ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.19
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/232
250
12829
35866
35863
2026-09-09T10:43:50Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35866
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{c|۲۲۶}}</noinclude>درختوں کو اُکھاڑنا شُروع کیا ۔ تمہیں حَیرت
ہوگی کہ اُنہوں نے درخت کیسے اُکھاڑے ہونگے۔
ہم تو ایک پَودھا بھی جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکتے۔
مگر ہنومان جی اپنے زمانے کے نہایت طاقتور
آدمی تھے ۔ جب اُنہوں نے ہندوستان سے لنکا
تک سمندر کو تَیر کر پار کیا تو چھوٹے موٹے
درختوں کو اَکھاڑنا کیا مُشکل تھا۔ کئی درْخت
اُکھاڑے، کچھ درختوں کی شاخیں توڑ ڈالیں اور
پھل تو اتنے توڑ کر گرا دِئے کہ اُن کا فرش سا
وِچھ گیا ۔ باغ کے محافظوں نے یہ حال دیکھا تو
جمع ہو کر ہنومان کو روکنے آئے ۔ مگر یہ کس کی
سُنتے تھے ۔ اُن سبھوں کو شاخوں سے مار مار کر
بھگا دیا ۔ کئی آدمیوں کو جان سے مار ڈالا۔ تب
باہر سے اور کتنے ہی سپاہی آکر ہنومان کو
پکڑنے لگے ۔ مگر آپ نے اُنہیں بھی مار بھگایا۔
شزه شزه راجہ راون کے پاس خبر پہنچی کہ
ایک آدمی نہ جانے کدھر سے اشوکوں کے باغ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
78bbjc7ydipf8zf7qmvpggpmfq219wi
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/49
250
13119
35864
32880
2026-09-09T03:30:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35864
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سندر استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موھ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ اسے بیاہ لایا ہے راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو لکشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے چوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر چوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جو آپ فرماوین سو سچ ہے پر ہم نے اسکو کلکسنی جس واستئے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کیا جو سچ نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بےچینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھلبھدر بھی آپہونچا اسنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی اس پرتھوی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہو یہ بات سن راجہ کرودہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے کہی کیا مین ادھرمی ہون جو ادھرم کرون برانی استری ماتا کے سمان ہے اور برانا دھن ماٹی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی سمجھے ویسا ہی سبکا سمجھے بلبھدر بولا وہ میری داسی ہے جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ نے کہا جس کام کے کرنے سے سنسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینپات نے عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ بیشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ نے کہا جو ست ناری کو بیشیا کریگا تو مین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہہ راجہ اسکی یاد مین چنتا کرکے دس دِن<noinclude></noinclude>
16skqwjxdyss0m1glcsdm0u8am84nqh
35865
35864
2026-09-09T10:36:53Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35865
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا بواہ کر دیا اور وہ اسکے گھر مین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سے نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقاً راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے یا نر کنیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نپٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منھ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سریر مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کوٹھے پر سندر استری دیکھی ہے مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے کہ اسکے روپ نے یکبارگی میرا من موھ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہے جو آپکا سینپات بل بھدر ہے وہ اسے بیاہ لایا ہے راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو لکشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دغا کی یہ کہہ راجہ نے چوبدار کو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم پاکر چوبدار انھین بلا لایا غرض جب وے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تمھین بھیجا تھا اور جو میری منشا تھی سو تم نے نہ کیا بلکہ اپنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سے ملنی کٹھِن ہے یہ سنکے انھون نے کہا مہاراج جو آپ فرماوین سو سچ ہے پر ہم نے اسکو کلکسنی جس واستئے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے تو راج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شنکر راجہ نے کہا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کیا جو سچ نہ کہا پر اسکی یاد مین راجہ کو بیہد بےچینی تھی اور سب لوگون پر راجہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھلبھدر بھی آپہونچا اسنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی اس پرتھوی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہو یہ بات سن راجہ کرودہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے کہی کیا مین ادھرمی ہون جو ادھرم کرون برانی استری ماتا کے سمان ہے اور برانا دھن ماٹی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی سمجھے ویسا ہی سبکا سمجھے بلبھدر بولا وہ میری داسی ہے جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ نے کہا جس کام کے کرنے سے سنسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینپات نے عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ بیشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ نے کہا جو ست ناری کو بیشیا کریگا تو مین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہہ راجہ اسکی یاد مین چنتا کرکے دس دِن<noinclude></noinclude>
dzlrsu1tcevts840yplda63bk7wom74
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/236
250
13138
35867
33175
2026-09-09T11:32:36Z
Kaur.gurmel
74
35867
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لیکن معلوم ہوتا ہے تیرے سر پر موت کھیل رہی
ہے ۔ آجا سامنے ۔ باغ کے مالیوں اور میرے
کم سن بھائی کو مار کر شاید تجھے گھمنڈ ہو گیا
ہے ۔ آ تیرا گھمنڈ توڑ دوں.
