینے کے بعْد راجہ دسْرتھ کے
قدموں کو بوسہ دے کر خُوشی خُوِشی وِشْوامِتْر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
jndt55b8raobd37sl0xt42xbvrqh43z
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/278
250
13700
35789
35024
2026-08-22T04:30:56Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35789
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم
کرتا رہا :
{{Block center|(۴) '''میگھناد کا مارا جانا}'''}
{{gap}}دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرّہ تھا ۔ راون کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن منانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ میگھناد نے میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ 'میگھناد میں جانتا ہوں کہ طاقت اور ہمّت میں تم اپنا ثانی نہیں
رکھتے ، مگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صُلح کرلو۔<noinclude></noinclude>
byolyn6fiur8wrzell2vu4n0o7lq9um
35790
35789
2026-08-22T04:31:25Z
Tamanpreet Kaur
81
35790
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم
کرتا رہا :
{{Block center|(۴| '''میگھناد کا مارا جانا}'''}
{{gap}}دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرّہ تھا ۔ راون کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن منانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ میگھناد نے میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ 'میگھناد میں جانتا ہوں کہ طاقت اور ہمّت میں تم اپنا ثانی نہیں
رکھتے ، مگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صُلح کرلو۔<noinclude></noinclude>
cwvvqg1d6gkextfsohhbohmlj09qglb
35791
35790
2026-08-22T04:31:47Z
Tamanpreet Kaur
81
35791
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم
کرتا رہا :
{{Block center|(۴| '''میگھناد کا مارا جانا}'''}}
{{gap}}دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرّہ تھا ۔ راون کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن منانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ میگھناد نے میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ 'میگھناد میں جانتا ہوں کہ طاقت اور ہمّت میں تم اپنا ثانی نہیں
رکھتے ، مگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صُلح کرلو۔<noinclude></noinclude>
t08aw0qiagog7v3zeo6k9u8j1muoi1j
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/103
250
13867
35779
35777
2026-08-21T12:06:01Z
BalramBodhi
60
35779
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جسقدر قصیدہ گوئی مین اُسکو مشق و مہارت زیادہ بڑہتی جاتی تہی اوسی قدر بیان حقائق اور واقعہ نگاری کا ملکہ اوس سے سلب ہوتا جاتا تھا۔ قاآنی نے بہی گلستان کی طرح پریشان کی عبارت دلچسپ اور دلاویز کرنے مین بہت کوشش کی ہے مگر سوا اسکے کہ تمام کتاب کو ہزل اور فحش سے بھر دیا اور چند آزاد اور بیباک نوجوانون کی ضیافتِ طبع کا سامان مہیا کر دیا اور کچہہ اُس سے نہین ہو سکا۔ خاتمہ کتاب کے سوا حبس مین اُسنے ابنائے ملوک کیلئے پند پند کر کے کچہہ نصیہتین لکہی ہین تمام کتاب مین وہ حکایتون کی بنیاد اکثر نہایت غلیظ فحش یا نحیف ہزل پر رکہتا ہے جس کے پڑہنے سے شرم آتی ہے اور طرہ یہ کہ پہر اُس سے نتائج عارفانہ اور متصوفانہ استخراز کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پریشان کا خاتمہ جس مین شوخی و ظرافت کا کچہہ سامان نہین ہے باب ہشتم گلستان کے مقابلہ مین نہایت پہیکا اور بے مزہ معلوم ہوتا ہے۔ تمام خاتمے مین شاز و ناور ہی کوئی مضمون ایسا ہوگا جس مین کوئی ندرت پائی جائے۔ عبارت بیشک عمدہ ہے مگر شیخ کی جادو بیانی کا کہین نشان نہین پایا جاتا۔ عام نصائح جو خاتمے مین درج ہین وہ اِس قبیل کے ہین پند بادشاه باید بہ سخن سخن چینیان اعتماد نکند پند بادشاه باید دین را تو قیرکند و دشمنان دین را تحقیر فرماید '''پند''' بادشاه باید از خدا غافل نماند تا خدای از و غافل نباشد '''پند''' بادشاہان را در نظام ممالک دست دُر افشان بکارست و تیغ سرافشان '''بیت'''
"تا کہ بدان دوستان شوند فراہم۔ تا کہ بدین دشمنان شوند پریشان" اور اگر کہین عبارت مین اس سے زیادہ حسن پیدا کرنا چاہتا ہے وہان حقیقت سے دور جا پڑتا ہے۔ مثلاً پند بادشاہ باید تواضع کند و تکبر نفر ماید کہ تواضع صفتِ اتقیاست و تکبر سفت اشتیا۔ ومن گفتہام<noinclude></noinclude>
tsph8mr4e7frbnx1eisl2oojc7ved15
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/104
250
13868
35780
35778
2026-08-21T12:58:25Z
BalramBodhi
60
35780
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اہل تکبر را در نطفہ غش ست چو سرکشی صفت آتش ست و شیطان از آتش ست و اہل تواضع را نطفہ پاکست چہ افتادگی صفت خاکست و آدم از خاک بود ۔ اِس پند کے پہلے حصّے مین ظاہر ہے کہ کوئی اچھوتا مضمون نہین ہے اور دوسرے حصّے مین جو اُس نے کچہہ ندرت پیدا کرنی چاہی ہے وہ محض ایک شاعرانہ خیال ہے اور وہ بہی اچہی طرح بیان نہین ہو سکا۔ اسی مضمون کو شیخ علیہ الرحمتہ نے بوستان مین اسطرح بیان کیا ہے.
