ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.16 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/21 250 12140 35807 27745 2026-08-23T10:36:06Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35807 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کے ساتھ چلے ۔ راسْتہ میں وِشْوا مِتْر نے دونو بھائیوں کو ایک اَیسا منْتر بتایا جِس کو پڑھْنے سے تھکاوٹ پاس نِہیں آتی تھی ۔ نئے نئے عجیب و غرِیب ہتھیاروں کا اِْستِعمْال کرنا بھی سِکھایا ۔ جِن کے مقابلے میں کوئی ٹھیر نہ سکْتا تھا. کئی دِن کے بعْد تِینوں آدْمی گنْگا کو پار کر کے ایک گھنے جْنگل میں جا پہُنْچے۔ وِشْوا مِتْر نے کہا ۔ بیٹا اِس جنْگل میں تاڑکا نام کی ایک دیونی رہْتی ہے ۔ وہ اس راستہ سے گزرْنے والے آدْمیوں کو پکڑ کر کھا ڈالْتی ہے ۔ پہْلے یہاں ایک اچھا قصْبہ آباد تھا ۔ پر اِس دیونی نے سارے آدْمیوں کو کھا ڈالا ۔ اب وہی آباد قصْبہ گھنا جنْگل ہے ۔ کوئی آدْمی اِدھر بھول کر بھی نِہیں آتا ۔ ہم لوگوں کی آہٹ پا کر وُہ دیونی آتی ہوگی ۔ تُم فَوراً<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 2dj4fycctx2jhjoyp0q3uxnby6w5yng صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/41 250 13122 35804 32864 2026-08-23T07:54:38Z Taranpreet Goswami 90 35804 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چنڈول مین لِٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ سُدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن شِشی اور مول دیو نام کا مردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے شِشی ایسا بے سُدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے شِشی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس سے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ بولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسوی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسین عورت میسر نہ ہو انسے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلا دیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جبّ یہ منھ مین رکھےگا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائےگا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لےگا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اسنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جو اسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہے اور جن نے بامن ہو راجا بل کو چھلا اور جن نے بندر ساتھ لے سمندر کا پل باندھا اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ کر اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سو ہی باسودیو تمھاری رکھشا کرے یہ سنکے راجہ نے پوچھا مہاراج آپ کہان سے پدھارے مول دیو برہمین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور مین اپنے بیٹے کی بہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگدڑ پڑی سو مین نہین جانتا کہ برہمنی اور میرا لڑکا کہان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈون گا اس سے<noinclude></noinclude> 8tvelbzx253w9jlu0y3jegftaq9wry8 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/42 250 13123 35805 32866 2026-08-23T08:12:28Z Taranpreet Goswami 90 35805 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑتا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی جتن سے رکھنا یہ بات برہمن کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کِس طرح رکھونگا اور جو نہیں رکھتا ہون تو برہمن سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے اگیا کی قبول ہے پھر راجہ نے اپنی لڑکی کو بلاکر کہا بیٹی اس برہمن کی بہو کو اپنے پاس لیجا کر بہت جتن سے رکھو {{center|'''مول دیو کا آنا اور اس برہمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم کسماوتی کے حضور لیجانا اور'''</br> '''راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چندر پربھا کو سوپنا'''}} اور سوتے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن بھر اپنے پاس سے جدا مت کیجیو یہ سن راج کنیا اس برہمن کی بہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سیج پر سوئن اور آپس مین باتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کنیا تو کِس دکھ کی ماری بہت دبلی ہو رہی ہے سو مجھ سے کہہ راج کنیا بولی ایک دِن بسنت رت مین سکھیونکو ساتھ لیئے مین باغ کی سیر کو گئی تھی اور وہان ایک برہمن بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے سُدھ ہوئی تب سکھیان میری اوستھا دیکھ گھر کو لے آئین مین اسکا ناؤن ٹھاؤن کچھ نہین جانتی میری آنکھون مین وہی صورت سما رہی ہے مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ رچ نہین اس درد سے میرے شریر کی یہ دسا ہوئی ہے یہ سنکے وہ برہمن کی بہو بولی جو تیرے پریتم سے تجھے ملا دون تو مجھے کیا دیگی راج کنیم بولی کہ سدا تیری داسی ہون گی یہ سنکے وہ گٹکا اپنے منھ سے نِکال پھر مرد ہو گیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس برہمن کے لڑکے نے گندھرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنا رہتا آخِرکار چھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گربھ رہا ایک دِن کا ذِکر ہے<noinclude></noinclude> o0dh5gttulwqjn1a1llm8hovgfw65f0 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/43 250 13124 35806 32868 2026-08-23T08:25:05Z Taranpreet Goswami 90 35806 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ راجہ سارے کٹمب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری برہمن کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشِق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو یہ ناری مجھے نہ ملیگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیوتا کھا کنبے سمیت اپنے مندر کو آیا اور منتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھِن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا یہ حالت دیکھ اسکے دوست نے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ احوال سن جا راجہ سے کہا مہاراج اس برہمن کی بہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے جو آپ کرپا کر کے برہمن کی بہو کو مجھے دیدین تو اسکی جان بچے یہ سن راجہ غضبناک ہو کر بولا ارے مُورکھ ایسی اینت کرنا راجاؤن کا دھرم نہین ہے سن ایک شخص کی تھاتھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دینا کیا اچت ہے جو تو مجھ سے یہ بات کہتا ہے یہ سنکے دیوان نراس ہو اپنے گھر آیا پر اس لڑکے کا دکھ دکہکر ان نے بھی کھانا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دانے پانی کے گجرے سنتے کارباریون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہے اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچیگا اور دیون کے مرنے سے راج کاج نہ چلے گا بہتر یہ ہے کہ جو ہم عرض کرین سو قبول ہو یہ سنکے راجہ نے اگیا دی کہ کہو تب ان مین