ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.16 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/46 250 13127 35826 32874 2026-08-25T09:45:54Z Taranpreet Goswami 90 35826 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بین باجا لئے ہوئے دیبی کے آگے گا رہی تھی اُس کنیا اور جیموت باہن کی چار نظرین ہویئن اور دونون کی لگن لگ گئی پر راج کنیا من مار لاح کے مارے اپنے گھر چلی آئی اور ادھر یہ بھی اس رشی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا وہ رات دونون گلعزارون کو نہایت بیکلی سے کٹی صبح ہوتے ہی ادھور سے راج کنیا دیبی کے مندر کو گئی اور ادھر سے راجکمار نے بھی جاتے ہی دیکھا کہ راج کنیا بھی ہے تب اسنے اسکی سِکھی سے پوچھا کہ یہ کس کی کنیا ہے سکھی نے کہا یہ ملکیت راجہ کی پتری ہے ملیاوتی اسکا نام اور ابھی کنواری ہےِ یہ کہہ سکھی نے اس راج پیرس سے پوچھا کہو سُندر پرش تم کہان سے آئے ہو اور تمھارا کیا نام ہے یہ بولا بدیادھرون کا راجہ جمیت نام لتِکا مین بیٹا ہون اور جیموت باہن میرا نام ہے میرا راج بھنگ ہونے سے ہم باپ بیٹے یہان آن کے رہے ہین پھر سِکھی نے یہ سنکر سب باتین راج کنیا سے کہین یہ سُن اپنے جی مین بہت دکھ پائے گھر کو آئی اور رات کو چنتا کر کے سو رہی یہ ڈسا دیکھ سِخی نے بہ یہ احوال اسکی مان کے آگے ظاہر کیا رانی نے سنکر راجہ کے آگے بیان کیا اور کہا مہاراج پتری آپ کی بر جوگ ہوئی ہے بر کیون نہین ڈھونڈھتے یہ شنکے راجہ نے اپنے جی مین چنتا کر اسی سمے مترابسو نام اپنے پتر کو بلاکر کہا بیٹا اپنی بہن کا بر ڈھونڈھ لا تب وہ بولا کہ مہاراج گندھربون کا راجہ جمیوت گیت نام تسکا پتر جیموت باہن کو دونگا اتنا کہہ دونون سُنا ہے کہ یہان آئے ہین یہ سُن ملیکیت راجہ نے کہا یہ پتری جیموت باہن کو دونگا اتنا کہہ بیٹے کو آگیا دی کہ پرت جمیوت باہن راج کمار کو راجہ کے پاس سے جاکر بلا لا مترا بسو باپ کا حکم پال اسکے مکان پر گیا اور وہان جاکر اسکے پتا سے کہا کہ اپنے پتر کو ہمارے ساتھ کر دو کہ ہمارے پتا نے کنیاودان دینے کو بلایا یہ سن کے راجہ جیموت گیت نے اپنے بیٹے کو ساتھ کر دیا اور جمیوت باہن یہان آیا پھر ملیکیت راجہ نے اسکا گندھرب بواہ کر دیا جبکہ اسکی شادی ہو چکی تب دُلھن کو اور پتر کواپنے استھان پر لیکر آیا پھران تینون نے راجہ کو ڈنڈوت کی اور راجہ نے بھی انہین اسیس دی وہ دن تو یو تین گذرا لیکن دوسرے دن صبح کو اٹھتے ہی دونون راجکمار ملیا گر بریت پر پھرنے کو گئے وہان جاکر جمیوت باہن کیا دیکھتا ہو کہ ایک سفید ڈھیر اونچا سا ہے تب اسنے اپنے سالے سے پوچھا یہ دھولا ڈھیر کیسا نظر آتا ہے وہ بولا کہ پاتال لوک سے کرورون ناگ کمار یھاں اتے ہین انھین گرژڈ آن کر کھاتا ہے یہ انہین کے ہاڑون کا ڈھیر ہے یہ سنکے جمیوت باہن نے سالے سے کہا متر تم گھر حاکر بھوجن کرو اور مین اس سمے اپنی نِت پوجا کرتا ہون کیونکہ میری پوجا کرنے کا اب وقت ہوا ہے یہ سنکے وہ تو گیا اور جمیوت باہن آگے کو جو بڑھا تو رونے کی آواز آنے لگی اس آواز کی دھن پر چلا وہاں جو پہونچا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑھیا دکھ سے بیاکل روتی ہے اس کے پاس جا کر پوچھا اے ماتا تو کِس کارن روتی ہے وہ بولی کہ سنکھ پوڑ نام<noinclude></noinclude> pgq50b2g7oo8aqsnruf8mhqdyaobv0x صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/331 250 13756 35822 35009 2026-08-25T03:29:17Z ~2026-46227-94 287 35822 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سب بات کی تکلیف نہ ہوگی ۔ چل کر میرے آشرم میں رہو - رامچندر نے تمہاری پاکیزگی پر یقین رکھتے ہوئے بھی محض بدنامی کے خون سے تمہیں تیاگ دیا ، یہ اُن کی بے انصافی ہے ۔ سراسر بے انصافی ہے ۔ لیکن اس کا غم نہ کرو ۔ سے سیکھی وہی آدمی ہے جو ہمیشہ اور ہر حالت میں اپنے فرض کو پورا کرنا رہے ۔ یہ بڑی فضا کی جگہ ہے ۔ یہاں تمہاری طبیعت خوش ہوگی ۔ رشیوں کی لڑکیوں کے ساتھ رہ کر تم اپنے سب دُکھ بھول جاؤ گی ۔ راج محل میں تمہیں وہی چیزیں مل سکتی تھیں جن سے جسم کو آرام پہنچتا ہے ۔ یہاں تمہیں وہ چیزیں ملینگی جن سے رُوح کو سکون اور سرور حاصل ہوتا ہے ۔ اُٹھو ، میں - اُٹھو ، میرے ساتھ چلو - کاش مجھے پہلے معلوم ہو جاتا تو تمہیں اتنی<noinclude></noinclude> f0wnvgpwqsdg3rnlmh4y0k6arwrcggn 35823 35822 2026-08-25T03:43:25Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35823 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>بات کی تکلیف نہ ہوگی ۔ چل کر میرے آشرم میں رہو - رامچندر نے تمہاری پاکیزگی پر یقین رکھتے ہوئے بھی محض بدنامی کے خوف سے تمہیں تیاگ دیا' یہ اُن کی بے انصافی ہے ۔ سراسر بے اِنصافی ہے ۔ لیکن اس کا غم نہ کرو ۔ سب سے سُیکھی وہی آدمی ہے جو ہمیشہ اور ہر حالت میں اپنے فرض کو پورا کرنا رہے ۔ یہ بڑی فضا کی جگہ ہے ۔ یہاں تمہاری طبیعت خوش ہوگی ۔ رشیوں کی لڑکیوں کے ساتھ رہ کر تم اپنے سب دُکھ بھول جاؤ گی ۔ راج محل میں تمہیں وہی چیزیں مِل سکتی تھیں جن سے جسم کو آرام پہنچتا ہے ۔ یہاں تمہیں وہ چیزیں ملینگی جن سے رُوح کو سکون اور سرور حاصل ہوتا ہے ۔ اُٹھو ، میرے ساتھ چلو - کاش مجھے پہلے معلوم ہو جاتا تو تُمہیں اِتنی<noinclude></noinclude> cr96iau8l2m30vp5f3gv8kp7vsx2ytm صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/108 250 13872 35815 35814 2026-08-24T13:13:02Z BalramBodhi 60 35815 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> یا اور اسی مضمون کا کوئی جملا ہوتا کیونکہ آمدنی کے موافق خرچ کرنے کا مفہوم مخالف یہی مضمون ہو سکتا ہے۔ اسکے سوا وہ مضمون فی نفسا صحیح بہی نہیں ہے کیونکہ دخل موہوم کی امید پر خرچ کرنا خاص خاص صورتون کے سوا کسی کے نزدیک مزموم نہین ہے۔ تمام تاجر اور کاشتکار اور \ملہبرّان\ ملک دخل موہوم ہی کے بہر دسے پر لکھوکھا روپیہ خرچ کرتے ہین۔ پہر ایسے خرچ کو جو دخل موہوم کی اُمید پر کیا جاے موہوم یا معدوم گھوڑے پر سوار ہونے سے کچہہ مناسبت نہین معلوم ہوتے معدوم گھوڑے پر بےشک کوئی سوار نہین ہو سکتا لیکن دخل موہوم کی امید پر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہزارون آدمی خرچ کر سکتے اور کرتے ہین۔ {{Multicol}} '''گلستان'''۔ خشم بیش ازحد گرفتن بحشت آرد و لطفِ بیوقت \بیت\ ببرد نہ چندان درشتی کن کہ از تو سیر گردند و نہ چندان نرمی کہ بر تو دلیر '''ابیات''' دُرشتی و نرمی بہم در بہ ست چور گزن کہ جراح و وہم نیست دُرشتی نگیرد خردمند پیش ۔ {{center|'''نظم'''}} <poem>شبانی با پدر گفت ای خردمند مرا تعلیم کن پیرانه یک پند بگفتا نیک مردی کن نہ چندان کہ گردد چیره گرگ تیز دندان</poem> {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ کسا نیکہ ظرافت و شوخی بسیار کنند یا بغایت رفیق القلب و دسیع الخلق باشد سرداری و سالاری لشکر را نشایند۔ چہ این '''صفت''' موجبِ جارتِ الشکریان شود دگاه باشد کہ ہر چہ گوید بہ ظرافت و شوخی عمل کنند و نیزاندک مہربانی و وسعتِ خلق لازم ست کہ لشکریان را بیم خستن و بستن نباشد و در نیست کہ از بیم چشم و گوش حقوقِ بادشاہ فراموش کنند دور مخالفت ہمزبان شوند دور وقت کار سستی کند تا کارفاسد شود. {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> khdwzkzdafe3zkla93s2gbuiff7kgnx 35817 35815 2026-08-24T15:02:41Z Charan Gill 46 35817 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> یا اور اسی مضمون کا کوئی جملا ہوتا کیونکہ آمدنی کے موافق خرچ کرنے کا مفہوم مخالف یہی مضمون ہو سکتا ہے۔ اسکے سوا وہ مضمون فی نفسا صحیح بہی نہیں ہے کیونکہ دخل موہوم کی امید پر خرچ کرنا خاص خاص صورتون کے سوا کسی کے نزدیک مزموم نہین ہے۔ تمام تاجر اور کاشتکار اور \ملہبرّان\ ملک دخل موہوم ہی کے بہر دسے پر لکھوکھا روپیہ خرچ کرتے ہین۔ پہر ایسے خرچ کو جو دخل موہوم کی اُمید پر کیا جاے موہوم یا معدوم گھوڑے پر سوار ہونے سے کچہہ مناسبت نہین معلوم ہوتے معدوم گھوڑے پر بےشک کوئی سوار نہین ہو سکتا لیکن دخل موہوم کی امید پر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہزارون آدمی خرچ کر سکتے اور کرتے ہین۔ {{Multicol}} '''گلستان'''۔ خشم بیش ازحد گرفتن بحشت آرد و لطفِ بیوقت \بیت\ ببرد نہ چندان درشتی کن کہ از تو سیر گردند و نہ چندان نرمی کہ بر تو دلیر '''ابیات''' دُرشتی و نرمی بہم در بہ ست چور گزن کہ جراح و وہم نیست دُرشتی نگیرد خردمند پیش ۔ {{center|'''نظم'''}} <poem>جوانے با پدر گفت اے خردمند مرا تعلیم کن پیرانه یک پند بگفتا نیک مردی کن نہ چندان کہ گردد چیره گرگ تیز دندان</poem> {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ کسا نیکہ ظرافت و شوخی بسیار کنند یا بغایت رفیق القلب و دسیع الخلق باشد سرداری و سالاری لشکر را نشایند۔ چہ این '''صفت''' موجبِ جارتِ الشکریان شود دگاه باشد کہ ہر چہ گوید بہ ظرافت و شوخی عمل کنند و نیزاندک مہربانی و وسعتِ خلق لازم ست کہ لشکریان را بیم خستن و بستن نباشد و در نیست کہ از بیم چشم و گوش حقوقِ بادشاہ فراموش کنند دور مخالفت ہمزبان شوند دور وقت کار سستی کند تا کارفاسد شود. {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> pqg9iij1shnrevzau1xcjte8bvigy2i 35818 35817 2026-08-24T15:23:47Z Charan Gill 46 35818 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> یا اور اسی مضمون کا کوئی جملا ہوتا کیونکہ آمدنی کے موافق خرچ کرنے کا مفہوم مخالف یہی مضمون ہو سکتا ہے۔ اسکے سوا وہ مضمون فی نفسا صحیح بہی نہیں ہے کیونکہ دخل موہوم کی امید پر خرچ کرنا خاص خاص صورتون کے سوا کسی کے نزدیک مزموم نہین ہے۔ تمام تاجر اور کاشتکار اور \ملہبرّان\ ملک دخل موہوم ہی کے بہر دسے پر لکھوکھا روپیہ خرچ کرتے ہین۔ پہر ایسے خرچ کو جو دخل موہوم کی اُمید پر کیا جاے موہوم یا معدوم گھوڑے پر سوار ہونے سے کچہہ مناسبت نہین معلوم ہوتے معدوم گھوڑے پر بےشک کوئی سوار نہین ہو سکتا لیکن دخل موہوم کی امید پر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہزارون آدمی خرچ کر سکتے اور کرتے ہین۔ {{Multicol}} '''گلستان'''۔ خشم بیش ازحد گرفتن وحشت آرد و لطفِ بیوقت ہیبت ببرد نہ چندان درشتی کن کہ از تو سیر گردند و نہ چندان نرمی کہ بر تو دلیرا '''بیات''' درشتی و نرمی بہم در بہ ست چو رگزن کہ جراح و مرہم نیست نہ سشتی کہ نازل کند قدر خویش۔ {{center|'''نظم'''}} <poem>جوانے با پدر گفت اے خردمند مرا تعلیم کن پیرانه یک پند بگفتا نیکمردی کن نہ چندان کہ گردد چیره گرگ تیز دندان</poem> {{Multicol-break}} '''پریشان'''۔ کسا نیکہ ظرافت و شوخی بسیار کنند یا بغایت رفیق القلب و دسیع الخلق باشد سرداری و سالاری لشکر را نشایند۔ چہ این '''صفت''' موجبِ جارتِ الشکریان شود دگاه باشد کہ ہر چہ گوید بہ ظرافت و شوخی عمل کنند و نیزاندک مہربانی و وسعتِ خلق لازم ست کہ لشکریان را بیم خستن و بستن نباشد و در نیست کہ از بیم چشم و گوش حقوقِ بادشاہ فراموش کنند دور مخالفت ہمزبان شوند دور وقت کار سستی کند تا کارفاسد شود. {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> algn52d2jrckqosotg7xjsgxwi1soin صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/109 250 13873 35816 35801 2026-08-24T13:53:39Z Charan Gill 46 35816 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}} {{Multicol-break}} {{center|'''مشنوی'''}} کسے را کہ شد حکمران بر سپاہ - روخصلات شمیتا با نگاه عتا بے نسان اند روند ملی بے خطا بے بہان اندر بعد تماما مهرنوش پیش باجان گداز با پیش رویشها و انواز یکدست شیر رباب داره یکدست برای ارشاد {{Multicol-end}} اس مثال مین گلستان اور پریشان کے مضمون مین کسی قدرت ہے ۔ گلستان مین کسی خاص گردہ کی تخصیص نہین ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپ سالارون کی تخصیص ہے اس لیے را پورا مقابلہ بنین بوسکتالیکن چونکہ نفس مضمون محمد ہے اس سے کچھ کچھ پل مقابلے کے نکل سکتے ہین۔ شیخ کا بیان لفظ و سناتا آن کے بیان سے بمراتب فائق ترہے ۔ اول تو شیخ کے فقرون مین ایک خاص قسم کا ازن اور قول ہے جو قاآنی کے فقرون مین نہین ہے نرین ایسا مناسب برایک معنی مقصود اور فصاحت و بلاست مین کچھ فرق نہ آئے پرلے درجے کا کمال انشا پروازی اور مالی سے اعلی رستے کی شاعری ہے ۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ متقابل ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہین کہ منی مقصود کو ان سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی راور لطعت - بیش ازحد اور بیوقت - وحشت اور ہیبت - آرد اور مبرد - ورشتی - اور رزمی خشم اور لطلعت ۔ کو ہر فصاد کی حالت سے تعبیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقد مختصر لفظون مین اداکی گئی ہے۔ اور دوسری بیست مین گنا، سینے مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا شعار بنالیا اور کہی نہین برتا جیساکہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا امین ہے<noinclude></noinclude> 424lmujn98jrh9xquc8tetphuml2bhn 35819 35816 2026-08-24T16:20:51Z Charan Gill 46 35819 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}} {{Multicol-break}} {{center|'''مشنوی'''}} کسے را کہ شد حکمران بر سپاہ - "خصلت ہمیداست باید نگاہ عتا بے نہان اند صد خطاب خطا بے نہان اندرو صد عتاب بہرنوش او نیش باجان گداز - بہرنوش او نیشہا دلنواز یکدست شمشیر زہراب دار - یکدست دریای گوہر نثار {{Multicol-end}} اس مثال مین گلستان اور پریشان کے مضمون مین کسی قدرت ہے ۔ گلستان مین کسی خاص گردہ کی تخصیص نہین ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپ سالارون کی تخصیص ہے اس لیے را پورا مقابلہ بنین بوسکتالیکن چونکہ نفس مضمون محمد ہے اس سے کچھ کچھ پل مقابلے کے نکل سکتے ہین۔ شیخ کا بیان لفظ و سناتا آن کے بیان سے بمراتب فائق ترہے ۔ اول تو شیخ کے فقرون مین ایک خاص قسم کا ازن اور قول ہے جو قاآنی کے فقرون مین نہین ہے نرین ایسا مناسب برایک معنی مقصود اور فصاحت و بلاست مین کچھ فرق نہ آئے پرلے درجے کا کمال انشا پروازی اور مالی سے اعلی رستے کی شاعری ہے ۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ متقابل ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہین کہ منی مقصود کو ان سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی راور لطعت - بیش ازحد اور بیوقت - وحشت اور ہیبت - آرد اور مبرد - ورشتی - اور رزمی خشم اور لطلعت ۔ کو ہر فصاد کی حالت سے تعبیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقد مختصر لفظون مین اداکی گئی ہے۔ اور دوسری بیست مین گنا، سینے مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا شعار بنالیا اور کہی نہین برتا جیساکہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا امین ہے<noinclude></noinclude> 9nnvfwjyjpjiyzy7xglevsi7pf1ls2j 35820 35819 2026-08-24T16:27:28Z Charan Gill 46 35820 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}} {{Multicol-break}} {{center|'''مشنوی'''}} کسے را کہ شد حکمران بر سپاہ - "خصلت ہمیداست باید نگاہ عتا بے نہان اند صد خطاب خطا بے نہان اندرو صد عتاب بہرنوش او نیش باجان گداز - بہرنوش او نیشہا دلنواز یکدست شمشیر زہراب دار - یکدست دریای گوہر نثار {{Multicol-end}} اس مثال مین گلستان اور پریشان کے مضمون مین کسی قدر فرق ہے ۔ گلستان مین کسی خاص گروہ کی تخصیص نہین ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپہ سالارون کی تخصیص ہے اسلیے پورا پورا مقابلہ بنین بو سکتا لیکن چونکہ نفس مضمون متحد ہے اسواسطے کچہہ کچہہ پہلو مقابلے کے نکل سکتے ہین۔ شیخ کا بیان لفظ و سناتا آن کے بیان سے بمراتب فائق ترہے ۔ اول تو شیخ کے فقرون مین ایک خاص قسم کا ازن اور قول ہے جو قاآنی کے فقرون مین نہین ہے نرین ایسا مناسب برایک معنی مقصود اور فصاحت و بلاست مین کچھ فرق نہ آئے پرلے درجے کا کمال انشا پروازی اور مالی سے اعلی رستے کی شاعری ہے ۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ متقابل ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہین کہ منی مقصود کو ان سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی راور لطعت - بیش ازحد اور بیوقت - وحشت اور ہیبت - آرد اور مبرد - ورشتی - اور رزمی خشم اور لطلعت ۔ کو ہر فصاد کی حالت سے تعبیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقد مختصر لفظون مین اداکی گئی ہے۔ اور دوسری بیست مین گنا، سینے مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا شعار بنالیا اور کہی نہین برتا جیساکہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا امین ہے<noinclude></noinclude> rq3xol9z2everkn0hu2dfvwq6esgob2 35821 35820 2026-08-25T01:34:39Z Charan Gill 46 35821 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}} {{Multicol-break}} {{center|'''مشنوی'''}} کسے را کہ شد حکمران بر سپاہ - "خصلت ہمیداست باید نگاہ عتا بے نہان اند صد خطاب خطا بے نہان اندرو صد عتاب بہرنوش او نیش باجان گداز - بہرنوش او نیشہا دلنواز یکدست شمشیر زہراب دار - یکدست دریای گوہر نثار {{Multicol-end}} اس مثال مین گلستان اور پریشان کے مضمون مین کسی قدر فرق ہے ۔ گلستان مین کسی خاص گروہ کی تخصیص نہین ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپہ سالارون کی تخصیص ہے اسلیے پورا پورا مقابلہ بنین بو سکتا لیکن چونکہ نفس مضمون متحد ہے اسواسطے کچہہ کچہہ پہلو مقابلے کے نکل سکتے ہین۔ شیخ کا بیان لفظاًو معناً قاآنی کے بیان سے بمراتب فائق تر ہے ۔ اول تو شیخ کے فقرون مین ایک خاص قسم کا وزن اور تول ہے جو قاآنی کے فقرون مین نہین ہے نثرمین ایسا تناسب بشرطیکہ معنی مقصود اور فصاحت و بلاغت مین کچہہ فرق نہ آئے پرلے درجے کا کمال انشا پروازی اور اعلی سے اعلی رتبے کی شاعری ہے۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ متقابلہ ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہین کہ معنی مقصود کو اُن سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی {{rule}} خشم اور لطعت - بیش ازحد اور بیوقت - وحشت اور ہیبت - آرد اور مبرد - درشتی - اور نرمی خشم اور لطلعت ۔ کو جو فصاد کی حالت سے تعبیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقد مختصر لفظون مین اداکی گئی ہے۔ اور دوسری بیست مین گنا، سینے مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا شعار بنالیا اور کہی نہین برتا جیساکہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا امین ہے<noinclude></noinclude> qeq4zfk70oksbztfu1shbcfhswzdt7z 35824 35821 2026-08-25T06:18:15Z BalramBodhi 60 35824 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}} {{Multicol-break}} {{center|'''مشنوی'''}} کسے را کہ شد حکمران بر سپاہ۔ "خصلت ہمیداست باید نگاہ عتا بے نہان اند رو صد خطاب خطابے نہان اند رو صد عتاب بہرنوش او نیش باجان گداز۔ بہرنوش او نوشہاو لنواز \بکیدست\ شمشیر زہراب دار۔ بکیدست دریای گوہر نثار {{Multicol-end}} اس مثال مین گلستان اور پریشان کے مضمون مین کسی قدر فرق ہے۔ گلستان مین کسی خاص گروہ کی تخصیص نہین ہے اور پریشان مین لشکر کے افسرون اور سپہ سالارون کی تخصیص ہے اسلیے پورا پورا مقابلہ نہین بو سکتا لیکن چونکہ نفس مضمون متحد ہے اسواسطے کچہہ کچہہ پہلو مقابلے کے نکل سکتے ہین۔ شیخ کا بیان لفظاًو معناً قاآنی کے بیان سے بمراتب فائق تر ہے۔ اول تو شیخ کے فقرون مین ایک خاص قسم کا وزن اور تول ہے۔ جو قاآنی کے فقرون مین نہین ہے نثر مین ایسا تناسب بشرطیکہ معنی مقصود اور فصاحت و بلاغت مین کچہہ فرق نہ آئے پرلے درجے کا کمال انشا پروازی اور اعلی سے اعلی رتبے کی شاعری ہے۔ شیخ کے چارون فقرون مین الفاظ متقابلہ ایسی خوبی سے واقع ہوئے ہین کہ معنی مقصود کو اُن سے اور زیادہ رونق ہو گئی ہے یعنی {{rule}} خشم اور لطف۔ بیش ازحد اور بیوقت۔ وحشت اور ہیبت۔ آرد اور مبرد۔ درشتی۔ اور نرمی \خشم اور لطلعت۔\ کو جو فصاد کی حالت سے تمشیل دی ہے وہ کیسی بلیغ ہے اور کسقدر مختصر لفظون مین ادا کی گئی ہے۔ اور دوسری بیت مین \کنا، سینے\ مضمون دو مصرعون مین بیان کیا ہے یعنی یہ کہ درشتی کو اپنا شعار بنا لینا اور کبہی نرمین نہ برتنا جیسا کہ لفظ پیش گرفتن سے مستفاد ہوتا ہے اچھا نہین ہے<noinclude></noinclude> ci6hkcis5vt4rfjeumna4bi028a0tud صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/110 250 13874 35825 35624 2026-08-25T07:08:26Z BalramBodhi 60 35825 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کیونکہ عقلمند ایسا نہین کرتے اور بالکل نرمی ہی نرمی برتنا اور کبہی درشتی نہ کرنا جیسا کہ سستی کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے یہ بہی اچھا نہین ہے کیونکہ اس سے انسان نظروں مین حقیر ہو جاتا ہے پہر دوسری نظم مین صرف اتنی سی بات کہنیکی ہے محل کرنی نہین چاہیئ کیسے عمدہ پیرایے مین بیانا کیا ہے۔ خصوصاً چندان کا قافیہ تناسب اور ہموزن لانیکے لیے کس مطلب کو کن لفظون مین ادا کیا ہے۔ قاآنی کی نثر مین بمقابلہ شیخ کی نثر کے کوئی بات جو قابل ذکر ہو نہیں پائی جاتی۔ اور نظم مین بھی حقیقت اور معنی کی نسبت الفاظ کی چمک دمک زیادہ ہے۔ چونکہ دونون عبارتون مین فرق \بین\ معلوم ہوتا ہے اسلئے پریشان کی عبارت مین زیادہ نکتہ چینی کرنے کی ضرورت نہین سمجہی گئی۔ {{gap}}اب ہم اِں اصنافی خوبیون کا بیان چھوڑ کر گلستان کے ذاتی محاسن کی ترف پہر متوجہ ہوتے ہین۔ اِس کتاب کی عمدہ خاصیتون مین سے ایک یہ خاصیت بہی فارسی لٹریچر مین نہایت عجیب اور قابل لحاظ ہے کہ فارسی اور اردو کی تحریر و تقریر مین جسقدر گلستان کے جملے اور اشعار و مصرعے ضرب المشل ہین اور کسی کتاب کے نہین دیکہے گئیے۔ اُن مین سے کسی قدر یہان نقل کیے جاتے ہین|۔ ہر عیب کہ سلطان بہ پسند و ہنر ست ۲ هر کہ آمد عمارتے نوساخت ٣۔ حاجت مشاطہ نیست رومی دلارام را۔٤ ۔ هرچہ \بقاست\ کہتر بقیمت بہتر ۵۔ ہر کہ دست از جان بشوید ہرچہ در دل دارد بگوید ٦۔ وه درویش در گلیمے بخس پسند \و\ بادشاه در اق لیمے نہ گنجند۔ ست۔ سرچشمہ شاید گرفتن سیل۔ چو پر شد نشاید گذشتن بہ پیل۔٨۔ پرتوِ نیکان نگیرد ہر کہ بنیادش بدست ۔٩۔\انمی\ راکشتن و بچہاشر<noinclude></noinclude> 0fzubiha973aafdhwn0x2bcqvfkicsr