{{Multicol}}از خاک آفریدت خداوند پاک حریص و جہان سوز و سرکش مباش چو گردن کشید اتش ہولناک چوآن سرفرازی نموداین کمی
{{Multicol-break}}پساے بندہ افتادگی کن چو خاک از خاک آفریدندت آتش مباش بہ بیچارگی تن بینداخت خاک ازان دیو کردند ازین آدمی
{{Multicol-end}}
البتہ جو عذر کہ قاآنی نے پریشان کے دیاچے مین کیا ہے اور گلستان کے مقابلے مین کتاب لکھنے سے اپنا \\ ظاہر کیا ہے اُس سے اُسکا نہایت الضاف اور گلستان کی قدر شناسی ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا
ہے کہ اُسنے احباب کے نہایت سخت جبرے پریشان کے لکھنے پر قلم اُٹہایا تھا۔ وہ لکہتا ہے "کہ ایک نہایت عزیز دوست نے اصرار کیا کہ گلستان کی طرز پر پر نظم و نثر مین ایک کتاب لکہنی چاہیئے۔ مین نے کہا بھائ توبہ کر! مین! اور شیخ کی طرز پر کتاب لکھنے کا ارادہ کردن؟ \مسیرت\ بنوت کا دعوی کرکے کذاب کے سوا اور کچہہ خطاب نہین
پایا مین نے مانا کہ جگنو رات کو چمکتا ہے لیکن کیا وہ چاندنی کی برابری کر سکتا ہے؟ شیخ کی گلستان ایک باغ ہے جسکے بہ پھول کی پتی کے ہزارون بہشت غلام ہین اور اہل معنی کی جان<noinclude></noinclude>
csmrtepj9x4jjfhmf2q14fo4zxmbvbo
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/105
250
13869
35792
35619
2026-08-22T05:06:06Z
Charan Gill
46
35792
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>96
قیامت تک اس کی حیات بخش خوشبو سے زندہ ہے ۔ آخر جب اس نے نہ مانا اور میرے
پرواز مین شہباز کی برابری نہیں کر سکتی لیکن اسکو بھی چاروناچار اوڑنا ہی پڑتا ہے کہ
اب ہم مہندا ایسے فقرے گلستان اور پریشان سے انتخاب کر کے لکھتے
این بود من المعلم موت امین -
{{center|'''گلستان اور پریشان کا مقابلہ'''}}
{{Multicol}}
گلستان اے فرزند خل جباره انست
و غرب آسا گردن یعنی فجیع فراوان
کران مسلم کے راست
کر نے معین دارد
قطعه بر دخالت ایست قریب آهسته تر کن در شی
کریمیگویند ملاحان سرود
اگر باران بوستان نسب ارد
بہانے دید گرد و خشک روی
{{Multicol-break}}
'''پریشان''' داخل سرشیشه ایست و خارج
جو چند که آب شرتش هم در آنها جاری است
قطعلا شک جوان سر شهر مسدود شود جو کا ناشی
معاور اب شده ولی به هر چه این معنی امتون
را رعایت کند .
