ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.22 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/42 250 12232 35939 35937 2026-10-01T02:17:36Z Kaur.gurmel 74 35939 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|۳۶}}</noinclude>اِس حد سے بڑھے جا رہے ہَیں ۔ آخِر آپ کیوں اِس قدر خفا ہو رہے ہَیں؟ آپ کے بگڑنے سے تو دہنش جُڑ نہ جائیگا۔ ہاں جگ ہنسائی البتہ ہوگی۔اگر یہ دھنش آپ کو ایسا ہی پیارا ہَے تو کسی کاریگر سے اسے جڑوا دیا جائیگا۔اس کے سِوا اَور ہم کیا کر سکتے ہَیں۔ آپ کا غُصّہ بالکل فضول ہَے. مارے غصّہ کے پرشرام کی آنْکھیں بیر بہوٹی کی طرح سُرْخ ہو گئیں۔ وُہ تھر تھر کانْپنے لگے۔ اُن کے نتھنے پھڑکنے لگے۔ رام چنْدر نے اُن کی یِہ حالت دیکھ کر لکشْمن کو وہاں سے چلے جانے کا اشارہ کِیا اور نِہایت عاجزی سے بولے۔ مہاراج! بُزرْگوں کو چھوٹے کم فہْم آدمیوں کی باتوں پر دھیان نہ دینا چاہِئے۔ اِس کے بکْنے سے کیا ہوتا ہَے ۔ ہم سب آپ کے غُلام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 4sjll6r7zffgo5jhq68jcsydu99l4ok صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/43 250 12233 35938 28390 2026-10-01T02:05:09Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35938 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{center|٣٧}}</noinclude>ہَیں ۔ دھنش مَیں نے توڑا ہَے ۔ ِاِس کا خطاوار مَیں ہُوں ۔ اس کی جو سزا آپ مُناسب سمجھیں مُجھے دیں ۔ آپ اِس کا جو تاوان مانْگیں مَیں دینے کو تیار ہُوں . {{gap}}پرشرام نے نرْم ہو کر کہا-'تاوان مَیں تُم سے کیا لُونگا۔ مُجھے یِہی خُوف ہُے کہ اس دھنش کے ٹُوٹ جانے سے چھتریوں کو پھِر غرور ہوگا اور مُجھے پھِر اُن کا غرور توڑْنا پڑیگا۔ یِہ شیو کا دھنش نہیں ٹُوٹا ہَے۔ براہمنوں کے تیج اَور طاقت کو صدمہ پہنْچا ہَے. {{gap}}رام چنْدر نے ہنْس کر کہا ۔ 'رشی راج ! چھتْری اَیسے اوچھے نہیں ہَیں کِہ اس ذرا سے دھنش کے ٹوٹ جانے سے اُنُْہیں غرور ہو جائے۔اگرآپ میری بہادری کا جوہر دیکھنا چاہتے ہَیں تو اِس سے بھی بڑا اِمتحان لے کر دیکھئے.{{nop}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> fwngu4yw1u8miv6q5k5riwkx4o8lsmo صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/44 250 12234 35940 28398 2026-10-01T03:14:33Z Tamanpreet Kaur 81 /* تصدیق شدہ */ 35940 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Tamanpreet Kaur" />{{center|٣٨}}</noinclude>پرشرام - ' تیّار ہَے'؟ رام - 'جی ہاں تیّار ہُوں'. {{gap}}پرشرام نے اپنا تیر اور کمان رام چندر کے سامنے پھینک کر کہا۔ اچّھا اِس دھنش پر چلّہ چڑھا دے ۔ دیکھوں تو کتنا طاقتور ہَے۔ {{gap}}رام چندر نے دھنش اُٹھا لِیا اَور بڑی آسانی سے چلّہ چڑھا کر بولے ۔ ' کہئے اب کیا کروں ۔ توڑ دوں اِس دھنش کو'؟ {{gap}}پرشام کا سارا غصّہ ٹھْنڈا ہو گیا۔ اُنہوں نے بڑھ کر رام چنْدر کو سِینہ سے لگا لِیا۔ اَور اُنْہیں دُعائیں دیتے ہوئے اپنا دھنش بان لے کر رُخْصت ہو گئے ۔ راجہ جنک کا خون خشک ہو رہا تھا کہ نہ جانے کیا آفت آنے والی ہَے ۔ پرشرام کے چلے جانے سے اُن کی جان میں جان آئی ۔ پِھر شادیانے بجْنے لگے۔ {{nop}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 238i1oj93yojqqasz1rfciozs6k7s0b