ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.20
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/32
250
12208
35887
28191
2026-09-15T15:09:57Z
Kaur.gurmel
74
35887
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۶}}</noinclude>مَیں کیا کر سکْتا ہُوں ۔ آپ لوگ اب شَوق
سے تشرِیف لے جائیں ۔ اس حَوصلہ اَور طاقت پر آپ لوگوں کو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟
لکشمن بڑے جوشیلے نوجوان تھے ۔
جنک کی یہ باتیں سُن کر اُن سے ضبط
نہ ہو سکا ۔ جوش سے بولے ' مہاراج !
ایسا اپنی زبان مبارک سے نہ فرمائیے۔
جب تک راجہ رگھو کا بنس قائم ہے ،یہ دیش ویروں سے خالی نہیں ہو سکتا۔
میں ڈینگ نہیں مارتا ۔ سچ کہتا ہوں کہ
اگر اپنے بھائی صاحب کا حکم پاؤں تو
ایک دم ہیں اس دھنش کے پرزے
پرزے کر دُوں ۔ میرے بھائی صاحب
چاہیں تو اسے ایک ہاتھ سے توڑ سکتے
ہیں ۔ اس کی حقیقت ہی کیا ہے -
{{gap}}لچھمن کی یہ پرجوش باتیں سُن کر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
6d9mjaxaoitum8r3c6qu6ccfry795tx
35888
35887
2026-09-15T15:13:27Z
Kaur.gurmel
74
35888
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۶}}</noinclude>مَیں کیا کر سکْتا ہُوں ۔ آپ لوگ اب شَوق
سے تشرِیف لے جائیں ۔ اس حَوصلہ اَور طاقت پر آپ لوگوں کو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟
لکشمن بڑے جوشیلے نوجوان تھے ۔
جنک کی یِہ باتیں سُن کر اُن سے ضبط
نہ ہو سکا ۔ جوش سے بولے ' مہاراج !
اَیسا اپنی زبانِ مبارک سے نہ فرْمائیے۔
جب تک راجہ رگھو کا بنسْ قائم ہے ،یہ دیش ویروں سے خالی نہیں ہو سکتا۔
میں ڈینگ نہیں مارتا ۔ سچ کہتا ہوں کہ
اگر اپنے بھائی صاحب کا حکم پاؤں تو
ایک دم ہیں اس دھنش کے پرزے
پرزے کر دُوں ۔ میرے بھائی صاحب
چاہیں تو اسے ایک ہاتھ سے توڑ سکتے
ہیں ۔ اس کی حقیقت ہی کیا ہے -
{{gap}}لچھمن کی یہ پرجوش باتیں سُن کر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
oeg4xtyob1mii6nbm8e6eosijumlgvb
35889
35888
2026-09-15T15:24:32Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35889
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۶}}</noinclude>مَیں کیا کر سکْتا ہُوں ۔ آپ لوگ اب شَوق
سے تشرِیف لے جائیں ۔ اس حَوصلہ اَور طاقت پر آپ لوگوں کو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟
{{gap}}لکشمن بڑے جوشیلے نوجوان تھے ۔
جنک کی یِہ باتیں سُن کر اُن سے ضبط
نہ ہو سکا ۔ جوش سے بولے 'مہاراج !
اَیسا اپنی زبانِ مبارک سے نہ فرْمائیے۔
جب تک راجہ رگھو کا بنْس قائم ہے یِہ دیش وِیروں سے خالی نہیں ہو سکْتا ۔
مَیں ڈِینْگ نہیں مارْتا ۔ سچ کہتا ہوں کِہ
اگر اپنے بھائی صاحِب کا حُکم پاؤں تو
ایک دم میں اِس دھنش کے پُرْزے
پُرْزے کر دُوں ۔ میرے بھائی صاحِب
چاہیں تو اِسے ایک ہاتھ سے توڑ سکْتے
ہَیں ۔ اِس کی حقِیقت ہی کیا ہَے'.
{{gap}}لچھمن کی یِہ پُرجوش باتیں سُن کر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
9yhdtx91xgyzuyjbqtcspmdhgjma12u
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/33
250
12213
35890
28224
2026-09-16T08:22:12Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35890
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۷}}</noinclude>
سارے سورما دنْگ رہ گئے ۔ رامْچنْدر چھوٹے
بھائی کے مزاج سے واقف تھے ۔ اِن
کا ہاتھ پکڑ کر کھِینچ لِیا اَور بولے بھائی یِہ
موقع اس طرح باتیں کرنے کا نِہیں ہے۔
جب تک تمہارے بڑے موجود ہیں تمہیں
زبان کھولْنا مناسب نِہیں.
{{gap}}لکشمن بَیٹھ گئے تو وِشْوامِتر نے رام چندر سے
کہا۔ 'بیٹا اب تُم جا کر اِس دھنش کو
توڑو تا کہ راجہ جنک کو تسکِین ہو.