ہنومان طاقت میں میگھناد سے کم نہ تھے۔
مگر اُس وقت اُس سے لڑنا مصلحت کے خلاف
سمجھا ۔ میگھنا د معمولی آدمی نہ تھا ۔ برابر کا مقابلہ
تھا ۔ سوچے کہیں اس نے مجھے مار ڈالا تو رامچندر
کے پاس سیتا جی کی خبر بھی نہ لے جا سکونگا۔
میگھناد کے سامنے تال ٹھونک کر کھڑے تو ہوئے
پر اُسے اپنے اوپر جان بوجھ کر غالب آ جانے
دیا ۔ میگھنا د نے سمجھا میں نے اسے دبا لیا ۔
فوراً ہنومان کو رسیوں سے جکڑ دیا اور موچھوں
پر تاؤ دیتا ہوا راون کے سامنے آکر بولا ۔
مہاراج یہ لیجئے آپ کا قیدی حاضر ہے
غصے میں بھرا تو بیٹھا ہی تھا ۔ بہنومان
کو دیکھتے ہی بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کے لئے
راون<noinclude></noinclude>
ckt0gcilu7lvznce54mnwgmzh24h7c4
35868
35867
2026-09-09T11:45:52Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35868
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>لیکن معلوم ہوتا ہے تیرے سر پر موت کھیل رہی
ہے ۔ آجا سامنے ۔ باغ کے مالیوں اور میرے
کم سِن بھائی کو مار کر شاید تجھے گھمنڈ ہو گیا
ہے ۔ آ تیرا گھمنڈ توڑ دوں".
ہنومان طاقت میں میگھناد سے کم نہ تھے۔
مگر اُس وقت اُس سے لڑنا مصلحت کے خلاف
سمجھا ۔ میگھناد معمولی آدمی نہ تھا ۔ برابر کا مقابلہ
تھا ۔ سوچے کِہیں اس نے مُجھے مار ڈالا تو رامچندر
کے پاس سیتا جی کی خبر بھی نہ لے جا سکونگا۔
میگھناد کے سامنے تال ٹھونک کر کھڑے تو ہوئے
پر اُسے اپنے اوپر جان بوجھ کر غالب آ جانے
دیا ۔ میگھناد نے سمجھا میں نے اسے دِبا لیا ۔
فوراً ہنومان کو رسّیوں سے جکڑ دیا اور مُوچھوں
پر تاؤ دیتا ہوا راون کے سامنے آکر بولا ۔
"مہاراج یہ لیجئے آپ کا قیدی حاضر ہے"۔
{{gap}}راون غصّے میں بھرا تو بیٹھا ہی تھا ۔ ہنومان
کو دیکھتے ہی بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کے لئے
راون<noinclude></noinclude>
e92r5fgvk6lq1tqava51ah9xv3s1ri6