سے ایک شخص بولا مہاراج اس بوڑھے برہمن کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک وہ پھر انہین بھگوان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہے اِس سے اچت یہ ہے کہ اس بوڑھے برہمن کی بہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا راج قائم رکھیئے اور کداچت وہ آیا تو گاؤن دھن دیجئےگا اگر اسپر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا بیاہ کر بدا کیجئےگا یہ بات سن راجہ نے اس برہمین کی ہہو کو بلا کر کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جا وہ بولی استری کا دھرم نشٹ ہوتا ہے غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برہمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاے خراب ہوتی ہے دور کی چرائی سے اور دھن جاتا ہے ادھرم کرنے سے اتنا کہہ وہ پھر بولی مہاراج تم مجھے دیوانکے بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جو کچھ اس سے مین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہاراج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے سب سے تیرتھ جاترا کر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کرون یہ بات سنکے راجہ نے منتری کے بیٹے کو بلا کر کہا پہلے تو تیرتھ جاترا کر آ تب اس برہمنی کو تجھے دیوینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھر جا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس برہمنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھر مین رہو تو وہ تیرتھ جاتراجاوے ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھر مین جا رہی تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیار اخلاص سے باہم ایک جگہ رہنا اور آپسمین کِسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور برانے گھر کبھی نہ جانا اتنی سیکھ دے وہ تیرتھ جاترا کو گیا اور اِدھر اسکی بہو سوبھاگ سندری نام<noinclude></noinclude> olsl9owl8107ges38dbtv8d0c4ha1fn صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/279 250 13701 35797 35028 2026-08-23T03:46:27Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35797 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>وہ تمہیں معاف کر دینگے'. {{gap}}میگھناد نے غصّہ سے آنکھیں نکال کر کہا۔ "چچا صاحب" تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھے سمجھانے آئے ہو ۔ بغاوت سے بڑھ کر دنیا میں دوسرا گناہ نہیں ۔ جو آدمی مدعی سے مل کر اپنے گھر اور اپنے ملک کی بدخواہی کرتا ہے اُس کی صُورت دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ آپ میرے سامنے سے چلے جائیے'. {{gap}}بھبھیشن تو اُدھر شرمندہ ہو کر چلا گیا' ادھر لکشمن نے سامنے آکر میگھناد کو دعوتِ جنگ دی ۔ لکشمن کو دیکھ کر میگھناد بولا۔ 'ابھی دو چار روز زخم کی مرہم پٹی اور کروا لیتے۔ کہیں آج زخم پھر نہ تازہ ہو جائے ۔ جا کر اپنے بڑے بھائی کو بھیج دو'. {{gap}}لکشمن نے کمان پر تیر چڑھا کر کہا۔ ایسے ایسے ایسے زخموں کی جوانمرد لوگ بالکل پرواه نہین کرتے ۔ آج ایک بار پھر ہماری اَور تمہاری<noinclude></noinclude> 9e5rpx30u6n73o2kbnzllzfk5hmxa0g صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/105 250 13869 35798 35793 2026-08-23T04:32:35Z Charan Gill 46 35798 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>قیامت تک اس کی حیات بخش خوشبو سے زندہ ہے۔ آخر جب اس نے نہ مانا اور میرے انکار سے اُسکا اسرار بڑہتا گیا تو مجبوراً کچہہ نظم و نثر اور جدّو ہزل ترتیب دی گئی اور یہ سمجہا گیا کہ اگرچہ چڑیا پرواز مین شہباز کی برابری نہین کر سکتی لیکن اسکو بہی چار و ناچار اوڑنا ہی پڑتا ہے۔" اب ہم چندا لیے فقرے گلستان اور پریشان سے انتخاب کر کے لکہتے ہین جو سعّد المضمون ہین۔ {{center|'''گلستان اور پریشان کا مقابلہ'''}} {{Multicol}} گلستان۔ اے فرزند دخل آب روانست و خرج آسیاے گردان۔یعنی خرج فراوان کردن مسلم کے راست کہ دخلے معین دارد '''قطعہ''' چو دخلت نیست خرج آہستہ تر کن کہ میگویند ملاحان سرودے اگر باران بکوہستان نبارد بسالے دجلہ گردد خشک رودے {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ دخل سرچشمہ ایست و مخارج جوے چند کہ آب سرچشمہ در آنہا جاری است ولاشک چون سرچشمہ مسدود شود جوہأ خشک شودپس ہرکس آب در جو جاری خواہد سرچشمہ را رعایت کند. الیضاً۔ خرج باندازه دخل باید کردنه آنکہ خرج معلوم باشد و دخل مرہوم چاین نا معقول است کہ بار درپیش قدم باشد و بارگیر در حیز عدم باشد {{center|'''قطعه'''}} الا اے آنکہ حاجت ست موجود \کو\ بکارتے نیاید و خل معدوم شنیدستی کے از بہر جو لان\\ نشیند برفرازِ اسپ \ستوم\ {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> nt6djq22esstwicj58ocnii03bfdnrs 35799 35798 2026-08-23T05:01:20Z Charan Gill 46 35799 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>قیامت تک اس کی حیات بخش خوشبو سے زندہ ہے۔ آخر جب اس نے نہ مانا اور میرے انکار سے اُسکا اسرار بڑہتا گیا تو مجبوراً کچہہ نظم و نثر اور جدّو ہزل ترتیب دی گئی اور یہ سمجہا گیا کہ اگرچہ چڑیا پرواز مین شہباز کی برابری نہین کر سکتی لیکن اسکو بہی چار و ناچار اوڑنا ہی پڑتا ہے۔" اب ہم چندا لیے فقرے گلستان اور پریشان سے انتخاب کر کے لکہتے ہین جو سعّد المضمون ہین۔ {{center|'''گلستان اور پریشان کا مقابلہ'''}} {{Multicol}} گلستان۔ اے فرزند دخل آب روانست و خرج آسیاے گردان۔یعنی خرج فراوان کردن مسلم کے راست کہ دخلے معین دارد '''قطعہ''' چو دخلت نیست خرج آہستہ تر کن کہ میگویند ملاحان سرودے اگر باران بکوہستان نبارد بسالے دجلہ گردد خشک رودے {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ دخل سرچشمہ ایست و مخارج جوے چند کہ آب سرچشمہ در آنہا جاری است ولاشک چون سرچشمہ مسدود شود جوہأ خشک شودپس ہرکس آب در جو جاری خواہد سرچشمہ را رعایت کند. الیضاً۔ خرج باندازه دخل باید کردنه آنکہ خرج معلوم باشد و دخل مرہوم چاین نا معقول است کہ بار درپیش قدم باشد و بارگیر در حیز عدم باشد {{center|'''قطعه'''}} الا اے آنکہ حاجت ست موجود - بکارت مے نیاید و خل معدوم شنیدستی کے از بہر جو لان - نشیند برفرازِ اسپ موہوم {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> cxlkdbn88ofaejxnoq0gddstygklw43 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/106 250 13870 35802 35620 2026-08-23T06:35:00Z BalramBodhi 60 35802 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اِس مثال مین گلستان سے صرف ایک عبارت اور پریشان کے دو مختلف مقامات سے دو عبارتین ایک ہی مضمون کی نقل کی گئی ہین مگر شیخ کا بیان قاآنی کی دونون عبارتون سے زیادہ بلیخ ہے لیکن جو فرق بہت باریک اور نازک ہین اون کا بیان کرنا اول تو مشکل ہے دوسرے یہ امید نہین کہ ناظرین اُسکو غور سے دیکھین گے۔ اسی لیے صرف ایسے فرق بتائے جاتے ہین جو زیادہ روشن اور صاف ہین شیخ کے بیان مین مخاطب کو فرزند کے ساتھہ تعبیر \کرنا\ مین \مقتمناے\ مقام ہے۔ ایک تو اظہار شفقت جو ناصح کے لیے ضرور ہے۔ دوسرے یہ جتانا کہ نوجوان بہی اکثر اس نصیحت کے محتاج ہوتے ہین۔ پھر دخل و خرج کی تشبیہ آبِ روان اور پنچکّی کے ساتھ کیسی عمدہ تشبیہ ہے کہ جسقدر نرالی ہے اُسی قدر جچی تلی بہی ہے۔ پنچکّی بھی بدون آب روان کے نہیں چلتی اور خرچ بہی بغیر آمدنی کے نہین چلتا۔ پنچکّی بھی پانی کے بند ہو جانے پر کسی عارضی قوت سے نہین چلائی جاتی ہے تو اُسکی گردش عارضی اور بے ثبات ہوتی ہے خرچ بھی جو بدون آمدنی کے اندوختہ وغیرہ سے چلتا ہے بے بنیاد اور نا پائدار ہوتا ہے پہر اس تمام مطلب کو جو کہ ہمنے تشبیہ کے معنی سمجہانے کے لیے لکھا ہے۔ شیخ نے اِن مختصر اور جامع لفظون مین ادا کیا ہے "یعنی خرج فراوان کردن مسلّم کے راست کہ دخلے معین دارد" اس کے بعد قطع مین ایک نہایت بدہیی مثال دیکر بے بنیاد خرچ کا مآل ہر شخص کو آنکہون سے مشاہدہ کرا دیا ہے اور اُس مقولے کو ملاحون کی طرف منسوب کر کے یہ جتایا ہے کہ یہ ایسی بدیہی بات ہے کہ دجلہ کے کنارے پر ہمیشہ ملاہی گیتوں مین گائی جاتی ہے۔ قاآنی نے آمدنی کو منبع سے اور اخراجات کو ندیون سے تشبیہ دی ہے تشبیہ بہی عمدہ ہے مگر یہ شیخ کی<noinclude></noinclude> ihocd7o68m394245j8f8nzuvhh8frih صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/107 250 13871 35800 35621 2026-08-23T05:05:35Z Charan Gill 46 35800 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اوس تمثیل سے ماخوذ ہے جو اس نے قطعے مین بیان کی ہے لیکن چونکہ یہ تمثیل نہایت سوئی اور معمول تھی اسلئے شیخ نے اسکو ملاحون کی طرف منسوب کیا ہے اور قاآنی کو یہ بات نہین سوجھی۔ پھر قاآنی کے بیان سے یہ مفہوم ہوتا ہے کسی شیشے کے بند ہوتے ہی اندریان خشک ہو جاتی ہین ۔ اور شیخ کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے اسی قدرت کے بعد خشک ہوتی ہین اور فی الواقع ایساہی ہوتا ہے جیسا شیخ نے لکھا ہے پر شیخ نے منی کے بند ہو جانے کو قدرتی اسباب معینی امساک باران کی طرف مستبند کیا ہے اور یہ کہا ہے و اگر باران کوہستان نیاری اور قاآنی کہتا ہے کہ جو شخص ندی جاری رکھنی چاہے وہ سر چشے کی خبر کے لیعنی دوسکوبندنون ے حالانکہ یہ اورانسان کی طاقت سے باہر ہے پر تا آنی نے تقلیل سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو شخص ندی کا جاری رکھنا چاہے وہ سر پینے کی خبر کے۔ اگر یہ مطلب اس سے بھی معصوم ہو جاتا ہے لیکن اس جگہ مقتضاسے مقام کے موافق اسکو کہنا چاہیے تاکہ وہ شخص ہمیشہ اپنا خرچ جاری رکھنا چاہے مگر آمدنی پر رکھنی چائے کین کا ایمیل این مطلب کے سمجھانے کر دی گئی ہے نہ اس بات کے سمجھانے کو کہ اگردی مین پانی جاری کرنا چا وہ ہر شے کی خبر رکھون دوسری عبارت کو قاآنی نے اس جملے سے شروع کیا ہے دو خرج باندازہ وض باید کرد اسکے بع کتا ہے رات آنکه خرج معلوم باشد و به همه ی ما را جلالی نے مقصد اس مقام کے رو سراویح نہین بلکہ اپنی حالت کےموافق لکھا ہے کیونکہ سناگیاہے کہ وہ اگر جشن عید وغیرہ کے مونتون پر نخل موزوم یعنی نقصانہ کے مصلے کی توقع ترین لیکر فری کالی کرتا اور مقتضا ہے استقام ہی ہونا چاہیئے تھا۔ ورنہ آنا دخل اند باشه و خرج بسیار یا وه نه آنکه دل پنج باشد و خروج هنگام<noinclude></noinclude> 3dnzl55rwpj026bx2ynm6ea3w7hfxja 35803 35800 2026-08-23T07:16:24Z BalramBodhi 60 35803 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اوس تمثیل سے ماخوذ ہے جو اُس نے قطعے مین بیان کی ہے لیکن چونکہ یہ تمثیل نہایت سوٹی اور معمول تھی اسلئے شیخ نے اُسکو ملاحون کی طرف منسوب کیا ہے اور قاآنی کو یہ بات نہین سوجھی۔ پھر قاآنی کے بیان سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سرچشمے کے بند ہوتے ہی ندریان خشک ہو جاتی ہین۔اور شیخ کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کسی قدر مدت کے بعد خشک ہوتی ہین اور فی الواقع ایسا ہی ہوتا ہے جیسا شیخ نے لکھا ہے پہر شیخ نے منبع کے بند ہو جانے کو قدرتی اسباب یعنی امساک باران کی طرف مستبند کیا ہے اور یہ کہا ہے و اگر باران کوہستان نیارد" اور قاآنی کہتا ہے کہ جو شخص ندی جاری رکھنی چاہے وہ سرچشمے کی خبر کہے یعنی اوسکو بند نہونے دے حالانکہ یہ امر النسان کی طاقت سے باہر ہے پہر کآنی نے تمشیل سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو شخص ندی کا جاری رکہنا چاہے وہ سرچشمے کی خبر رکہے۔ اگرچہ مطلب اِس سے بھی مفہوم ہو جاتا ہے لیکن اِس جگہ مقتضاے مقام کے موافق اُسکو یہ کہنا چاہیے تاکہ جو شخص ہمیشہ اپنا خرچ جاری رکھنا چاہے اُسکو آمدنی پر نظر رکہنی چاہیئے کیونکہ تمشیل اِسے مطلب کے سمجہانے کو دی گئی ہے نہ اِس بات کے سمجہانے کو کہ اگر ندی مین پانی جاری رکہنا چاہو تو سرچشمے کی خبر رکھو۔ دوسری عبارت کو قاآنی نے اِس جملے سے شروع کیا ہے "خرج باندازہ دخل باید کرد" اسکے بعد وہ کہتا ہے "نہ آنکہ خرج معلوم باشد و دخل موہوم" یہ دوسرا جملہ اُس نے مقتضاے مقام کے موافق نہین بلکہ اپنی حالت کے موافق لکھا ہے کیونکہ سنا گیا ہے کہ وہ اکثر جشن و عید وغیرہ کے موقون پر دخل موہوم یعنی قصائد کے صلے کی توقع پر قرض لیکر خرچ کر لیا کرتا تھا ورنا مقتضاے مقام یہ ہونا چاہیئے تھا۔ "نہ آنکہ دخل اند کہ باشد و خرج بسیار" یا وه نہ آنکہ دخل پنج باشد و خرج وه"<noinclude></noinclude> chah4v5drt95ome2c135rmep0hgzypv صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/109 250 13873 35801 35623 2026-08-23T05:09:09Z Charan Gill 46 35801 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}} {{Multicol-break}} {{center|'''مشنوی'''}} کے مارش مروان پیاو به مرخصلات شمیتا با نگاه عتا بے نسان اند روند ملی بے خطا بے بہان اندر بعد تماما مهرنوش پیش باجان گداز با پیش رویشها و انواز یکدست شیر رباب داره یکدست برای ارشاد {{Multicol-end}} اس مثال مین گلستان اور پریشان کے مضمون مین کسی قدرت ہے ۔ گلستان مین کسی خاص گردہ کی تخصیص نہین ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپ سالارون کی تخصیص ہے اس لیے را پورا مقابلہ بنین بوسکتالیکن چونکہ نفس مضمون محمد ہے اس سے کچھ کچھ پل مقابلے کے نکل سکتے ہین۔ شیخ کا بیان لفظ و سناتا آن کے بیان سے بمراتب فائق ترہے ۔ اول تو شیخ کے فقرون مین ایک خاص قسم کا ازن اور قول ہے جو قاآنی کے فقرون مین نہین ہے نرین ایسا مناسب برایک معنی مقصود اور فصاحت و بلاست مین کچھ فرق نہ آئے پرلے درجے کا کمال انشا پروازی اور مالی سے اعلی رستے کی شاعری ہے ۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ متقابل ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہین کہ منی مقصود کو ان سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی راور لطعت - بیش ازحد اور بیوقت - وحشت اور ہیبت - آرد اور مبرد - ورشتی - اور رزمی خشم اور لطلعت ۔ کو ہر فصاد کی حالت سے تعبیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقد مختصر لفظون مین اداکی گئی ہے۔ اور دوسری بیست مین گنا، سینے مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا شعار بنالیا اور کہی نہین برتا جیساکہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا امین ہے<noinclude></noinclude> iz92bonrsw8r3awadxulxebxhvmxys8