ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.17 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/31 250 12254 35835 28582 2026-08-28T12:42:10Z Kaur Jatinder Haryau 52 35835 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۲۹)|پہلے درویش کی سیر|}}</noinclude>ہے. دوسری ایک بہن جسکو قبلہ گاہ نے اپنے جیتے جی اور شہر کے سوداگر بچے سے شادی کر دی تھی. وہ اپنی سسرال مین رہتی تھی. غرض جسکے گھر مین اتنی دولت اور ایک لڑکا ہو۔اُسکے لاڈ پیار کا کیا ٹھکانا ہے؟ مجھ فقیر نے بڑے چاو چوز سے ما باپ کے سائے میں پرورش پائی۔اور پڑھنا لکھنا سپاه گری کا کسب و فن۔ سوداگری کا بہی کھاتا روزنامہ سیکھنے لگا. چودہ برس تک نہایت خوشی اور بے فکری میں گذری۔ کچھ دنیا کا اندبشہ دل میں نہ آیا. یک بیک ایک ہی سال میں والدین فضاے الہی سے مر گئے. عجب طرح کا غم ہوا جسکا بیان نہیں کر سکتا. ایک بارگی یتیم ہو گیا. کوئی سرپر بوڑھا بڑا نہ رہا. اِس مصیبت ناگہانی سے رات دن رویا کرتا۔ کھانا پینا سب چھوٹ گیا. چالیس دن جوں توں کر کٹے۔ چہلم میں اپنے بیگانے چھوٹے بڑے جمع ہوئے. جب فاتحہ سے فراغت ہوئی۔ سب نے فقیر کو باپ کی پگڑی بندھائی۔ اور سمجھایا. دنیا میں سب کے ما باپ مرتے آئے ہیں۔ اور اپنے تئین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> deby2qkg4ir9fm7rtr6czwpeidzhxxo صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/33 250 12256 35836 28605 2026-08-29T02:34:33Z Kaur Jatinder Haryau 52 35836 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۳۱)|پہلے درویش کی سیر|}}</noinclude>کو بُلوا کر اُنکے ساتھ پیجئے اور عیش کیجئے. غرض آدمی کا شیطان آدمی ہے. ہر دم کے کہنے سننے سے اپنا بھی مزاج بہک گیا. شراب ناچ اور جوئے کا چرچا شروع ہوا. پھر تو یہ نوبت پہنچی کہ سوداگری بھول کر تماش بینی کا اور دینے لینے کا سودا ہوا. اپنے نوکر اور رفیقوں نے جب یہ غفلت دیکھی جو جسکے ہاتھ پڑا الگ کیا۔ گویا لوٹ مچا دی. کچھ خبر نہ تھی کتنا روپہ خرچ ہوتا ہے۔ کہاں سے آتا اور کدھر جاتا ہے؟ مال مفت دل بے رحم. اِس دل خرچی کے آگے اگر گنج قاروں کا ہوتا تو بھی وفا نکرتا. کئی برس کے عرصے میں ایک بارگی یہ حالت ہوئی کہ فقط ٹوپی اور لنگوٹی باقی رہی. دوست آشنا جو دانت کاٹی روٹی کھاتے تھے۔اور چمچا بھر خون اپنا ہر بات میں نثار کرتے تھے۔ کافور ہو گئے۔ بلکہ راہ باٹ میں اگر کہیں بھینٹ ملاقات ہو جاتی۔ تو آنکھیں چرا کر مُنہ پھیر لیتے۔اور نوکر چاکر خدمت گار بھیلئے ڈهلیت خاص بردار ثابت خانی سب چھوڑ کر کنارے لگے. کوئی بات کا پوچھنے والا نہ رہا جو کہے یہ کیا تمھارا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> c0j3jmig1mposfr95mp300tvo6s8c17 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/261 250 13149 35837 32662 2026-08-29T04:54:19Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35837 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>{{center|{{x-larger|'''لنکا کانڈ'''}}}} {{center|{{larger|'''(۱) راون کے دربار میں انگد'''}}}} رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو چُن چن کر خبریں لانے اور لے جانے کے لئے مقرر کیا ۔ جس سردار کو کوئی حکم دینا ہوتا انہیں آدمیوں کی معرفت کہلا بھیجتے تھے ۔ شہر کے چاروں دروازے بند ہو گئے۔ راکشسوں کو باہر نکلنا محال ہو گیا ۔ رسد کا باہر کے دیہاتوں سے آنا بند ہو گیا ۔ لوگ اندر بھوکوں<noinclude></noinclude> fazx9vqs9wj8dwn55slz9ognh5rb42m 35838 35837 2026-08-29T05:01:25Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35838 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>{{center|{{x-larger|'''لنْکا کانْڈ'''}}}} {{center|{{larger|'''(۱) راون کے دربار میں انگد'''}}}} رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو چُن چن کر خبریں لانے اور لے جانے کے لئے مقرر کیا ۔ جس سردار کو کوئی حکم دینا ہوتا انِْہیں آدِمیوں کی معرفت کہلا بھیجتے تھے ۔ شہر کے چاروں دروازے بند ہو گئے۔ راکشسوں کو باہر نکلنا محال ہو گیا ۔ رسد کا باہر کے دیہاتوں سے آنا بند ہو گیا ۔ لوگ اندر بھوکوں<noinclude></noinclude> f36gfq8tex8ja374jj0le41ru55w78s