ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.17 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/25 250 12156 35845 35844 2026-08-30T13:54:47Z Kaur.gurmel 74 35845 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>سوئمْبر میں شریک ہونے کے لِئے نوید بھیجا ۔ اُس زمانہ میں اکْثر شادِیاں سوئمبْر کے طِریقے سے ہوتی تھِیں ۔ لڑْکی کا باپ ایک جلْسہ کرْتا تھا جِس میں دُور دُور سے آکر لوگ شرِیک ہوتے تھے ۔ جلْسہ میں طاقت یا لڑائی کے ہُنر کا اِمتحان ہوتا تھا جو نَوجوان اِس اِمتحان میں کامیاب ہوتا تھا ۔ اُسی کے گلے میں کنیا جے مال ڈال دیتی تھی ۔ اُسی سے اُس کی شادی ہو جاتی تھی۔ وشوامشر کی دلی خواہش تھی کہ سیتا کی شادی رام سے ہو جائے ۔ وُہ یہ بھی جانتے تھے کہ رام اِمتحان میں ضرور کامیاب ہونگے ۔ اِس لئے جب وہ جانے لگے تو رام اور لکشمن کو بھی ساتھ لیتے گئے ۔ راجہ دسرتھ سے اجازت لینے کے لئے اجودھیا جانے اور پھر وہاں سے متھلا آنے کے لئے کافی وقت نہ تھا ۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> itwre104szp8zdk9kp7132orluapj63 35846 35845 2026-08-30T14:08:49Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35846 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سوئمْبر میں شریک ہونے کے لِئے نوید بھیجا ۔ اُس زمانہ میں اکْثر شادِیاں سوئمبْر کے طِریقے سے ہوتی تھِیں ۔ لڑْکی کا باپ ایک جلْسہ کرْتا تھا جِس میں دُور دُور سے آکر لوگ شرِیک ہوتے تھے ۔ جلْسہ میں طاقت یا لڑائی کے ہُنر کا اِمتحان ہوتا تھا ۔ جو نَوجوان اِس اِمتحان میں کامیاب ہوتا تھا ۔ اُسی کے گلے میں کنْیا جَے مال ڈال دیتی تھی ۔ اُسی سے اُس کی شادی ہو جاتی تھی۔ وِشْوامِتْر کی دِلی خِواہِش تھی کِہ سیتا کی شادی رام سے ہو جائے ۔ وُہ یِہ بھی جانتے تھے کِہ رام اِمتحان میں ضرُور کامیاب ہونْگے ۔ اِس لئے جب وہ متھْلا جانے لگے تو رام اور لکشمْن کو بھی ساتھ لیتے گئے ۔ راجہ دسْرتھ سے اِجازت لینے کے لِئے اجُودِّھیا جانے اور پِھر وہاں سے متْھلا آنے کے لئے کافی وقْت نہ تھا ۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> ixzm263x9gy3yyfo44x90j5khacy29r 35848 35846 2026-08-31T10:38:06Z Kaur.gurmel 74 35848 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سوئمْبر میں شریک ہونے کے لِئے نوید بھیجا ۔ اُس زمانہ میں اکْثر شادِیاں سوئمبْر کے طِریقے سے ہوتی تھِیں ۔ لڑْکی کا باپ ایک جلْسہ کرْتا تھا جِس میں دُور دُور سے آکر لوگ شرِیک ہوتے تھے ۔ جلْسہ میں طاقت یا لڑائی کے ہُنر کا اِمتحان ہوتا تھا ۔ جو نَوجوان اِس اِمتحان میں کامیاب ہوتا تھا ۔ اُسی کے گلے میں کنْیا جَے مال ڈال دیتی تھی ۔ اُسی سے اُس کی شادی ہو جاتی تھی۔ وِشْوامِتْر کی دِلی خِواہِش تھی کِہ سیتا کی شادی رام سے ہو جائے ۔ وُہ یِہ بھی جانتے تھے کِہ رام اِمْتحان میں ضرُور کامیاب ہونْگے ۔ اِس لئے جب وہ متھْلا جانے لگے تو رام اور لکشمْن کو بھی ساتھ لیتے گئے ۔ راجہ دسْرتھ سے اِجازت لینے کے لِئے اجُودِّھیا جانے اور پِھر وہاں سے متْھلا آنے کے لئے کافی وقْت نہ تھا ۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> g2pow5oq7y96664cjua7j6tzlvldiow صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/47 250 13121 35847 32876 2026-08-31T08:28:16Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35847 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے سنکر کہا اے مہاراج مجھے سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے ہین پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے بدلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا اپکار ہوگا اور میرا جینا مرنا دونون برابر ہے تب جیموت باہن بولا کہ یہ ست پرشون کا دھرم نہین ہے جو مکھسے کہکر نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سنکھ جوڑ تو دیبی کے درشن کو گیا اور آکاس سے گڑڑ اترا اتنے مین راجکمار دیکھتا کیا ہے کہ پاؤُن تو اسکے چار بانس برابر ہین اور تاڑ سے لنبی چونچ پہاڑ کے سمان پیٹ پھاٹک کے مانِند آنکھین اور گھٹا کے سمان بال چونچ کھولکر راج پتر پر دوڑا پہلے پتر نے اپنے تئین بچایا پر دوسری بار وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا ہوا تھا وہ کھلکر لہو بھرا راج کنیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر مورچھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے بعد ہوش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ مصیبت سنکر آئے اور لہو سے بھرا بازوبند دیکھ روئے پھر تینون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکھ جوڑ بھی ملا اور انسے بڑھکر اکیلا وہان گیا جہان راجکمار کو دیکھا تھا اور پکار پکار کہنے لگا اے گڑڑ چھوڑ دے یہ تیرا بھکش نہین ہے سنکھ چوڑ میرا نام ہے مین تیرا بھکش ہون یہ سنکر گڑڑ گھبرا کر گرا اور اپنے جی مین سوچا برہمن یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا اس راج پتر سے کہا اے پرش سچ کہہ کس لیے اپنا جی دیتا ہے راجکمار بولا اے گڑڑ برکس چھایا کرتے ہین دوسرونکے اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہے جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شریر سے کیا پروجن ہے مشل مشہور ہے کہ جون جون چندن کو گھستے ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہے اور جون جون چھیل کاٹ ٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک ادھک سواد دیتا ہے جون جون کنچن کو جلاتے ہین تون تون چمکدار ہوتا جاتا ہے بھلے لوگ جو ہین جان جانے سے بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھلا کہا تو کیا اور بُرا کہا تو کیا دولت رہی تو کیا جو نہ رہی تو کیا ابھی مرے تو کیا اور مدّت کے بعد مرے تو کیا جو لوگ نیاؤ کی راہ سے چلتے ہین کچھ ہو اور راہ پر قدم نہین دھرتے تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر سے اپکار نہ ہو اسکی زندگی بیکار ہے اور برانے ارتھ جنکا جیو ہے انھین کا جینا سفل ہے یون تو کنّا کو ابھی اپنا جی پالنا ہے جو برہمن گؤ متر استری کے خاطِر بلکہ بیگانے کیواسطے جی ایتے ہین نشچے سُدا بیکنٹھ باس کرتے ہین گڑڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude> kst50bjfr0isecxb8w5de878ftjddsd