ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.17 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/23 250 12147 35828 27795 2026-08-26T15:37:26Z Tamanpreet Kaur 81 /* تصدیق شدہ */ 35828 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>مرگئی. {{gap}}تَینوں آدْمی پِھر آگے چلے ۔ اَور کئی دِنوں کے بعْد وِشْوامِتْر کے آشرم میں پُہنْچ گئے ۔ تھا تو یِہ بھی جْنگل، پر اِس میں زِیادہ تر رِشی لوگ رہْتے تھے ۔ شیر، ہِرن، نِیل گائے ، بے خَوف گھوُما کرْتے تھے ۔ اِس پتو بُھومی کے اثر سے شِکاری درِنْدے بھی شِکار کی طرف راغِب نہ ہوتے تھے. {{gap}}دُوسْرے دِن سے وِشْوا مِتر نے یگّیہ کرْنا شُروع کر دِیا ۔ رام اَور لکشْمن ، کمر میں تلوار لْٹکائے ، تِیر اَور کمان ہاتھ میں لِئے جنْگل کے چاروں طرف گشْت لگانے لگے ۔ نہ کھانے پِینے کی فِکر تھی، نہ سونے لیٹْنے کی ۔ رات دِن بے خِواب و خُوِر پہرْہ دیتے تھے ۔ اِس طرح پانچ دِن خَیریت سے گُزر گئے ۔ مگر چھٹے دِن کیا دیکھْتے ہَیں کِہ مارِیچ اَور شُباہُو راکْشنوں کی فَوج<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> oj635homkc9ycxic6bgrmkuzcbyu7y9 صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/29 250 12252 35827 28555 2026-08-26T12:18:12Z Kaur Jatinder Haryau 52 35827 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۲۷)|قصے کا شروع|}}</noinclude>ٹھیک تو روشن تھا۔ اپنے اپنے بسترون پر حقّے بھر کر پینے لگے.ایک اُن آزادون مین سے بولا اے یارانِ ہم درد و رفیقانِ جہان گرد! ہم چار صورتین آسمان کی گردش سے اور لیل و نہار کے انقلاب سے در بدر خاک بسر ایک مدّت پھرین.الحمد لله کہ طالع کی مدد اور قسمت کی یاوری سے آج اس مقام پر باہم ملاقات ہوئی. اور کل کا احوال کچھ معلوم نہین کہ کیا پیش آوے۔ ایک گمت رہیں یا جدا جدا ہو جاویں. رات بڑی پہاڑ ہوتی ہے۔ ابھی سے پڑ پڑ رہنا خوب نہیں۔ اس سے یہ بہتر ہے کہ اپنی اپنی سر گزشت جو اس دنیا میں جس پر بیتی ہو (بشرطیکہ جھوٹھ اُس میں کوڑی بھر نہو) بیان کرے۔ تو باتون میں رات کٹ جائے. جب تھوڑی شب باقی رہے تب لوٹ پوٹ رہینگے. سبھون نے کہا یا ہادی! جو کچھ ارشاد ہوتا ہے۔ ہم نے قبول کیا. پہلے آپ ہی اپنا احوال جو دیکھا ہے شروع کیجیے۔ تو ہم مستعد ہوں.<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> dvaskwn0sie6xi4xcyoq7diw2576v4w صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/30 250 12253 35829 28568 2026-08-27T03:14:57Z Kaur Jatinder Haryau 52 35829 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh||پہلے درویش کی سبر|(۶۸)}}</noinclude> {{c|'''سیر پہلے درویش کي'''}} پہلا درویش دو زانو ہو بیٹھا اور اپنی سیر کا قصہ اس طرح سے کہنے لگا. یا معبو الله ! زرہ ادھر متوجہ ہو۔