{{gap}}رام چنْدر سِیتا کو پہلے ہی دن ایک باغ
میں دیکھ چُکے تھے ۔ دونو بھائی باغ میں
سَیر کرنے گئے تھے ۔ اَور سِیتا دیوی کی
پُوجا کرنے آئی تِھیں ۔ وہیں دونو کی
آنکھیں مِلی تِھیں ۔ اُسی وقت سے رام چنْدر
کو سِیتا سے محبت ہو گئی تھی ۔ وُہ اسی
مَوقع کے منتظر تھے ۔ وِشواستر کی اِجازت
پاتے ہی اُنْہیں پرنام کِیا اَور دھنش کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
c8ywrfckxr94t4k9dlg8933f5n3sanw
35891
35890
2026-09-16T08:44:44Z
Kaur.gurmel
74
35891
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۷}}</noinclude>
سارے سورما دنْگ رہ گئے ۔ رامْچنْدر چھوٹے
بھائی کے مزاج سے واقف تھے ۔ اِن
کا ہاتھ پکڑ کر کھِینچ لِیا اَور بولے بھائی یِہ
موقع اِس طرح باتیں کرنے کا نہِیں ہے۔
جب تک تمہارے بڑے مَوجود ہیں تمہْیں
زبان کھولْنا مناسب نِہیں.
{{gap}}لکشمن بَیٹھ گئے تو وِشْوامِتر نے رام چندر سے
کہا۔ 'بیٹا اب تُم جا کر اِس دھنش کو
توڑو تا کہ راجہ جنک کو تسکِین ہو.
{{gap}}رام چنْدر سِیتا کو پہلے ہی دن ایک باغ
میں دیکھ چُکے تھے ۔ دونو بھائی باغ میں
سَیر کرنے گئے تھے ۔ اَور سِیتا، دیوی کی
پُوجا کرنے آئی تِھیں ۔ وہیں دونو کی
آنکھیں مِلی تِھیں ۔ اُسی وقْت سے رام چنْدر
کو سِیتا سے محبت ہو گئی تھی ۔ وُہ اسی
مَوقع کے منتظر تھے ۔ وِشوامتر کی اِجازت
پاتے ہی اُنْہیں پرنام کِیا اَور دھنش کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
gbpbnjr8vh77to6uzwmtzgsypuj6508
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/34
250
12215
35892
28242
2026-09-16T08:55:53Z
Kaur.gurmel
74
35892
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۸}}</noinclude>طرف چلے ۔ سورماؤں نے اپنی خِفّت
مٹانے کے لئے اُن پر آوازے کشنا
شروع کئے ۔ ایک نے کہا ذرا سنبھلے
ہوئے جائیے گا ، ایسا نہ ہو اپنے ہی زور
میں گِر پڑئے ۔ دوسرا بولا اِس پُرانے
دهنش پر رحْم کیجئے ۔ کہیں پُرزے پرْزے
نہ کر دیجئے گا ۔ تیسْرا بولا ذرا آہِسْتہ آہِسْتہ
قدم رکھئے زمِین ہِل رہی ہے ۔ مگر
رام چندر نے اِن طنزوں کی طرف مطلق
توجّہ نہ کی ۔ جا کر دھنش کو اِس طرح
اُٹھا لیا گویا کوئی پھول ہو اور اِتنی زور سے
چڑھایا کہ بیچ سے اِس کے دو ٹکڑے
ہو گئے ۔ اِس کے ٹوٹنے سے ایسی آواز
ہوئی کہ لوگ چونک پڑے ۔ دھنش
جُوں ہی ٹوٹ کر گِرا وہ جوشِ مسّرت
سے اُچھل کہ دوڑے -
{{gap}}راجہ جنک سبھا کے باہر کھڑے متفکّر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
fr9ew0s6q7l4cua32qtega6kr8wj4hd
35893
35892
2026-09-16T09:03:12Z
Kaur.gurmel
74
35893
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|۲۸}}</noinclude>طرف چلے ۔ سورماؤں نے اپنی خِفّت
مٹانے کے لئے اُن پر آوازے کشنا
شروع کئے ۔ ایک نے کہا ذرا سنبھلے
ہوئے جائیے گا ، ایسا نہ ہو اپنے ہی زور
میں گِر پڑئے ۔ دوسرا بولا اِس پُرانے
دهنش پر رحْم کیجئے ۔ کہیں پُرزے پرْزے
نہ کر دیجئے گا ۔ تیسْرا بولا ذرا آہِسْتہ آہِسْتہ
قدم رکھئے زمِین ہِل رہی ہے ۔ مگر
رام چندر نے اِن طنزوں کی طرف مطلق
توجّہ نہ کی ۔ جا کر دھنش کو اِس طرح
اُٹھا لیا گویا کوئی پھول ہو اور اِتنی زور سے
چڑھایا کہ بیچ سے اِس کے دو ٹکڑے
ہو گئے ۔ اِس کے ٹوٹنے سے ایسی آواز
ہوئی کہ لوگ چونک پڑے ۔ دھنش
جُوں ہی ٹوٹ کر گِرا وہ جوشِ مسّرت
سے اُچھل کر دوڑے -
{{gap}}راجہ جنک سبھا کے باہر کھڑے متفکّر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
ls935e79qqjg7f7641xzq81571yjyov
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/111