الینا خرج باندازه دل باد کرده آن نیستی
معلوم باشد و ال مرهوم استقلال
ای را دارد دارای ایراد و اشتم
قطعه
الا است آنکه حاجت اس موجود کو بکارت نیاید و مدام
شنیتی کے از رولان نشیند برفراز اسپ ستوم
{{Multicol-end}}<noinclude></noinclude>
rq5684r01x2qcptedvhimgualtrfrm4
35793
35792
2026-08-22T06:29:54Z
BalramBodhi
60
35793
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>قیامت تک اس کی حیات بخش خوشبو سے زندہ ہے۔ آخر جب اس نے نہ مانا اور میرے انکار سے اُسکا اسرار بڑہتا گیا تو مجبوراً کچہہ نظم و نثر اور جدّو ہزل ترتیب دی گئی اور یہ سمجہا گیا کہ اگرچہ چڑیا پرواز مین شہباز کی برابری نہین کر سکتی لیکن اسکو بہی چار و ناچار اوڑنا ہی پڑتا ہے۔"
اب ہم چندا لیے فقرے گلستان اور پریشان سے انتخاب کر کے لکہتے ہین
جو سعّد المضمون ہین۔
{{center|'''گلستان اور پریشان کا مقابلہ'''}}
{{Multicol}}
گلستان۔ اے فرزند خل آباردانست
و فرج آسیاے گردان یعنی خرج فراوان
کردن مسلم کے راست کہ و خلے معین دارد
قطعہ \بر\ دخلت نیست خرج آہستہ تر کن
کہ میگویند ملاحان سرودے
اگر باران بوستان نبارد
بسالے دجلہ گرد و خشک رووی
{{Multicol-break}}
'''پریشان'''۔ دخل سرچشمہ ایست و مخارج
جوے چند کہ آب سرچشمہ در آنہا جاری است
ولاشک چون سرچشمہ مسدود شود جوہأ خشک
شودپس ہرکس آب در جو جاری خواہد سرچشمہ
را رعایت کند.
الیضاً۔ خرج باندازه دخل باید کردنه آنکہ خرج
معلوم باشد و دخل مرہوم چاین نا معقول
است کہ بار درپیش قدم باشد و بارگیر در حیز عدم باشد
{{center|'''قطعه'''}}
الا اے آنکہ حاجت ست موجود \کو\ بکارتے نیاید و خل معدوم
شنیدستی کے از بہر جو لان\\ نشیند برفرازِ اسپ \ستوم\
{{Multicol-end}}<noinclude></noinclude>
i0a63gu19nwj08nh6dalu18tclinwsd
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/145
250
13924
35785
2026-08-22T03:24:02Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”نعمت وقوف نیافته با اجات گدائی دارید هر کاری کو کر بیوی کے ناید محا وان کنید نیست درگیری مذکر مسلک کیست و با محال مناست که گر دیگ بیابان میشود چه گدایان پر شود و ا ہرگز دید که دست دعانے برکتف بسته - یا لبات منوائی در زندان نشسته یا پر کہ معلومے د...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35785
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نعمت وقوف نیافته با اجات گدائی دارید هر کاری کو کر بیوی کے ناید محا وان کنید
نیست درگیری مذکر مسلک کیست و با محال مناست که گر دیگ بیابان میشود چه گدایان
پر شود و ا ہرگز دید که دست دعانے برکتف بسته - یا لبات منوائی در زندان نشسته
یا پر کہ معلومے دریدہ یا کن از معلم بریده الا حالت درویشی - شیرمردان را بگم من درست
در نقب با گرفته اند و کعب را سفته ب با اغلب سیدستان دامن عصمت بمعصیت آلایند
دوکعب
به
د گرسنگان نان مردم با بنده بیست
چون سناب دارنده گرفته یافت و در کمین شهر صالح است یا خرد سال 1
گفتانه که من رحال ایشان رحمت می برم گفتم که با ایشان حسرت میخوری -
ہر بیڈرتے کہ براندے بدفع آن کوشید ہے ۔ وہر شا ہے کہ بخواند ہے ۔ بفر زمین پوشید ہے
تا نقد کیک بهشت در باخت وتر جعبه محبت همه مینداخت و ه ر باره گلاست فارست : ٢٩
اخر خار بر گنی مار و آنجا که درشها و راست - نهنگ مردم خوار لذت عیش
