ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.21 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/30 250 12161 35928 35879 2026-09-28T01:37:23Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35928 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۴}}</noinclude> دیکھوں لڑکی کی تقدیر میں کیا ہَے. {{gap}}دوسرے دِن سوئمبر کی تیّاریاں شُرُوع ہُوئیں ۔ مَیدان میں ایک وسیع شامیانہ تانا گیا ۔ سینکڑوں سُورما جو اپنی طاقت کے زعم میں دُور دُور سے آئے ہوئے تھے آ آ کر بیٹھے ۔ شہر کے لاکھوں مرد عورت جمع ہوئے ۔ شیؤ جی کے دھنش کو بہت سے آدمی اُٹھا کر سبھا میں لائے ۔ جب سب لوگ آگئے تو راجہ جنک نے کھڑے ہو کر کہا اے بھارت ورش کے ویرو! ریه شیو جی کا دھنش آپ لوگوں کے سامنے رکھا ہُوا ہے ۔ جو اِسے توڑ دیگا ۔ اُسی کے گلے میں سِیتا جے مال ڈالیگی'. {{gap}} یِہ سُنتے ہی سورماؤں اَور دلاوروں نے دھنش کے پاس جا جا کر زور لگانا شُرُوع کِیا ۔ سبھی راجکمار سِیتا سے شادی کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> k9niqd6astvpo4wapsznycknafhqdhc صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/31 250 12167 35930 35881 2026-09-28T11:16:08Z Charan Gill 46 35930 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /></noinclude>کمر کس کس کر غرور سے اَینْڈْتے اکڑْتے دھنش کے پاس جاتے اَور جب وُہ تِل بھر بھی نہ ہِلْتا تو خِفّت سے گرْدن جُھکائے ، اپْنا سا مُنّہ لِئے لَوٹ آتے تھے ۔ ساری سبھا میں ایک بھی اَیسا جودھا نہ نِکلا جو دھنش کو اُٹھا سکتا ۔ توڑنے کا تو ذکر ہی کیا. {{gap}}راجہ جنک نے یہ کیفیت دیکھی تو اُنْہیں بڑا اندیشہ ہُؤا۔ سبھا میں کھڑے ہو کر مایوسانہ انداز سے بولے ۔ 'شاید یہ دیر بُھومی اب وِیروں سے خالی ہو گئی ہَے ۔ جبھی تو اتْنے آدمیوں میں ایک بھی ایسا نہ نِکْلا جو اِس دھنش کو توڑ سکتا ۔ اگر میں اَیسا جانتا تو سوئمبر کے لئے یِہ شرط ہی نہ رکھتا ۔ اَیسا معلُوم ہوتا ہے کہ سِیتا بِن بِیاہی رہیگی ۔ یہی اس کی تقدیر میں ہَے تو<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> cyzion1jh5nc37c3icsh1zpwkaqpt8r 35931 35930 2026-09-28T11:20:28Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35931 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کمر کس کس کر غرور سے اَینْڈْتے اکڑْتے دھنش کے پاس جاتے اَور جب وُہ تِل بھر بھی نہ ہِلْتا تو خِفّت سے گرْدن جُھکائے ، اپْنا سا مُنّہ لِئے لَوٹ آتے تھے ۔ ساری سبھا میں ایک بھی اَیسا جودھا نہ نِکلا جو دھنش کو اُٹھا سکتا ۔ توڑنے کا تو ذکر ہی کیا. {{gap}}راجہ جنک نے یہ کیفیت دیکھی تو اُنْہیں بڑا انْدیشہ ہُؤا۔ سبھا میں کھڑے ہو کر مایوسانہ انداز سے بولے ۔ 'شاید یہ دیر بُھومی اب وِیروں سے خالی ہو گئی ہَے ۔ جبھی تو اتْنے آدمیوں میں ایک بھی ایسا نہ نِکْلا جو اِس دھنش کو توڑ سکتا ۔ اگر میں اَیسا جانتا تو سوئمبر کے لئے یِہ شرط ہی نہ رکھتا ۔ اَیسا معلُوم ہوتا ہے کہ سِیتا بِن بِیاہی رہیگی ۔ یہی اس کی تقدیر میں ہَے تو<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> aarxiz90ihf79o7fxh9dobddjnbthx2 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/33 250 12213 35932 35891 2026-09-28T11:22:15Z Kaur.gurmel 74 35932 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۷}}</noinclude>سارے سورما دنْگ رہ گئے ۔ رامْچنْدر چھوٹے بھائی کے مزاج سے واقف تھے ۔ اِن کا ہاتھ پکڑ کر کھِینچ لِیا اَور بولے بھائی یِہ موقع اِس طرح باتیں کرنے کا نہِیں ہے۔ جب تک تمہارے بڑے مَوجود ہیں تمہْیں زبان کھولْنا مناسب نِہیں. {{gap}}لکشمن بَیٹھ گئے تو وِشْوامِتر نے رام چندر سے کہا۔ 