ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.17
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/26
250
12157
35849
27857
2026-09-01T02:29:51Z
Kaur.gurmel
74
35849
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۰}}</noinclude>
متھلا وہاں سے قریب ہی تھا ۔ اِس لئے
وشوامتر نے سیدھے وہیں سے جانے کا
فیصلہ کیا.
{{gap}}آج کل جِس صوبے کو ہم بہار کہتے ہیں
وہی اُس زمانے میں متھلا کہلاتا تھا ۔ متھلا
کے راجہ جنک بڑے وِدوان، گیانی آدمی
تھے ۔ بڑے بڑے رشی مُنی اُن سے گیان
سِیکھنے آتے تھے ۔ کئی سال پہلے متھْلا میں
بڑا بھاری قحط پڑا تھا ۔ اُس وقْت رِیشیوں
نے مِل کر فَیصلہ کیا کہ یہ قحط یگیہ ہی سے
دُور ہو سکتا ہے ۔ اِس یگیہ کو پورا کرنے
کی ایک شرْط یہ بھی تھی کہ راجہ جنک
خُود ہل چلائیں ۔ راجہ جنک کو اپْنی رعایا
جان سے بھی زِیادہ عزیز تھی ۔ اس کے
سر سے اس مُصیبت کو دور کرنے کے
لئے اُنْہوں نے اس یگیہ کو شُروع کر دیا۔
جب وہ ہل بیل لے کر کھیت میں پہنچے اور<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
5qlvlkjncva20d9ng1sqwaq8vmpffxj
35850
35849
2026-09-01T02:47:15Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35850
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۰}}</noinclude>متھلا وہاں سے قرِیب ہی تھا ۔ اِس لِئے
وِشْوامِتر نے سیدھے وہِیں سے جانے کا
فَیصلہ کِیا.
{{gap}}آج کل جِس صُوبے کو ہم بہار کہْتے ہیں
وہی اُس زمانے میں متھلا کہلاتا تھا ۔ متھلا
کے راجہ جنک بڑے وِدّوان، گیانی آدمی
تھے ۔ بڑے بڑے رشی مُنی اُن سے گیان
سِیکھْنے آتے تھے ۔ کئی سال پہلے متھْلا میں
بڑا بھاری قحط پڑا تھا ۔ اُس وقْت رِشیوں
نے مِل کر فَیصلہ کیا کہ یہ قحط یگیہ ہی سے
دُور ہو سکتا ہَے ۔ اِس یگیہ کو پُورا کرنے
کی ایک شرْط یہ بھی تھی کِہ راجہ جنک
خُود ہل چلائیں ۔ راجہ جنک کو اپْنی رعایا
جان سے بھی زِیادہ عزِیز تھی ۔ اِس کے
سر سے اس مُصِیبت کو دُور کرنے کے
لِئے اُنْہوں نے اِس یگیہ کو شُرُوع کر دیا۔
جب وہ ہل بیل لے کر کھیت میں پہنْچے اور<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
r41tbw8d8yvza67xhyqmbw7vfc0csbh
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/27
250
12158
35851
27860
2026-09-01T03:05:42Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35851
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۱}}</noinclude>ہل چلانے لگے تو کیا دیکھْتے ہَیں کہ پھال کی
نوک سے جو زمِین کھُد گئی ہے ۔ اُس میں
ایک چانْد سی لڑکی پڑی ہُوئی ہے ۔ راجہ
کے کوئی اَولاد نہ تھی ۔ فَوراً اِس لڑکی کو
گود میں اُٹھا لِیا اور گھر لائے ۔ اس کا نام
سیتا رکھا ۔ کیونکہ وہ پھال کی نوک سے
نِکْلی تھی ۔ پھال کو سنسکرت میں سِت کہتے
ہَیں ۔ اِس خُدا داد نِعمت کو راجہ جنک نے
بڑے لاڈ اَور پیار سے پالا ، اَور اچھے
اچھے وِدّوانوں سے اُسے تعلِیم دِلْوائی۔ اسی
سِیتا کی شادی پر یہ سوئمبر رچا گیا تھا.