دنیا الدغه اصل در پیش است و نعیم بهشت را دیوار سکاره در پیش : به نظر دکنی و
ابستان
که بیده شک است و چوب خنگ همچنین در زمره تونگران شکرند و کفر در حلقه
در دویشان صابرند و نجور با ب با مقربان حضرت حق جل و علا تو نگرانند درویش سیرت -
درویشانند و نگم بهت مهمین تو نگران آنست
ک نم درویشان بخورد - دسین درویشان
این کار اونگران گیرد + + : نعم خالف است. براین دندان که بیان کردی قاصر است و
کا فرنعمت که برند و بندند و نخور ندونه هند - + + + قومی برین نمط هستند که شنیدی و طائفه<noinclude></noinclude>
th0dg6frhwge019gvc20qpm877n1jdj
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/146
250
13925
35786
2026-08-22T03:24:14Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”خوان نعمت شما ده وصلات گرم در داده وسیان بخدمت بسته وارد می توانم کنا اور طالب نامند و مغفرت - وصاحب دنیا و آخرت - م - شیخ اکثران کتابوں میں ایسی حکایتیں کہتا ہے جن مین باوجود وعملت بلیغ کے کسی قدر اطرافت و روش علمی کی بھی گنجایش ہو پھر اپنے حسن ب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35786
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>خوان نعمت شما ده وصلات
گرم در داده وسیان بخدمت بسته وارد می توانم کنا اور طالب
نامند و مغفرت - وصاحب دنیا و آخرت -
م - شیخ اکثران کتابوں میں ایسی حکایتیں کہتا ہے جن مین باوجود وعملت بلیغ کے کسی قدر
اطرافت و روش علمی کی بھی گنجایش ہو پھر اپنے حسن بیان سے تمام حکایت کو نہایت لطیف
طیع کر دیتا ہے۔ اور کبھی ایک سیدھی سادی مکایت میں کوئی گر فتره با سعی کنایه ازاد کر کے
میں نون می نگارتا ہے تاکہ پند در وعظ کی تلفی ظرافت کی چاشنی سے دور ہو جائے ۔ چنانچہ
گلستان کے خاتمہ میں اُس نے لکھا ہے ۔
غالب گفتار سعدی طرب انگیست و بیت آمیز دکوته نظران را بدین علمت زبان طعنه در از
که د مغز دماغ بوده برون و دو چراغ بے فائدہ، خوردن کار خرد سندان نیست ، ولیکن برا سکے
روشن صاحبدلان
که روی سخن در ایشانت پوشیده نماند که در دولتهای صافی در سلکی
عبارت کشید هاست و داروی تلج نصیحت بشهد ظرافت آمیخته تاریح مول انسان از دولت
بیل محروم نماند - جوظرافت اُس نے بوستان
اور گلستان میں برتی ہے وہ اکثر نہایت سنجید
اور مقبول ہے۔ البتہ کمی کمین اسکے توا سے ایسے الفاظ بھی ٹپک پڑے میں جو قانون شرور
سکے ایسے ایسے ہیں و
قال
حیا سے کسی قد رمتا و زمین ۔ لیکن ایک خلائیف طبع دور شوخ مزاج آدمی کا ایسے الفاظ سے بچنا
سی سوسائٹی میں ممکن ہے جس میں مرد عورت تقریبا تمام جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اور
جمان مردوں کو عورتوں کی مجالست اور ان کے تعلیم یافتہ ہونے کے سبب ہمیشہ تحریر و تقریر
مین زبان قابو میں رکھنی پڑتی ہے۔ درست طبیعت کی شوخی ایک ایسی چیز ہے جو بغیر سخت مزاحمت کے<noinclude></noinclude>
1dij8v36grm5tfehkk0bx4sqlsgwcds
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/147
250
13926
35787
2026-08-22T03:24:27Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کی طرح رنگ نہیں سکتی نکور رتاب نوری ندارد و دربندی سرانه دندان بر آرد جو اس قسم کی چند حکایتیں مثال کے طورپر بیان لکھی جاتی ہیں ۔ مثال 1 مهمان پیرس اور در دیار کر کمال فراوان داشت و فرزند خوبرو - شیپے حکایت کرد که مراد همه هم جز این فرزند بوده است...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35787
