ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.20
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/35
250
12216
35897
28247
2026-09-17T15:46:41Z
~2026-50308-87
308
35897
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /> {{center|٢٩}}</noinclude>نگاہوں سے یِہ نظّارہ دیکھ رہے تھے ۔
رام چنْدر کو گلے لگا لِیا اور سِیتا جی نے
آکر اُن کے گلے میں جے مال ڈال دِیا ۔
شہْر والوں نے خِوش ہو کر جَے جَے کار کرْنا
شُرُوع کِیا ، شادْیانے بجْنے لگے ، بنْدُوقیں
چھوٹنے لگِیں ۔ اَور سورْما لوگ ایک ایک
کر کے چُپْکے چُپْکے سرکْنے لگے ۔ شہْر کے
چھوٹے بڑے ادْنے و اعْلے سب خُِوشی
سے پھولے نہ سماتے تھے ۔ سبھوں نے
مُنّہ مانگی مُراد پائی ۔ صلاح ہوئی کِہ راجہ دسْرتھ کو اِس خُِوشخبْری کی اِطلاع دینی
چاہئے ۔ کئی سانْڈْنی سوار فَوراً کوشل کی
طرف روانہ کئے گئے ۔ وِشْوامِتر راجکماروں
کے ساتھ راج بَھون میں جانا ہی چاہتے
تھے کِہ احاطہ کے باہر شور و غُل سُنائی
دینے لگا ۔ ایسا معْلوم ہوتا تھا گویا بادل گرج رہا ہَے ۔ لوگ گھبْرا گھبْرا کر اِدھر اُدھر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
kxftw38sodm9zxwyk2jq8bwqdtuqeef
35898
35897
2026-09-17T15:48:45Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35898
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /> {{center|٢٩}}</noinclude>نگاہوں سے یِہ نظّارہ دیکھ رہے تھے ۔
رام چنْدر کو گلے لگا لِیا اور سِیتا جی نے
آکر اُن کے گلے میں جے مال ڈال دِیا ۔
شہْر والوں نے خِوش ہو کر جَے جَے کار کرْنا
شُرُوع کِیا ، شادْیانے بجْنے لگے ، بنْدُوقیں
چھوٹنے لگِیں ۔ اَور سورْما لوگ ایک ایک
کر کے چُپْکے چُپْکے سرکْنے لگے ۔ شہْر کے
چھوٹے بڑے ادْنے و اعْلے سب خُِوشی
سے پھولے نہ سماتے تھے ۔ سبھوں نے
مُنّہ مانگی مُراد پائی ۔ صلاح ہوئی کِہ راجہ دسْرتھ کو اِس خُِوشخبْری کی اِطلاع دینی
چاہئے ۔ کئی سانْڈْنی سوار فَوراً کوشل کی
طرف روانہ کئے گئے ۔ وِشْوامِتر راجکماروں
کے ساتھ راج بَھون میں جانا ہی چاہتے
تھے کِہ احاطہ کے باہر شور و غُل سُنائی
دینے لگا ۔ ایسا معْلوم ہوتا تھا گویا بادل گرج رہا ہَے ۔ لوگ گھبْرا گھبْرا کر اِدھر اُدھر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
db3b6fezpmwyt6vw9k0wsbc7k7k7qaw
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/163
250
12766
35899
31105
2026-09-18T04:03:12Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35899
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>'ہاے لکشمن ! ہاے سیتا' ! کی آواز سُنی تو
اُن کا خون سرد ہو گیا ۔ آنکھوں میں اندھیرا
چھا گیا ۔ یہ تو پیارے رام کی آواز ہے جریر
دشمنوں نے اُنہیں زخمی کر دیا ہے ۔ رو کر لکشمن سے بولیں ۔ 'مجھے تو ایسا خوف
ہوتا ہے کہ یہ سوامی ہی کی آواز ہے ۔ ضرور
اُن پر کوئی بڑی آفت آئی ہے ۔ ورنہ تمہیں
کیوں پُکارتے - لپک کر دیکھو کیا ماجرا ہے۔
میرا تو کلیجہ دھڑ دھڑ کر رہا ہے ۔ دوڑتے
ہی جاؤ ، لکشمن نے بھی یہ آواز سنی اور
