ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.21 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/37 250 12225 35920 28334 2026-09-23T12:09:52Z Kaur.gurmel 74 35920 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|٣١}}</noinclude>میرے کِسی بیری نے یہ فعل کیا ہے ۔ میں ابھی اُس کا سر تن سے جدا کر دونگا ۔ کِسی طرح معاف نہیں کر سکتا ۔ میرے گُرُو کا دھنش اور اُسے کوئی چھتری توڑ ڈالے ۔ میں چھتریوں کا دُشمن ہوں ۔ جانی دشمن ۔ میں نے ایک دو بار نہیں اکیس بار چھتریوں کے خون کی ندی بہائی ہے ۔ اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے میں نے جہاں چھتریوں کو پایا ہے چُن چُن کر مارا ہے ۔ اب پھِر میرے ہاتھوں چھتریوں پر وہی آفت آنے والی ہے ۔ جِس نے یہ دھنش توڑا ہو میرے سامنے نکل آئے * {{gap}}دِلیر اور منچلے لکشمن یہ للکار سُن کر بھلا کب ضبط کر سکتے تھے ۔ سامنے آ کر بولے ۔ آپ ایک سڑے سے دھنش کے ٹوٹنے پر اِس قدر جامہ سے کیوں باہر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> akwfemqpxkrjnsledihjczmgxbz7f0h صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/171 250 12774 35921 31174 2026-09-24T04:29:10Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35921 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ہاتھ پکڑ لیا اور بولا ۔ رتھ سے کودنے کا خیال نہ کرو سیتا ۔ ذرا دیر کے بعد ہم لنکا پہنچے جاتے ہیں ۔ وہاں تمہیں آسایش اور عیش کے ایسے سامان ملینگے کہ تم اس جنگل کی زندگی کو بھول جاؤ گی ۔ اس کئی کے بدلے تمہیں آسمان سے باتیں کرتا ہوا راج محل ملیگا جس کا فرش چاندی کا ہے اور دیواریں سونے کی ۔ جہاں گلاب اور مشک کی خوشبو آٹھوں پہر اُڑا کرتی ہے ۔ اور ایک بھکھاری شوہر کے بدلے وہ شوہر ملیگا جس کا ثانی آج روئے زمین پر نہیں، جس کی دولت اور ثروت کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔ جن کے دروازے پر دیوتا بھی سجدے کرتے ہیں. سیتا نے غضبناک ہو کر کہا ۔ 'بس زبان سنبھال - دغا باز راکشس - ایک عورت کے ساتھ دغا کرتے تجھے شرم نہیں آتی۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> thirwm11kauzzpjhs4zglrffxpij27j 35922 35921 2026-09-24T04:38:35Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35922 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>ہاتھ پکڑ لیا اور بولا ۔ رتھ سے کودنے کا خیال نہ کرو سیتا ۔ ذرا دیر کے بعد ہم لنکا پہنچے جاتے ہیں ۔ وہاں تمہیں آسایش اور عیش کے ایسے سامان ملینگے کہ تُم اس جنگل کی زندگی کو بھول جاؤ گی ۔ اس کئی کے بدلے تمہیں آسمان سے باتیں کرتا ہوا راج محل مِلیگا جس کا فرش چاندی کا ہے اور دیواریں سونے کی ۔ جہاں گلاب اور مشک کی خوشبو آٹھوں پہر اُڑا کرتی ہے ۔ اور ایک بھکھاری شوہر کے بدلے وہ شوہر ملیگا جس کا ثانی آج روئے زمین پر نہیں، جس کی دولت اور ثروت کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔ جس کے دروازے پر دیوتا بھی سجدے کرتے ہیں'. سیتا نے غضبناک ہو کر کہا ۔ 'بس زبان سنبھال - دغا باز راکشس - ایک عورت کے ساتھ دغا کرتے تجھے شرم نہیں آتی۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> pkwvts3j2v7b3b8st16lh6jqetb3xfm 35923 35922 2026-09-24T04:38:57Z Taranpreet Goswami 90 /* تصدیق شدہ */ 35923 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہاتھ پکڑ لیا اور بولا ۔ رتھ سے کودنے کا خیال نہ کرو سیتا ۔ ذرا دیر کے بعد ہم لنکا پہنچے جاتے ہیں ۔ وہاں تمہیں آسایش اور عیش کے ایسے سامان ملینگے کہ تُم اس جنگل کی زندگی کو بھول جاؤ گی ۔ اس کئی کے بدلے تمہیں آسمان سے باتیں کرتا ہوا راج محل مِلیگا جس کا فرش چاندی کا ہے اور دیواریں سونے کی ۔ جہاں گلاب اور مشک کی خوشبو آٹھوں پہر اُڑا کرتی ہے ۔ اور ایک بھکھاری شوہر کے بدلے وہ شوہر ملیگا جس کا ثانی آج روئے زمین پر نہیں، جس کی دولت اور ثروت کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔ جس کے دروازے پر دیوتا بھی سجدے کرتے ہیں'. سیتا نے غضبناک ہو کر کہا ۔ 'بس زبان سنبھال - دغا باز راکشس - ایک عورت کے ساتھ دغا کرتے تجھے شرم نہیں آتی۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> o01xiot357n70rs9ao24nlfeli7d0ss