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی طرح رنگ نہیں سکتی
نکور رتاب نوری ندارد و دربندی سرانه دندان بر آرد
جو
اس قسم کی چند حکایتیں مثال کے طورپر بیان لکھی جاتی ہیں ۔
مثال 1 مهمان پیرس اور در دیار کر کمال فراوان داشت و فرزند خوبرو - شیپے
حکایت کرد که مراد همه هم جز این فرزند بوده است در خفته درین وادی زیارت گاه است
که مردمان بجا حجت خواستن آنجا روند- شبهای دراز در پائی آن درخت بحق نالید هام
تار این فرزند بخشید و با شنیدم که پسر با فیقان می گفت و چه بود اگرمن آن درخت را
با انست کجاست تا دا کرد که پر و دورتر میری خوایشا دی کنان که پسرم بالاست
پر طعنه آن
که به هر رتقرت العین - قطعه
سالها بر تو بگذره که گذر نکنی بری تربیت پدرت
تو بجائے پہنچ کردی نفیسه تا همسان چشم داری از پسرت
مثال ۲ - پیر مرد را حکایت کنند که دختری خواسته و مجره بگل آراسته و نخلوت با دان
نشته دوید و دل در دلبته بیشهای
دراز تخفت و بذلها و طیفها گفته باشد که موانست پیریدا
روخت نگیرد بالجملہ شے سے گفت در بخت بلندت یار بود شیر دولت بیدار که همبست
پیرے افتادی بخت - پروردہ جہاندیده - آرمیده - نیاک به جان آزموده سردو گم روزگار
چشیده - کرم صحبت بداند و شرح سود بجا آرد مشفق و مهربان خوش طبع وشیرین زبان اشنوی
تا توانم دولت دست آرم درسی از اریم نیا زارم<noinclude></noinclude>
2bbca9zsplrey7g9ldt21efpiul8v10
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/149
250
13927
35788
2026-08-22T03:25:06Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”شینیم کی باری سگ خوانده بود که از من بیند که دلش مانده بود بینداختم شانه کین استخوان نمی باید و دیگرم سنگ مخوان میندار چون سه که خود خورم که بود خداوند حلوا برم قناعت کن اے نفس برانڈ کے کہ سلطان دو رویش بینی سیکئے پر پیش خسرو بحاجت روی پر یکسو ف...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35788
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>شینیم کی باری سگ خوانده بود که از من بیند که دلش مانده بود
بینداختم شانه کین استخوان نمی باید و دیگرم سنگ مخوان
میندار چون سه که خود خورم که بود خداوند حلوا برم
قناعت کن اے نفس برانڈ کے کہ سلطان
دو رویش بینی سیکئے
پر پیش خسرو بحاجت روی پر یکسو فسادی علی خسروی
سمان پہلی بیت کے دوسرے مصرعے میں رحمت کا لفظ کنایہ جیسے نفرین اور اسکے مراف
ضافہ کے لایا گیا ہے۔ کیونکہ شعرا کے نزدیک راجیون کی منگیل - قیادت اور تکبرو غیر استان
میں مسلم این پستانچہ گلستان میں بھی شیخ نے ایک جگہ لکھتا ہے کا ہے
از مسن بوست حاجی ورود گردانی گریم ستین خلق به آزار می رود
سماجی تو مستی شته ست از راست انگاه بیمار و خازر یخورد و با دست بردیا
یک اور شاعر کہتا ہے 2
امین مالش را از میان می کرد های ستم ملی را بیشتر کند
یں ظاہر ہے کہ جب شوقی اس کنائے میں ہے ۔ وہ صراحت میں برگر نکن تھی۔ اگر ادوات
اس جگہ رحمت کو اپنے حقیقی معنی پرمحمول کرتے ہیں۔ مگر حکایت کا مضمون جس سے
تش اور شکایت پائی جاتی ہے حقیقی معنی سے آیا کرتا ہے۔
شنال - بازرگانی را دیدم که در پنجاه شتر بار داشت جهل بنده خدمتگار شی
ی گایش و اجاره خویش برد در شب نیارید از سخناسی پریشان گفتن که مسلمان<noinclude></noinclude>
gna8z7h3d9had4h0slpknbthft7flbl