سمجھ گئے کہ کسی راکشس نے دعا کی۔ ایسی
حالت میں سیتا کو تنہا چھوڑ کر جانا وہ کب
گوارا کر سکتے ۔ بولے ' بھائی صاحب کی طرف سے آپ بے فکر رہیں ۔ جس نے چودہ ہزار راکشوں کا صفایا کر دیا اُسے کس کا خوف
ہو سکتا ہے ۔ بھیّا ہرن کو لئے آتے ہی ہونگے ۔ آپ کو تنہا چھوڑ کر میں نہ جاؤنگا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
szlbdbqygpbm0x6x0ty498fpuxly496
35900
35899
2026-09-18T04:10:54Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35900
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>'ہاے لکشمن ! ہاے سیتا' ! کی آواز سُنی تو
اُن کا خون سرد ہو گیا ۔ آنکھوں میں اندھیرا
چھا گیا ۔ یہ تو پیارے رام کی آواز ہے جریر
دشمنوں نے اُنہیں زخمی کر دیا ہے ۔ رو کر لکشمن سے بولیں ۔ 'مجھے تو ایسا خوف
ہوتا ہے کہ یہ سوامی ہی کی آواز ہے ۔ ضرور
اُن پر کوئی بڑی آفت آئی ہے ۔ ورنہ تُمہیں
کیوں پُکارتے - لپک کر دیکھو کیا ماجرا ہے۔
میرا تو کلیجہ دھڑ دھڑ کر رہا ہے ۔ دوڑتے
ہی جاؤ'. لکشمن نے بھی یہ آواز سنی اور
سمجھ گئے کہ کسی راکشس نے دغا کی۔ ایسی
حالت میں سیتا کو تنہا چھوڑ کر جانا وہ کب
گوارا کر سکتے ۔ بولے ' بھائی صاحب کی طرف سے آپ بے فکر رہیں ۔ جس نے چودہ ہزار راکشوں کا صفایا کر دیا اُسے کس کا خوف
ہو سکتا ہے ۔ بھیّا ہرن کو لئے آتے ہی ہونگے ۔ آپ کو تنہا چھوڑ کر میں نہ جاؤنگا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
tf2qesiok9ymgn5yad4ny6zomf8cqo3
35901
35900
2026-09-18T04:11:46Z
Charan Gill
46
/* تصدیق شدہ */
35901
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Charan Gill" /></noinclude>'ہاے لکشمن ! ہاے سیتا' ! کی آواز سُنی تو
اُن کا خون سرد ہو گیا ۔ آنکھوں میں اندھیرا
چھا گیا ۔ یہ تو پیارے رام کی آواز ہے جریر
دشمنوں نے اُنہیں زخمی کر دیا ہے ۔ رو کر لکشمن سے بولیں ۔ 'مجھے تو ایسا خوف
ہوتا ہے کہ یہ سوامی ہی کی آواز ہے ۔ ضرور
اُن پر کوئی بڑی آفت آئی ہے ۔ ورنہ تُمہیں
کیوں پُکارتے - لپک کر دیکھو کیا ماجرا ہے۔
میرا تو کلیجہ دھڑ دھڑ کر رہا ہے ۔ دوڑتے
ہی جاؤ'. لکشمن نے بھی یہ آواز سنی اور
سمجھ گئے کہ کسی راکشس نے دغا کی۔ ایسی
حالت میں سیتا کو تنہا چھوڑ کر جانا وہ کب
گوارا کر سکتے ۔ بولے ' بھائی صاحب کی طرف سے آپ بے فکر رہیں ۔ جس نے چودہ ہزار راکشوں کا صفایا کر دیا اُسے کس کا خوف
ہو سکتا ہے ۔ بھیّا ہرن کو لئے آتے ہی ہونگے ۔ آپ کو تنہا چھوڑ کر میں نہ جاؤنگا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
87qc33u1h5qezhl1xz2rfdqvv7kshub
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/164
250
12767
35902
31111
2026-09-18T06:09:23Z
Kaur.gurmel
74
35902
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بھائی صاحب نے اس کی سخت تاکید کر دی
تھی ۔ سیتا نے غصّہ سے کہا 'میری تمہیں
کیوں اتنی فکر سوار ہے، کیا مجھے کوئی شیر
یا بھیڑیا کھائے جاتا ہے ۔ ضرور سوامی پر
کوئی مصیبت آئی ہے ۔ اور تم ہاتھ پر ہاتھ
دھرے بیٹھے ہو ۔ کیا یہی بھائی کی محبّت
ہے جس پر تمہیں اتنا غرور ہے،.