رام - لکشمن اَور وِشْوامِتر شُون ، گنگا،
وغَیرہ ندیوں کو پار کرتے ہوئے چَوتھے
دِن متھْلا پہُنْچے ۔ سارے شہر کے لوگ
اِن راجکماروں کا حُسن اور قد و قامت دیکھ
کر اُن پر فریفتہ ہو گئے۔ سب کے
مُنہ سے یہی صدا نِکلْتی تھی کِہ سیتا کے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
0lr4x86n1smvv34etza0ttmdgiu660o
35852
35851
2026-09-01T03:21:32Z
Kaur.gurmel
74
35852
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۱}}</noinclude>ہل چلانے لگے تو کیا دیکھْتے ہَیں کہ پھال کی
نوک سے جو زمِین کھُد گئی ہے ۔ اُس میں
ایک چانْد سی لڑکی پڑی ہُوئی ہے ۔ راجہ
کے کوئی اَولاد نہ تھی ۔ فَوراً اِس لڑکی کو
گود میں اُٹھا لِیا اور گھر لائے ۔ اس کا نام
سیتا رکھا ۔ کیونکہ وہ پھال کی نوک سے
نِکْلی تھی ۔ پھال کو سنسکرت میں سِت کہتے
ہَیں ۔ اِس خُدا داد نِعمت کو راجہ جنک نے
بڑے لاڈ اَور پیار سے پالا ، اَور اچھے
اچھے وِدّوانوں سے اُسے تعلِیم دِلْوائی۔ اسی
سِیتا کی شادی پر یہ سوئمبر رچا گیا تھا.
رام - لکشمن اَور وِشْوامِتر شُون ، گنْگا،
وغَیرہ ندِّیوں کو پار کرْتے ہوئے چَوتھے
دِن متھْلا پہُنْچے ۔ سارے شہر کے لوگ
اُن راجْکُماروں کا حُسن اور قد و قامت دیکھ
کر اُن پر فریفتہ ہو گئے۔ سب کے
مُنہ سے یہی صدا نِکلْتی تھی کِہ سیتا کے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
eug99wcyyjs57dfdup1gxzzjlauelwg
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/28
250
12159
35855
27864
2026-09-01T04:46:48Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35855
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۲}}</noinclude>لائق کُوئی ہَے تو یِہی راجکمار ہَے ۔ جَیسی
حَسین وُہ ہَے ویسے ہی خُوبْصُورت رامْچندر
ہیں ۔ مگر دیکھا چاہِئے اِن سے شِیو کا
دهنش اُٹھتا ہَے یا نِہیں.
{{gap}}راجہ جنک کو وِشوامتر کے آنے کی خبر
ہُوئی تو اُنہوں نے اِن کی بڑی خاطر و تواضع
جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ دونو نوجوان
راجہ دسرتھ کے بیٹے ہیں ۔ تب اُن کے دل
میں بھی یہی خواہش پیدا ہوئی کہ کاش
سیتا کا بیاہ رامچندر سے ہو جاتا ۔ مگر
سو ٹمبر کی شرط سے مجبور تھے.
{{gap}}وشوا منتر نے راجہ جنک سے پوچھا ۔
مہاراج آپ نے سوئمبر کے لئے کون سا
امتحان تجویز کیا ہے؟
{{gap}}جنک نے جواب دیا ۔ بھگون ، کیا کہوں،
کچھ کہا نہیں جاتا ۔ سینکڑوں برس گزر گئے
ایک بار شیوجی نے میرے ایک بزرگ کو<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
6ifxtynwkygrgz7mk0qsn26z7lg8wck
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/166
250
12769
35853
31127
2026-09-01T03:23:35Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35853
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|١٦٠}}</noinclude>اشارہ پر جان دینے کو تیار رہتے تھے۔ جہاں
رام کا پسینہ گرے وہاں اپنا خون بہانے میں
بھی انہیں دریغ نہ تھا۔ انہیں خوف تھا کہ
کہیں میری غیر حاضری میں سیتاجی پر کوئی
آفت آگئی، کوئی راکشس آکر انہیں چھیڑنے
لگا تو میں رام چندر کو کیا مُنہ دکھاؤنگا ۔ اُس
وقت جب رام چندر پوچھینگے کہ تم میرے حُکم کے
خلاف سیتا کو تنہا چھوڑ کر کیوں چلے گئے تو
میں کیا جواب دونگا ۔ مگر جب سیتا جی نے
اُنہیں بے وفا اور بزدل اور دغا باز بنا دیا
تو اُنہیں اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ
رہا کہ رام کی تلاش میں جائیں ۔ انہوں نے
تیر و کمان اُٹھا لیا اور رنجیدہ ہو کر ہوئے۔
'بھابھی جان ! آپ نے اس وقت مجھے جو جو
باتیں کہیں اُن کی مجھے آپ سے اُمید نہ تھی.