اور ماجرا اس بے سر و پا کا سنو. {{Block center|<poem> یہ سر گزشت میری ذرہ کان دھر سُنو. مجھکو فلک نے کر دیا زیر و زبر سُنو. جو کچھ کہ پیش آئے ہے شدت مری تئین. اُسکا بیان کرتا ہوں- تم سر بسر سُنو. </poem>}} اے یاران! میری پیدائش اور وطن بزرگون کا مُلک یمن ہے. والد اِس عاجز کا مِلک التجار خواجہ احمد نام بڑا سوداگر تها. اُس وقت میں کوئی مہاجن بیپارے اُنکے برابر نہ تها. اکثر شہرون میں کوٹھیاں اور گماشتے خرید و فروخت کے واسطے مقرر تھے۔اور لاکھوں روپۓ نقد اور جنس ملک ملک کی گھر میں موجود تھے. اُن کے یہاں دو لڑکے پیدا ہوئے۔ ایک تو یہی فقیر جو کفنی سیلی پہنے ہوئے مرشدوں کی حضوری میں حاضر اور بولتا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 12h4j5pepyzr96sib6rjwn1n1qt6lrs صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/225 250 12820 35830 34764 2026-08-27T03:54:12Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35830 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>مجھے معلوم ہو گیا کہ تیرے ساتھ نرمی سے کام نہ چلیگا ۔ اگر تو ایک کمزور عورت ہو کہ ضد کر سکتی ہے تو میں لنکا کا مہاراج ہو کر کیا ضد نہیں کر سکتا ؟ جس شخص کی طاقت پر تجہے اتنا غرور ہے اُسے میں یوں مسل ڈالوں گا جیسے کوئی کپڑے کو مسلتا ہے ۔ تو مجھے سختی کرنے پر مجبور کر رہی ہے تو میں بھی سختی کرونگا ۔ بس آج سے ایک مہینہ کی مہلت تجھے اور دیتا ہوں ۔ اگر اُس وقت بھی تیری آنکھ کھلی تو پھر یا تو راون کی رانی ہوگی یا تیری لاش چیل اور کوے نوچ نوچ کر کھائینگے راون چلا گیا تو راکشس عورتوں نے سیتا جی کو سمجھانا شروع کیا ۔ تم بڑی نادان ہو سیتا ۔ اتنا بڑا راجہ تمہاری اتنی خوشامد کرتا ہے۔ پھر بھی تم کان نہیں دیتیں ۔ اگر وہ زبر دستی کرنا چاہے تو آج ہی تمہیں اپنی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 7jxdto8xq1lt50mz0kjnkez88lnsx3e 35831 35830 2026-08-27T04:08:21Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35831 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>مجھے معلُوم ہو گیا کہ تیرے ساتھ نرمی سے کام نہ چلیگا ۔ اگر تو ایک کمزور عورت ہو کہ ضد کر سکتی ہے تو میں لنکا کا مہاراج ہو کر کیا ضد نہیں کر سکتا؟ جس شخص کی طاقت پر تُجہے اتنا غرور ہے اُسے میں یوں مسل ڈالوں گا جیسے کوئی کپڑے کو مسلتا ہے ۔ تو مجھے سختی کرنے پر مجبور کر رہی ہے تو میں بھی سختی کرونگا ۔ بس آج سے ایک مہینہ کی مہلت تجھے اور دیتا ہوں ۔ اگر اُس وقت بھی تیری آنکھ نہ کُھلی تو پھر یا تو تُو راون کی رانی ہوگی یا تیری لاش چیل اور کوے نوچ نوچ کر کھائینگے"۔ {{gap}}راون چلا گیا تو راکشس عورتوں نے سیتا جی کو سمجھانا شُروع کیا ۔ تم بڑی نادان ہو سِیتا ۔ اتنا بڑا راجہ تمہاری اتنی خوشامد کرتا ہے۔ پھر بھی تم کان نہیں دیتیں ۔ اگر وہ زبر دستی کرنا چاہے تو آج ہی تُمہیں اپنی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 0t8fean3ko8b3cryp1v2oqtv52xl8d3