لکشمن کچھ آزردہ خاطر ہو کر بولے ۔ 'میں نے
تو کبھی بھائی کی محبت کا غرور نہیں
کیا ۔ میں ہوں ہی کس قابل ۔ میں تو
صرف اُن کی خدمت کرنی چاہتا ہوں۔
اُنہوں نے چلتے چلتے مجھے تاکید کی تھی
کہ یہاں سے کہیں نہ جانا ۔ اسی لئے
مجھے جانے میں تامل ہو رہا ہے ۔ میں
آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بھائی صاحب
کا کوئی بال بھی بان کا نہیں کر سکتا ۔
اُن کے تیر و کمان کے سامنے کس کی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
9jmj1x4p31uo24a3yzmg3j91op34o3x
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/50
250
13118
35903
32882
2026-09-18T06:31:03Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35903
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|(۴۹)
}}</noinclude>مین مرگیا پھر بلبھدر سیناپت نے گرو سے جاکر پوچھا کہ میرا سوامی انمادِنی کے کارن موا اب مجھے کیا کرنا واجب ہے سو اگیا کیجئے اُسنے کہا سیوک کا دھرم ہے سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے بخشی وہان سے گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اسنے بھی اشنان اور پوجا سے فراغت کی اور جب چتا مین آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کہنے لگا اے سورج دیوتا مین مین بچ کرم کرکے یہی کامنا مانگتا ہون کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤن اور تیرا گن گاؤن اتنا کہہ ڈنڈوت کر آگ مین کود پڑا یہ خبر سُن انمادِنی اپنے گرو کے پاس گئی اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہے اسنے کہا ماتا پتا نے جس کو اپنی کنیا دی اس کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے اور دھرم شاستر مین لِکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے اورانت کال کو نرک مین پڑتی ہے پر اُتم تو یہ ہے کے سوامی کیسا ہی گیا گذرا ہو اسی کی سیوا کرنے سے اسکی مکتِ ہوتی ہے اور جو ناری شمشان مین ستی ہو نیکی کامنا کر جتنے پائون زمین پر رکھتی ہے اتنی اسومیدہ جگ کرنے کا پھل ہوتا ہے اسمین کچھ سندیہ نہین ہے یہ سن ڈنڈوت کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کر بہت سا دان برہمنونکو دے چتا کے پاس جا ایک پرکرما کر بولی ہے ناتھ مین تیری داسی جنم ججم ہون اتنا کہہ وہ بھی آگ مین جا بیٹھی اور جل گئی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ اِن تینون مین کِس کا ستِ ادھک ہوا راجہ بیر بکرماجیت نے کہا اس راجہ کا بیتال نے کہا کِس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیواستے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہے اور پتِ کے لئے استری کو ستی ہونا لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیال اتنی سُن اُسی تر ور مین جا لٹکا راجہ بھی پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا
{{center|{{x-larger|'''شرہوین کہانی'''}}}}
بیتال بولا اے راجہ اجین نگر کا مہاسین نام راجہ تھا اور وہان کا باشِی دیو شرما برہمین جسکے بیٹے کا نام گناکر تھا وہ بڑا جواری ہوا یہان تک کہ جو کچھ اس برہمن کا دھن تھا وہ سب جوے مین ہار دیا تب سارے کنبے کے لوگون نے گناکر کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار ِہوکر وبانسے چلا تو کتنے دنون مین ایک شہر مین آیا دیکھتا کیا ہے کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہے ڈنڈوت کر وہان بیٹھ گیا جوگی نے اس سے پوچھا تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہاراج دوگے تو کیون نہ کھاؤن گا جوگی نے ایک آدمی کی کھوپڑی مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہااس کپال کا کھانا مین نہ کھاؤنگا جب اسنے<noinclude></noinclude>
njnlo993g5pax41i618sr8lw0g36fhs