250
13875
35885
35859
2026-09-15T13:30:42Z
BalramBodhi
60
35885
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰- پسر نوح بابدان نشست- خاندان بنوتش گم شد١١- دشمن نتوان حقیر و بیچاره شمرد ۱۲- عاقبت گرگزاده گرگ شود ١٣ در باغ لاله روید و در شورهبوم خَس ۱٤ - تونگری به دل ست نہ بمال- و بزرگی بعقل ست نه بسال ۱۵- دشمن چه کند چو مہربان باشد دوست ۱٦ حسود را چکنم کوز خود به رنج درست ١٧- قدر عافیت کسے داند کہ به مصیبتے گرفتار آید -۱۸- آنانکہ غنی ترند محتاج ترند -۱۹- چو عضوے به درد آورَد روزگار-دگر \عنوها\ را نمانَد قرار ٢٠- دامن از کجا آدم کہ \\ ندارم ٢١۔ گاہے بسلامے برنجند و گاہے بد شنامے خلعت دہند ۲٢- ہر کجا چشمه بود شیرین - مردم و مرغ و مور گرد آیند ۲۳- راستی موجب رضاے خداست کس ندیدم کہ گمشدا زرہ راست ٢٤- آنرا کہ هساب پاکست از محاسبہ چه باک ٢٥ -تو پاک باش برادر مدار از کس باک - زمند جامه ناپاک گازران برسنگ - ٢٦- ت تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود ٢٧ - به دریا در منافع بیشمار ست- بگر خواهی سلامت برکنار ست ٢٨ - دوست آن باشد که گیرد دستِ دوست- در پریشان حالی دور ماندگی ۲۹- در میصد و وزیر و سلطان را- به وسیلت مگرد پیرامن - سگ و دربان چو یافتند غریب این گریبان بگیرد آن دامن ۳۰ - خداے راست سلم بزرگی و الطاف- که هرم بیند و نان برقرار میدرد-٣١-بنیاد ظلم اوّل در جہان اندک بود ہرکہ آمد بران خرید کرد تا بدین غایت رسید-٣٢- ہر کہ بافولاد بازو پنجہ کرد- ساعد \بین\ خود را رنج کرد ٣٣- چوکردی با کلوخ انداز پیکار - سرخود را بنادانی شکستی چو سنگ انداختی بر روے و من- عزر کن کاندر آماجش نستی<noinclude></noinclude>
b1mbzswp4ol3ahogidehoqre9ldyqi1
35886
35885
2026-09-15T14:39:37Z
Taranpreet Goswami
90
35886
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>نگاه داشتن کار خردمندان نیست - ۱۰- پسر نوح بابدان نشست- خاندان بنوتش گم شد١١- دشمن نتوان حقیر و بیچاره شمرد ۱۲- عاقبت گرگزاده گرگ شود ١٣ در باغ لاله روید و در شورهبوم خَس ۱٤ - تونگری به دل ست نہ بمال- و بزرگی بعقل ست نه بسال ۱۵- دشمن چه کند چو مہربان باشد دوست ۱٦ حسود را چکنم کوز خود به رنج درست ١٧- قدر عافیت کسے داند کہ به مصیبتے گرفتار آید -۱۸- آنانکہ غنی ترند محتاج ترند -۱۹- چو عضوے به درد آورَد روزگار-دگر \عنوها\ را نمانَد قرار ٢٠- دامن از کجا آدم کہ \\ ندارم ٢١۔ گاہے بسلامے برنجند و گاہے بد شنامے خلعت دہند ۲٢- ہر کجا چشمه بود شیرین - مردم و مرغ و مور گرد آیند ۲۳- راستی موجب رضاے خداست کس ندیدم کہ گمشدا زرہ راست ٢٤- آنرا کہ هساب پاکست از محاسبہ چه باک ٢٥ -تو پاک باش برادر مدار از کس باک - زمند جامه ناپاک گازران برسنگ - ٢٦- ت تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود ٢٧ - به دریا در منافع بیشمار ست- بگر خواهی سلامت برکنار ست ٢٨ - دوست آن باشد که گیرد دستِ دوست- در پریشان حالی دور ماندگی ۲۹- در میر و وزیر و سلطان را- بے وسیلت مگرد پیرامن - سگ و دربان چو یافتند غریب این گریبان بگیرد آن دامن ۳۰ - خداے راست سلم بزرگی و الطاف- که جرم بیند و نان برقرار میدارد-٣١-بنیاد ظلم اوّل در جہان اندک بود ہرکہ آمد بران مزید کرد تا بدین غایت رسید-٣٢- ہر کہ بافولاد بازو پنجہ کرد- ساعد \بین\ خود را رنج کرد ٣٣- چوکردی با کلوخ انداز پیکار - سرخود را بنادانی شکستی چو سنگ انداختی بر روے و من- عزر کن کاندر آماجش نستی<noinclude></noinclude>
q2666owb125l2jh5ll9vfeh48w7q18q