ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.16 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/22 250 12141 35808 27750 2026-08-24T02:38:38Z Kaur.gurmel 74 35808 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۱۶}}</noinclude> اُسے تیر سے ہلاک کر دینا. {{gap}}وِشْوا مِتر ابھی یہ واقعہ بیان کر ہی رہے تھے کہ ہوا میں زور کی سنسناہٹ ہوئی اَور تاڑ کا منہ کھولے دوڑتی ہوئی آتی دکھائی دی ۔ اس کی صورت اثنی ڈراونی اَور قد اتنا بڑا تھا کہ کوئی کم ہمت آدمی ہوتا تو مارے خون کے گھر پڑھتا ۔ اس نے ان تینوں آدمیوں کے سامنے آ کر گرجنا اَور پتھر پھینکنا شروع کیا ۔ وشوا ہیر نے رام چندر کو تیر چلانے کا اشارہ کیا ۔ رام چندر ایک عورت پر ہتھیار چلانا اُصول کے خلاف سمجھتے تھے ۔ تاڑکا دیونی تھی تو کیا تھی تو عورت ۔ مگر رشی کا اشارہ پاکر اُنہیں کیا عذر ہو سکتا تھا۔ ایسا تیر چلایا کہ وہ تاڑکا کی چھاتی میں چبھ گیا ۔ تاڑکا زور سے چیخ ک گر پڑی ۔ اَور ایک لمحہ میں تڑپ تڑپ کر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> g9wijk1u0t7hoi5m9gn7rjnsp13ywlz 35809 35808 2026-08-24T03:10:28Z Kaur.gurmel 74 35809 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۱۶}}</noinclude> اُسے تیر سے ہلاک کر دینا. {{gap}}وِشْوا مِتر ابھی یہ واقعہ بیان کر ہی رہے تھے کہ ہوا میں زور کی سنسناہٹ ہوئی اَور تاڑْکا مُنْہ کھولے دوڑتی ہوئی آتی دکھائی دی ۔ اس کی صورت اِتْنی ڈراونی اَور قد اِتْنا بڑا تھا کہ کوئی کم ہِمت آدمی ہوتا تو مارے خوف کے گِر پڑْتا ۔ اس نے ان تینوں آدمیوں کے سامنے آ کر گرجنا اَور پتھر پھینکنا شروع کیا ۔ وِشْوا مِتر نے رام چندر کو تیر چلانے کا اشارہ کیا ۔ رام چندر ایک عورت پر ہتھیار چلانا اُصول کے خلاف سمجھتے تھے ۔ تاڑکا دیونی تھی تو کیا تھی تو عورت ۔ مگر رشی کا اشارہ پاکر اُنہیں کیا عذر ہو سکتا تھا۔ ایسا تیر چلایا کہ وہ تاڑکا کی چھاتی میں چبھ گیا ۔ تاڑکا زور سے چیخ ک گر پڑی ۔ اَور ایک لمحہ میں تڑپ تڑپ کر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> fs9dxviz8pics4yc5fgw9pwc1q03cgw 35810 35809 2026-08-24T04:42:49Z Tamanpreet Kaur 81 /* تصدیق شدہ */ 35810 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۱۶}}</noinclude>اُسے تیر سے ہلاک کر دینا. {{gap}}وِشْوا مِتر ابھی یِہ واقِعہ بیان کر ہی رہے تھے کہ ہوا میں زور کی سنسناہٹ ہُوئی اَور تاڑْکا مُنْہ کھولے دَوڑْتی ہوئی آتی دِکھائی دی ۔ اس کی صُورت اِتْنی ڈراونی اَور قد اِتْنا بڑا تھا کہ کوئی کم ہِمت آدْمی ہوتا تو مارے خَِوف کے گِر پڑَْتا ۔ اس نے ان تِینوں آدْمِیوں کے سامْنے آ کر گرجْنا اَور پتّھر پھیْنکْنا شُروع کِیا ۔ وِشْوا مِتْر نے رام چنْدر کو تیر چلانے کا اشارہ کِیا ۔ رام چنْدر ایک عَورت پر ہتْھیار چلانا اُصُول کے خِلاف سمْجھتے تھے ۔ تاڑْکا دیونی تھی تو کیا تھی تو عَورت ۔ مگر رِشی کا اِشارہ پاکر اُنْہیں کیا عذر ہو سکْتا تھا۔ اَیسا تِیر چلایا کِہ وُہ تاڑْکا کی چھاتی میں چُبھ گیا ۔ تاڑْکا زور سے چِیخ ک گر پڑی ۔ اَور ایک لمْحہ میں تڑپ تڑپ کر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> l5cqbgouh22nnjt8xuyvzypvmz5ejgh صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/45 250 13126 35811 32872 2026-08-24T08:47:47Z Taranpreet Goswami 90 35811 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>روکھ مین جا لٹکا پھر راجہ گیا اور بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا- {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک پتر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برکش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج اُنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان براجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اُچت ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہابھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بندونکو دیجئے اور آپ چلکر تپشیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا ہماچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جا کٹئی بنا رہنے لگے جمیوت واہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راجہ کا بیٹا اور تپشوی کا بٹیا سیر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک راج کینیا<noinclude></noinclude> p0tuw8654fupyp8wkp4uw8uaz8rkz2i صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/107 250 13871 35812 35803 2026-08-24T10:40:19Z Charan Gill 46 35812 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اوس تمثیل سے ماخوذ ہے جو اُس نے قطعے مین بیان کی ہے لیکن چونکہ یہ تمثیل نہایت سوٹی اور معمول تھی اسلئے شیخ نے اُسکو ملاحون کی طرف منسوب کیا ہے اور قاآنی کو یہ بات نہین سوجھی۔ پھر قاآنی کے بیان سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سرچشمے کے بند ہوتے ہی ندریان خشک ہو جاتی ہین۔اور شیخ کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کسی قدر مدت کے بعد خشک ہوتی ہین اور فی الواقع ایسا ہی ہوتا ہے جیسا شیخ نے لکھا ہے پہر شیخ نے منبع کے بند ہو جانے کو قدرتی اسباب یعنی امساک باران کی طرف مستبند کیا ہے اور یہ کہا ہے و اگر باران کوہستان نیارد" {{gap}}اور قاآنی کہتا ہے کہ جو شخص ندی جاری رکھنی چاہے وہ سرچشمے کی خبر کہے یعنی اوسکو بند نہونے دے حالانکہ یہ امر النسان کی طاقت سے باہر ہے پہر کآنی نے تمشیل سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو شخص ندی کا جاری رکہنا چاہے وہ سرچشمے کی خبر رکہے۔ اگرچہ مطلب اِس سے بھی مفہوم ہو جاتا ہے لیکن اِس جگہ مقتضاے مقام کے موافق اُسکو یہ کہنا چاہیے تاکہ جو شخص ہمیشہ اپنا خرچ جاری رکھنا چاہے اُسکو آمدنی پر نظر رکہنی چاہیئے کیونکہ تمشیل اِسے مطلب کے سمجہانے کو دی گئی ہے نہ اِس بات کے سمجہانے کو کہ اگر ندی مین پانی جاری رکہنا چاہو تو سرچشمے کی خبر رکھو۔ دوسری عبارت کو قاآنی نے اِس جملے سے شروع کیا ہے "خرج باندازہ دخل باید کرد" اسکے بعد وہ کہتا ہے "نہ آنکہ خرج معلوم باشد و دخل موہوم" یہ دوسرا جملہ اُس نے مقتضاے مقام کے موافق نہین بلکہ اپنی حالت کے موافق لکھا ہے کیونکہ سنا گیا ہے کہ وہ اکثر جشن و عید وغیرہ کے موقون پر دخل موہوم یعنی قصائد کے صلے کی توقع پر قرض لیکر خرچ کر لیا کرتا تھا ورنا مقتضاے مقام یہ ہونا چاہیئے تھا۔ "نہ آنکہ دخل اند کہ باشد و خرج بسیار" یا وه نہ آنکہ دخل پنج باشد و خرج وه"<noinclude></noinclude> 023rxxvs3sm53bmfxsmzfzjypb4dbou صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/108 250 13872 35813 35622 2026-08-24T11:05:56Z Charan Gill 46 35813 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> یا ائر اسی مضمون کا کوئی جملا ہوتا کیونکہ آمدنی کے موافق خرچ کرنے کا مفہوم مخالف یہی مضمون ہو سکتا ہے ۔ اسکے سوا وہ مضمون فی نفسا صحیح بہی نہیں ہے کیونکہ دل موہوم کی اسی پر چن کرنا خاص خاص صورتوں کے سواکسی کے نزدیک نہ مومنین ہے۔ تمام اجا در کاشانی اور باران وضل موسوم ہی کے ہر دس پنکھ کی رو پر خرچ کرتے ہیں پر اسے فری وجود دل موہوم ائی پر کی جاے موہوم یا دم گھڑے پورا ہونے ے کی سیاست میں معلوم ہی میں ھوڑے پر بے شک کوئی سواری بیان کیا ابزار آدمی خرچ کر سکتے اور کرتے ہیں۔ {{Multicol}} '''گلستان'''۔ خشم بیش از حد گرفتن بهشت اردو لطف بیوقت بیت برد نه چندان درشتی کن که ز تو بر گردنده نه چندان که بر تو دلیرا بیات {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ کا نیا خلافت و شوخی با کندن ما بغایت رقیق القلب و وسیع الخلق باشند برای سروداری درسالهای انکر با نشانید به این صفت موجب جبارت الشکریان شود گاه اشتی در می بوده است چرنگ است که با داری باشد که به مروارید خلافت و شوقی عمل کنند داشتی گیر خردمند پیش دستی کانال که دارای میزان مهربانی دوست خالی از دوست گریشکریان را بیرخستن داستین نباشد و در نظر نا پر گفت خوردند. ما ایران با این نیست از زیر چشم گوش متون با شانه ای بان کردی که چندان کا پیارا بیان کنند در این است به زبان خود در وقت کارر سمتی کند تا کارفا می شود. {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> k7zjhagdg0ztn6mqy8a5rm70p0066jg 35814 35813 2026-08-24T11:54:15Z Charan Gill 46 35814 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> یا ائر اسی مضمون کا کوئی جملا ہوتا کیونکہ آمدنی کے موافق خرچ کرنے کا مفہوم مخالف یہی مضمون ہو سکتا ہے ۔ اسکے سوا وہ مضمون فی نفسا صحیح بہی نہیں ہے کیونکہ دل موہوم کی اسی پر چن کرنا خاص خاص صورتوں کے سواکسی کے نزدیک نہ مومنین ہے۔ تمام اجا در کاشانی اور باران وضل موسوم ہی کے ہر دس پنکھ کی رو پر خرچ کرتے ہیں پر اسے فری وجود دل موہوم ائی پر کی جاے موہوم یا دم گھڑے پورا ہونے ے کی سیاست میں معلوم ہی میں ھوڑے پر بے شک کوئی سواری بیان کیا ابزار آدمی خرچ کر سکتے اور کرتے ہیں۔ {{Multicol}} '''گلستان'''۔ خشم بیش ازحد گرفتن بحشت اردو لطف بیوقت بیت برد نه چندان درشتی کن که ز تو بر گردنده نه چندان که بر تو دلیر '''ابیات''' دُرشتی و نَرمی به هَم دَر به ست چور گزن که جَراح درہم نیست {{center|'''نظم'''}} <poem>شبانی با پدر گفت ای خردمند مرا تعلیم ده پیرانه یک پند بگفتا نیک مردی کن نه چندان که گردد چیره گرگ تیز دندان</poem> {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ کا نیا خرافت و شوخی با کندن یا بغایت رقیق القلب و دسیع الخلق باشند سرداری و سلہری لشکر را نشانید چه این '''صفت''' موجبِ جبارتِ الشکریان شود گاه باشد که به مروارید خلافت و شوقی عمل کنند و نیزاندک مهربانی دوست خالی از دوست کہ لشکریان را بیرخستن داستین نباشد و در نیست از زیر چشم گوش حقوق بادشاہ فراموش کنند در این است به زبان خود در وقت کارر سمتی کند تا کارفا می شود. {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> 7ktr5ldz6v95rfb5hmy4y6d60ern7o0