ایشور نہ کرے وہ دن آئے ، مگر موقع آئیگا تو
میں دکھا دونگا کہ بھائی کے لئے بھائی کیونکر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
hvje2ocp8sdmhldio9kdg5qgqdtfut5
35854
35853
2026-09-01T03:34:48Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35854
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|١٦٠}}</noinclude>اشارہ پر جان دینے کو تیار رہتے تھے۔ جہاں
رام کا پسینہ گرے وہاں اپنا خون بہانے میں
بھی انہیں دریغ نہ تھا۔ انہیں خوف تھا کہ
کہیں میری غیر حاضری میں سیتاجی پر کوئی
آفت آ گئی، کوئی راکشس آکر انہیں چھیڑنے
لگا تو میں رام چندر کو کیا مُنہ دکھاؤنگا ۔ اُس
وقت جب رام چندر پوچھینگے کہ تم میرے حُکم کے
خلاف سیتا کو تنہا چھوڑ کر کیوں چلے گئے تو
میں کیا جواب دونگا ۔ مگر جب سیتا جی نے
اُنہیں بے وفا اور بزدل اور دغا باز بنا دیا
تو اُنہیں اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ
رہا کہ رام کی تلاش میں جائیں ۔ انہوں نے
تیر و کمان اُٹھا لیا اور رنجیدہ ہو کر بولے۔
'بھابھی جان ! آپ نے اس وقت مجھے جو جو
باتیں کہیں اُن کی مجھے آپ سے اُمید نہ تھی.
ایشور نہ کرے وہ دن آئے ، مگر موقع آئیگا تو
میں دکھا دُونگا کہ بھائی کے لئے بھائی کیونکر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
j40vbdmayorks652qov4d7y2ot88tu5
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/111
250
13875
35856
35625
2026-09-01T08:31:21Z
BalramBodhi
60
35856
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰- پسر نوح با بدان نشست- خاندان بنوتش گم شد١١- دشمن نتوان حقیب و بیچاره شمدد ۱۲- عاقبت گرگ زاده گرگ شود ١٣ در باغ لاله روید و در شوره بوم خس ۱٤ - تونگری به دل ست نہ بمال- و بزرگی بعقل است نه بسال ۱۵- دشمن چه کند چو مهربان باسد درست ۱٦ حسود را چکنم کوج خود \یرین\ درست ١٧- قدر عافیت کے داند کہ بمصیتے گرفتار آید -۱۸- آنانکہ غنی ترند محتاج ترند
-۱۹- چو عضوے بد را در روزگار-وگر دوران باران ارارا هاما 20-
بمن از کجا آدم را ندارم
۲۔ گاہے بسلامت برنجند و گا سب با شناست خلعت دهند ۲۴ هر کجا چشمه بود و
شیرین به مردم و مرغ و سیر آیت ۲۳- راستی موجب رمنا
کس ندیدم دیگر شداده است ۲۰۲۴۷ تا که هماسب پاکست از محاسب چه باک را آز - آنرا
۲۵ - تو پاک باش باور مدار از کس باک به زمند جامه ناپاک گازران برنگ - ۲۶ تاریقی
از عراق
آورده شود مارگزیده مرده شود عام - به دریا در منافع بیشمار است با دگر خواهی سلامت
برکنا راست ۲۴ - دوست آن باشد که گیرد دست دوست ؛ در پریشان حالی دور ماندگی
۲۹ سه وزیر و وزیر سلطان را با به وسیاست نگرد پیرامن - سگ در بان چهیافتند غریب
این گریبان بگیرد آن دامن ۳۰ - خداست راست مسلم زندگی و اطاعت با که هرم من هنا م خ راست زندگی کرم میدان
رسید ه بر با فولاد با زمینه کرد با سای بین خود را رنج کرد سواس - چوکردی با کلوخ
اند از پیکار ه سرخود را نادان شکستی چونگ انداختی بر دست شهر به ایران کاند، تاج دانستی<noinclude></noinclude>
q0sptqa2hpv0lb9vauszkrxufzpbfya
35857
35856
2026-09-01T09:15:49Z
Charan Gill
46
35857