'بیٹا اب تُم جا کر اِس دھنش کو توڑو تا کہ راجہ جنک کو تسکِین ہو. {{gap}}رام چنْدر سِیتا کو پہلے ہی دن ایک باغ میں دیکھ چُکے تھے ۔ دونو بھائی باغ میں سَیر کرنے گئے تھے ۔ اَور سِیتا، دیوی کی پُوجا کرنے آئی تِھیں ۔ وہیں دونو کی آنکھیں مِلی تِھیں ۔ اُسی وقْت سے رام چنْدر کو سِیتا سے محبت ہو گئی تھی ۔ وُہ اسی مَوقع کے منتظر تھے ۔ وِشوامتر کی اِجازت پاتے ہی اُنْہیں پرنام کِیا اَور دھنش کی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> r3zt6fc9733k367o08uzyfs3wpqq8m1 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/34 250 12215 35933 35893 2026-09-28T11:28:59Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35933 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|۲۸}}</noinclude>طْرف چلے ۔ سُورماؤں نے اپنی خِفّت مٹانے کے لئے اُن پر آوازے کسْنا شروع کئے ۔ ایک نے کہا ذرا سنبھلے ہوئے جائیے گا ، اَیسا نہ ہو اپنے ہی زور میں گِر پڑْئے ۔ دُوسرا بولا اِس پُرانے دهنش پر رحْم کیجئے ۔ کہیں پُرزے پرْزے نہ کر دیجئے گا ۔ تیسْرا بولا ذرا آہِسْتہ آہِسْتہ قدم رکھئے زمِین ہِل رہی ہے ۔ مگر رام چندر نے اِن طنزوں کی طرف مطلق توجّہ نہ کی ۔ جا کر دھنش کو اِس طرح اُٹھا لیا گویا کوئی پھول ہو اور اِتنی زور سے چڑھایا کہ بیچ سے اِس کے دو ٹکڑے ہو گئے ۔ اِس کے ٹوٹنے سے ایسی آواز ہوئی کہ لوگ چونک پڑے ۔ دھنش جُوں ہی ٹوٹ کر گِرا وہ جوشِ مسّرت سے اُچھل کر دوڑے - {{gap}}راجہ جنک سبھا کے باہر کھڑے متفکّر<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 6dz53axy6j69jts7teqqpqkouko2j63 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/37 250 12225 35934 35920 2026-09-28T11:44:43Z Kaur.gurmel 74 35934 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{center|٣١}}</noinclude>میرے کِسی بَیری نے یِہ فِعْل کِیا ہَے ۔ مَیں ابھی اُس کا سر تن سے جُدا کر دونگا ۔ کِسی طرح معاف نہیں کر سکتا ۔ میرے گُرُو کا دھنش اور اُسے کوئی چھتری توڑ ڈالے ۔ میں چھتریوں کا دُشمن ہوں ۔ جانی دشمن ۔ میں نے ایک دو بار نہیں اکیس بار چھتریوں کے خون کی ندی بہائی ہے ۔ اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے میں نے جہاں چھتریوں کو پایا ہے چُن چُن کر مارا ہے ۔ اب پھِر میرے ہاتھوں چھتریوں پر وہی آفت آنے والی ہے ۔ جِس نے یہ دھنش توڑا ہو میرے سامنے نکل آئے. {{gap}}دِلیر اور منچلے لکشمن یہ للکار سُن کر بھلا کب ضبط کر سکتے تھے ۔ سامنے آ کر بولے ۔ آپ ایک سڑے سے دھنش کے ٹوٹنے پر اِس قدر جامہ سے کیوں باہر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> s8tr23bya1kelqypuqkud2vhxr9c41u صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/40 250 12230 35929 28373 2026-09-28T04:13:17Z Tamanpreet Kaur 81 /* تصدیق شدہ */ 35929 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۳۴}}</noinclude>ہَے ۔ ورنہ اب تک تیرا سر تن سے جُدا کر دیا٠ {{gap}}لکشْمن - جی ، کہیں اِس بھروسے میں نہ رئہے گا ۔ آپ پُھونک کر پہاڑ کو نہیں اُڑا سکْتے ۔ آپ برہمن ہَیں ۔ اِس لِئے آپ کے اُوپر مُجھے رحْم آتا ہَے ۔ شاید ابھی تک آپ کا کِسی چھتّری سے پالا نہیں پڑا جبھی آپ اِس قدر بھر رہے ہَیں ٠ {{gap}}رام چندر نے دیکھا کہ بات بڑھتی جا رہی ہے تو لکشمن کو ہاتھ پکڑ کر بِٹھا دیا ۔ اَور پرشام سے ہاتھ جوڑ کر بولے ۔ مہاراج! لکشمن کی باتوں کا آپ بُرا نہ مانیں ۔ یِہ اَیسا ہی گْستاخ ہَے ۔ یہ ابھی تک آپ کو نہیں جانتا ۔ ورنہ یُوں آپ کے مُنہ نہ لگتا . اِسے مُعاف کیجئے ۔ چھوٹوں کا تُصُور بڑے ہی معاف کیا کرْتے ہَیں ۔ آپ کا قصُور وار<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3z2n7slk4csglvcxh6lr56ig3qjbild