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰- پسر نوح با بدان نشست- خاندان بنوتش گم شد١١- دشمن نتوان حقیر و بیچاره شمرد ۱۲- عاقبت گرگزاده گرگ شود ١٣ در باغ لاله روید و در شورهبوم خَس ۱٤ - تونگری به دل ست نہ بمال- و بزرگی بعقل ست نه بسال ۱۵- دشمن چه کند چو مہربان باشد دوست ۱٦ حسود را چکنم کو ز خود به رنج درست درست ١٧- قدر عافیت کسے داند کہ که به مصیبتی گرفتار آید -۱۸- آنانکہ غنی ترند محتاج ترند -۱۹- چو عضوے به درد آورَد روزگار-دگر عضوها را نمانَد قرار ٢٠-
بمن از کجا آدم را ندارم
۲۔ گاہے بسلامت برنجند و گا سب با شناست خلعت دهند ۲۴ هر کجا چشمه بود و
شیرین به مردم و مرغ و سیر آیت ۲۳- راستی موجب رمنا
کس ندیدم دیگر شداده است ۲۰۲۴۷ تا که هماسب پاکست از محاسب چه باک را آز - آنرا
۲۵ - تو پاک باش باور مدار از کس باک به زمند جامه ناپاک گازران برنگ - ۲۶ تاریقی
از عراق
آورده شود مارگزیده مرده شود عام - به دریا در منافع بیشمار است با دگر خواهی سلامت
برکنا راست ۲۴ - دوست آن باشد که گیرد دست دوست ؛ در پریشان حالی دور ماندگی
۲۹ سه وزیر و وزیر سلطان را با به وسیاست نگرد پیرامن - سگ در بان چهیافتند غریب
این گریبان بگیرد آن دامن ۳۰ - خداست راست مسلم زندگی و اطاعت با که هرم من هنا م خ راست زندگی کرم میدان
رسید ه بر با فولاد با زمینه کرد با سای بین خود را رنج کرد سواس - چوکردی با کلوخ
اند از پیکار ه سرخود را نادان شکستی چونگ انداختی بر دست شهر به ایران کاند، تاج دانستی<noinclude></noinclude>
0sa863sxfl720tpq8s9l39cgnvby7k0
35858
35857
2026-09-01T09:30:01Z
Charan Gill
46
35858
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰- پسر نوح با بدان نشست- خاندان بنوتش گم شد١١- دشمن نتوان حقیر و بیچاره شمرد ۱۲- عاقبت گرگزاده گرگ شود ١٣ در باغ لاله روید و در شورهبوم خَس ۱٤ - تونگری به دل ست نہ بمال- و بزرگی بعقل ست نه بسال ۱۵- دشمن چه کند چو مہربان باشد دوست ۱٦ حسود را چکنم کو ز خود به رنج درست درست ١٧- قدر عافیت کسے داند کہ که به مصیبتی گرفتار آید -۱۸- آنانکہ غنی ترند محتاج ترند -۱۹- چو عضوے به درد آورَد روزگار-دگر عضوها را نمانَد قرار ٢٠- بمن از کجا آدم را ندارم
٢١۔ گاہے بسلامت برنجند و گاہے بد شنامے خِلعت دہند ۲۴ هر کجا چشمه بود و
شیرین به مردم و مرغ و سیر آیت ۲۳- راستی موجب رمنا
کس ندیدم دیگر شداده است ۲۰۲۴۷ تا که هماسب پاکست از محاسب چه باک را آز - آنرا
۲۵ - تو پاک باش باور مدار از کس باک به زمند جامه ناپاک گازران برنگ - ۲۶ تاریقی
از عراق
آورده شود مارگزیده مرده شود عام - به دریا در منافع بیشمار است با دگر خواهی سلامت
برکنا راست ۲۴ - دوست آن باشد که گیرد دست دوست ؛ در پریشان حالی دور ماندگی
۲۹ سه وزیر و وزیر سلطان را با به وسیاست نگرد پیرامن - سگ در بان چهیافتند غریب
این گریبان بگیرد آن دامن ۳۰ - خداست راست مسلم زندگی و اطاعت با که هرم من هنا م خ راست زندگی کرم میدان
رسید ه بر با فولاد با زمینه کرد با سای بین خود را رنج کرد سواس - چوکردی با کلوخ
اند از پیکار ه سرخود را نادان شکستی چونگ انداختی بر دست شهر به ایران کاند، تاج دانستی<noinclude></noinclude>
g23yybyoeiut0tsmmee31ey4p6q4wr4